کھیل کی نفسیات اور آج کی سیاست ——– قاسم یعقوب

0

کھیل میں کھیل کی نفسیات بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ اگر کھلاڑی کھیل کی بنیادی نفسیات کے حلقۂ اثر میں نہیں ہے تو وہ اچھا کھیل نہیں پرفارم کر سکتا۔ کھیل میں کھلاڑی نے ہر صورت دوسرے کو شکست سے دوچار کرنا ہوتا ہے۔ کھیل کا بنیادی محور ’جیتنا‘ ہوتا ہے۔ ہر کھلاڑی اپنے ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ مل کر حریف کو شکست دینے کے منصوبے بناتا ہے، مختلف اطراف سے وار کرتا ہے اور اپنی جیت کو یقینی بنانے کی طرف قدم اٹھاتا ہے۔ کھلاڑی کو یہ غرض نہیں ہوتی کہ وہ دوسرے کو کیوں شکست دے رہا ہے؟ اگر وہ شکست دینے میں کامیاب ہو گیا تو اُسے کیا حاصل ہوگا؟ اگر وہ خود حریف سے شکست کھا جاتا ہے تو پھر کیا ہوگا؟ کھیل صرف اس ایک نفسیاتی کیفیت کے ساتھ کھلاڑی کو میدان میں اتارتی ہے کہ اس نے میدان میں اپنے حریف کو ہر صورت شکست دینی ہے۔

میں ٹین ایج میں بہت کرکٹ کھیلا کرتا تھا۔ ہم اپنے محلے کے دوست آپس میں دو ٹیمیں بانٹ لیتے اور پھر ایک دوسرے کے خلاف جنگ آزما ہوجاتے۔ کھیل کے دوران ہم ایک دوسرے کے دشمن ہوتے اور دوسرے کو شکست دینا زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ بنا لیتے۔ یونہی کھیل ختم ہوتا، ہم یہ ’دشمنی‘ ایسے بھول جاتے جیسے کسی بھرے بازار کی رات کے وقت رونق معدوم ہوجاتی ہے۔ بعض اوقات تو ایک کھیل کے اختتام کے بعد ایک دوسرے کھیل کے لیے کھلاڑی بھی آپس میں تقسیم کر لیے جاتے۔ مخالف ٹیم کی طرف سے کھیلنے والا کھلاڑی اب ہماری طرف اور ہمارا کوئی کھلاڑی حریف کی ٹیم کی طرف سے کھیل رہا ہوتا۔ جو جہاں چلا جاتا، وہ ایک دوسرے کے لیے کھیل کے میدان میں سخت ’دشمن‘ بن چکا ہوتا اور اب اسے شکست سے دوچار کرنا زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ بن جاتا۔

کھیل سے ہم قوتِ برداشت اور صحت مند رہنا سیکھتے ہیں۔ منصوبہ بندی کرنا،حریف کے خلاف پلان ترتیب دینا، اپنی شکست کو کامیاب بنانا وغیرہ؛ زندگی کا حصہ بنتا ہے مگر یہ سب کچھ کھیل کے میدان تک محدود ہوتا ہے۔ کھیل ختم؛ سب کچھ ختم۔ چند ہی دنوں کے بعد کھلاڑی سب کچھ بھول چکا ہوتا ہے۔

پچھلی ایک دہائی سے کھیل کی نفسیات، پاکستانی سیاست کی نفسیات بن گئی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں اپنے کھلاڑی بدلتی ہیں، تازہ دم ہوتی ہیں، پھر ان کے درمیان کھیل شروع ہوجاتا ہے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھاتے ہیں، گندا کرتے ہیں، ایک دوسرے کو شکست دیتے ہیں ،پھر کھیل ختم ہوجاتا ہے۔

ہر زمانے کی اپنی حساسیت (Sensitization) ہوتی ہے۔ زمانہ تو اب دہائیوں میں بدل چکا ہے، ہر دہائی اپنے ساتھ اپنی اخلاقیات، تقاضے اورمزاج لے کر آتی ہے۔ وقت اتنی تیزی سے اشیا کو بدل رہا ہے کہ ہم کھڑے کھڑے پرانے ہو رہے ہیں۔ ابھی ایک چیز کے نئے پن پر گفتگو ہی ہو رہی ہوتی ہے ، کہ وہ پرانی بن چکی ہوتی ہے۔ پاکستانی سیاست میں ہر دہائی میں مختلف تبدیلیاں وقوع پذیر ہوتی رہیں مگر نوے کی دہائی تک سیاست کا مجموعی مزاج ایک جیسا تھا۔ نوے تک کی سیاست کو ایک حساسیت (Sensitization) سے سمجھا جا سکتا ہے مگر نوّے کے بعد پہلی دہائی میں جو پے در پے معاشرتی تبدیلیاں آئیں، ان کی موجودگی سے پورے سیاسی منظر نامے کی ’حساسیت‘ بدلی۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ پوری سیاسی تاریخ کو ایک ہی طرح کی اخلاقیات اور تقاضوں کی کسوٹی سے ماپا جائے۔ سیاسیات کا طالب علم بخوبی جانتا ہے کہ سماجیات کی تبدیلی سیاسی تبدیلیوں کا باعث بنتی ہے۔ ہم ساٹھ، ستر، اسی اورنوے کی دہائیوں کی مثالوں سے آج کی ’حساسیت‘ کو نہیں ماپ سکتے۔ ہر عہد کا اپنا مزاج اور تشکیل ہوتی ہے۔ ہاں البتہ ایک ہی عہدمیں رہتے ہوئے ایک ہی طرح کی ’حساسیت‘ (Sensitization) میں سیاست، معاشرت، انسانی کرداری نفسیات وغیرہ کو جانچا، پرکھا اور تقابلی پیش کیا جا سکتا ہے۔ ایوب کے مارشل لائی مزاج کو اکیسویں صدی کے ماشل لائی مزاج سے (حرف بہ حرف) نہیں ماپا جا سکتا۔ اسی طرح ستر اور نوے کی سیاست کو آج کی’ حساسیت‘ کے ساتھ تقابل کرتے ہوئے (حرف بہ حرف) پیش نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستانی معاشرہ 2001ء کے بعد بہت تبدیل ہوا۔ پہلی دہائی میں الیکٹرانک میڈیا اور دوسری دہائی میں سوشل میڈیا نے سماجیات کو بدل کے رکھ دیا ہے۔ اس تبدیلی نے نئی موریلٹی کو جنم دیا ہے۔ پہلی دہائی میں مارشل لائی جبر کے باوجود میڈیا اور سماجی طاقتوں نے سماجی تبدیلیوں کا عمل جا ری رکھا۔ مین سٹریم کی سیاسی قیادت ملک بدر ہونے کے باوجود مارشل لائی قوتیں سماج میں زیادہ مضبوط پنجے نہ گاڑ سکیں۔ دوسری دہائی میں پاکستانی سیاست میں ’مین سٹریم قیادت‘ دوبارہ طاقت میں آئی مگر اس بار مقتدرہ کی طرف سے ایک سیاسی قوت عمران خان بھی متعارف کروائی گئی۔ یاد رہے کہ یہ قوت مقتدرہ کی مدد یا اجازت سے نہیں بلکہ ان کی نمائندہ قوت کے طور پر سامنے آئی۔ پاکستانی سیاست میں ایسا پہلی بار ہوا کہ ایک بڑی عوامی پذیرائی کے ساتھ سامنے آنے والی سیاسی جماعت بیک وقت عوام اور مقتدرہ، دونوں کی نمائندہ تھی۔ اس سیاسی جماعت کے ووٹر کھل کر ’مقتدرہ‘ کی نمائندگی کر رہے تھے۔ پہلے بھی مقتدرہ کی آشیر باد سے سیاسی جماعتیں سامنے آتی رہیں ہیں مگر یہ پہلی بار ہوا کہ یہ بڑی سیاسی جماعت مقتدرہ کا فکری، سماجی اور مالیاتی دفاع بھی کر رہی تھی۔ گویا مقتدرہ کی حمایت تو ایک طرف باقاعدہ مقتدرہ کی جماعت بن کر سامنے آنے والی پہلی سیاسی جماعت عمران خان کی تھی۔

عمران خان نے سیاست میں کھیل کی نفسیات کا رواج دیا۔ جیسا کہ کھیل کی نفسیات کا ذکر ہوا کہ کھیل میں ایک دوسرے کو جیتنا ہوتا ہے۔ کیوں جتنا ہے، کیسے جیتنا ہے وغیرہ کھلاڑی کے مسائل نہیں ہوتے۔ اسے صرف اتنا پتا ہوتا ہے کہ میں نے ’’اس‘‘ سے جیتنا ہے۔ اپنی ٹیم کا کھلاڑی بھی اگر حریف کے ساتھ مل گیا تووہ بھی ’ہدف‘ قرار پائے گا۔ عمران خان کو پورا کریڈٹ ملنا چاہیے کہ مارشل لائی دہائی کے ختم ہونے کے فوراً بعد عمران خان ہی وہ سیاسی طاقت تھا جس نے سیاست کی ’حساسیت‘ (Sensitization) کو بدل کے رکھ دیا۔ سوشل میڈیائی مزاج نے سیاست میں ورود کرنا شروع کر دیا۔ دوسری دہائی میں عمران خان نے پہلی دفعہ کارگردگی (Performance) کی بجائے بیانیے دیے۔ مہنگائی سے نجات، انصاف کی فراہمی،اداروں کی بحالی (پٹوار، عدالت، پولیس،تعلیم، ہسپتال، ریلوے، ٹیکسیشن، لوکل گورنمنٹ، معیارِ زندگی وغیرہ)۔ یہ سارا بیانیہ بعد میں ’تبدیلی‘ کے نام سے جاری ہوا۔ یہ سیاست میں نئی ’حساسیت‘ کا دور تھا۔ اس حساسیت کو سوشل میڈیا کے ذریعے پیش کیا گیا۔

عمران خان نے دو نسلوں اور دو کلاسوں کو متوجہ کیا۔ ایک نسل وہ تھی جو بالکل نئی نئی جوان ہوئی تھی، یہ سب بچے 2005 کے بعد کی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے سیاست میں کچھ بھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ اسی زمانے کی ’حساسیت‘ کے ساتھ پوری سیاست کی تاریخ کو دیکھنے اور سمجھنے لگے۔ چوں کہ ’’مقتدرہ‘‘ عمران خان کی پشت پر نہیں ہمراہ موجود تھی ، اس لیے یہ بچے ’’مقتدرہ‘‘ کی مداخلت کو بھی درست سمجھنے لگے۔ (یہ ایسا خوفناک بگاڑ تھا، جس کا نسل در نسل خمیازہ بھگتنا ہوگا)۔ دوسری نسل وہ تھی جو اسی اور نوے کی دہائی کی سیاسی مہرہ بازی سے تنگ تھی اور اب نئے سیاسی شعور کی چکا چوند سے آزمائشی طور پر منسلک ہونا چاہتی تھی۔ اسی طرح عمران خان نے دو کلاسوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا۔ ایک کلاس تو وہ تھی جس کا کبھی سیاست سے معاملہ نہیں رہا۔ یہ اپر کلاس تھی، جن کے لیے ووٹ ڈالنا ہی پہلا تجربہ تھا۔ دوسری کلاس اپرمڈل کلاس تھی جو ملکی مسائل سے زیادہ عمران خان کو پسند کر رہی تھی۔ یہ کیسا عجیب اتفاق ہے کہ عمران خان نے جن مسائل کی نشان دہی اور جن کی بنیاد پر اپنا بیانیہ (Narrative) ترتیب دیا، وہ ان دونوں کلاسوں کا مسئلہ ہی نہیں تھا۔ عمران خان کا بیانیہ جن لوگوں کی بات کر رہا تھا ،وہ روایتی پارٹیوں سے جڑے ہوئے تھے۔ صرف اس عہد کا ’’جدید انسان‘‘ عمران خان کی پکار پر باہر نکل رہا تھا۔ آپ اندازہ کر لیں کہ سستی روٹی، قرضہ، ٹرانسپورٹ، میٹرو، بجلی کی پیداوار اور کارخانوں کی ترقی، موٹرویز، سڑکیں اور منڈی کی حرکت، لیپ ٹاپ سکیم وغیرہ اس طرح کی درجنوں سکیمیں اپر کلاس کے لیے بالکل پرکشش نہیں تھیں، اس کا براہ راست مخاطب غریب تھا۔ اس لیے غریب نو ن لیگ کے ساتھ جڑا رہا۔ عمران خان کا تمام بیانیہ بھی غریب کا بیانیہ تھا، مگر اس تبدیلی کے بیانیے سے عمران خان کے ساتھ جو کلاس آکے جڑی وہ نہایت مختلف اور اپر کلاس تھی۔ یہ بیانیہ جس کا براہ راست مسئلہ ہی نہیں تھا۔ پولیس، سرکاری ہسپتال، سرکاری تعلیم، صحت کارڈ وغیرہ یہ غریب کے مسائل تھے مگر عمران خان کو لبیک کہنے کے لیے جو آئے وہ نہایت امیر اور نئی نسل کے سوشل میڈیائی مزاج کے نوجوان تھے۔

عمران خان نے اس کھیل میں جس حریف کو اپنا مخالف چنا، وہ نواز شریف تھا۔ نواز شریف نوے کی دہائی کی سیاست کے مزاج سے آہنگ تھا جو کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ لیتی تھی۔ محلوں میں کونسلر، ایم پی اے، ایم این اے، اپنی سیاست مہم میں بتاتے کہ اس نے نالیاں اور کٹر بنائے ہیں، یا وہ بنائے گا۔ محلے میں سوئی گیس لگوا چکا ہے یا لگوائے گا۔ نئی ڈسپنسری اور سکول کھلوا چکا ہے یا کھلوائے گا،وغیرہ۔ یعنی نوے تک کی سیاست میں کارکردگی کو مرکزی اہمیت حاصل تھی۔ عوام بھی یہ دیکھتے کہ یہ میرا نمائندہ میرے لیے کیا کرے گا۔ یا اس نے پہلے میرے لیے کیا کیا ہے۔ کارکردگی ہی وہ بنیادی کسوٹی ہوتی، جہاں سے ایک پارٹی کو مسترد کر دیا جاتا یا انتخاب کر لیا تھا۔ سیاسی پارٹیوں کے ’منشور‘ کی بڑی اہمیت ہوتی۔ میرے خیال میں 2018کے الیکشن میں شاید ہی کسی کو یاد ہو کہ ’منشور‘ بھی کوئی چیز ہوتی تھی۔ کیوں کہ اب کی بار بیانیوں کی سیاست غالب آچکی تھی۔ دو نہیں ایک پاکستان۔ کرپشن سے فری پاکستان۔ تبدیلی آئی رے۔ بنے گا نیا پاکستان۔ لوٹ مار کرنے والوں سے نجات،وغیرہ۔ یہ نئے تبدیلی کے نعرے تھے۔

عمران خان نے جس تبدیلی پر اپنے نعرے بیانیوں میں پیش کیے، وہ امیر سے زیادہ غریب کے قریب تھے مگر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ غریب کی بجائے عمران خان کے ساتھ امیر آدمی کھڑا تھا۔ ڈیفنس اور والٹن لاہور کا حلقہ NA-131 (Lahore-IX) ہمارے لیے بہت دلچسپ مطالعہ رہے گا۔ یہ علاقہ دوکلاسوں میں تقسیم ہے۔ یہاں اکثریتی غریب طبقہ سعد رفیق (نون لیگ) کو ووٹ دے رہا تھا جب کہ نہایت اپر کلاس زندگی میں پہلی بار عمران خان کے لیے ووٹ ڈالنے نکلی تھی۔

اس تبدیلی کی فضا میں کھیل کی نفسیات کو مرکزی اہمیت مل گئی۔ کھیل کھیلو، حریف کو شکست دو، اس شکست سے کیا ملے گا، اس کے بارے میں کچھ نہیں سوچنا۔ شکست شکست شکست، ہر حالت میں شکست۔ اسی لیے جب عمران خان اقتدار میں آیا تو کھیل ختم ہو گیا۔ میچ جیت لیا گیا۔ حریف کو ناکوں چنے چبوا دیے گئے۔ اب آگے کیا ہوگا کسی کو معلوم نہیں تھا۔ کچھ عرصے کے بعدکھیل دوبارہ شروع ہو گیا۔ حریف میدان نہیں چھوڑ رہا۔ اسے شکست دینی ہے، کیسے دی جائے، جیسے بھی دی جائے، شکست دینا لازمی ہے، ورنہ میچ ہاتھ سے نکل جائے گا۔ چوں کہ اس کھیل میں وہ نسل اور کلاس شامل ہے جس کا براہ راست تعلق عوامی مسائل سے ہے بھی نہیں۔ اس لیے اقتدار میں آتے ہی سب کچھ بھلا دیا گیا۔ ماڈل ٹائون کا کیس، ساہیوال کیس، مہنگائی کا طوفان، سرکاری سکولوں کی حالت، تعلیم کا بجٹ، صحت اور سرکاری ہسپتالوں کی حالت، کھیل کے ویران میدان، سیاحت، ٹیکس نظام،معیشت، لوکل حکومتوں کا نظام، احتساب کمیشن KPK، روزگار کی فراہمی، وزیر اعظم ہاوس، گورنر ہائوسز کی تعلیمی اداروں میں تبدیلی وغیرہ ،سب کچھ ختم ہو گیا۔ چوں کہ یہ سارا کھیل کی نفسیات پر تعمیر کیا گیا محل تھا۔ اس لیے کھیل میں اسے ایک حربے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ مخالف کو شکست دے دی گئی، اس لیے اس کی اب ضرورت نہیں تھی۔

چوں کہ کھیل جاری رکھنا ہے اور کھیل میں حریف کو شکست بھی دینا ضروری ہوتا ہے، اس لیے نئے حربے گھڑلیے گئے۔ پرچی تقریرکے مقابلے میں کامیاب تقریر ،پچھلوں قرضوں کی بہتات،چور چور چور، بھاگ گیا ڈیل ڈٖیل _____یوں یہ کھیل جاری ہے۔ کھیل کے دوران حریف کی شکست کے لیے ہمیشہ امید رکھی جاتی ہے۔ ایک چوکا یا چھکا اپنی ٹیم کے لیے آکسیجن مہیا کر دیتا ہے۔ عمران خان کا ووٹر فورا باہر نکل آتا اور کھیل شروع ہو جاتا ہے۔

یہ کھیل جاری ہی جاری رہے گا، جب تک ہمیں اس کا احساس نہیں ہوگا کہ ملک کا بیڑہ غرق ہو چکا ہے۔ کسی کی شکست کا بنیادی مقصد کھیل میں سامنے رکھا جاتا ہے، ملک کی ترقی کے لیے نہیں۔ سیاست سے ملکوں کی تقدیر بدلنے کے لیے تباہی کی نہیں، تعمیر کی ضرورت ہوتی ہے۔ نوے کی دہائی میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو ایک دوسرے کے خلاف یہ کھیل کھیلتے رہے جس سے ملک کو شدید نقصان پہنچا۔ اب کی بار یہ کھیل نواز شریف اور عمران خان کے درمیان جاری ہے۔ نواز شریف اس کھیل میں اپنے ماضی کے بڑھاپے کے بوجھ کے باعث شکست کھاتا جا رہا ہے، جب کہ عمران خان نئی اور توانا ٹیم میدان میں لے کر نکلا ہے۔ اس لیے وہ شکست دیتا جا رہا ہے۔

خدا کے لیے اس کھیل کی نفسیات سے نکلیں، نفرت کے نقصانات بتا کے محبت فروخت نہیں کی جاتی۔ قوم کو تبدیلی، ترقی اور خوشحالی کے رستے پر ڈالنے کے لیے حریف سے کھیل نہیں کھیلا جاتا۔ اس سے دوستی کی جاتی ہے۔ مل کے آگے بڑھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا عمران خان پاپولسٹ ہیں؟ ۔۔۔۔۔۔ احمد الیاس
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: