ایڈونچر ——– محمد اویس حیدر

0

ریحا اپنے گھر میں خوش تھی اور اپنے کام کیساتھ بھی۔ کیونکہ اسی بہانے وہ ہر وقت مصروف رہتی تھی۔ جب اس کے پاس کوئی مصروفیت نہ ہوتی تو وہ خود کو مصروف رکھنے کا کوئی نہ کوئی کام ضرور نکال لیتی۔ اسے ہنسنے کھیلنے کا بہت شوق تھا، اس لیے وہ ہر اس بات پر بھی ہنس دیتی جو ہنسنے کی نہ بھہ ہوتی یوں سب کو لگتا کہ ہم ہی بے وقوف ہیں جو اس بات کی تفریح کو نہ سمجھ پائے۔ اسے اپنے اردگرد لوگوں کو اکٹھا رکھنے کا بھی بہت شوق تھا۔ جن کے ساتھ اس کی محفل لگی رہے۔ دراصل اسے لوگوں کی نظروں میں اپنے آپ کو دیکھنے کا شوق تھا۔ وہ اپنے ادرگرد کے لوگوں کے چہروں پر بنتی اپنی تصویر کو دیکھتی اور یہی اس کی اصل خوشی تھی۔ جب کسی چہرے کے خدوخال اس کی اچھی تصویر نہ بنا پاتے تو اسے یہ بات بہت ناگوار گزرتی جسکا اظہار وہ کسی اور کے سامنے بدگوئی کی شکل میں کر دیتی۔

ریحا اپنے گھر میں اپنی ممی اور بھائیوں کیساتھ رہتی تھی۔ دراصل یہ گھر ایک الماری کی مانند تھا جس میں مختلف بوتلیں رکھی ہوں اور ہر بوتل مشروب سے بھری ہوئی۔ ہر بوتل اپنے مشروب سے آگاہ ہے، مگر ایک دوسرے کے ساتھ ضرور پڑی تھی مگر آپس میں جدا جدا، کیونکہ وہ بوتلیں تھیں اور بوتلیں چاہ کر بھی ایک دوسرے میں ضم نہیں ہو سکتی۔ جیسے ہنڈیاں میں ہوتا ہے۔ جس میں ہر جدا جدا چیز ملنے کے بعد اپنا زائقہ تو رکھتی ہیں مگر اپنا ظاہر کھو دیتی ہیں اور پھر مل کر ایک چٹخارے دار سالن بن جاتی ہے۔ ایسے گھر عموماََ عام لوگوں کے ہوتے ہیں، جن کے محلے بھی عام سے ہی کہلاتے ہیں۔

ریحا بھی مشروب سے بھری بوتل تھی جس میں مستی کوٹ کوٹ کر ایسی بھری تھی جیسے گوندھے ہوئے آٹے میں پانی بھرا ہوتا ہے۔ ریحا کے اندر سے بلبلے نکلتے تھے اور اپنی بوتل کا ڈھکن ایک دھماکے سے کھول کر بہنا چاہتے تھے۔ مگر ریحا نے یہ ڈھکن اس زور سے بند کر رکھا تھا کہ وہ اپنے اندر سے اٹھنے والے ان بلبلوں سے بھی جیسے بے خبر بن گئی تھی۔ شائد اسے ڈر تھا کہ اگر دھماکہ ہوا تھا کہیں وہ کرچی کرچی نہ ہو جائے اس لیے وہ ان بلبلوں کو ابھرنے نہیں دیتی تھی۔

اسے چہروں کو دیکھنے اور پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ وہ ہر چہرے کے تاثرات کو پڑھتی تھی مگر کوئی چہرہ بھی اسے اس طرح اپیل (appeal) نہیں کر پاتا تھا جیسے وہ چاہتی تھی۔ اسے صرف شرافت کوئی خاص پسند نہیں تھی بلکہ ایڈوینچر پسند تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ وہ جنت میں بھی بیٹھی ہو تو کوئی سانپ نکل آئے، اس طرح وہ چیخ چیخ کر ادھم مچا دے۔ کبھی اسے لگتا تھا کہ کوئی ولن سے اٹھا کر لے جائے، اور پھر ایک ہیرو اپنی موٹر سائیکل بھگاتا ہوا آئے اور اسے اس ولن سے چھڑا کر لے جائے یوں پھر وہ اپنے ہیرو کے پیچھے موٹر سائیکل پر بیٹھی اپنے بالوں اور ہاتھوں کو ہوا میں لہراتے ہوئے کوئی گیت گائے۔ پھر کبھی اسے لگتا کہ کیا زندگی ہے، بس کبھی صبح کبھی رات کبھی صبح کبھی رات، کچھ اور بھی تو ہونا چاہیے مگر کچھ اور ہوتا کیوں نہیں؟

وہ اپنے بہن بھائیوں کی زندگی کو دیکھتی تو اسے لگتا کیسے مطئین سے ہو کر ایک ہی ٹریک پر چلتے جا رہے ہیں۔ کیونکہ ریحا کے اندر ہلچل تھی۔ جب یہ ہلچل ہوتی تو پھر بوتل میں سے بلبلے اٹھنے لگتے، مشروب میں ہوا بھرنے لگتی، ڈھکن پر زور پڑنے لگتا اور ریحا پھر دھڑم سے گر جاتی۔ کرچی کرچی ہو جانے کا خوف اسے جکڑ لیتا۔

اس کے جوبن پر کئی لڑکے بھی فدا تھے۔ مگر ریحا کو وہ نہ بھاتے تھے، اور ریحا جس چہرے کی تلاش میں تھی وہ ابھی تک حقیقت کے کینوس پر نہیں ابھرا تھا۔ جو لڑکے ریحا پر فدا تھے ان کی بھی مختلف اقسام تھیں جو ریحا نے اپنے زہن میں بنا رکھی تھیں۔ کوئی ریحا کے پیچھے پیچھے چلنا پسند کرتا تھا۔ ریحا کو لگتا بھلا یہ کیا بات ہوئی ؟ لڑکے میں ایک وقار ہونا چاہیے ایک انا ہونی چایے یوں دم ہلا کر پیچھے پیچھے چلنے والا بھی کوئی مرد ہوتا ہے ؟ اونہہ

کوئی ریحا کو ہر معاملے میں آڑے ہاتھوں لینا چاہتا تھا تاکہ ریحا کو حاصل بھی کر لے اور اسے دبا کر بھی رکھے۔ ریحا اس مزاج کو بھی خوب سمجھتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ ایسے مرد ہر طرف دل پھینک ہوتے ہیں۔ جہاں کوئی لڑکی دیکھی فوراََ تاڑنے لگے اور خود پر غرور بھی ایسا کہ جیسے لڑکیاں کوئی بھیڑ بکریاں ہوں جن کے تھنوں سے منہ لگا کر دودھ پیو اور پھر باڑے میں باندھ دو۔ جاہل انسان مجھے نفرت ہے ایسے مردوں سے۔۔۔۔ وہ خود سے کہنے لگتی۔

پھر کوئی مرد اگر ریحا کو اچھا لگتا تو اسے لگنے لگتا کہ یہ مرد بھی ہے اور اچھا بھی ہے، مگر بہت ہی بورنگ ہے۔ اسے تو زندگی جینے کا ڈھنگ ہی نہیں آتا، بھلا یہ کیا کہ خشک خشک سے زندگی۔ زندگی میں تو ہلا گلا ہونا چاہیے شور شرابہ ہونا چاہیے تھوڑی مستی ہونی چاہیے۔ کیونکہ مستی تو ریحا کے انگ انگ میں بھری ہوئی تھی۔

ایک روز حسبِ معمول سے کچھ الگ ہو گیا۔ ریحا گھر باہر نکلی تو وہ سامنے کھڑا تھا۔ کچھ بے ترتیب سے بال، ماتھے پار شکنیں، چہرے پر شیو بڑھی ہوئی، اور سلگتی ہوئی گہری آنکھیں، جیسے دو پیالے ہوں اور ان میں سرخ رنگ بھرا ہو۔ یہ چہرہ تو ریحا نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ان آنکھوں نے ریحا کے چہرے کو دیکھا اور یوں اَن دیکھا کر دیا جیسے ریحا کا چہرہ اور وجود کوئی شہ ہی نہیں۔ جبکہ ریحا پر مر مٹنے والے تو اسے دیکھ کر تڑپ کر رہ جاتے، اور پھر دوسروں سے کہتے یہ لڑکی تو آم ہے آم۔۔۔ رس سے بھرا ہوا آم۔ ریحا کی سہیلیاں اس سے کہا کرتی تھیں لگتا ہے تمہیں تو خدا نے مکھن سے بنایا ہے۔ نظر تم پر ٹھہرتی ہی نہٰیں۔۔۔ پھسلتی ہی چلی جاتی ہے۔ ریحا خود کو آئینے میں دیکھتی تو اسے اپنا چہرہ کھلے ہوئے پھول کی مانند دکھتا۔ جس کی پتی پتی میں مہک ہو۔ پھر کبھی اسے اپنا آپ چاکلیٹ کی مانند لگتا، جس کی ہر ہر باٹیٹ میں مٹھاس سے لبریز زائقہ موجود ہو۔ مگر آج خود پر ایسی سلگتی نظر کا پڑنا اور پھر اس نظر کا یوں نطر انداز کرنا کھلبلی مچا گیا۔ اسے لگا کہ اس کے موم کے وجود کی بتی میں کسی نے شعلہ سلگا دیا ہو یا چاکلیٹ کو کسی نے فریزیر سے نکال کر اوون میں رکھ دیا ہو۔

کون شخص ہے یہ؟ ریحا نے خود سے سوال کیا، لگتا ہیے کسی کو تلاش کر رہا ہے یہاں مگر کس کو ؟ کیا مجھے اس سے بات کرنی چاہیے ؟ کہیں یہ میرے بات کرنے کو برا نہ سمجھ لے۔۔۔ نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟
ریحا کے دماغ میں مسلسل سوال اٹھ رہے تھے اور وہ ان سوالوں میں ایسی محو ہوئی کہ اسے پتہ ہی نہ چلا وہ سلگتی آنکھیں کہاں غائب ہو گئیں۔
کہاں گیا۔۔۔ ابھی یہیں پر تو تھا ؟
ریحا غیر ارادی طور پر اسے ڈھونڈنے لگی مگر وہ کہیں نظر نہ آیا۔

اس دن ریحا کا پورا دن عجیب بے چینی میں گزرا۔ وہ خود کو بار بار مصروف کرنے کی کوشش کرتی مگر وہ چہرہ اور چہرے پر موجود عجیب سی آنکھیں بار بار اس کے سامنے آ جاتیں۔ پھر اچانک بند بوتل میں بلبلے اٹھنے لگتے۔
ریحا نے اب سوچ لیا تھا کہ وہ اس اجنبی شخص کو ضرور تلا ش کرے گی۔ مگر کیسے ؟ یہی وہ سوال تھا جو اب اسے مسلسل پریشان کر رہا تھا۔ اس نے دوسرے دن اپنے گھر سے باہر سڑک کے کنارے بیٹھے گارڈ سے دریافت کیا کہ کل یہاں ایک عجیب سا شخص اسے پھرتا نظر آیا۔۔۔ کیا تم نے اسے دیکھا۔۔۔ کون تھا وہ ؟
جی میڈم، میں نے اسے دیکھا ضرور تھا۔۔۔مجھے بھی وہ عجیب سا ہی لگا اور میں اسے روک کر پوچھنا چاہتا تھا مگر۔۔۔۔۔۔!!!!
مگر کیا ؟ ریحا نے اس اس گارڈ کے پریشان چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا
مگر میڈم مجھے نہیں پتہ کہ اچانک مجھ پر اس کا ایسا رعب طاری ہوا کہ میری زبان دانتوں میں دبی ہی رہ گئی اور کچھ پوچھنے کا حوصلہ ہی نہ ہوا، میڈم آپ کو شائد میری بات عجیب لگے مگر مجھے تو وہ کسی قلندر کا بالکا لگتا ہے۔
قلندر کا بالکا؟ وہ کیا ہوتا ہے؟

میڈم ہمارے گاوں میں ایک تھا۔ ایسی ہی جلتی ہوئی آنکھیں تھیں اس کی۔ ہر وقت بیٹھا کبھی آسمان کو تو کبھی زمین گھورتا رہتا تھا۔ لوگ دعائیں کروانے آتے تھے اس کے پاس، مگر کوئی اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا۔ کہتے ہیں کہ ان کی نظر آگ لگا دیتی ہے، بندے کو جیتے جی مار دیتی ہے۔
واٹ نان سینس۔۔۔۔ جتنا پوچھا تھا اتنا ہی بتاو خوامخواہ کی فلمیں چلانے کی ضرورت نہیں۔
ریحا نے اسے جھاڑ پلا دی۔ وہ جانتی تھی کہ ایسے ان پڑھ لوگ ہی ایسی عجیب من گھڑت باتوں پر یقیں رکھتے ہیں اور لوگوں کو سنا کر الو بناتے ہیں۔

ریحا واپس گھر تو آ گئی مگر گارڈ کے اس عجیب جواب نے ریحا کو اور بھی پریشان کر دیا۔ وہ سوچنے لگی یہ کیسا شخص تھا کیا سحر تھا اس میں جس نے مجھے بھی جکڑ لیا ہے اور اب یہ گارڈ بھی کیسی عجیب بات کر رہا ہے۔ کیا واقعی وہ کوئی بالکا۔۔۔۔پتہ نہیں جو بھی گارڈ کہہ رہا تھا وہ ہو سکتا ہے ؟ یہ کیسا لفظ ہے۔۔۔ قلندر کا بالکا۔۔۔ یہ تو میں نے پہلے کبھی نہیں سنا۔

ریحا اپنی ماں سے اس پراسرار شخص کی بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔ مگر وہ شخص اس کے اعصاب پر ایسا سوار ہوتا چلا جا رہا تھا کہ ریحا کو پتہ ہی نہ چلا کب وہ خود کلامی کرتے کرتے اپنی ماں شبنم بی بی کو مخاطب کر کے اس شخص کی بات کرنے لگی ہے۔

شبنم بی بی نے ریحا سے کہا: ارے چلی نہ ہو تو۔۔۔ تو کس بندے کے بارے میں بات کر رہی ہے ؟ یہاں پاس بابا کرامت شاہ کا عرس شروع ہو رہا ہے، وہاں کا رستہ دیکھتا ہوا کوئی گزر رہا ہوگا۔ تجھے اس میں ایسا کیا نظر آ گیا جو تو اتنی حیرت سے اجنبی بندے کا ذکر کر رہی ہے ؟

اوہو اماں جی، آپ بھی بس میری کوئی بات نہیں سمجھتی، میں نے تو ویسے ہی ذکر کیا ہے کہ عجیب سا شخص تھا اور میں نے کیا کہہ دیا بھلا ؟

ریحا نے یہ بات شبنم بی بی سے کہہ کر اسے تو ٹال دیا تھا مگر وہ جانتی تھی کہ اسے کچھ ہو گیا ہے۔ بار بار وہی آنکھیں کیوں اس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہیں۔ کیا وہ کوئی جن تھا ؟ نہیں نہیں۔۔۔ جن انسانوں کی شکل میں سڑکوں پر کیوں پھرنے لگے ؟ قلندر کا بالکا۔۔۔ بابا کرامت شاہ کا عرس ؟ کیا مجھے اس عرس میں جا کر دیکھنا چاہیے ؟ اک نظر کی تو بات ہے۔۔۔ ایک نطر اگر وہ مجھے مل جائے تو شائد میرے اعصاب نرم پڑ جائیں۔۔۔ آخر کچھ بھی تو نہیں تھا اس میں۔۔۔ پھر مجھے کس مقناطیسیت نے جکڑ لیا ہے ؟ اوہ گاڈ پلیز ہیلپ می۔۔۔ آئی ڈانٹ نو اینی تھنگ وٹ ٹو ڈو ؟

ریحا بابوں وغیرہ کو نہیں مانتی تھی۔ اسے اللہ پر تو مکمل یقین تھا۔۔۔ مگر اللہ کے بندوں پر تھوڑا کم تھا۔ لیکن اس کی ماں باقاعدگی سے مزارات پر جایا کرتی تھی اپنی اولاد کے لیے دعائیں کرنے۔ اب یہ پہلا موقع تھا کہ جب ریحا نے بابا کرامت شاہ کے مزار کا رخ کیا تھا۔ ریحا کافی ماڈرن لڑکی تھی اسی طرح سے کپڑے پہنتی تھی۔ اس نے اپنے کپڑوں کو چھپانے کے لیے ایک پڑی سے چادر اوڑھ لی اور اپنا کچھ چہرہ بھی اس سے ڈھک لیا اور مزار پر چلی گئی۔

ہر طرف بھیڑ تھی، لوگوں کے چہرے عقیدت میں ڈوبے ہوئے تھے۔ کہیں اپنے گناہوں کی ندامت کے آنسو بہہ رہے تھے تو کہیں چہروں پر مزار پر حاضری کی مسرت تھی۔ ریحا کی نظریں مسلسل سب کے چہروں پر گھوم رہی تھیں تاکہ اس چہرے کو تلاش کر سکے جو اسے یہاں تک کھینچ لایا ہے۔ اچانک اس کی نطریں ایک جگہ ٹھہر گئیں، کوئی شخص زمین پر بیٹھا تھا مگر اس کا چہرہ دوسری طرف تھا۔ ریحا کے وجود میں ایک جھرجھری سی دوڑی، اسے لگا کہ یہی ہے وہ شخص جس کی تلاش میں وہ یہاں آئی ہے۔ وہ آہستہ آہستہ اس کے جانب بڑھنے لگی۔

علی حیدررررررررر فضا نعروں سے گونج رہی تھی۔ ریحا کے قدم آہستہ آہستہ اُس شخص کی طرف بڑھتے چلے جا رہے تھے۔ بوتل میں بلبلے اٹھنے لگے تھے۔ ریحا کی بوتل کے ڈھکن پر آج کوئی گرفت نہیں تھی۔ اس میں کرچی کرچی ہو جانے کا بھی ڈر نہیں تھا۔ اچانک وہ شخص پلٹا اس کی نگائیں ریحا سے ٹکرا گئیں، ریحا یک دم ساکت ہوئی، اسے لگا اس کا وجود اچانک سلگنے لگا ہے۔۔۔۔۔ تپش ہے کہ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ کوئی آگ ہے جس نے اس کے وجود کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ریحا نے ایک بلند چیخ ماری اور واپس کو بھاگنے لگی۔۔۔۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے وہ بھاگتی بھاگتی اپنے گھر پہنچی اور سیدھا اپنے کمرے میں جا گھسی۔ کچھ سنبھلنے کے بعد اس نے خود کو آئینے میں دیکھا تو وہ خود کو دیکھ نہ سکی۔۔۔۔ وہاں ریحا نہیں کھڑی تھی۔۔۔ ریحا کے پاس اب اپنا وجود نہیں رہا تھا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20