تَوَغُّل فکر

0

ایک غیر موجود زندگی ساحل کو استقرار سے محروم رکھتی تھی، ساحل عامیانہ انداز میں سانسوں کی ڈور کو استعمال میں لاتا تھا، مگر حجتوں کے اتمام کے لئے اس نے زندگی کے رخ کو تبدیل کر ڈالا تھا، غیر موجود احساس ساحل کے اندر آرزو کی لہروں کو جنم دیتا رہتا جس کی وجہ سے اب وہ قرب کی منزلوں کو طے کرنے کا خواہش مند تھا۔ ساحل اس زندہ احساس کو اپنی ذات کے کئی پہلوئوں میں شریک دیکھتا۔ غیر حاضر وجود ایک شخص ہی تھا جس کو سوچتے رہنا اس کا شیوہ بن چکا تھا، اکثر احساس کی باتیں وہ اس شخص سے کرتا کہ تمہارا غلبہ مجھ پر اس قدر شدید ہے کہ میں اپنے اطراف کو تم سے لبریز دیکھتا ہوں۔ وہ شخص اس کو کہتا۔

شخص۔ ہاں یہ تو تمہارا ظرف ہے ، ورنہ میرا دھیان تو فقد اپنے مقصد اور خواہشات کی تکمیل بجانب ہے۔
ساحل۔ تم میرے معاملات میں بے حد متحرک رہتے ہو جس کی وجہ سے میں ظاہری دنیا میں پائیداری سے دور ہوں ، مگر تمہارا احساس میرے دل کو خوش رکھتا ہے۔
شخص۔ یہ صرف تمہارے اندر پیدا ہونے والے بے اصل خیالات ہیں ، میں اس طرح سے تمہارے اندر سرائیت کرنے کی خواہش میں نہیں، جس طرح تم مجھ کو اپنے باطن میں محسوس کرکے اپنا باہر بھی مجھ سے سجائے رکھتے ہو۔
ساحل۔ مگر وہ تم ہی تو ہو جو اپنے احساس سے مجھ کو بہلاتے ہو، ورنہ کیوں نہیں کوئی دوسرا اس قدر مجھ میں جگہ کر پایا کہ میں اس کو اپنے اندر مستقل موجود دیکھوں۔
شخص۔ تم ہوش کے ناخن لو میں نے تو تم پر کبھی اس طرح سے آشکار نہ ہونا چاہا، یہ تو تم نے خود ایک اپنی ہی دنیا بنالی ہے، اور اس بے اصل دنیا میں اصل میں صرف تم ہی رہ سکتے ہو۔
ساحل۔ کیا تمہارے نہ ہونے پر بھی تمہارا ہونا فقط فسوں اور جھوٹ ہے۔
شخص۔ یہ تمہارے اندر کی خود ساختہ کیفیات ہیں جن کو تم اپنے لئے کلفت کا سامان بناتے ہو۔ مجھ سے دور رہو، تمہاری حالت معمول بہا ہوجائے گی۔میں تم سے اپنے تعلق پر راضی ہوں مگر جتنا استفراق کا عالم تم بیان کرتے ہو میرے لئے صرف حیرانی کا باعث ہے۔

ساحل پھر کئی کئی پہر اس شخص کی یادوں کو اپنے ارد گرد جیتا جاگتا پاتا۔ ایک مشکل مرحلہ یہ تھا کہ اس شخص کے مصروف ہوجانے پر ساحل اس کے کھونے کے ڈر میں مبتلا ہوجاتا۔ ساحل کے لئے معمولات سے مطابقت ناممکن ہوتی جارہی تھی، وہ یکدم اس شخص کے احساس کو اپنے گرد و نواح کا خاص حصہ تصور کرنے لگتا، مگر ان سب غیر معمولی حرکات نے ساحل کی امیدوں اور ضروریات میں اضافہ کردیا تھا، دراصل ان حرکات کا حقیقت سے کوئی تعلق استوار نہیں ہوپارہا تھا، ساحل اکثر خود کو خودی سے علیحدہ دیکھتاجب وہ شخص خیالی طور پر اس میں ایسے حلول کرجاتا کہ اس کا ہر عمل اسکی نسبت ہوتا چلاجاتا۔
پھر ساحل حقیقی اعتبار سے اس شخص سے مخاطب ہوتا اور ایک عجب رویئے کو موجود دیکھتا۔

ساحل۔ تمہاری ذات کے باطن میں مجھے اپنے لئے جگہ دکھائی دیتی ہے جو مجھ میں حل ہوجانے کا اظہار کرتی ہے تم اپنے ذہن کو ترتیب دے لو اور میری ذات کا حصہ بن جائو، بالکل ویسے جیسے میں تمہاری ذات کا سچ ہوں۔
شخص۔ تم اپنے آپ میں جن خدوخال کو ترتیب دینے کی بیماری میں مبتلا ہو وہ بے حل ہیں، تم سے دل کا رشتہ ہے جو میرا ہر کسی سے ہے۔
ساحل۔ تم میرے لئے دکھ کا سبب ہو، تنہائی میں تمہارا ہونا ایسا نہیں براہ راست تمہاری جرت آموز باتیں مجھے تکلیف دیتی ہیں، تمہارے الفاظ تمہاری ذہنی پیداوار ہیں جن کا ہدف میرے دل دل و دماغ کو مسخ کرنا ہے، میں تمہارے احساسات کی گردش کا حساب نہیں دے سکتا، خلوت میں تم ہی میرا عکس ہو ، میرے ساتھ ہر جگہ مختلف نوعیتوں میں موجود ہو، تم احساس کرو میں تمہارے وجود کا عضو ہوں جس پر تم بھی منحصر ہو۔
شخص۔ تم کسی اور میں اپنا حصہ کھوجو تم غیر موجود انکشافات ہی میں خوش رہو، اپنی ذات میں از خود ادھورے وجود ہو۔

ساحل کسی حد تک پھر اس شخص کے منفی خیالات سے اپنے ذہن کو تبدیل کرنے لگا، پھر ایک وقت میں ایسا ہوا کہ شخصی وجود کا اس پر حاوی ہونا قدر کم ہوگیا۔ ساحل درجہ بہ درجہ اس کو اپنے دل سے مٹاتا رہا اور پھر بے دلی کی دیواروں میں اس شخصی وجود کو چننے میں کامیاب ہوگیا۔ ایسا لگنے لگا کہ ساحل اب صرف اپنی زندگی میں زندہ تھا، لیکن احساسات نے ساحل کو جینے نہیں دیا، اس شخص کے رابطہ کرنے پر پھر منجمد خیالات ساحل کے باطن میں امنڈنے لگتے ،وہ خیالات کی حراست میں لے لیا جاتا، مگر پھر بہتے جذبات اپنی خشکی کا اعلان کرتے اور ساحل شوریدہ سری سے جان چھڑانے لگتا۔

ساحل پھر اندازہ لگانے میں کامیاب ہوا کہ یہ کوئی ایک شخص نہیں جو اس پر حاوی ہوتا ہو بلکہ اس کا دائرہ کئی اشخاص کی زد میں ہے، کئی اشخاص ساحل کی زندگی میں اپنے غیر موجود احساسات کا شور کرتے ، پھر ساحل اشخاص کے خیالی طور پر ہونے میں اور حقیقی طور پر ہونے میں تفریق دیکھ ان سے ناطہ توڑنے کا فیصلہ کرلیتا، پھر نئے کردار یا پرانا کردار اس کی زندگی میں دوبارہ بھی آتا اور ساحل خود ساختہ بنائے احساسات کا شکارہوجاتا۔ ساحل کی زندگی میں یہ احساسات اس کی زندگی میں مہلک عارضے کا کام کررہے تھے۔

ساحل کی یہ شخصی دلداریاں بس اسی تک محدود رہتیں۔
ساحل پھر ایک نئے شخص سے جیسے ہی قرب بڑھانا چاہتا جو جسمانی ضروریات کا محتاج نہیں ہوتا، ویسے ہی وہ بدلے ہوئے رویوں کا شکار ہوجاتا، پھر ساحل کا ڈھنگ صرف شوریدہ سری کے بقایاجات سمیٹنے کے لائق رہ جاتا۔
ساحل نے پھر ایک شخص کا خود پر حاوی ہونا دیکھ اس شخص کو کہا۔
ساحل۔ تمہارے انداز میرے مطابق ہیں۔ تم جب میرے ساتھ تنہائی میں ہوتے ہو ،بہت اپنے اپنے رہتے ہو۔ ملاقاتوں میں تمہارا رویہ مقید اور اندیشوں کا لباس پہنے کھڑا ہوتا ہے۔
شخص۔ یہ صرف تمہارا خیالی تصور ہے تم خود اپنے من پسند وجود کو شخصی صورتوں کی تصویر میں ڈھال کر اپنی ذات میں موجود دنیا میں نمائش پر لگاتے ہو، ان اسرار کیفیات سے تمہیں ہر گز فیض نہیں پہنچنے والا اور یہ غیر موجود پرکیف خیالات اب تمہارے لئے نشے کی طرح ہیں جن کی طلب تمہارا ادھورا باطنی وجود چیخ چیخ کر کرتا ہے۔

ساحل پھر لڑکھڑاتا ، دھتکارا ہوا اپنی آنکھوں کے نیل ڈھلتے محسوس کرتا ہے اور اپنی کیفیات استادہ اپنے باطن سے نکال باہر کرنا چاہتا ہے۔
ساحل پھر وقت میں گزرتا چلاگیا، اپنی ذات کے اندر خاموش مگر اس کی آتش رخی اس کے اور دنیا کے درمیان دیوار بن گئی، وہ خود بھی استعجاب محسوس کرتا اور اپنے وجود پر اندیشوں کو کانچ کی کرچیوں کی طرح مس دیکھتا، ساحل اپنے حل سے محروم تھا، اس کی حقیقی زندگی نہایت بے لگام اور غیر معمولی تھی وہ اپنے ہی ادراک میں اپنے جسمانی وجود پر چیختا چلاتا اس کا نتیجہ خیالات کی تیز رو تھی، تخلیقی خیالات جہاں اس کی سوچ کو بڑھاوا دیتا وہیں وہاں وہ اندولن کا شکار بھی ہوتا رہتا۔
ساحل کا غصہ تھم جاتا جب کوئی نیا شخص اس کی زندگی میں اپنا حصہ مقرر کرتا ایک نئے شخص سے دلی رشتے کے باعث ساحل نے اس سے کہا۔
ساحل۔ شاید اب تمہارا مجھ پر حاوی ہونا میرے ماضی کے دکھوں کو ڈھانپ لے گا، اب میں تم کو خود میں حل کرکے اپنے باقی معاملات احسن انداز میں سر انجام دے پائوں گا۔

شخص۔ تم یقینا مریض ہو۔ ماضی سے جڑے لوگ جن سے تم کنارہ کش ہوتے گئے، ان کا کہنا یہی تھا کہ تم محبت میں اندھی تقلید کے پابند ہوجاتے ہو، اپنا خود ساختہ خیالی مرتبہ نہ ملنے پر نہ صرف ان لوگوں سے بلکہ اپنے جذبات سے بھی انحراف کرتے ہو۔
ساحل۔ کیا میرا کسی سے ضرورت سے زیادہ لگائو جرم ہے تو اس کی سزا ہونی چاہئے تاکہ میں اپنے آپ سے باز آسکوں۔
شخص۔ تمہاری ہر بات دراصل تمہاری غیر موجود زندگی کا انکار ہے۔ اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے تم جھوٹی دنیا میں رہنا پسند کرو گے یا حقائق کو جانتے ہوئے اپنا راستہ بنائو گے۔
ساحل۔ میری زندگی میری ہے تو اس کے اعمال بھی میرے ہوں گے اب میرا انجام میرے لئے تجسس ہے ، مگر میرے اعمال مجھ کو بہت عزیز ہیں۔
ساحل پھر اس شخص کو بھی اپنے تابناک نظریات سے حقیقی طور پر دور کردیتا ہے۔ کچھ دن و رات اسے اس شخص کا احساس منڈلاتے نظر آیا، وہ مسافتوں میں اس شخص کے احساس کو راحت کا ذریعہ دیکھتا مگر پھر اچانک ایک دن راہ چلتے احساس غائب ہوگیا اور وہ بس اپنی تنہائی کو خود پر ڈھانپ کے آگے بڑھنے لگا۔

ساحل خیالات اور احساسات کے کوچ کرجانے پر وقت کے ساتھ نباہ کرنے لگتا مگر ایک نامکمل سا دھندلا وجود اسے تلاش پر اکساتا۔
پھر ساحل پر اس کا اپنا آپ ایک نئے انداز میں آشکار ہونے لگا وہ خیال کی محرومی کی وجہ سے تمام گذشتہ اشخاص کو چاہے وہ خیالی ہوں یا حقیقی بھولا بھولا رہنے لگا، مگر یہ معاملہ زیادہ دن نہ چلا اور پھر زندہ اشخاص اس کے اندر جگہ کرتے مگر ساحل اب تھوڑا بدلا بدلا رہنے لگا ایک قرب یافتہ شخص سے ساحل نے بے باک انداز اپنایا۔
ساحل۔ تمہارا احساس میرے لئے طمانیت بھرا ہے۔ تم حقیقت میں جیسے بھی ہو میرے خیالات میں تمہارا وجود پرسکون اور چاہت سے لبریز ہے۔
شخص۔ کب تک اپنے آپ سے سچ چھپائو گے ، تم کو حقیقی زندگی کی عادت بنانا ہوگی۔
ساحل۔ دراصل میں خود سے اب واقف ہوا ہوں، تم میرے ساتھ جیسا سلوک کرو گے میرے اندر تمہاری خیالی زندگی کی میعاد اسی کے محروسہ ہے، تمہارامجھ سے جھوٹا محبت بھرا رویہ کافی ہوگا تاکہ میرے خیالات از خود تمہارا جسمانی روپ لے کر مجھے مطمئن کرتے رہیں کسی کا مجھ کو دلاسے دینا ہی اس کے خیالی وجود کو میرے اندر زندہ رکھنے کا سبب بنتاہے۔
شخص۔ تم شاید پاگل ہو، مجھے تمہاری آبرو کا خیال ہے مگر ان دیدنہ شنید کیفیات سے خود کو باہر نکالو ، تم کہنا کیا چاہتے ہو یہ خیال نہ ہوں احساس نہ ہوں تو میں تمہارے لئے کون ہوں۔
ساحل۔ ان خیالات اور احساسات ہی کے باعث میں تم سے محبت رکھتا ہوں ورنہ تمہاری حیثیت ہی کیا ہے۔ مجھے بہت دیر میں اندازہ ہوا میری اصل محبت ایک غیر موجود زندگی ہے جو حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے موجود زندگی سے کسی بھی کردار کا جسم اور روپ دھار کر مجھ سے رغبت اختیار کرتی ہے۔
شخص۔ پھر تم اپنی غیر موجود زندگی میں زندہ رہو یا مرجائو دنیا کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
ساحل۔ ہاں تم زیادہ سے زیادہ چلے جائو گے تو پھر کسی کے ملنے پر اس کا ظاہری حسن اور رویہ میرے خیالات اور اطراف کو ایک نیا مقصد دے دے گا، اس طرح قبل از موت میری غیر موجود زندگی کتنے اجسام کو اپنا لباس بنائے گی اور یہ غیر موجود زندگی پھر میری موجود زندگی میں ہر دم شریک رہے گی میرے خیالات جسم کے محتاج ہیں وہ کسی بھی نئے شخص کا جسم اختیار کرکے مجھے سوز دلاتے ہیں مگر موجود زندگی میں اس شخص کا دور ہوجانا غیر موجود زندگی میں اس کی موت ہے۔

ساحل نے اس کو حقیقت سمجھ لیا تھا کہ اظہار محبت کے لئے جسمانی خدو خال کا ہونا بڑی اہمیت رکھتاہے جسم کے بغیر اظہار نہ مکمل اور بے جان ہے۔
ساحل اپنے لئے آفت کا پرکالہ بنے اپنے وجود کو لاشعوری احساسات سے تعلق استوار کرنے میں منہمک تھا، اس کی زندگی غیر موجود زندگی کو آفرین انداز میں حاوی کرتی ، ساحل کی زندگی پھر خیالات کا جسمانی روپ دھارنے کے انتظارمیں منجمد تھی اور یہ خیالی اندیشے اور مرحلے اس کے باطن میں آکاش بیل کی مانند تھے یہی وجہ تھی وہ نت نئے اشخاص اور جسموں کا خود کو پابند کرتا گیا تاکہ اس کے خیالات اس کے اندر اپنی غیر موجود زندگی گزار سکیں، اور وہ اپنے اصل کو حقائق سے روشناسی فراہم کرنے سے قاصر اور بے ترتیب رہنے لگا۔
پھر ساحل کی ایک اور شخص سے اس طرح ملاقات ہونے لگی کہ وہ خیال اور ظاہر، موجود اور غیر موجود کی تفریق کو بھی کھوتا چلاگیا۔
ساحل۔ تم خیال ہو یا اصل میں میری موجودگی زندگی کا حصہ؟
شخص۔ میں ہی اصل ہوں تم اس سے انکار نہیں کر سکتے۔ میں حقیقت ہوں تبھی تو تم ظاہری طور پر اس قدر خوش رہنے لگے ہو۔
ساحل۔ اگر تم اصل میں موجود ہو تو کسی بھی وقت تبدیل ہوسکتے ہو۔ میرے وفادار صرف میرے خیالات ہیں۔
شخص۔ شاید بھروسہ تمہارے قریب سے بھی نہیں گزرتا یہی وجہ ہے ایک خود ساختہ بھروسے کی دنیا اب تمہارے آمنے سامنے تیرتی رہتی ہے تم محبت میں بھی آنا پائی کے قائل ہو اور ہر پرکشش وجود سے حبہ حبہ وصول کرنا چاہتے ہو۔
ساحل۔ شاید تم ہی وہ خیال ہو جو اب مجھ کو جسمانی ساخت کے لئے مل رہا ہے۔ اب میں بھی صرف ایک جسم ہوں اور ایک غیر موجود اندیشہ جو کسی خیال کا روپ نہیں دھا رسکتا، میں فقط اپنی حرکات سے ایک ساتھ دو زندگیوں کو مکمل کرنے میں خود کو صرف کررہا ہوں۔

ساحل پھر آنا کانی کے محروسہ بھی وقت میں اپنا حصہ ترتیب دیتا اور اپنے اندازوں میں ایسا محو رہنے لگا کہ غیر موجود معاملات اور موجود حقائق کا فرق اس سے نہایت دور ہوتا گیا۔
اب ساحل اور اس کے اطراف کا سچ یا جھوٹ ہونے کا علم ساحل کے لئے صرف معمول سا بن کر رہ گیا تھا، ساحل ایک تھا مگر دو زندگیاں خیالات اور حقیقت کے درمیان گزارنے کا پابند تھا، پھر بھی ایک غیر موجود زندگی ساحل کو اسقرار سے محروم رکھتی تھی ساحل عامیانہ انداز میں سانسوں کی ڈور کو استعمال میں لاتا تھا مگر حجتوں کے اتمام کے لئے اس نے زندگی کے رخ کو تبدیل کر ڈالا تھا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: