پھٹتے آموں کا کیس‎ ——– نعیم الرحمٰن

0

بیپسی سدھوا پاکستان کی پہلی مقبول انگریزی ناول نگار تھیں۔ جن کے ناولوں نے بے حد شہرت پائی، ان ناولوں کے کئی زبانوں میں تراجم بھی ہوئے۔ کشور ناہید اور محمد عمر میمن نے بیپسی سدھوا کے ناولوں کا اردو میں ترجمہ بھی کیا۔ سدھوا کے بعد محسن حامد، کاملہ شمسی، خالد محمد، عظمٰی اسلم خان، منیزہ شمسی، بینا شاہ، مونی محسن، تہمینہ درانی، دانیا ل معین الدین، ندیم اسلم اور مشرف علی فاروقی نے بھی عمدہ انگلش ناول تحریر کر کے شہرت و مقبولیت حاصل کی۔ دو ہزار آٹھ میں ممتاز صحافی اور کالم نگار محمد حنیف کا پہلا ناول شائع ہوا۔ جس نے مقبولیت کے نئے ریکارڈز قائم کیے اور محمد حنیف کو مقبول اور مستند ناول نگار بنا دیا۔ محمد حنیف نے جنرل ضیاالحق کے سی ون تھرٹی کی تباہی کو اپنے ناول A Case of Expoding Mangoes کا موضوع بنایا۔ جو بے حد مقبول ہوا۔ دو ہزار آٹھ میں یہ ناول بکر پرائز اور گارجین فرسٹ بک ایوارڈ کی فہرست میں شامل رہا۔ دو ہزار نو میں اسے کامن ویلتھ فرسٹ بک پرائز دیا گیا۔ اس ناول کا اٹھارہ زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ انگلش ناول سے قبل محمد حنیف کی اردو میں چند ادبی تحریریں ’آج‘ میں شائع ہو چکی ہیں۔ محمد حنیف کے دوسرے ناول Our Lady of Alice Bhatti کو ویلکم بک پرائز دیا گیا۔ بلوچ لاپتہ افراد سے متعلق کتاب The Baloch Who is not Missing نے بھی بہت مقبولیت حاصل کی۔ گذشتہ سال ان کا نیا ناول Red Birds شائع ہوا ہے۔ محمد حنیف 1996ء سے بی بی سی اردو سے وابستہ ہیں۔ وہ اردو سروس کے سربراہ بھی رہے۔ ان کے کالم بی بی سی کے علاوہ نیو یارک ٹائم، نیو یارکر، واشنگٹن پوسٹ اور ٹیلی گراف میں بھی شائع ہوتے ہیں۔ انہوں نے ایک فیچر فلم The Long Night بھی تحریر کی۔ ان کا ڈرامہ ’’ڈکٹیٹر کی بیوی‘‘ ہیمسٹڈ تھیٹر میں اسٹیج کیا۔

حال ہی میں محمد حنیف کے ناول کا اردو ترجمہ ’’پھٹتے آموں کا کیس‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے۔ جس کا ترجمہ معروف شاعر و ادیب سید کاشف رضا نے کیا ہے۔ سید کاشف رضا وسیع مطالعہ شخص ہیں۔ ان کی شاعری کے دو مجموعے شائع ’’محبت کا محل وقوع‘‘ اور ’’ممنوع موسموں کی کتاب‘‘ شائع ہو چکے ہیں۔ ان کے پہلے ناول ’’چار درویش اور ایک کچھوا‘‘ نے انہیں مستند ناول نگاروں کی فہرست میں جگہ دلا دی ہے۔ کاشف رضا کو سیاحت کا بھی شوق ہے۔ اس سلسلے میں وہ ایران، چین، بھارت، ترکی، کینیا، زنجبار اور یورپ کے مختلف ملکوں کے سفر کر چکے ہیں۔ وہ اپنے قارئین کو بھی شریکِ سفر بناتے ہیں۔ اجمل کمال کے آج میں ان کی سفری یادیں شائع ہو چکی ہیں۔ سید کاشف رضا کی سفر کہانیوں کا مجموعہ ’’دیدم استنبول اور دیگر سفر کہانیاں‘‘ بھی جلد شائع ہونے والا ہے۔ انہوں نے کتابوں اور ان کے تبصروں پر مبنی کتابی سلسلہ ’’کراچی ریویو‘‘ بھی شروع کیا ہے۔ جس کے دو شمارے شائع ہو چکے ہیں۔ نوم چومسکی کے تراجم پر مبنی ان کی دو کتابیں ’’دہشت گردی کی ثقافت‘‘ اور ’’گیارہ ستمبر‘‘ بھی شائع ہو چکی ہیں۔ میلان کنڈیرا کے ناول ’’دی جوک‘‘ کے ترجمہ کا ایک حصہ معاصر آج میں شائع ہو چکا ہے۔ مکمل ناول کی جلد اشاعت متوقع ہے۔ سید کاشف رضا نے محمد حنیف کا ناول کا بہت عمدہ ترجمہ کیا ہے اور ان کی تحریر میں موجود خندہ زیر ِلب بھی پورے ناول میں شگفتگی کی زیریں لہر کی صورت موجود ہیں۔ مصنف اور مترجم کے حوالے سے ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ محمد حنیف پاکستان ایئر فورس میں پائلٹ آفیسر ہے۔ لیکن قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر انہوں نے صحافت کو اپنایا۔ صحافی سید کاشف رضا کے والد ایئر فورس میں تھے۔ جن کے ساتھ کاشف رضا کو مختلف ایئر بیس پر رہائش کا موقع ملا اور انہیں پاکستان کی فضائی افواج کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اس پس منظر کا مصنف اور مترجم کو بہت فائدہ ہوا اور وہ بہت اہم باتوں کو عمدگی سے بیان کرنے میں کامیاب ہوئے۔

نامور ناول و سفر نامہ نگار مستنصر حسین تارڑ کہتے ہیں کہ

’’گارسیا مارکیز نے کہا تھا کہ اگر ایک شخص خوش بخت ہو تو اُس کی زندگی میں ایک عورت آتی ہے جو اُسے مرد بنا دیتی ہے اور میں کہتا ہوں کہ اگر ایک مصنف خوش بخت ہو تو اُس کی زندگی میں ایک ایسا ناول آ جاتا ہے جو اُسے ایک بڑا ناول نگار بنا دیتا ہے۔ میں محمد حنیف کی قسمت پر رشک کرتا ہوں کہ اُس کی زندگی میں ’’اے کیس آف ایکس پلوڈنگ مینگوز‘‘ جیسا ناول آ گیا جس نے کُل جہان میں اُس کی ناول نگاری کی دھاک بٹھا دی۔ ایسی بٹھائی کہ آج تک کسی سے نہ اٹھ سکی۔‘‘

کاملہ شمسی نے تبصرہ کیا۔

’’سسپنس سے بھرپور اور نہایت استادی سے بُنے گئے اس ناول میں محمد حنیف تاریک ترین مقامات پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ان مقامات میں آئی ایس آئی کے قید خانے، فوجی بیرکیں اور جنرل ضیا کی خواب گاہ شامل ہیں۔ سیاہ مزاج، احتیاط سے قابو پایا ہوا غُصہ اور دلیرانہ بداعت اس ناول کو ان ہیجان خیز ترین ناولوں میں شمار کرتی ہے جو میں نے ایک طویل عرصے میں پڑھے۔‘‘

جبکہ جان لی کارے نے کہا۔

’’ظریفانہ، سلیقے سے لکھا ہوا اور مزے داری کی حد تک انتشار انگیز۔ حنیف کی آنکھ مستعد ہے اور کام اُس سے بھی بہتر۔ ‘‘

ناول کا تانا بانا ایک سچے واقعے کے گرد بُنا گیا ہے۔ اٹھارہ اگست انیس سو اٹھاسی کو صدرِ پاکستان اور آرمی چیف جنرل محمد ضیاالحق کا طیارہ سی ون تھرٹی فضا میں تباہ ہو گیا۔ جس کے نتیجے میں ضیا الحق کا گیارہ سالہ دورِ حکومت ختم ہوا۔ یہ ملکی تاریخ کا اہم ترین واقعہ ہے۔ جس نے ملک کی سیاست کا رُخ پھیر دیا۔ محمد حنیف نے چند حقیقی اور کئی فرضی کرداروں کے ذریعے اس تمام صورتحال کو اس فنی مہارت سے پیش کیا ہے کہ قاری کو یہ سب کچھ اپنے سامنے وقوع پذیر ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ تحریر کی دلچسپی ناول کو شروع کرنے کے بعد قاری کو اسے چھوڑنے نہیں دیتی۔ ہر لمحہ ایک نئی سنسنی اور ہیجان اسے جکڑے رہتا ہے۔

ناول کے بنیادی کردار جنرل محمد ضیا الحق، جنرل اختر عبد الرحمٰن، جنرل اسلم بیگ، امریکی سفیر آرنلڈ رافیل اور بیگم ضیا الحق اور چند دیگر کردار حقیقی ہیں۔ جن کے گرد ایک سچے سانحے کا تخلیقی تانا بانا بُنا گیا ہے۔ ان حقیقی کرداروں کے ساتھ چند مصنف نے فرضی کردار اس خوبصورتی سے تخلیق کیے ہیں کہ ان کے فرضی ہونے کا گمان بھی پورے ناول میں قاری کو نہیں ہوتا اور یہ حقیقی ہی نظر آتے ہیں۔ ایسے ہی کرداروں میں جونیئر انڈر آفیسر علی شگری سب سے اہم ہے۔ جو ناول کا راوی بھی ہے اور اسی کے حوالے سے آئی ایس آئی کی سرگرمیاں بھی بیان ہوتی ہیں اور فوج میں چھوٹے آفیسرز سے تفتیش کے مراحل کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اور یہ واضح کیا ہے کہ اداروں کی تفتیش کی بھینٹ عام آدمی ہی نہیں چڑھتے، فوج کے جونیئر افسر بھی گرفت میں آ سکتے ہیں اور معمولی سے شک پر ان کے لیے گلو خلاصی کافی دشوار ہوتی ہے۔ علی شگری کے والد مرحوم کرنل قلی شگری ایک ایماندار آفیسر تھے اور وہ اپنی ایمانداری کی بھینٹ چڑھا دئیے گئے ان کی موت کے حقائق کبھی منظر عام پر نہ آ سکے۔ علی شگری کو فوج کی ہولناک تفتیش سے گزرنا پڑتا ہے۔ جس کے بعض مراحل پر قاری سنسنی محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔

ناول کا آغاز ایک صبح علی شگری کے روم میٹ کیپٹن عبید کے اچانک لاپتہ ہونے سے ہوتاہے۔ جس کی تفتیش کے لیے علی شگری کو حراست میں لے لیا جاتا ہے۔ اس پورے واقعے کے ذریعے فوج کی تفتیش کے طریقہ کار کا انتہائی عمدگی سے ذکر کیا گیا ہے۔ جس کے بعض مراحل پر قاری کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ بین السطور خندہ زیر لب لیے یہ اقتباس دیکھیں۔

’’پتہ نہیں اِن حرامی اسکواڈرن لیڈروں کے ساتھ کیا مسئلہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ آپ کو ایک تِہ خانے میں بند کر دیں، اپنے بد بودار منہ آپ کے کان سے لگا دیں اور آپ کی ماں کے بارے میں چلّا کر کچھ فرمائیں تو انہیں ہر جواب مل سکتا ہے۔ یہ لوگ عمومی طور پر ایک اداس قسم کی نسل ہوتے ہیں، وہ لیڈر جن کے پاس قیادت کے لیے کوئی اسکواڈرن نہیں ہوتا۔ یہ ان کی اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی کمی ہوتی ہے جس کے سبب وہ اپنے کیریئر کے وسط میں ٹھہرے رہ جاتے ہیں، اور ان کے پاس ایک تربیتی ادارے سے دوسرے تربیتی ادارے کو جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہ جاتا۔ آپ انہیں ان کی ڈھیلی اور نیچے لٹکی ہوئی بیلٹوں سے پہچان سکتے ہیں جو اِن کی گوگڑوں کے وزن تلے پسی جا رہی ہوتی ہیں۔ یا پھر ان کی ٹوپیوں سے جنہیں وہ بہت احتیاط سے سر پر ٹکاتے ہیں، تا کہ ان کا چمک دار گنج چھپ سکے۔ ان کے ہاں پارٹ ٹائم ایم بی اے کرنے اور ایک نئی زندگی کی شروعات کرنے کی آرزو نہ ہو سکنے والی ترقیوں اور پنشن پلان کے ساتھ ہم قدم رہنے کی جستجو کرتی رہتی ہے۔‘‘

اس اقتباس سے تفتیشی افسروں کی ذہنیت کو واضح کیا گیا ہے۔ شگری کا کہناہے کہ

’’مجھے تو آدھی رات کے وقت دوسرے اسکواڈرن سے بلاوے آتے تھے کہ نئے آنے والوں کی ماؤں کے بارے میں اپنے تین منٹ کے خطاب سے انہیں رونے پر مجبور کر دوں۔ کیا وہ واقعی سمجھتا ہے کہ اگر پانچ کی قوت سے بھی ماں کی گالی دی جائے تو اس آدمی کے لیے کوئی معنی ہو سکتے ہیں جو صدرکی سالانہ انسپکشن سے اور ایک کمیشنڈ افسر بننے سے بس کچھ ہی ہفتے دور ہو۔ ‘‘

یہاں قاری کے سامنے تربیتی افسروں کے روز و شب پوری طرح عیاں ہو جاتے ہیں۔ تربیت کے دوران انہیں کن کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ دلچسپ بھی ہے اور عبرت انگیز بھی۔ دوسری جانب ایک طاقتور آمر اقتدار کی دہائی مکمل کرنے کے بعد کتنا کمزور اور بزدل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے سائے سے بھی ڈرنے لگتا ہے اور اسے اپنے قریبی افراد پر بھی بھروسہ نہیں رہتا۔ اور ضیاالحق جیسے لوگ کس طرح آخری دور خوف کے عالم میں گزارتے ہیں۔ یہ سب بھی انتہائی سنسنی خیز، ناقابل یقین اور عبرت ناک ہے۔ جبکہ حفاظت کے لیے اس کی قیام گاہ کو اسپیشل سروسز گروپ کی تین پلاٹونیں حصار میں لیے رہتی تھیں، جن کے ساتھ اینٹی ایئر کرافٹ گن کی ایک بیٹری، اس کے بیڈ روم کے میز پر ایک ترتیب سے رکھے چھ مختلف ہاٹ لائن کو جوڑنے والے مختلف رنگوں کے فون بھی موجود تھے۔ جنرل ضیا نے جون کے وسط میں سیکیورٹی الرٹ نافذ کیا جس کے تحت وہ سرکاری قیام گاہ اور آرمی ہاؤس تک محدود ہو گیا۔ دو ماہ اور دو روز کے بعد وہ پہلی مرتبہ آرمی ہاؤس سے نکلا اور طیارے کے حادثے میں ہلاک ہو گیا۔

جنرل ضیا آخری دور میں مخمصے کا شکار تھا۔ جب جنرل ضیا نے فوجی بغاوت کی اور خود کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر تعینات کیا تو اسے آرمی چیف بنے صرف سولہ ماہ ہوئے تھے۔ اسے پتا نہیں تھا کہ اس نے جن آٹھ جرنیلوں کی مدد سے مارشل لاء لگایا ہے وہ اس پر کتنا اعتماد کرتے ہیں یا، جو زیادہ اہم تھا، اس کا کتنا احترام کرتے ہیں۔ وہ سب اسے سلیوٹ کرتے تھے، اپنی نجی بات چیت میں بھی، ٹیلی فون بات چیت کی اس تحریری صورت کے مطابق جو جنرل ضیا نے دیکھ رکھی تھی، اسے چیف کہہ کر پکارتے اور اس کے احکامات پر عمل کرتے تھے۔ لیکن کیا وہ اِن داڑھی مونچھ منڈے، وہسکی خور اور اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے گروہ پر صحیح معنوں میں اعتماد کر سکتاتھا؟۔

جنرل ضیا کا سیکیورٹی آفیسر بریگیڈیئر ٹی ایم بھی ناول کا ایک دلچسپ کردار ہے۔ جو جنرل ضیا کا انتہائی وفاردار اور قابلِ اعتماد شخص ہے اور سیکیورٹی سے متعلق تمام امور اسی کی زیرِ نگرانی انجام پاتے ہیں۔ جنرل ضیا کی مجموعی سیکیورٹی جنرل اختر اور اس کی انٹر سروسز انٹیلی جنس کی ذمہ داری تھی، لیکن اس کی ذاتی حفاظت یقینی بنانے کے لیے جو آدمی منتخب کیا گیاتھا وہ بریگیڈیئر ٹی ایم تھا۔ ایک ایسا آدمی جو ہر کسی کے خلاف شکوک و شبہات سے بھرا رہتا تھا۔ وہ پچھلے چھ برسوں سے سائے کی طرح جنرل ضیا کے ساتھ لگا رہا تھا۔ اس کی مسلح کمانڈوز کی ٹیم نے جنرل ضیا کے دفتر اور لِونگ روم ایریا کے گرد حصار قائم کر رکھا تھا۔ پھر اس نے دو میل کے قطر کے اندر اسی بنیادی حصار کے گرد کئی کئی دائرے بنا رکھے تھے۔ اس نصف قطر کے بعد مزید تین میل تک کے علاقے میں سیکیورٹی برقرار رکھنے کی ذمہ داری فوج کے عام سپاہیوں کی تھی۔ یہ پانچ میل کا دائرہ شارٹ نوٹس پر حرکت کرنے کے لیے تیار رہتا تھا، جس میں جنرل ضیا بدستور مرکز میں موجود رہتا۔ لیکن جب سے اس نے وہ تمام سرکاری مصروفیات ترک کی تھیں جن کے نتیجے میں اسے آرمی ہاؤس سے باہر جانا پڑ سکتا، بریگیڈیئر ٹی ایم کے شکوک و شبہات کا مرکز خود آرمی ہاؤس ہی بن کر رہ گیا تھا۔

ان تمام تفصیلات سے جنرل ضیا اور اس کے ارد گرد پھیلی سخت ترین سیکیورٹی حصار کو واضح کیا گیا ہے۔ لیکن بریگیڈیئر ٹی ایم ایک دن جنرل کی رہائش گاہ کے تبدیل شدہ پردے اور قالین دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے جو اس کے علم کے بغیر تبدیل کیے گئے تھے اور ملک کے بانی کا ایک پورٹریٹ لگ چکا تھا، وہ پورٹریٹ جو پہلے اس نے وہاں نہیں دیکھا تھا۔ بریگیڈیئر طاہر مہدی جنرل ضیا کو بتاتا ہے کہ اسے ہر ایک سے خطرہ ہے۔ اس کے کمانڈوز سے بھی۔ وہ ہر چھ ہفتے بعد ان کمانڈوز کو ان کے یونٹوں میں بھیج دیتا ہے اور نئے لڑکے منگوا لیتا ہے۔ ہر ایک پر اعتبار کر نے کی کوئی وجہ نہیں، سر۔ اندرا گاندھی کو دیکھیں، کیا ہوا اُس کے ساتھ؟ اس کے کمانڈوز ہی نے اسے مار دیا۔

جنرل ضیا کے ذاتی کردار کا دوغلاپن عیاں کرنے کے لیے ایک دلچسپ واقعہ خاتونِ اول کے حوالے سے ہے۔ پاکستان ٹائمز میں ایک تصویر شائع ہوئی۔ جس میں انگریز خاتون جنرل کا انٹرویو لے رہی تھی اور جنرل کی آنکھیں اس کے پستان پر گڑی تھیں۔

’’وہاں اس کا شوہر بھی تھا، مردِ حق، مردِ مومن، جو ٹی وی کے پرائم ٹائم پر عورتوں کو پرہیزگاری کا درس دیا کرتا تھا، وہ آدمی جس نے ججوں اور ٹیلی ویژن کی نیوز کاسٹروں کو بھی اپنے سرں پر ڈوپٹا نہ لینے پر نکال باہر کیا تھا، وہ آدمی جس نے یقینی بنایا تھا کہ ٹیلے وژن ڈرامے کے دوران کسی خالی بستر پر دو تکیے ساتھ ساتھ نظر نہ آئیں، وہ آدمی جس نے سینما مالکان کو مجبور کر دیا تھا کہ وہ فلم پوسٹروں پر اداکاراؤں کی ننگی ٹانگوں اور بانہوں پر سیاسی پھیر دیں۔ وہی آدمی وہاں بیٹھا سفید جسم کے ان گلوبوں کو ایسی یک سُوئی کے ساتھ دیکھ رہا تھا جیسے اُس کی بیوی ان کی جوڑی کے بغیر ہی پیدا ہوئی ہو۔ انٹرویو کی ایسی تیسی، اس نے سوچا۔ ایسا لگتا ہے کہ جنرل ضیا کا انٹرویو مس ہیئرنگ نہیں لے رہی تھی بلکہ وہ جنرل ضیا تھا جو اس کے پستانوں کی تفتیش کر رہا تھا۔ ‘‘

ناول کا ایک انتہائی سنسنی خیز موڑ وہ ہے جب بریگیڈیئر ٹی ایم جنرل ضیا الحق کی رہائش گاہ آرمی ہاؤس سے بانی پاکستان کی تصویر سے خفیہ کیمرہ برآمد کرتا ہے اور اُدھر جنرل اختر کو تصاویر موصول ہونا رک جاتی ہیں۔ یہاں قاری کو یہ علم ہوتا ہے کہ جنرل اختر عبدالرحمٰن بھی ضیا الحق کے خلاف سازش میں شریک ہے۔ کیمرہ برآمد ہونے کے بعد قومی دن کی پریڈ پر بریگیڈیئر ٹی ایم پیراشوٹ جمپ کے دوران جنرل ضیا کے سامنے ہلاک ہو گیا۔ اس کی ہلاکت کا بیان بھی بہت عمدگی سے کیا گیا ہے۔

’’دوسرے گھاگ چھاتا برداروں کی طرح بریگیڈیئر ٹی ایم بھی اپنے پیراشوٹ کو کھولنے میں تاخیر کا رحجان رکھتا تھا۔ اسے اپنا رپ کورڈ کھینچنے سے پہلے کچھ سیکنڈ انتظار کرنا پسند تھا، جس کے دوران وہ پیراشوٹ کی چھتری کھُلنے سے پہلے کی فری فال کا لطف اُٹھایا کرتا۔ اپنے مشن پر جانے سے پہلے پیراشوٹ باندھتے ہوئے اس نے نوٹ کیا تھا کہ اُس کی بیلٹ اس کے جسم کے بالائی حصے میں گوشت کے اندر چبھ رہی ہے۔ بریگیڈیئر ٹی ایم کو خود پر غصہ آیا۔ ’ڈیم اٹ‘، میں سارا دن آرمی ہاؤس میں فارغ بیٹھا رہتا ہوں۔ میں موٹا ہو رہا ہوں۔ اپنے وزن کو کم کرنے کے لیے ذہن میں ایک پلان ترتیب دیا اور جلد ہی اپنے رپ کورڈ کو کھینچ لیا۔ اس کے جسم نے خود کو تیار کیا کہ جیسے ہی اس کی چھتری کھُل کر ہوا سے بھر جائے تو وہ یک دم اوپر کی طرف اچھل جائے۔ کچھ ہوا ہی نہیں۔ بریگیڈیئر ٹی ایم نے اپنے رپ کوڈ کو مضبوطی سے پکڑا اور اسے پھر سے کھینچا۔ اس نے اپنی گراوٹ کو سنبھالنے کے لیے اپنی بانہیں اور ٹانگیں باہر کی جانب پھیلا دیں تو اسے ایک ایسا احساس ہوا جو کسی اور وقت میں اس کے لیے سکون کا باعث بن سکتا تھا۔ اس کا وزن نہیں بڑھا تھا۔ وہ کسی اور کا پیراشوٹ باندھے ہوئے تھا۔‘‘

جنرل اختر محسوس کرنے لگا تھا کہ وہ جنرل ضیا کا سایہ بن کر رہ گیا ہے۔ اس کا اپنا کیریئر جنرل ضیا کی خواہشات کے پیچھے ایک وفادار کتے کی طرح چلتا گیا تھا۔

’’اگر جنرل ضیا نے خود کو ایک منتخب صدر بنوانا چاہا تو جنرل اختر نے نہ صرف ہر بیلٹ باکس کو بروقت بھر دینا یقینی بنایا بلکہ اس سے یہ توقع بھی رکھی گئی کہ ووٹوں کی گنتی کے بعد ملک بھر میں ہر طرف بیک وقت جشن بھی شروع کرا دے۔ اپنے اچھے دنوں جنرل اختر دن کے وقت خود کو شاہی جلاد اور شام کے وقت ایسا خانساماں محسوس کرتا جسے بادشاہ کا کھانا چکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہو۔ اب وہ بے صبرا ہونے لگا تھا۔ ’ملک کے دوسرے طاقت ور ترین آدمی‘ کا عہدہ، جس سے اس نے شروع میں حظ بھی اُٹھایا تھا، اب اسے کسی طعنے کی طرح لگتا تھا۔ اگر آپ کا باس طاقتِ مطلق ہو تو آپ دوسرے طاقت ور ترین آدمی ہو ہی کیسے سکتے ہیں؟‘‘

ریپ کا شکار نابینا زینب کا مشہور زمانہ کیس بھی اس دور کے تضادات کو واضح کرنے کے لیے ناول میں شامل کیا گیا ہے۔ نابینا زینب کو اپنے ریپسٹ کی شناخت نہ کرنے پر سزائے موت کا فیصلہ کس طرح دیا گیا۔ یہ انتہائی تکلیف دہ ہے جسے مصنف نے فنی مہارت سے بیان کیا ہے۔ غرض ملکی تاریخ کے انتہائی حساس سانحے پر لکھا یہ ناول انتہائی دلچسپ اور سنسنی خیز ہے اور اس کا ترجمہ بھی بہت عمدہ ہے۔ دانیال نے ناول بہت اچھی طباعت سے آراستہ کیا ہے۔ چارسو چھپن صفحات کے ناول کی قیمت نو سو پچاس روپے بھی مناسب ہے۔ مصنف اور مترجم قارئین کی داد کے مستحق ہیں۔ محمد حنیف کے دوسرے ناول بھی ترجمہ کر کے اردو قارئین کے سامنے پیش کیے جانے چاہیے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: