دم توڑتی سیاسی اخلاقیات میں زندگی کی رمق — ڈاکٹر اشتیاق احمد

0

راقم کو اخلاق و اقدار سے عاری عمومی مروجہ طرز سیاست ہی نہیں بلکہ مذہبی سیاست سے بھی شدید اختلاف ہے اور نہ ہی راقم مولانا فضل الرحمن کے تصور سیاست کا حامی ہے مگر یونی ورسٹی کی سطح پر علم سیاسیات کی تدریس کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ایک غیر جانب دار سیاسی مبصر کی حیثیت میں سیاست کے میدان میں سماجی سطح پر درست اور نادرست کو نشان زد کرنا اور صورت حال کا تجزیہ کرنا ایک فریضے کی حیثیت رکھتا ہے۔

قیام پاکستان کی جدو جہد کے دوران “مہذب دنیا” کی سماجی اقدار سے دور برصغیر کے معاشرے میں سیاسی اخلاقیات پوری طرح سے قائم تھیں۔ اس زمانے میں نفرت پر مبنی گفت گو کا تناسب بہت کم تھا۔

اس عہد کی تاریخ میں منافرت کے جس قدر شواہد ملتے ہیں وہ اتنے کم ہیں کہ ان کو اس وقت کے سماج کی بنیادی قدر قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اسی طرح آج کے ہمارے سیاسی منظر نامے اور اس عہد کے درمیان ایک بنیادی فرق یہ بھی ذہن میں رہے کہ پاکستان بننے اور نہ بننے کے اختلافی نظریات کے تناظر میں دیکھیں تو ویاں زیادہ سے زیادہ نفرت انگیز مواد ان دو انتہائی نظریات کے درمیان ہی ملے گا۔ کسی ایک نظریہ کے حامیان میں نہیں ملے گا۔ لیگ یقینا ایک استعارہ تھی قیام پاکستان کی محنت میں مگر اس کے اندر مذہبی اور سیکولر نظریات موجود تھے۔

البتہ ہمارے یہاں قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہر سیاسی پارٹی کے منشور کا ایک نکتہ مشترک ہے کہ ہم پاکستان کا نظام درست کرنا چاہتے ہیں اور اسے ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں۔ لہذا یہاں سارا اختلاف اس ایک ہی تصور سیاست جو پاکستان کی سالمیت کے تحفظ اور ترقی پر مبنی ہے، کو اپنے اپنے محاورے میں بیان کرنے والوں کے بیچ ہے۔

سیکولر اور لبرل حلقوں ہی نہیں بلکہ جدید تعلیم یافتہ مذہب پسند یا مسلم قوم پرست طبقے میں یہ نظریہ پایا جاتا ہے کہ رائے کے اظہار میں سب سے زیادہ نفرت مذہبی حلقوں میں پائی جاتی ہے تو اس پہلو سے آئیندہ سطور میں تحریر کی طوالت کو مدنظر رکھتے ہوئے قیام پاکستان سے قبل کی سیاسی اقدار اور اخلاق بارے مثال مذہبی حلقے کی ہی دی جائے گی۔

سیاسی کارکنان کی حد تک جو نفرت موجود تھی اس کی آبیاری کرنے میں قائدین بہرحال خود شامل نہیں تھے بلکہ جہاں کہیں قائدین کے علم میں ایسی بات آتی وہاں ایسے فرد کے ساتھ قائدین باقاعدہ سوشل بائیکاٹ کی حد تک چلے جاتے۔ اس تناظر میں قیام پاکستان کی جدوجہد پر سیاسی موقف میں دو انتہاؤں پر کھڑے مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا حسین احمد مدنی کا باہمی ربط و تعلق حیرت انگیز ہے۔

مولانا تھانوی کے کسی مرید کے مولانا مدنی کے بارے میں نامناسب موقف رکھنے اور تزکرہ کرنے پر مولانا تھانوی نے اسے کہا کہ مولانا مدنی سے معافی مانگو اور ان سے سارا واقعہ ذکر کر کے باقاعدہ معافی نامہ لکھوا کر لاؤ تو دوبارہ اپنے حلقہ میں بیٹھنے دوں گا۔ بصورت دیگر میرے پاس تمھارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے بالآخر اس شخص نے ایسے ہی کیا تو وہ مولانا تھانوی کے پاس آنے کی اجازت حاصل کر پایا۔

پھر وقت کچھ آگے سرکا حالات بھی بدلے ان لوگوں نے بھی داعی اجل کو لبیک کہا اور بانی پاکستان، شاعر مشرق، چوہدری رحمت علی، محمد علی جوہر اور لیاقت علی خان وغیرہ ایک ایک کر کے اس جہان فانی سے کوچ کرگئے تو ساتھ میں اقدار و اخلاق بھی سیاسی میدان سے رخصت ہونے لگے، سیاسی اور سماجی اخلاقیات کے بخیے ایک ایک کر ادھڑنے لگے! اور حالات سنگین سے سنگین ہوتے چلے گئے! اکیسویں صدی کی ان دو دہائیوں میں ایک سانحہ ہمارے ساتھ بیت گیا! اور اس سے بڑھ کر المیہ یہ ہوا کہ ہمیں بحیثیت عوام بھی اور کار پردازان سیاست کو بھی اس ضمن میں بہتری کے لیے کوشش کرنے کا کوئی خیال نہ آیا۔ اب تو صورت حال یہ ہے کہ سیاسی موضوعات پر صرف زبان و بیان کی صورت حال کا جائزہ لیں تو فیملی کے ساتھ بیٹھ کر کسی ٹاک شو کو سننے کا خطرہ مول نہیں لیا جاسکتا کہ کیا معلوم اپنے اپنے تعصبات کے زیر اثر اپنے آپ کو کوثر و تسنیم میں دُھلا ثابت کرنے اور دوسرے کی ہتک عزت Character Assassination کا مقصد حاصل کرنے کے لیےگالم گلوچ یہاں تک کہ ذو معنی جملے اور گھٹیا زبان بھی استعمال کی جانے لگی مزید المیہ یہ کہ بعض اینکر صاحبان ریٹنگ بڑھانے کے چکر میں اس پُرتعفن مجلِس کی گرمی کو بڑھاوا دینے کے لیے دونوں فریقوں کو کچوکے لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

ہم آج تک لبرل اور سیکولر حلقوں کی جانب سے امریکہ اور یورپ کی سیاسی بالغ نظری، جو ان کے احتجاجی جلسے جلوسوں میں پائی جاتی، اس کی مثالیں دیتے سنتے اور پڑھتے آئے تھے, حالانکہ سیاسی قیادت کے درجے پر فائز انھی حلقوں کے سیاسی انارکی پھیلانے کے معاملات زیادہ ہیں۔ مگر اب حکومت مخالف اپوزیشن کی حالیہ احتجاجی تحریک, جس کی قیادت اس وقت جمعیت علماء اسلام کر رہی ہے, نے سیاست کے میدان میں گھٹن کی بدولت دم توڑتی سیاسی اقدار کے ماحول میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرتے کچھ مناظر اور کراچی سے شروع ہونے والا براستہ سڑک ہزار کلومیٹر سے زیادہ اور کئی دن رات پر محیط سفر اسلام آباد پہنچ کر ختم ہوا ہے, مگر پل پل کی خبر رکھنے اور کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرلینے والا سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کوئی خبر نہیں دے سکا کہ کہیں نجی یا سرکاری املاک کا جلاؤ گھیراؤ ہوا ہو, کوئی توڑ پھوڑ یا چوری ڈکیتی ہوئی ہو, کہیں لوگوں کے راستے بند کر کے بیٹھ گئے ہوں, نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔

البتہ جو ہوا ہے وہ اس سے یکسر مختلف ہے ایک سو اسی درجے پر مختلف ہے کہ لوگوں کے لیے سہولت پیدا کی گئی, عوام کی فلاح کی خاطر نکلنے والے مارچ نے کہیں بھی عوامی حقوق تلف نہیں کیے, واقعی نہ کوئی گملا ٹوٹا نہ کوئی بتی ٹوٹی, ہاں اگر دیکھا گیا تو آزادی چوک/یادگار چوک لاہور میں مخالف سیاسی جذبات سے بھرپور مجمع پرسکون بیٹھ کر اپنے سیاسی قائدین کی تقریریں سنتا رہا۔ نہ تو میٹرو بس سروس رکی نہ سڑک پر عام ٹریفک رکی, مجمعے کی اطراف میں کہیں بھی ٹریفک جام کی کوئی تصویر دیکھنے کو نہیں ملی۔ اسی طرح ایک دوسرے منظر میں کسی مجبور مریض کو ہسپتال لے جاتی ایمبولینس کو بھی رکے بغیر گزرنے کا راستہ مہیا کیا گیا۔ پولیس اہلکار مظاہرین کے ساتھ ان کی امامت میں نماز ادا کرتے نظر آئے۔ مظاہرین نے گند نہیں ڈالا بلکہ کیمرے ان کو صفائی کرتے دکھاتے رہے۔ بالغ نظر سیاسی فہم اسے کہا جاتا ہے۔ اختلاف اور مخالفت میں جذبات کو کنٹرول میں رکھنا اسے کہا جاتا ہے۔

مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کی موجودہ حالات میں ضرورت بنتی ہے یا نہیں اور مارچ کے مقاصد درست ہیں یا غلط! اس سارے قضیئے کو سردست ایک طرف رکھتے ہوئے جو پہلو سب سے اہم ہے اور بلاشبہ سیکولر اور لبرل سیاسی حلقوں ہی نہیں بلکہ مذہبی سیاسی حلقوں کے لیے بھی لائق تقلید ہے وہ امن و امان اور نظم نسق کی خوبصورتی ہے۔ دسیوں ہزار یا لاکھوں کی سرشماری پر بات نہ بھی کی جائے تو بلا مبالغہ ہر پڑاؤ پر یہ مارچ ایک جم غفیر کی حیثیت رکھتا تھا اور اسلام آباد میں بھی ایسے ہی ہے۔ یہ مجمعہ اتنا بڑا یقینا ہے جو مناسب تربیت کے بغیر کنٹرول میں رکھنا ممکن نہیں مگر تاحال کوئی ناخوشگوار واقعہ رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ یہ جہاں جہاں سے گزرا ہے نہ دکانیں لٹی ہیں نہ املاک کو نقصان پہنچا ہے نہ گاڑیاں نذر آتش ہوئی ہیں اور نہ کسی پر تشدد ہوا ہے۔

پس اب آئیندہ کے لیے ہمارے پاس بھی سیاسیات میں احتجاج کے دوران اقدار کی پاس داری بتاتے ہوئے یورپ نہیں بلکہ اپنے سماج کی زندہ مثالیں ہوں گی۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ بحیثیت قوم ہمیں اختلاف اور احتجاج میں بھی اقدار و اخلاق اپنانے کی توفیق دے۔ آمین

آنے والے دنوں میں حکومت مسائل کو حل کرنے کے اپنے لائحہ عمل کے ذریعے حالات کو کس رخ پر لے کر جاتی ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا البتہ ابھی تک کی صورت حال کی بنیاد پر اس مارچ نے امن و امان کے پہلو سے پر امن جمہوری معاشرے کے لیے لایق تقلید مثال پیش کی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: