حرف و نشتر: دھرنا، این آر او اور چودھری برادران —- سید مظفر الحق

0

آج کل بڑی مشکل میں جان ہے ایک طرف سردی خانم وارد ہو کر کاٹ دکھا رہی ہیں تو دوسری طرف کتّوں نے آسمان سر پہ اٹھا رکھا ہے بظاہر تو یہ بھونکنے والے ہیں لیکن پتہ نہیں کب بورا کر کاٹنے لگیں پتہ نہیں ان کے بھونکنے کا سبب ٹھنڈ ہے یا جنسی خواہش اور علاقے کے اقتدار میں حصے کی جنگ، میں کتّوں سے ہرگز نہیں ڈرتا نہ ہی ان کے بھونکنے سے خوف آتا ہے چاہے وہ خود بھونکیں یا کسی کے ہشکارنے پہ، بس مسئلہ یہ ہے کہ مجھے کتّوں کی پہچان نہیں، اندازہ نہیں ہوتا کون سا صرف بھونکنے والا ہے اور کون سا کاٹنے والا کسے چپ کرنے کے لیے اینٹ درکار ہوگی اور کس کے لئے ہڈی،

اب حضرت عرفی تو نصیحت فرماگئے کہ

غوغائے سگاں کم نہ کند رزقِ گدا را
لیکن اگر فقیروں کا رزق کتوں کے بھونکنے سے کم نہ بھی ہو تو یکسوئی کی جگہ خوف لے لیتا ہے، توجہ رزق سے ہٹ کر خوف و تشویش کی نذر ہوجاتی ہے اور کبھی کبھی راستہ بھی بدلنا پڑ جاتا ہے. خاص طور پہ ایسی بستی میں جہاں ہم رہتے ہیں وہاں تو یہ بھی افتاد ہے کہ

خشت و سنگ مقید ہیں اور سگ آزاد

سنا ہے وہ جو ”دھرا” گیا تھا لپیٹ کر اٹھا لیا گیا لیکن ساتھ ہی اس اعلان کے ساتھ کہ اب ملک بھر میں جگہ جگہ دھرا جائیگا، خیر جن کی بصیرت کے ڈنکے بجتے ہیں ان کی بصارت تو یقیناً مشکوک ہے کیونکہ جب خواب میں نہیں بلکہ جاگتی آنکھوں چند ہزار کا مجمع ضرب کے کسی قاعدے کے آنکھوں پہ اثر انداز ہونے کے سبب لاکھوں نظر آنے لگیں تو بصارت تو خیر ناقابلِ بھروسہ سمجھی ہی جائیگی لیکن اس سے بصیرت بھی متاثر ہوسکتی ہے جو پہلے ہی مکر و فریب آلودہ ہے،

کچھ واقفانِ حال کو کہنا ہے کہ دھرے ہوئے کو اٹھانے میں چوہدری برادران کی کاوش و دانش کار فرما ہے، اب چودھری برادران کی دانش سے کون کافر انکار کر سکتا ہے وہ دھرنے سے زیادہ اٹھانے میں مہارت رکھتے ہیں، مثلاً جب نواز شریف مع اہل و اسباب پرویز مشرف سے ساز باز کرکے چپ چاپ جدہ اڑان بھرگئے تو چوہدری صاحبان نے بھی نواز لیگ کے سائبان کو تیاگ کر قاف لیگ کا خیمہ گاڑا اور اس میں پرویز مشرف کا دھرا ہوا اٹھانے لگے، پھر جب اس کا اقتدار لڑکھڑانے لگا تو دامن جھاڑ کر بلکہ اسے دولتی جھاڑ کر یہ جا وہ جا،

پھر مونس الہی کی گوٹ پھنس گئی تو چشم زدن میں خون کی لکیر گندی نالی بن گئی اور زرداری کے سینے نال لگ گئے ٹھاہ کرکے، اب دیکھنا یہ کہ اس دھرے ہوئے کو اٹھانے کے لئے کیا راگ سنایا گیا ہے، چوہدری صاحبان اور دھرنے والوں بلکہ دھرے ہوؤں میں ایک قدرِ مشترک یہ ہے کہ دونوں ہمیشہ کسی نہ کسی انداز میں اقتدار کے خوانِ یغما سے وابستہ رہے ہیں دھرنے کے کرتا دھرتا جو دو دن کے نوٍٹس پہ عمران خان کا استعفیٰ لینے آئے تھے سب جانتے ہیں ان میں کتنا دم خم ہے اور ان کی تگ و دو کا محور کبھی ڈیزل کے پرمٹ اور کبھی شہید فوجیوں کے لئے مختص زمینیں رہی ہیں پھر اس بار کیا ڈیزل کی جگہ جیٹ کا پٹرول بھردیا گیا ہے؟

بات اتنی سادہ نہیں کہ حلوے کے عادی جبہ و دستار اچانک تیر و تفنگ بن گئے ہیں، ذرا سوچیں تو سہی کہ وزیر اعظم کیوں بار بار این آر او نہ دینے کی تکرار کر رہے تھے اور اقتدار مافیا کے ترجمان کہہ رہے تھے کہ ان سے این آر او مانگ کون رہا ہے، زور اس پہ نہیں تھا کہ این آر او نہیں مانگ رہے بلکہ یہ وضاحت تھی کہ عمران خان سے این آر او نہیں مانگ رہے تو پھر کسی سے تو مانگ رہے تھے نا! کیونکہ عمران خان کسی قیمت پہ احتساب سے دستبردار ہونے پہ تیار نہیں تھا مگر ”وہ” چاہتے تھے کہ سمجھوتہ کر کے کچھ محاذ بند کر دیئے جائیں، سو ہانکا کر کے مطلوبہ مقام پہ لانے کا اہتمام کیا گیا کچھ کو ہشکارا دیا اور کچھ کو پچکارا گیا، ڈیل اور ڈھیل کا ملبہ حکومت پہ گرانے کا اہتمام ظاہر تھا. گویا درد سہیں بی فاختہ کوے انڈے کھائیں، میڈیا کے شور شراپے سے آخر کار خان صاحب کا ناریل بھی چٹخ گیا اور ناکردہ گناہ کی سزا بھگتنے سے انکار کر کے ڈیل میں اڑنگا لگانے پہ تل گئے، انہیں بھی پانی کے سر سے گزر جانے کا اندازہ ہوگیا تھا۔

آخر شیخ رشید یوں ہی تو نہیں کہہ رہا تھا کہ نواز شریف کو جانے دیا جائے اور اب اسی مرکز سے وابستہ چوہدری برادران بھی کسی انہونی سے ڈرا کر وہی دیپک راگ سنانے لگے ہیں لیکن بھیرویں کی طرز میں، دیکھنا ہے کہ اب اس کارگہہ شیشہ و آہن سے کیسے نبرد آزما ہوتے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: