موم بتی والے لبرل: ماضی اور مستقبل —- فرحان کامرانی

0

ہر عہد کی اپنی اصطلاحات ہوتی ہیں۔ ہر دور کے اپنے نعرے ہوتے ہیں۔ ہر ماحول کے اپنے ہی رجحانات ہوتے ہیں۔ آج کا انسان جیسے سوچتا ہے وہ آج کے مخصوص ماحول سے بہت متاثر ہوتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ آخر یہ سوچ، یہ خیالات، یہ رجحانات بدل کیوں جاتے ہیں؟ یہ سوال کافی دشوار ہے اور اس لئے بھی زیادہ دشوار معلوم ہوتا ہے کہ ہم انسانیت میں آنے والے تغیرات پر سوال اٹھا رہے ہیں اور انسانیت ایک کل کے طور پر ایک اتنی وسیع اکائی ہے کہ اس کے بارے میں یوں چلتے پھرتے کوئی ایک لفظ یا جملے کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔

پھر سوچنے کی بات یہ بھی تو ہے کہ انسان اپنی جمعیت میں اکائی کہلا بھی سکتے ہیں؟ یعنی کیا انسان ایک جمعیت 33ہیں؟ اس سوال کا جواب ایک یہ ہے کہ ہاں انسانوں میں بہت کچھ مشترک ہے۔ جیسے جبلتیں، جذبات، بنیادی ضروریات مگر بہت کچھ متضاد بھی ہے۔ ویسے انسانیت اپنے کل میں بھی ایک خیال کے تحت جمع بھی نہیں ہوئی، مگر ہمارا سوال۔۔ پہلا سوال اپنی جگہ ویسے ہی ہمارا منہ تک رہا ہے، ”انسانی سوچ، خیالات، رجحانات بدل کیوں جاتے ہیں؟“

اس سوال کا ایک جواب یہ ہے کہ انسان ایک خاص سوچ، خیال، رجحان کے پیچھے چلتے ہیں۔ اس پر اپنی قوت اور توجہ صرف کرتے ہیں، اس سے امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں اور پھر جب وہ سوچ، خیال وہ رجحان اپنے متوقع اثرات پیدا کرنے سے قاصر رہتا ہے تو انسان کسی اور خیال کو اختیار کر لیتے ہیں۔ آج دنیا فکری اعتبار سے جدید مغربی تہذیب کے زیر فرمان ہے اور اس تہذیب میں (اگر اسے تہذیب کہا جا سکتا ہے تو) تبدیلی اور تغیر کو ہی اصل کائنات سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ہر دن ہی دنیا بدل جاتی ہے۔انسانیت کی وسیع تر تاریخ میں ایسا تغیر اتنی تیزی سے کبھی وقوع پذیر ہوا نہیں۔

اب روز ہی خیالات بدلتے ہیں، نظریات بدلتے ہیں، عقائد یا تو بدل جاتے ہیں یا ان کی تشریحات بدل جاتی ہیں۔ فیشن بدلتے ہیں اور نظام بدلتے ہی رہتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ نئی نئی اصطلاحات ہر روز اس دنیا میں عام ہوتی ہیں۔ زبان زد عام ہوتی ہیں اور پھر یوں غائب ہو جاتی ہیں جیسے کبھی وجود ہی نہ رکھتی تھیں۔ آج سے کوئی 30، 35 سال قبل ہمارے ملک میں ”لبرل“ کی اصطلاح آج کے معنوں میں موجود نہ تھی۔ ایک طبقہ ترقی پسند تھا جو روس سے روحانی غذا حاصل کرتا تھا اور سرخ سویرے کا منتظر رہتا تھا۔ یہ طبقہ جاگیردار، سرمایہ دار اور مذہبی طبقے کو لائق گردن زدنی تصور کرتا تھا۔ یہ طبقہ امریکا کے خلاف نعرے بلند کرتا تھا اور ایک اور طبقہ تھا جو امریکا اور برطانیہ اور سرمایہ داری نظام سے محبت کرتا تھا اور آئرن کرٹن کے دوسری طرف اپنی جنت تلاش کرتا تھا۔ یہ طبقہ ادب کی دنیا میں جدیدیت پسند کہلاتا تھا، دراصل یہی طبقہ لبرلوں کی ابتدائی شکل تھا۔

یہ دونوں ہی طبقات (جدیدیے اور ترقی پسند) ہمارے وطن کی ایک بہت ہی چھوٹی اقلیت تھے۔ بعد میں ترقی پسندوں کی ہوا نکل گئی اور روس کے ڈوبتے ہی یہ طبقہ جلدی سے جدیدیت پسند بن گیا اور اب ان کا قبلہ بھی ماسکو کی جگہ واشنگٹن تھا۔

رفتہ رفتہ عالم اسلام اور امریکا بہادر میں تعلقات خراب ہونے شروع ہوئے اور 11 ستمبر کے بعد معاملات حرب پر منتج ہوئے۔ یہ ایک عجیب صورتحال تھی کہ اسلامی ملکوں کی اکثریت عوام روایت پسند اور مغرب مخالف تھی اور اس کی مزاحم تھی مگر تقریباً تمام ہی مسلم ممالک کے حکمران مغرب کے غلام بے دام تھے۔ اب مسلم معاشروں میں پہلی مرتبہ لبرل اور اسلام پسند کی خلیج کھل کر سامنے آئی۔ یاد کیجئے جبرل مشرف کا دور کس طرح نت نئے چینلوں پر ہر وقت کسی ایسے تصور، خیال، رجحان پر بات جاری ہوتی تھی جو مغرب اور اسلام میں مختلف ہوتا۔ جیو ٹی وی پر تب 4 شادیوں، پردہ، داڑھی، مخلوط نظام حیات، اولاد کی تعداد، شادی سے قبل جنسی تعلقات اور اسی نوع کے تصورات پر مذاکرے ہوتے رہتے۔ ٹی وی ڈراموں کے موضوعات بھی یہی ہوا کرتے۔ یہ دراصل سماج کے مسلمات کو TABOO کہہ کر منہدم کرنے کا عمل تھا۔ راقم کو یاد ہے کہ تب جیو ٹی وی پر ”الجھن سلجھن“ نام کے ایک پروگرام میں بہن بھائی کے درمیان جنسی تعلقات کو موضوع بنایا گیا تھا جس پر بڑا ہنگامہ ہوا تھا۔

جاننے والے جانتے ہیں کہ ذرائع ابلاغ پر خیالات یوں اچانک ہی نمودار نہیں ہوتے۔ ان کے پیچھے بہت سے اذہان بڑی بھاری منصوبہ بندی سے کام کر رہے ہوتے ہیں۔ مغرب اور اسلام کے تصادم میں مغرب کی فتح کے لئے یہ ضروری تھا کہ اسلام اور اس سے منسلک ہر تصور اور خیال کو بھی شکست دی جائے۔ مسلمانوں کو ان کی اپنی تہذیب سے برگشتہ کیاجائے اور مغرب کا سچا وفادار بنایا جائے۔ جو وفادار بننے پر آمادہ نہ تھے ان کے سروں پر بم برس رہے تھے۔ جو حرب کے میدان سے بھی دور تھے ان پر خیالات کے بم اور گولے ذرائع ابلاغ کی توپوں سے برس رہے تھے اور مغرب کو ان گنت بھاڑے کے ٹٹو ہمارے معاشرے کے اندر سے میسر تھے۔ مگر یہ بھاڑے کے ٹٹو کون تھے، ان کی کیا تاریخ ہے؟

ہم نے اس تحریر کے شروع میں لبرلوں کے جد یعنی جدیدیوں اور ترقی پسندوں کا ذکر کیا مگر ظاہر ہے کہ یہ دونوں طبقات آسمان سے نہیں ٹپکے۔ اس خطہ زمین پر ان طبقات کی ابتداء انگریز کی برصغیر میں فتوحات سے شروع ہوتی ہے۔ سرسید احمد خان نے انگریز کی میدان جنگ کی فتح کو تہذیبی فتح بنانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ حالیؔ نے سرسید کی تحریک کو ادب کی تحریک بنا دیا۔ سرسید احمد خان کے بابت بہت سے حقائق پچھلے تیس سالوں میں منظر عام پر آئے ہیں۔ جیسا کہ ان کا انگریز کا ایجنٹ ہونا۔ اب ان کے خطوط کے منظر عام پر آجانے کے بعد ثابت ہو چکا ہے، سرسید نے انگریز کے باغیوں کو باقاعدہ مخبری کر کے پکڑوا کر کافی مراعات اور فوائد حاصل کئے اور اپنی فکر و فلسفے سے سماج کے مطلب پرست طبقے کو بھی انگریز کا غلام بنا گئے۔

یہ وہی طبقہ ہے جو پاکستان بننے کا شدید مخالف تھا۔ یادش بخیر، اس طبقے کے سرخیل آغا خان سوئم نے جب دیکھا تھا کہ مسلمان آزادی اور تقسیم ہند سے کم کسی چیز پر آمادہ نہیں تو انہوں نے فرمایا تھا کہ ”مسلمان پاگل ہو گئے ہیں“ مگر یہ طبقہ پاکستان بننے کے بعد گرگٹ کی طرح رنگ بدل کر ہمارے سماج کی جڑوں میں بیٹھ گیا اور اسی طرح مقتدر رہا جیسا کہ انگریزی دور میں ان کی غلامی کر کے قوی تھا۔ یہ طبقہ پاکستان اور اسلام کے درمیان ہمیشہ سے حائل رہا ہے۔ یہ طبقہ 11ستمبر کے بعد کے حالات میں بالکل کھل کر ہمارے سامنے آ گیا اور اس کی جمعیت کچھ ان عناصر پر مشتمل ہے۔

1۔  رنگ برنگی NGOs
2۔  ذرائع ابلاغ کے اداروں کے مالکان اور Elite صحافی (الا ما شاء اللہ)
3۔ سول سروس اور افواج کے بالائی طبقات اور جج حضرات (الا ماشاء اللہ)
4۔ رئیس طبقے کا ایک حصہ
5۔ سیاسی جماعتوں میں بعض رہنما (بلاول بھٹو، مریم نواز، کشمالہ طارق، پرویز رشید، سارے قوم پرست)

یہ سارا طبقہ ہمارے سماج کو اس کی اقدار سے، اس کے مسلمات سے، اس کے مرکز سے ہٹا دینا چاہتے ہیں۔ یہ ”ذرا سوچئے“ یہ ”چل پڑھا“ یہ شرمین عبید چنائے کی فلمیں، یہ ”بول“، ”خدا کے لئے“، ”ورنہ“ جیسی فلمیں، یہ ”تحریک نسواں“، اور اس نوع کی NGOs (بلکہ تمام ہی NGOs) یہ سب مل کر اس سماج کو مکمل طور پر سیکولر، لبرل سماج بنا دینا چاہتے ہیں۔ یہ اس حد تک کامیاب بھی ہیں کہ اب لوگ لفظ لبرل کو کسی اچھے معنی میں تصور کرنے لگے ہیں۔

لوگ سوچتے ہیں کہ شائد یہ NGOs کچھ اچھا بھی تو کرتی ہیں۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ صرف اور صرف بھاڑے کے ٹٹو ہیں۔ یہ کرایے کی فوج ہے جس کا مقصد صرف اس سماج کو اس کے مرکز سے ہٹانا ہے۔ مگر الحمد للہ امریکا بہادر کی عالمی ہزیمت اور یورپ کے اندرونی تنازعات نے لبرلوں کو دوبارہ یتیم کر دیا ہے۔ اب کوئی شعیب منصور کو فلمیں بنانے کے لئے پیسہ کیوں دے گا؟ اب شرمین عبید چنائے، شہزاد رائے، پرویز ہود بھائی جیسے لوگ بھی مغرب کے لئے غیر اہم ہو گئے۔ اب مغرب اپنے دوسرے مسائل کی طرف متوجہ ہے اور ہماری اسٹیبلشمنٹ نے بھی لبرلوں کے اسکرو ٹائٹ کرنا شروع کردیے ہیں۔ NGOs پر جو سختی آئی ہے (اور جو ہرگزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہی جائے گی) وہ لبرلوں کو فاقوں تک پہنچا دے گی، سوچنے کی بات یہ ہے کہ شیما کرمانی، شعیب منصور، شہزاد رائے اور جبران ناصر وغیرہ موم بتیاں لے کر کب خود پر کسے اسکرو کے خلاف مظاہرہ کریں گے؟ کب موم بتیاں جلائیں گے؟

راقم کو ان سب سے تو ظاہر ہے کوئی ہمدردی نہیں مگر افسوس یہ ہے کہ موم بتی بنانے والے کارخانوں کا اچھا خاصا نقصان ہو جائے گا۔

ویسے کچھ عرصہ قبل حنیف صاحب نے IBA میں خطاب میں فرمایا تھا کہ شدت پسند اسلام (یعنی اسلام) اور نیو نازی رجحانات کا علاج ہے انتہا پسند سیکولرازم۔ یعنی لبرلوں کی فوج کو ہر میدان میں متحد کیا جائے اور ان انسانیت کے دشمنوں کے سامنے لاکھڑا کیا جائے، یعنی اوپر مذکور سارے لبرلوں کو امریکا کے افغانستان سے انخلاء کے ساتھ ہی افغانستان بھیج دیا جائے اور ان کی کمان حنیف کے سپرد کر دی جائے، یقینا یہ لبرل اپنی موم بتیوں سے ہی افغانستان فتح کر لیں گے، کاش ایسا ہو۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20