زندگی ادب میں — سلیم احمد

0

تقریباََ چار دہائی قبل لکھی جانے والی سلیم احمد مرحوم کی ایک یادگار تحریر۔


سوال یہ ہے کہ زندگی کیا ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک حرکی رو؟ لیکن حرکت و تغیر کا مجرّد تصور تو ممکن نہیں، اس کے لیے ایک پیکر کی ضرورت ہوتی ہے جس میں حرکت و تغیّر کو محسوس کیا جا سکے۔ ظاہر ہے کہ یہ پیکر صرف انسانی معاشرہ ہو سکتا ہے۔ زندگی اپنی ارتقاء پذیر شخصیت کو بہتر سے بہتر پیکر میں ظاہر کرنے کے لیے انسانی معاشرہ کو توڑ پھوڑ کر نئے سرے سے بناتی ر ہتی ہے۔ زندگی کی یہ توڑ پھوڑ گویا شکست و ریخت، زندگی کا یہ ارتقائی عمل ہمیشہ سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا تو گویا زندگی کا ارتقائی عمل خود بخود جاری ہے اور اس میں انسانی ارادہ اور انسانی فکر و عمل کا کوئی دخل نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔ لیکن زندگی کے خود بخود ارتقاء پذیر ہونے کا یہ رجائی نظریہ جو بظاہر اتنا خوش آئند اور دل فریب نظر آتا ہے۔ حقیقتاً زندگی کے کسی اندھی تقدیر کے ہاتھوں تباہی کی طرف جانے کے قنوطی نظریہ سے کچھ کم خطرناک و مہلک نہیں ہے۔ تقدیر خواہ خیر کی ہو یا شر کی، انسانی فکر و عمل کے لیے قطعی ناقابل قبول ہے۔ انسان نہ فرشتہ ہو کر جی سکتا ہے نہ شیطان ہو کر، اس کا خیر و شر تو وہی ہے جس کی وہ خود اپنے عمل سے تخلیق کرتا ہے وہ کسی ایسے خیر و شر کو قبول نہیں کر سکتا جو اس پر خارج سے عائد ہوتا ہو، زندگی کے یہ دونوں نظریے انسانی فکر و عمل کی اہمیت سے مُنکر ہیں۔

اصل میں زندگی کا تغیّر و تبدّل، انسانی فکر و عمل کے تغیّر و تبدیل سے عبارت ہے۔ انسان کے خیالات و جذبات بدلتے رہتے ہیں، اس لیے اس کا ماحول بدلتا رہتا اور اس لیے اس کے خیالات و جذبات بدلتے رہتے ہیں۔ جس طرح یہ نہیں ہو سکتا کہ ماحول بدل جائے اور خیالات و جذبات نہ بدلیں۔ اسی طرح یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ خیالات و جذبات نہ بدلیں اور ماحول بدل جائے۔۔۔۔۔۔۔۔ تغیّر و تبدل کا یہ عمل بخطِ مستقیم نہیں ہے بلکہ ایک دائرہ بناتا ہے اس لیے اس میں تقدم و تاخر کی تلاش کرنا ایک لا یعنی فعل کے سوا اور کچھ نہیں۔ جس طرح آپ دائرہ کے خط پر کسی جگہ انگلی رکھ کر یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہاں سے دائرہ شروع ہوتا ہے اور یہاں ختم ہوتا ہے۔

اسی طرح انسانی ماحول اور انسانی خیالات و جذبات کی اس تاثر پذیری اور تاثر ریزی میں کسی ایک کو مقدم اور دوسرے کو موخر نہیں کہا جا سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔ زندگی کی حرکت و ارتقاء کا راز یہ ہے کہ انسانی ذہن ایک بلندی پر پہنچ کر ایک دوسرا منظر دیکھنا شروع کر دیتا ہے جو اس سے بلندی پر ہوتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے انسانی ذہن کا یہ عمل رک جائے تو زندگی کی حرکت بھی رک جاتی ہے شاید اسی بات کے پیش نظر اقبال نے (حالانکہ وہ ’’جاوداں‘‘ پیہم دوراں ہر دم جواں ہے زندگی‘‘ کے بہت قائل ہیں) محکومی کی زندگی کو جوئے کم آب سے تشبیہ دی ہے۔ اگر زندگی کو صرف ایک رو مانا جائے جو انسانی فکر و عمل کے بغیر بھی آگے بڑھتی رہتی ہے تو انسانی عمل کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے۔ کوئی بڑے سے بڑا رجائی بھی انسانی فکر و عمل کی اہمیت اور ضرورت سے انکار کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔

ممکن ہے کہ فلسفہ یا سائنس میں زندگی کو کسی ایسی قوت سے تعبیر کیا گیا ہو، جو خود بخود ارتقاء پذیر ہے، لیکن ادب میں اس کے کچھ معنی نہیں ہوتے۔ انسان کی پیدائش سے پہلے بھی زندگی کی حرکی رو اپنی منزلیں طے کر رہی ہو گی اور ممکن ہے کہ انسان بھی اس کی اس حرکت کا نتیجہ ہو، لیکن ادب زندگی کے اس مجرد تصور سے بحث نہیں کرتا۔ وہ تو زندگی سے اس وقت متعارف ہوا ہے جب وہ انسانی معاشرہ کی شکل میں ظہور پذیر ہوئی ہے۔ اس لیے ادب میں زندگی کا مفہوم انسانی معاشرہ کا اجتماعی وجود ہے اور ادب اور زندگی کے تعلق کے معنی ادب اور معاشرہ کے تعلق کے ہیں جب ادب اور زندگی کے تعلق اور ربط پر زور دیا جاتا ہے تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ ادب کو انسانی معاشرہ اور انسانی فکر کا ترجمان ہونا چاہیے۔ یہ ترجمانی بجائے خود زندگی کی تفسیر بھی ہے اور تنقید بھی۔ تفسیر اس لیے کہ وہ ماحول کی تصویر کشی کرتی ہے اور تنقید اس لیے کہ وہ انسانی فکر کے اس رجحان کو ظاہر کرتی ہے جو موجود سے مطمئن نہیں ہوتا اور اس کا جویا و متلاشی رہتا ہے جو ’’موجود‘‘ نہیں ہے اور ’’موجود‘‘ سے بہتر ہے۔

ادب شعور زندگی کے اظہار کی ایک صورت ہے اور زندگی کے شعور کی دو قِسمیں ہیں، انفرادی شعور اور اجتماعی شعور۔ زندگی کے انفرادی شعور سے تو کوئی ادب بھی خالی نہیں ہوتا اور نہ ہو سکتا ہے نیاز فتحپوری (جو غالباً اردو ادب میں ادب برائے ادب کے نظریہ کے سب سے بڑے مبلغ رہے ہیں) اگر رقاصہ سے کچھ کہتے ہیں تو وہ رقاصہ بھی زندگی کی عشرتوں، لذتوں، مدہوشیوں اور سرم مستیوں کی ایک علامت ہے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی کے نزدیک وہ بے حیائی، بے شرمی، آوارگی اور نا پاکی کا نشان Symbol ہو۔ یہیں سے ایک دلچسپ اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ رقاصہ بجائے خود کیا ہے؟ کوئی اس پر مر مٹتا ہے، اس کے جسم کی رعنائیوں میں گم ہو جاتا ہے اس کی آواز کی چھنک اور اس کے اعضا کی لچک کو جنت نگاہ سمجھتا ہے اور اُسے زندگی کی اعلیٰ ترین نعمتوں میں سے ایک نعمت قرار دیتا ہے اور کوئی اس سے نفرت کرتا ہے، اس کے دیکھنے کو گناہِ کبیرہ سمجھتا ہے اور اُسے زندگی کی نعمتوں میں سے ایک نعمت سمجھ کر اس کا وجود صفحۂ ہستی سے مٹا دینا چاہتا ہے۔ آخر یہ اختلاف کیوں؟ اس سوال سے رقاصہ کو نکال دیجئے اور اس کی جگہ زندگی کو رکھ دیجئے۔ زندگی کسی کے لیے صرف عشرت پرستی، لذت کوشی اور عیش طلبی کا نام ہے اور کسی کے لیے صرف ایذا نصیبی، آہ و زاری و فریاد و فغاں کا پیغام۔ کوئی جینے کی آرزو میں مرا جاتا ہے اور کوئی مرنے کی تمنا میں جئے جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔ بات اصل میں یہ ہے کہ رقاصہ سے لے کر زندگی تک کا یہ شعور انفرادی اور شخصی ہے اور اسی لیے یک طرفہ اور بڑی حد تک ناقص ہے۔ آدمی کا شعور جتنا زیادہ انفرادیت سے اجتماعیت کے نزدیک آ جاتا ہے۔ اس کی نظر چیزوں کے صحیح خدو خال پر جمتی جاتی ہے۔ رقاصہ جو اس سے پہلے آلۂ عشرت طلبی یا جذبہ نفرت کو متحرک کرنے والی تھی اب سماجی، تمدنی، معاشی اور معاشرتی پس منظر میں اپنے صحیح مقام پر نظر آتی ہے اور اس کے جسم کی رعنائیوں میں کھو جانے یا اس سے نفرت کرنے کی جگہ ان معاشی اور معاشرتی خامیوں اور کوتاہیوں کو دور کرنے کا خیال آتا ہے جو اسے رقاصہ بنانے کے ذمہ دار ہیں۔ زندگی کے انفرادی شعور کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کسی شے کو اس کے پس منظر سے الگ کر کے صرف اپنے جذباتی و احساساتی نقطۂ نظر اور اپنے تجرباتی زاویۂ نگاہ سے دیکھتا ہے اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اسے چیزیں دھندلی اور ٹیڑھی میڑھی نظر آتی ہیں لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ انفرادی شعور کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔ در اصل خود اجتماعی شعور، انفرادی شعور کی ایک ترقی یافتہ صورت ہے۔ انفرادی شعور کی ایک اپنی حیثیت ہے۔ اور اسی کی بدولت ادیبوں اور شاعروں کی اپنی اپنی آواز بنتی ہے اور ایک ہی زمانہ اور ایک ہی ماحول میں پیدا ہونے والے ادیبوں اور شاعروں کی تفنیفیں ایک دوسرے سے الگ اور مختلف رہتی ہیں۔ اجتماعی نقطہ نظر کے دو مفہوم ہیں پہلا یہ کہ انسان کسی شے کو اس کے پورے پس منظر کے ساتھ دیکھتا ہے۔ دوسرا یہ کہ وہ کسی شے کو اس نقطہ نظر سے دیکھتا ہے جس سے انسانوں کی اکثریت اسے دیکھتی ہے یہ دونوں باتیں انسان کی شخصی اور اجتماعی زندگی کے لیے نیک فال ہیں، کسی شے کو اس کے پورے پس منظر میں دیکھنا خود کو حقیقت سے نزدیک تر کرنا ہے اور کسی شے کو عام انسانوں کے نقطۂ نظر سے دیکھنا اپنے خیالات و جذبات، اپنے نظریات و اعتقادات کی صداقت کو دریافت کرنا ہے اور اپنے خیالات و جذبات کی صداقت کو دریافت کرنا ہی زندگی کا اولین تقاضہ ہے۔ ہمارے قدیم و جدید ادب کا بیشتر حصہ اب تک انفرادی شعور کی ترجمانی کرتا رہا ہے۔ میں نے قدیم و جدید ادب کا نام ایک ساتھ لیا ہے مگر اس سے چونکنے کی کوئی بات نہیں ہے، اتنا ہی تو فرق ہوا ہے کہ غزل کی مقبولیت کی جگہ اب افسانہ کی مقبولیت نے لے لی ہے مگر غزل اور افسانہ اپنے لمحاتی تاثر کی ترجمانی اور اجمالی اسلوب کے لحاظ سے اصلاً ایک ہیں۔

اپنے خیالات و جذبات اپنے دکھ سکھ، اپنے غم و مسرت کو اتنی اہمیت دینا کہ آدمی انہیں کا ہو کر رہ جائے، ایک قسم کی ذہنی بیماری ہے، غموں کو اتنی زیادہ اہمیت دینے سے آدمی میں دنیا بے زاری، کلبیّت، جھلاہٹ اور مایوسی پیدا ہوتی ہے اور خوشیوں کو اتنا اہم سمجھنے سے خود غرضی، خود پرستی اور خود بینی جنم لیتی ہے، بس اتنا ہی تو ہے کہ ہمارے غم ہمیں تباہ کر دیتے ہیں، ہماری شخصیت کو مٹا دیتے ہیں اور ہماری خوشیاں ہمیں جلا دیتی ہیں۔ بنا سنوار دیتی ہیں، لیکن ہمارا بننا سنورنا، ہمارا مٹنا مٹانا دوسروں کی زندگی پر کیا اثر ڈالتا ہے؟ ہم رو رہے ہیں تو دوسرے ہمارے ساتھ کیوں روئیں ہم ہنس رہے ہیں تو دوسرے ہمارے ساتھ کیوں ہنسیں؟ ہمارے پائوں میں کانٹا گڑا ہے تو دوسروں کو تکلیف کیوں پہنچے؟ ہمیں پھولوں کی سیج میسر ہے تو دوسروں کو راحت کیوں ہو؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ انسان انسان کے درمیان انفرادیت اور شخصیت کی دیوار کھنچی ہوئی ہے۔ ادب اس دیوار کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کا کام نہیں کرتا، ادب شخصی اور ذاتی غموں اور مسرتوں کی ڈائری نہیں ہوتا۔ اس کا کام تو انسان کو انسان کے قریب لانا ہے۔ انسان انسان کے درمیان کھنچی ہوئی شخصیت کی دیوار کو توڑ کر انہیں ایک دوسرے کے دکھ سکھ کا ساتھی بنانا ہے۔ وہ اپنے دکھ سکھ کو دوسروں کی نظر سے دیکھنے اور دوسروں کے دلوں میں جھانک کر ان کے دکھ سکھ کو سمجھنے کی ایک مقدس اور مبارک کوشش ہے ادب کی سب سے بڑی قدر اس کی انسانیت، اس کی مخلوق دوستی اس کی انسانوں کو ایک دوسرے سے قریب لانے کی خواہش ہے۔ ہر بڑا شاعر اور ادیب اپنی آواز کو، اپنے دل کی دھڑکنوں کو، عام انسانوں کی آواز، عام انسانوں کے دلوں کی دھڑکنوں سے ملانے، عام انسانوں کے دکھ سکھ، امیدوں اور آرزوئوں کی ترجمانی کرنے، عالمِ خارجی کے گوناگوں پہلوئوں اور حیات و کائنات کے رنگا رنگ مظہروں سے دل چسپی رکھنے اور اپنی شخصیت اور عالمِ خارجی کے درمیان توازن قائم رکھنے کی وجہ سے بڑا ہے۔ زندگی کے انفرادی شعور سے ایک فرد کے ذاتی غموں اور خوشیوں، آرزوئوں اور حسرتوں، امیدوں اور مایوسیوں، ناکامیوں اور کامرانیوں غرض ایک فرد کی زندگی میں پیش آنے والے واقعوں اور حادثوں کی ڈائری تو لکھی جا سکتی ہے لیکن زندگی کی تنقید، زندگی کے مستقبل کے امکانات کا اندازہ، زندگی کے ماضی و حال کے صالح عناصر کی پرکھ، ایک بہتر انسان اور بہتر معاشرہ کا تصور انفرادی شعور کے بس کی بات نہیں۔ یہ بصیرت تو صرف انسانی ذہن کے اجتماعی طرز فکر اور انسانی زندگی کے اجتماعی ذہنی و عملی رجحانات کے علم ہی سے حاصل ہو سکتی ہے اور کسی طرح نہیں۔

زندگی کی تنقید ادب کا اہم اور مقدس فریضہ ہے، زندگی جو کچھ ہے وہ ابھی اس سے بہت پیچھے ہے جو اسے ہونا چاہیے، اسے آگے بڑھانے، اس کی ارتقائی راہ پیمائی میں حدی کا کام کرنے اس کے خیر و برکت کے عناصر کو چمکانے بلکہ اس کی شخصیت کے ظہور کے لیے ایک نئے اور بہتر پیکر کے خدو خال کو اجاگر کرنے کی ذمہ داری ادب پر ہے۔ اس ذمہ داری سے سبکدوش ہونے کے لیے ادیب کا صرف بھلا آدمی ہونا، صرف جذباتی اور رحم دل ہونا بلکہ صرف بڑا دل و دماغ، متوازن شخصیت اور جچی تلی قوتِ فیصلہ رکھنا ہی کافی نہیں ہوتا، اس کے لیے اس عصری رجحان کا شعور رکھنا سخت ضروری ہے جس کو میں نے ذہنِ انسانی کا اجتماعی شعور کہا ہے۔ ہمارے قدیم ادب نے زندگی کی تصویر کشی نہیں کی (غزل میں اس کی گنجائش بھی کہاں تھی) لیکن زندگی کی تنقید کے اہم کام کو اس نے بڑی حد تک انجام دیا ہے۔ کہیں استعجاب اور احتجاج کی صورت میں اور کہیں طنز کی صورت میں، اگر ایک اسی مسئلہ کو لے لیا جائے کہ ہماری قدیم شاعری کا خاصا بڑا حصہ واعظ اور زاہد کی برائیوں پر مشتمل ہے تو میری بات کے لیے ایک مضبوط دلیل بہم پہنچتی ہے۔ داغ اور ریاض کی ملّا سے کوئی ذاتی پرخاش نہیں تھی، نہ یہ شخصی اور انفرادی مناقشات تھے، یہ پھبتیاں تو پوری قوم کے ذہنی تنفّر اور حقارت کا اظہار کرتی ہیں گو غزل کا اندازِ بیان اسے شخصی بنا دیتا ہے۔ اب اقبال نے پیر حرم کی بے بصری، کوتاہ نگاہی، زر پرستی اور حق فروشی کو جس اسلوب کے ساتھ بیان کیا ہے اس پس منظر میں میری بات بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ ہماری شاعری میں محبوب کی جفائوں اور بے وفائیوں اور اس کے ہجر کے شکوئوں کی جو افراط ہے وہ صرف میر و غالب ہی کی شکایتیں نہیں ہیں جو وہ اپنے محبوب سے کرتے ہیں بلکہ اس تہذیب و تمدن میں بسنے والے تمام انسانوں کی صدائے احتجاج ہے جو وہ اپنی تہذیب کے خلاف بلند کرتے ہیں جس نے مرد اور عورت کے درمیان پتھر کی دیواریں کھڑی کر دیں جس میں عورت کی ہر صنفی خواہش گناہ اور بے حیائی ہے۔

کودا کوئی دیوار تری دھم سے نہ ہو گا

کوئی شخص واقعہ نہیں بلکہ اس تہذیب کا نمائندہ ہے جس میں محبوب سے ملنے کے لیے دیواریں پھاندنی پڑتی ہیں۔ غرض ہماری پوری شاعری پر بے اطمینانی اور نا آسودگی کی جو فضا طاری ہے وہ اس حقیقت کی آئینہ دار ہے کہ ان کا اجتماعی شعور اپنے تمدن اور تہذیب سے غیر مطمئن ہے اور ایسی تہذیب چاہتا ہے جس میں یہ باتیں نہ ہوں وہ ایسے ماحول کا تقاضا ہے جس میں مرد و عورت کے درمیان یہ دیواریں نہ کھنچی ہوں جس میں محبوب وفا کر سکے۔ جس میں عاشق کو کم از کم اتنی فرصت ہو کہ وہ تصور جاناں کر سکے جس میں محبوب طوائف نہ ہو، کہا جاتا ہے کہ اردو شاعری کا محبوب طوائف ہے۔ اردو شاعری کو اس سماج کی تفسیر سمجھا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ جس میں طوائف پرستی پھیلی ہوئی ہو۔

لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ کیا اردو شاعری کا عاشق طوائف سے جنسی آسودگی حاصل کر کے مطمئن ہو جاتا ہے؟ نہیں وہ مطمئن ہوتا، اس کے کچھ اور ذہنی اور روحانی تقاضے ہیں۔ وہ اس سے رفاقت چاہتا ہے، وفا چاہتا ہے۔ یگانگت چاہتا ہے اس سے وہ مطالبے کرتا ہے جو صرف محبوب سے کیے جا سکتے ہیں، طوائف سے نہیں، اسے صرف طوائف پرستی کے رجحان کا آئینہ سمجھنا بھیانک غلطی ہے۔ اس کو اس سماج کی صرف تفسیر سمجھنا جس میں طوائف پرستی ہو، سطحیت کی دلیل ہے، یہ اس سماج کی صرف تفسیر نہیں ہے اس کی تنقید بھی ہے اور اس کا تنقیدی پہلو زیادہ نمایاں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تنقید کسی ٹکے بندھے نظام فکر کسی مخصوص نظریہ حیات کے ما تحت نہیں ہے۔ اس لیے موجودہ ادب کی تنقید حیات سے مختلف ہے وہ زندگی کو مفروضات اور نظریات کی عینک لگا کر نہیں دیکھتی۔ وہ کسی مخصوص نظامِ حیات کو بروئے کار لانے کے لیے کچھ باتوں کو نظر انداز کر کے کچھ باتوں کو بڑھا چڑھا کر نہیں پیش کرتی۔ وہ ذہن انسانی کے اس رجحان کی آئینہ دار ہے کہ وہ حال و موجود سے غیر مطمئن ہے اور مستقبل میں حال سے بہتر زندگی کا خواہش مند ہے۔ وہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ابھی ہمارے سماج میں کتنی ایسی کوتاہیاں ہیں جو انسان کی شخصیت کے بننے سنوارنے اور اس کے ذہنی، روحانی اور مادی تقاضوں کے پورا ہونے میں حارج ہیں۔ ادب کی یہ تنقید زیادہ حقیقی، زیادہ دور رس اور زیادہ درست ہے بہ نسبت اس تنقید کے جو زندگی کو مفروضات اور نظریات کی روشنی میں دیکھتی ہے۔ ادب کی تنقید حیات صرف اس مفروضہ پر قائم ہے کہ انسانی ذہن کی ترقی کی کوئی حد نہیں ہے زندگی کا سفر کہیں ختم نہیں ہوتا اس لیے ادب کسی نظامِ حیات کو اتنا مکمل نہیں کرتا جس پر زندگی کی ترقی کی انتہا ہو جائے۔ ادب کسی نظام حیات کو بروئے کار لانے کے لیے کچھ حقیقتوں کی تکذیب اور کچھ کی غلط توجیہ نہیں کر سکتا، انسان کا اجتماعی شعور اس قطع و برید اس تکذیب و توجیہہ کا ذمہ دار نہیں اور جو ادب اس اجتماعی شعور کی تنقید کے علاوہ کسی اور مخصوص نظریہ کے ما تحت زندگی کی تفسیر و تنقید کرتا ہے، اس کی تنقید کسی مخصوص جماعت کے نظریہ حیات کا مکروہ پروپیگنڈہ ہے اور اس کی تفسیر، کسی دروغ باف کوچہ گرد کی ڈائری ہے جس میں وہ کچھ مخصوص مصلحتوں کی بنا پر ان باتوں کو بیان کرتا ہے جو اس نے نہیں دیکھیں اور ان باتوں کو بیان نہیں کرتا جو وہ دیکھتا ہے اور اپنی دیکھی ہوئی باتوں کو گھٹا بڑھا کر پیش کرتا ہے۔ غرض میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ادب میں تنقید حیات کے کچھ معنی ہیں تو صرف یہ کہ وہ انسانی ذہن کے اس اجتماعی فکری رجحان کی ترجمانی کرتا ہے جو زندگی کے ارتقا کا ذمہ دار ہے جو حال سے غیر مطمئن رہتا ہے جو کسی شے کے مکمل ہونے کا یقین نہیں کرتا مگر مکمل کا خواب دیکھتا رہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔

انسان کو مکمل اور بہتر کی تلاش ہمیشہ رہی ہے، آگے دیکھنا اس کی فطرت میں داخل ہے ایک منزل پر پہنچ کر وہ دوسری منزل کے خواب دیکھنے لگتا ہے یہی چیز ہے جو زندگی کو آگے بڑھانے کی ذمہ دار ہے اسی کی بدولت وہ غاروں اور کھوئوں سے نکل کر آسمان پر اُڑنے لگا ہے۔ اس کا تمدن، گروہوں، جماعتوں، قبیلوں اور خاندانوں سے گزر کر ایک عالمگیر اور آفاقی تمدن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ادب بھی اس کے اس سفر میں اس کا رفیق رہا ہے۔ اس نے انسان کی وابستگی کے لیے اسے قصے کہانیاں بھی سنائی ہیں۔ اس کے دل میں اٹھنے والے سینکڑوں سوالوں کا جواب بھی دیا ہے۔ اس کے غموں اور مسرتوں سے غمگین اور مسرور بھی ہوا ہے۔ ہاں اس نے غم میں خوشحالی تکلف میں آرام کی اور دکھ میں سکھ کی بشارت بھی دی ہے۔ اس نے انقلاب کے گیت بھی گائے ہیں اور میٹھی لوریاں بھی سنائی ہیں۔ دکھ درد کے مارے ہوئے انسان کو ایک بہتر زندگی کا سندیسہ بھی دیا ہے، لیکن یہ سب کچھ اس نے انسان کے فکری و عملی رجحانات کی آئینہ داری کی ذمہ داری کی بنا پر کیا ہے، اس آئینہ داری کی پابندی کے علاوہ وہ کسی اور پابندی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ادب پر پابندی لگانے کے معنی انسانی فکر پر پابندی لگانے کے ہیں، انسانی فکر پر پابندی لگانا، زندگی پر پابندی لگانے کے مترادف ہے اور زندگی کے ارتقاء پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔۔۔۔۔۔۔۔ اس لیے ادب پر بھی پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ ادب کے ہر محتسب کو یہ حقیقت اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے!

ادب ہر زمانہ میں انسانی آرزوئوں اور حسرتوں، انسانی دکھوں اور سکھوں، انسانی غموں اور حسرتوں کے بوجھ میں دبا رہا ہے لیکن اس کے باوجود اس نے ذہن انسانی میں گاہِ گاہِ چمکنے والی ان کرنوں کو بھی چھونے کی کوشش کی ہے، جو ہر زمانے کے انسان کے ذہن میں آئندہ کے بہتر انسان اور بہتر سماج کے تصوّر سے پھوٹتی ہیں۔ اس نے زندگی کے ماضی و حال کی نہیں اس کے مستقبل کی جھلک بھی دکھائی ہے۔ اس نے انسانی غم و نشاط کے اظہار میں وہ جھنکار پیدا کی ہے جو رواں دواں زندگی کے لیے گویا حدی کا کام کرتی ہے اور اس کی اسی کوشش نے اسے زندگی کی طرح کچھ دائمی اور ابدی اقدار بخشی ہیں، ادب کی دائمی اور ابدی اقدار سے انکار کرنے والے ادب اور زندگی کا ناقص تصوّر رکھتے تھے۔

زندگی میں ایک قسم کا رجحان پایا جاتا ہے جو خیر کی طرف مائل ہے۔ یہ رجحان زندگی کی دائمی اقدار میں سے ایک ہے۔ مذہب کے خیر و شر کے تصوّرات کی طرح یہ ’’خیر‘‘ کوئی ٹھوس اور جامہ چیز نہیں ہے جو اس پر خارج سے عائد ہوتی ہو۔ یہ چیز خود زندگی کے عمل میں مضمر ہے، زندگی برابر نئے تجربے کرتی رہتی ہے اور ہر نئے تجربے میں پچھلے تجربہ کے صالح عناصر کو شامل کر کے فاسد عناصر کو چھوڑ دیتی ہے۔ یہی اس کا وہ رجحان ہے جسے میں نے خیر کہا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو تغیّر کو ارتقاء کا جامہ پہناتی ہے۔ اسی کی بدولت زندگی اپنے تسلسل میں ایک وحدت بنتی ہے۔ ادب جتنا زیادہ زندگی کے اس مائل بہ خیر رجحان کو اپنے میں جذب کرتا جاتا ہے، اتنا ہی وقتی اور ہنگامی ہونے سے بلند ہوتا جاتا ہے۔ زندگی کا ہر تجربہ اس کے اگلے تجربے کے کچھ دھندلے سے نقوش کی جھلک بھی دکھاتا ہے۔ ادب زندگی کے کسی تجربہ کی ترجمانی کرتے وقت ان دھندلے نقوش کو بھی ظاہر کرتا ہے یہی چیز اسے مستقبل میں زندہ رکھتی ہے، زندگی کسی واقعہ یا حادثہ کا نام نہیں ہے۔ واقعات و حادثات زندگی میں پیش آتے ہیں اور زندگی ان سے تھوڑی بہت متاثر بھی ہوتی ہے لیکن زندگی خود حادثہ یا واقعہ نہیں ہوتی۔ ادب میں زندگی کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ زندگی کے واقعوں اور حادثوں کی فہرست تیار کرتا ہے، وہ تو زندگی کو ایک وحدت کی شکل میں دیکھتا ہے اور اس کے تسلسل کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس میں تو کوئی شبہ نہیں کہ وہ واقعوں اور حادثوں کا ذکر کرتا ہے (کیونکہ بہر صورت ایسا ہونا ناگزیر ہے) لیکن وہ واقعات و حادثات اس کے موضوع کا پس منظر تیار کرتے ہیں بذاتہِ اس کا موضوع نہیں ہوتے۔ زندگی قطعی غیر منقسم ہے، اسے الگ الگ واقعوں اور حادثوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ ادب بھی زندگی میں پیش آنے والے واقعوں اور حادثوں کو الگ الگ نہیں دیکھتا۔ اس کو واقعات و حادثات سے صرف اسی وقت دلچسپی پیدا ہوتی ہے جب وہ انسانی اجتماعی فکر و عمل پر اپنا اثر ڈالتے ہیں۔ میں نے ابھی ابھی کہا تھا کہ واقعات و حادثات ادب کے موضوع کا پش منظر تیار کرتے ہیں، بذاتہِ اس کا موضوع نہیں ہوتے۔ ادب کا موضوع انسان کا انفرادی و اجتماعی فکر و عمل ہے جب انسانی فکر و عمل میں کوئی موڑ آتا ہے تو ادب فوراً اس طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور اس واقعہ یا حادثہ کی زمین تیار کر کے اس پر انسان کی فکری و عملی حالت کی تصویر کھینچتا ہے، ہر واقعہ و حادثہ پر ادب تخلیق کرنے کا مطالبہ ادب کے ساتھ ایک خطرناک قسم کا مذاق ہے۔ یہ بالکل طرح کا مصرع دے کر غزل کی فرمائش کرنے کے مترادف ہے۔ ادب کو واقعات و حادثات کی ڈائری، پولیس انسپکٹر کا روزنامچہ یا اخباری رپورٹ بنا دینے کا مطالبہ ہے۔ اس مطالبہ کی مضحکہ خیزی اپنی مثال آپ ہے لیکن شاید اس مطالبہ میں حماقت اور لا علمی کا اتنا ہاتھ نہیں ہے۔

ظاہر ہے کہ واقعیت زندگی کا یہ رجحان ادب کی دائمی اقدار کے لیے ایک خطرہ ہے لیکن اس رجحان کو پھیلانے والوں نے ایک ایسا فلسفیانہ گورکھ دھندا بنایا ہے، جو بظاہر بہت سادہ اور سلجھے ہوئے استدلال پر مبنی ہونے کی وجہ سے قابل قبول معلوم ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ادب انسان کے خیالات و جذبات کا آئینہ ہے اور خیالات و جذبات طابع ہیں ان مسائل و حالات کے جن کو ہم ماحول کہتے ہیں اور چونکہ ماحول بدلتا رہتا ہے اس لیے خیالات و جذبات بھی بدلتے رہتے ہیں۔ اور جب خیالات و جذبات بدلتے رہتے ہیں تو ادب کا بدلنا بھی نا گزیر ہے، ماحول کے بدلنے اور اس کے ساتھ خیالات و جذبات کے بدلنے کے استدلال سے یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ زندگی کی دائمی اقدار کا وجود باطل ہے اور جب زندگی کی دائمی اقدار کے انکار کو درست ثابت کر دیا گیا تو پھر ادب کی دائمی اقدار کا ذکر ہی بے معنی ہو جاتا ہے۔ زندگی دائمی قدروں کے انکار سے ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ ماضی کی کچھ اہمیت نہیں ہے، جو کچھ گزر گیا وہ گزر گیا اور اب زندگی کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے، جب یہ مفروضہ تسلیم کر لیا گیا تو ظاہر ہے کہ ادب کا ماضی سے بے گانہ ہو جانا لازمی ہو گیا۔ ادب پر یہ بات گویا فرض کر دی گئی کہ وہ صرف اسی کو پیش کرے جو ہو رہا ہے۔ رہ گئی ادب کے مستقبل کا اشاریہ ہونے کی بات سو اس کا مفہوم متعین کرنے میں کچھ زیادہ وقت پیش نہیں آتی۔ یہ پہلے ہی تسلیم کیا جا چکا تھا کہ زندگی کا اشتراکیت تک پہنچنا ناگزیر ہے۔ اس لیے ادب کے مستقبل کا اشاریہ ہونے کا سیدھا سادا مطلب یہ نکلا کہ ادب کو اشتراکیت کی بشارت دینا چاہیے۔ جب یہ طے ہو گیا کہ ادب کا ماضی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس کے مستقبل کے اشاریہ ہونے کا مفہوم اشتراکیت کی تبلیغ کرنا ہے تو ادب کی تفسیر و تنقیدِ حیات کا منطقی مفہوم یہ ہوا کہ ادب غیر اشتراکی تمدن کی کوتاہیوں کو اپنا موضوع بنائے اور بین السطور اشتراکیت کا پروپیگنڈہ بھی کرے۔ اس صورت میں ادیب کے لیے گویا یہ بات لازم ہو گئی کہ وہ ہر واقعہ و حادثہ کو غیر اشتراکی تمدن کے سر تھوپ دے۔ فوراً لکھنے کا مطالبہ شاید اس لیے کیا گیا کہ کل وہ واقعہ ماضی میں گم ہو جائے گا، اس لیے اگر اس پر کچھ لکھا بھی گیا تو چونکہ اس کی پروپیگنڈہ ڈیلیو ختم ہو چکی ہو گی اس لیے وہ بے مصرف اور بیکار ہو گا۔

جب ادب کا اتنا سستا تصور قائم ہو تو اس کی دائمی اقدار کا ذکر ہی بے محل ہو جاتا ہے۔ لیکن ہر دیانتدار ادیب کو یہ محسوس ہونا چاہیے کہ کمیونسٹ اقدار اور ادبی اقدار دو مختلف دنیائیں ہیں۔

یہ بات تعجب کی تو نہیں ہاں مضحکہ انگیز ضرور ہے کہ زندگی کی دائمی قدروں سے ان لوگوں نے انکار کیا جو زندگی کی ارتقاء کے نظریہ کے سب سے بڑے مبلغ سمجھے جاتے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب زندگی کی کوئی مستقل قدر نہیں ہے، جب انسانی فطرت اپنا کوئی مستقل مزاج نہیں رکھتی جو ہر زمانہ اور ہر حالت میں موجود رہتا ہے، جب انسان کے کچھ مخصوص جذبات اور کچھ مخصوص دائمی تقاضے نہیں ہیں۔ جب ایک زمانہ کے مسائل و حالات دوسرے زمانے کے مسائل وحالات سے قطعی بے تعلق اور مختلف ہوتے ہیں اور جب ان حالات و مسائل کو حل کرنے کے لیے جو تجربات ایک زمانہ میں کیے جاتے ہیں، کچھ باتوں کو دور کرنے اور کچھ کو حاصل کرنے کی جو کوشش عمل میں آتی ہے، کچھ قدروں کے حصول کے لیے جو سعی کی جاتی ہے، دوسرے زمانہ میں قطعی بیکار ہو جاتی ہے، گویا زندگی کا جو دور گزر جاتا ہے وہ اگلے دور کے لیے قطعی لا یعنی اور فضول ہو جاتا ہے تو پھر ارتقا کے کیا معنی رہ جاتے ہیں؟ حالانکہ جب، ہم ارتقاء کہتے ہیں تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ کوئی ایک چیز ہے جو تمام تغیرات سے گزرتی ہے اور ان تغیرات میں اپنی شخصیت کو برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھتی ہے، یہ وہ چیز ہے جسے ہم انسانی فطرت کہتے ہیں۔ انسانیت کا ایک مستقل مزاج ہے جو مخصوص حالات میں مخصوص طور پر کام کرتا ہے، اس کے کچھ دائمی تقاضے ہیں۔ انہی تقاضوں کی بدولت آج وہ اتنی منزلیں طے کر کے یہاں پہنچا ہے۔ ان تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے جو حل سوچے گئے وہ ضرور بدلتے اور روز بروز پیچیدہ ہوتے جاتے ہیں۔ لیکن انسان کے ان بنیادی تقاضوں میں کوئی تبدیلی، کوئی فرق نہیں ہوا ہے، تقاضوں کو پورا کرنے کی صورتیں بدل جاتی ہیں، تقاضے نہیں بدلتے ماحول بدل جاتا ہے، انسانیت کا مزاج نہیں بدلتا۔ انسان جب غاروں اور کھوئوں میں رہتا ہو گا، بھوک لگنے پر شکار یا پھلوں سے پیٹ بھر لیتا ہو گا، دریائوں اور چشموں کا پانی پی لیتا ہو گا۔ غرض جب زندگی اپنی بالکل سادہ حالت میں ہو گی اس وقت وہ اپنی فطرت کے ایک تقاضے سے مجبور ہو کر ایک دوسرے وجود سے ملا ہو گا، پھر اس سے ملنے کے نتیجہ کے طور پر ایک تیسرا وجود پیدا ہوا ہو گا، اس کے پالنے پوسنے کی ذمہ داری بھی اس پر عائد ہوئی ہو گی اور اس طرح خاندانوں کی بنیاد پڑی ہو گی۔ پھر مختلف خاندانوں میں ربط و تعلق ہوا ہو گا، ان کی عورتیں ان کے مردوں سے اور ان کی عورتیں ان کے مردوں سے ملی ہوں گی تو ایک قبیلہ کی بنیاد پڑی ہو گی، اس کے ساتھ ساتھ ان کی معاشی ضروریات بھی بڑھتی گئی ہوں گی اور ہر خاندان کو کچھ کھلا لینے اور کچھ پی لینے کی ضرورت محسوس ہوئی ہو گی، اسے اپنے رہنے بسنے کے لیے کچھ زمین کی بھی حاجت ہوئی ہو گی اس طرح مختلف خاندان مختلف قبیلے اپنی اپنی معاشی ضرورت کے ما تحت اس کوشش میں مصروف ہوئے ہوں گے کہ کچھ چیزوں پر قبضہ جما لیں، جنہیں وہ اپنا کہہ سکیں اور جن میں ان کو تخرج و تصرف کا پورا اختیار ہو۔ اس طرح ان میں رقابتیں قائم ہوئی ہوں گی۔ ایک خاندان کی دوسرے خاندان سے آویزش، ایک قبیلہ کی دوسرے قبیلہ سے رقابت نے انہیں مجبور کیا ہو گا کہ وہ کئی کئی خاندان کئی کئی قبیلے ملا کر ایک گروہ بنا لیں تا کہ اپنے رقیبوں سے مقابلہ کر سکیں۔ جس کا گروہ بڑا اور طاقتور ہو گا اس نے زیادہ چیزوں پر قبضہ کر لیا ہو گا۔ دوسرے کمزور گروہ اور جماعتیں ان کی غلام ہو گئی ہوں گی، یا خدا کی وسیع زمین میں کسی اور طرف نکل گئی ہوں یا مٹ گئی ہوں گی۔ ان معاشی معاملات کے ساتھ ساتھ ان کی فطرت کے کچھ اور تقاضے بھی ابھرے ہوں گے۔ وہ اس پھیلی ہوئی کائنات کی رنگا رنگی کو بھی دیکھتے ہوں گے، موسم کی تبدیلیاں بھی ان کی زندگی پر اثر انداز ہوئی ہوں گئی۔ وہ ٹھنڈی ہوائوں اور گرجتی ہوئی گھنگھور گھٹائوں سے بھی متاثر ہوئے ہوں گے، بہار و خزاں کے اثرات بھی انہوں نے محسوس کیے ہوں گے۔ بجلیوں نے ان کے خرمنوں کو بھی جلایا ہو گا۔ ان کی توجہ سورج، چاند اور تاروں کی طرف بھی مبذول ہوئی ہو گی۔ ان کے دل میں کائنات کے متعلق طرح طرح کے سوالات بھی اٹھتے ہوں گے۔ بارش کیوں ہوتی ہے؟ بادل کیوں اُمنڈتے ہیں؟ بجلیاں کیوں گرتی ہیں؟ سورج اور چاند کہاں سے آتے ہیں اور کہاں غائب ہو جاتے ہیں؟ بے شمار پھیلے ہوئے ان تاروں میں یہ ایک راستہ سا کیا بنا ہوا ہے، انسان کیوں مرتا ہے، مر کر کہاں جاتا ہے؟ اس آسمان کے اوپر کیا ہے؟ زمین کس چیز پر قائم ہے وہ ان سوالوں کے جواب بھی چاہتے ہوں گے اس طرح ان میں ایک ایسا طبقہ پیدا ہوا ہو گا جو ان کے ان سوالات کا جواب اپنی اور ان کی عقل کے مطابق دیا کرتا ہو گا، یوں ان کے دماغ میں حیات و کائنات کے کچھ تصورات پیدا ہوئے ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ مختلف گروہوں اور جماعتوں کے تصورات مختلف ہوں گے پھر وہ اپنی فطرت کے ایک اور تقاضے سے دو چار ہوئے ہوں گے۔ انہوں نے محسوس کیا ہو گا کہ پیٹ بھرنے، شکار کھیلنے اور جنگ و جدل سے فرصت کے وقت انہیں کچھ ایسے مشاغل کی ضرورت ہے جن میں وہ اپنے وقت کو دلچسپی سے گزار سکیں۔ اس طرح ان میں ناچ رنگ کی محفلیں قائم ہوئی ہوں گی کچھ لوگ شعر و شاعری کی طرف بھی مائل ہوئے ہوں گے۔ ان کے اشعار کا موضوع یا تو ان کی جنگیں ہوتی ہوں گی یا ان کے وہ تصورات ہوئے ہوں گے جو انہوں نے حیات و کائنات کے متعلق قائم کیے ہوں گے۔ مختلف قبیلوں کے لوگ فرصت کے وقت ایک دوسرے سے مل کر اپنے ان تصورات کو بھی بیان کرتے ہوں گے۔ ان تصورات کے اختلاف پر بحثیں بھی ہوتی ہوں گی اور چونکہ ان کا فیصلہ قوت کا فیصلہ ہوتا تھا۔ اس لیے اس سلسلہ میں جنگ و جدل کا بھی آغاز ہوا ہو گا اور اس کی باگ ڈور ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہو گی جو ان تصورات کے مبلغ ہوں گے اس طرح وہ سرداری کے منصب پر قائم ہوئے ہوں گے۔ ادھر ان کی روز مرہ کی زندگی میں ایک ہی خاندان کے لوگوں، ایک ہی قبیلہ کے افراد کی خواہشوں میں ٹکرائو پیدا ہوا ہو گا۔ وہ بیماری آزادی میں بھی مبتلا ہوئے ہوں گے، ان میں کچھ افراد مرے بھی ہوں گے اور ان کے بعد ان کے وارثوں میں ان کے ترکہ پر بھی تنازعات شروع ہوئے ہوں گے اس لیے ان کو کچھ قوانین بھی وضع کرنے پڑے ہوں گے۔ اب ان کے اشعار کا موضوع جنگ و جدل اور حیات و کائنات کے تصورات سے ہٹ کر ان روز مرّہ کے معاملات کی طرف مبذول ہوا ہو گا اور وہ ایثار، ہمدردی، محبّت اور مل جل کر رہنے کی تبلیغ کرنے لگا ہو گا۔ ان کے علاوہ عورت کی پُر اسرار دلکشی اور محبت کی نا قابل فہم تڑپ نے بھی ان کے ذہن کو متاثر کیا ہو گا۔ ان میں کچھ عاشق بھی پیدا ہوئے ہوں گے اس طرح ان کے ادب کا ایک موضوع عشق اور جنس بھی ہو گا۔۔۔۔۔۔۔

آج بھی یہ باتیں بالکل ویسی ہیں معاشی پیچیدگیاں ہیں۔ ان سے پیدا ہونے والی جنگیں ہیں۔ کچھ ذہنی تصورات و معتقدات ہیں۔ ان کے تنازعات اور ان کے تنازعوں کی باگ ڈور اور اس طرح سرداری کا منصب ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جو ان کے مبلغ ہیں۔ وہی روز مرہ کی زندگی کی مشکلات ہیں وہی جینے کی تڑپ ہے، وہی ادب کے موضوعات ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ ذرائع معاش کی صورتیں بدل گئی ہیں۔ معاشی ضرورتیں نہیں بدلیں۔ تصورات بدل گئے ہیں۔ وہ ذہنی رجحان بدلا جس سے تصورات کی پیدائش ہوتی ہے، جنسی تعلقات کی صورتیں بدل گئی ہیں، جنسی تڑپ نہیں بدلی۔ غرض ماحول بدل گیا ہے، انسانی فطرت کے تقاضے نہیں بدلے۔ اگر انسان کے بنیادی تقاضوں سے انسانیت کے مستقل مزاج سے انسانی فطرت کے غیر متغیر ہونے سے انکار کر دیا جائے تو قوانین حیات کی تلاش بیکار ہے۔ انسانیت کے تجربے بے کار ہیں۔ انسانیت کی پوری تاریخ بے کار ہے، انسانی تمدن و تہذیب کی ترقی کے معنی یہ نہیں ہیں کہ انسان بدل گیا ہے اور اسے کسی دوسرے تمدن کی ضرورت ہے۔ انسانی تمدن اس لیے نہیں بدلا کہ انسانی تقاضے بدل گئے ہیں۔ اس کے بدلنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ انسان نے کچھ تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ایک تمدن اختیار کیا، اس تمدن نے اس کے کچھ تقاضوں کو تو پورا کر دیا ہے لیکن کچھ دوسرے تقاضوں کو پورا نہ کر سکا، اس لیے اس پہلے تمدن میں ترمیم کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی لیکن کچھ ہی دنوں کے بعد یہ معلوم ہوا کہ یہ ترمیم کافی نہ تھی، اس لیے پھر کچھ قبول کرنا پڑا۔ ہوتے ہوتے آج انسانی تمدن نے اتنی ترقی کر لی، گو ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ پوری طرح انسانی تقاضوں کو پورا کر رہا ہے، لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس کا دائرہ عمل وسیع ہو گیا ہے اور تمدن و تہذیب کی ترقی کے معنی بھی یہی ہیں کہ جتنا زیادہ انسانی فطرت کے تقاضوں اور مطالبوں کو پورا کرتا ہے، جتنا زیادہ دائرہ عمل وسیع ہوتا جاتا ہے، اتنا ہی وہ ارتقاء پذیر ہوتا جاتا ہے۔ زندگی کی اقدار سے انکار کرنا، انسانیت کے مستقل اور ابدی تقاضوں سے منکر ہونا اور ارتقاء کا نام لینا قطعی متضاد باتیں ہیں۔

مجنوں گورکھپوری نے ’’ادب اور زندگی‘‘ میں کسی جگہ اردو ادب کے معترضوں پر اعتراض نقل کیا ہے اور اس کا جواب بھی دیا ہے اعتراض یہ ہے کہ ’’اردو ادب زندگی نہیں ہے‘‘۔ مجنوں صاحب اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ جب آدمیوں ہی میں زندگی نہ ہو تو ادب میں کہاں سے آئے؟‘‘ گویا انہوں نے اس بات کو تو بہر حال تسلیم کیا ہے کہ اردو ادب میں زندگی نہیں ہے مجھے اعتراض پر تو کوئی ایسا خاص تعجب نہیں ہوا۔ ہاں مجنوں صاحب کے جواب نے ضرور مجھے حیرت میں ڈال دیا۔ مجنوں صاحب بالغ نظر سمجھے جاتے ہیں۔ قصور مجنوں صاحب کا نہیں، ان کی نام نہاد نظریاتی ترقی پسندی کا ہے اور ترقی پسندی اس لیے کہہ رہا ہوں کہ مجنوں صاحب کا تخلیقی ادب خود انکے تنقید نظریات پر پورا نہیں اترتا۔ انہوں نے ترقی پسندی کی دھن میں سینکڑوں ہی اچھی باتیں کہی ہیں، لیکن جب وہ کوئی تخلیق لے بیٹھتے ہیں تو اپنی کہی ہوئی باتوں کو طاق پر رکھ دیتے ہیں۔ مجھے ان سرگرمیوں کا بھی اعتراف ہے لیکن جہاں تک ادب میں زندگی نہ ہونے کا نظریہ ہے ’’خواہ کسی وجہ سے کیوں نہ ہو‘‘ میں ان کی رائے سے اتفاق نہیں کر سکتا۔ کوئی ادب زندگی کے اظہار سے خالی نہیں ہو سکتا۔ ادب خلا میں پیدا نہیں ہوتے، ادب برائے ادب کی عملی خارجی صورت نہ کبھی تھی نہ ہو گی۔ فرق اگر کچھ ہے تو بس اسی انفرادی شعور اور اجتماعی شعور میں کوئی شبہ نہیں کہ ادب کے لیے اجتماعی شعور کا ہونا ضروری ہے لیکن اس سے شعور کی اہمیت میں کیا فرق پڑتا ہے؟ بلا شبہ اردو ادب میں غزل ہی نمایاں رہی ہے اور غزل داخلی کیفیت کی ترجمانی ہوتی ہے میں یہ بھی مانتا ہوں کہ داخلی کیفیت کی ترجمانی ہو گی تو اس پر انفرادی شعور کا رنگ بہت گہرا ہو گا یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اس میں زندگی نہیں ہے؟ اصل میں اردو ادب میں زندگی کے نہ ہونے کا تصور اسی ذہنیت کی پیداوار ہے جو ادب میں زندگی کا مفہوم کا پروپیگنڈہ سمجھتی ہے۔ زندگی سے گریز کرنے، خیالی فردوس بنانے اور فراری ہونے کے الزامات بھی اسی ذہنیت کے اختراع کردہ ہیں۔ فراری ہونے کا مطلب کیا ہے؟ میں آج تک نہ سمجھ سکا۔ میں کہہ چکا ہوں کہ زندگی کے شعور سے کوئی خالی ہو ہی نہیں سکتا اور پھر ہمارے بلند پایہ اشعار میں تو انفرادی شعور کے ڈانڈے اجتماعی شعور سے بھی جا ملے ہیں۔ اگر فراری ہونے کا یہ مطلب ہے کہ وہ ترک دنیا اور رہبانیت کی تعلیم دیتا ہے تو اس کے لیے ثبوت درکار ہے۔ صرف کہہ دینے سے کام نہیں چلے گا۔ زندگی سے گریز کرنے کے سلسلہ میں تصوف کو خوب خوب گالیاں اور صلوٰتیں سنائی جاتی ہیں۔ یہ مرض ایک وبائی صورت اختیار کر گیا ہے۔ اس کے متعلق صرف اتنا کہوں گا کہ مسلمانوں کی پوری تاریخ میں قوت اور طاقت کے دو مرکز رہے ہیں۔ سلطان کا دربار اور صوفی کی خانقاہ۔ اس سے زندگی کے سوتے پھوٹتے تھے۔ یہ خانقاہ عوامی طاقت کا مرکز تھی اور یہاں سے بلند ہونے والی آواز قصرِ سلطانی کو متزلزل کر دیا کرتی ہے۔ اگر سلطان کو ظل اللہ ماننے سے کسی نے انکار کیا ہے تو صرف صوفیوں نے۔۔۔۔۔۔۔۔ رہ گئی خیالی فردوس بنانے کی بات تو اگر فردوس اسی کو کہتے ہیں جس کی تخلیق میر و غالب نے کی ہے تو ان کی غموں اور تکلیفوں بھری حقیقی دنیا کا کیا حال ہو گا؟ اگر فردوس میں بھی اتنی جاں گسل اور روح فرسا تکلیفوں اور دکھوں سے پالا پڑتا ہے تو آخر جہنم کسے کہتے ہیں؟ آخر وہ خیال جنت کہاں ہے، جہاں عیش و عشرت کا دور دورہ ہے؟ جہاں شہد و شراب کی نہیں بہتی ہیں اور ساقیان سیمیں ساق و مطر بان خوش الحان جام پر جام پلاتے ہیں۔ ان بے چاروں کی اس خیالی جنت میں بھی دور جام ان تک نہیں آتا۔ غالب بے چارہ تو دُرد تہ جام، کی حسرت میں ہی مر گیا۔ میر بھی روتے رُلاتے ختم ہو گئے۔ بات در اصل یہ ہے کہ ہمارا موجودہ تخلیقی اور تنقیدی ادب بیشتر نظریاتی ہے۔ میں نے اوپر کہیں کہا تھا کہ ادب میں تنقید حیات عبارت ہے انسانی ذہن کے اجتماعی شعور کی اس ترجمانی سے جو ہمیشہ موجود سے غیر مطمئن رہتا ہے اور اس کا متلاشی رہتا ہے جو موجود نہیں ہے اور موجود سے بہتر ہے میں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ تنقید زیادہ حقیقی زیادہ دور رس اور زندگی کے ارتقاء کی زیادہ معاون ہے، بہ نسبت اس تنقید کے جو کسی خاص نظریہ کے ما تحت زندگی کو دیکھتی ہے۔ مغرب اور مشرقی کے امتزاج سے جو نئی زندگی پیدا ہو رہی تھی، جو نئی تہذیب جنم لے رہی تھی۔ زندگی کو جو نئی جلا مل رہی تھی۔ اکبر الہ آبادی نے اس پر جو تنقید کی ہے وہ اتنی ناقص ہے کہ وہ اس نئی زندگی کو ایک خاص نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں۔ زندگی کو اس نظریاتی عینک سے دیکھنے کا ہی نتیجہ ہے کہ ہمارے موجودہ ادب میں زندگی کی سچی تصویریں کم ملتی ہیں، اگر ہم اپنے موجودہ ادب کی مدد سے اس عہد کی تمدنی اور سیاسی تاریخ لکھیں تو وہ بہت کافی حد تک حقیقت سے دور ہو گی۔ اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ ابھی مذہب ہمارے عوام میں عمل کا سب سے بڑا محرک ہے۔ عوام کو مذہب سے ایک گہری جذباتی عقیدت ہے، یہاں ہر تحریک اسلام یا ہندو مت کا جامہ پہن کر سامنے آتی ہے کیونکہ عوام کے جذبۂ عمل کو اسی طرح متحرک کیا جا سکتا ہے۔ اس سے بحث نہیں ہے کہ عوام سے اسلام یا ہندو مت کے نام پر جو کام لیے گئے ہیں اور لیے جا رہے ہیں وہ غلط ہیں یا صحیح، بلکہ صرف اس بات کا اظہار مقصود ہے کہ مذہب ابھی ہمارے یہاں ایک قوت رکھتا ہے لیکن اگر ہم زندگی کو نہ دیکھیں اور ادب سے زندگی کا اندازہ لگانا چاہیں تو ہمیں یہ معلوم ہو گا کہ پوری کی پوری قوم مذہب اور خدا کے تصور سے بے زار ہو چکی ہے، ابھی ہمارے یہاں طبقاتی کش مکش کا شعور اپنے ابتدائی مراحل بھی طے نہیں کر پایا ہے۔ لیکن ہمارا ادب صرف مزدور اور سرمایہ دار کی آویزش اور ان کے دست و گریباں ہونے کا نقشہ کھینچتا ہے، وہ اس بات کو نہیں دیکھتا یا دیکھنا نہیں چاہتا کہ گو بنگال میں ایسا قحط پڑا کہ ہزاروں لاکھوں آدمی بھوک سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر گئے اور یار لوگوں کی کھیتیاں اور گودام غلّہ سے بھرے رہے۔ عصمتیں روٹی کے ایک ایک ٹکڑے کے عوض بکتی رہیں اور سرمایہ داروں کا شقی القلب طبقہ اپنی خواہشات نفسانی کو تسکین دیتا رہا۔ لیکن پورے قحط کے دوران میں ایک دفعہ بھی ان مرنے والوں نے سرمایہ داروں کے خلاف جنگ کا ارادہ نہ کیا۔ ایک کھیتی، ایک گودام میں بھی آگ نہ لگائی گئی۔ ایک دکان کو بھی نہ لوٹا گیا۔ ایک سرمایہ دار کا ایک قطرہ خون بھی نہ بہایا گیا وہ دیکھتے رہے کہ وہ بھوک سے مر رہے ہیں اور غلّہ کے کوٹھالے بھرے ہوئے ہیں، وہ دیکھتے رہے کہ ان کی عزت اور عصمت لٹ رہی ہے اور لوگ انہیں لوٹ رہے ہیں لیکن ایک بار بھی ان کا ہاتھ نہ اٹھا اور مذہب کا نام درمیان آ جانے سے اسی بنگال میں وہ کشت و خون ہوا، وہ آتشزدگیاں ہوئیں، وہ لوٹ مار ہوئی کہ انسانیت پناہ مانگ اٹھی۔ آخر ایسا کیوں ہوا؟ قحط میں وہ چوہے بلی کی موت کیوں مر گئے؟ اور مذہب کے نام پر خون کی ہولی کیوں کھیلی گئی؟ ہمارا ادب اس سوال کا جواب دینا نہیں چاہتا۔ ہمارا ادب اس حقیقت سے آنکھیں چار کرتے ہوئے ڈرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی ہماری مجموعی آبادی کے تین چوتھائی سے زیادہ حصہ میں عورت کی زبان گنگ ہے اور صبر و شکر اس کا مسلک ہے، لیکن ہمارا ادب اس کی صنفی بغاوت کا اعلان کرتا ہے۔ غرض ہمارا ادب ہماری معاشرت کا جو نقشہ کھینچتا ہے وہ کہیں کہیں حقیقی اور سچا ہونے کے باوجود بیشتر صرف نظریاتی ہے اور نظریاتی عینک لگا لینے سے چیزیں اپنی صحیح جسامت اور صحیح خدو خال میں نظر نہیں آتیں۔ یا تو بہت بڑی نظر آتی ہیں یا بہت چھوٹی۔ اسی لیے ہمارے تخلیقی اور تنقیدی ادب نے ہماری معاشرت اور ہمارے قدیم و جدید فکری و عملی رجحانات کی ترجمانی کرنے میں قدم قدم پر ٹھوکریں کھائی ہیں۔ ابھی ہمارے ادب کو حقیقت نگاری کی بہت سی منزلیں طے کرنی ہیں ابھی تو ہمارے ادیب زندگی کو زندگی کے مطالعہ اور مشاہدہ سے نہیں سمجھتے فرائیڈ اور مارکس کے نظریوں سے دیکھتے ہیں۔ ابھی ہمارے نفسیاتی افسانے انسانی نفس کے مطالعہ و مشاہدہ سے نہیں علم نفسیات کے اصولوں اور کُلیوں کو پڑھ کر لکھے جاتے ہیں۔ ابھی ہمارا ادب زندگی کو ایک ایسی عینک سے دیکھ رہا ہے جو اس نے فرائیڈ اور مارکس کی دکان سے بغیر اس بات کے لحاظ ہوئے خریدی ہے کہ اس کا نمبر اس کی آنکھوں کے لیے ٹھیک بھی یا نہیں اس سے نہ صرف یہ کہ چیزیں ٹیڑھی میڑھی، بڑی چھوٹی، اونچی نیچی اور دھندلی نظر آتی ہیں بلکہ ہمارے ادب کی حقیقت بینی کی نظر کو بھی کمزور کر رہی ہے۔

’’ادبی اقدار‘‘ سے

(Visited 1 times, 6 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: