مرتضیٰ بھٹو کی جلاوطنی سے واپسی اور ایک پوسٹر — اظہر عزمی

0

رات گئے شہر بھر میں پوسٹرز چسپاں کر دیئے گئے
(ایک اشتہاری کی باتیں)

بڑے لوگوں کی زندگیاں بھی کتنی عجیب ہوتی ہیں۔ کتنے عام لوگ نہ چاھتے ہوئے بھی وقتی طور پر سہی ان کے ساتھ جڑ جاتے ہیں اور بڑے لوگوں کو اس کا پتہ بھی نہیں ہوتا۔بلا وجہ کا خوف اورخطرات گھیرے رہتے ہیں۔ہم خود ایک رات اس طرح گذار چکے ہیں۔

یہ1993کی بات ہے۔تاریخ انٹرنیٹ پر تلاش کر نے باوجود ڈھونڈ نہ پایا۔میں اپنی کُل وقتی جائے ملازمت (ایڈورٹائزنگ ایجنسی) پر تھا۔ اس زمانے میں موبائل فون عام نہ تھے۔ ٹیلی فون آپریٹر نے بتایا کہ آپ کے لئے کال ہے۔ لائن ٹرانسفر ہوئی۔ دوسری طرف سے جو آواز آئی میں اس وقت اس کی قطعاً توقع نہیں کر رہا تھا۔ یہ کال اس ایڈورٹائزنگ ایجنسی سے تھی کہ جہاں میں شام میں فری لانس کرنے جایا کرتا تھا۔ “کب تک آسکتے ہو؟”۔ میں نے جواباًکہا کہ شام میں۔ تاکید سے کہا گیا کہ وقت پرآجائیں۔ دیر نہ کریں، بہت ضروری کام ہے۔میں نے سوچا کوئی روٹین کا کام ہوگا اور کلائنٹ نے بے وجہ کی جلدی مچا دی ہوگی۔

شام آفس سے فارغ ہو کر میں سیدھا اپنی فری لانس والی ایجنسی پہنچا اور جاتے ہی کہا کہ بتائیں کیا کام ہے۔ کلائنٹ سروس کے بندے نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی کام نہیں لیکن باس کو بہت ضروری کام ہے۔ ایک دو بار تمہارا پوچھ چکے ہیں۔ کچھ دیر انتظار کے بعد میں باس کے کمرے میں داخل ہوا۔بولے بیٹھو، میں بیٹھ گیا۔ اس کے بعد وہ کمرے میں موجود آفس کے ایک صاحب سے باتوں میں مصروف ہوگئے جیسے انہوں نے میرے آنے کو کوئی اہمیت ہی نہ دی ہو۔ عجیب کوفت کا شکار تھا۔ سوچ رہا تھا کہ جب اتنی جلدی ہے تو کام کا بتا کیوں نہیں رہے؟ خاموش رہا کیونکہ ہر ماہ باقاعدگی سے ایک معقول رقم ملتی تھی جس کی اس زمانے میں مجھے اشد ضرورت تھی۔ کمرے سے جیسے ہی آفس کے صاحب نکلے۔ باس نے ان کے دروازہ بند کرتے ہی میری طرف توجہ کی اور بولے کہ آج تمھیں بہت اہم کام کرنا ہے۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔ بتائیں؟ بولے لیکن اب صبح جائو گے۔ میں نے کہا کہ صبح کیوں؟ جیسے ہی کام ختم کروں گا۔ چلا جائوں گا۔ کہنے لگے کہ
یہ کام جو اب تمھیں کرنا ہے۔ یہ بہت رازداری کا کام ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ اس کام کی کسی کو کانوں کان خبر ہو۔ میں چونک گیا کہ ایسا کون سا کام ہے کہ جس کی کسی خبر ہی نہ ہو۔میں نے کہا ہمارا کام تو اشتہار بنانا ہے تو اس کی خبر تو سب کو ہونی ہی ہے۔ اب جو انہوں نے مجھے کام کا بتایا تو کچھ دیر کے لئے میں اندر سے ڈرا سہما بیٹھا رہا۔ باس نے بتایا کہ کل صبح ذوالفقار علی بھٹو کے بڑے بیٹے مرتضیٰ بھٹو کراچی ائیر پورٹ پر لینڈ کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ یہ زمانہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے اقتدار کا ہے اور اس زمانے میں عوامی طور پر یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ محترمہ نہیں چاہتیں کہ مرتضیٰ پاکستان آئیں۔ بہرحال یہ ایک حقیقت ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو کی سیاست میں زمین آسمان کا فرق تھا اور اسی وجہ سے دونوں میں اختلاف رائے پایا جاتا تھا جس کا بعد میں کھل کر اظہار بھی ہوا۔ قصہ مختصر تفصیلات سننے کے بعد میں نے سوچا کہ اگر مرتضیٰ بھٹو کراچی ائیر پورٹ پر اترتے بھی ہیں تو عین ممکن ہے کہ انہیں گرفتار کر لیا جائے۔ مرتضیٰ بھٹو قریباً 16سال بعد وطن لوٹ رہے تھے۔ اس دوران ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد الذوالفقار کے قیام اور پھر جہاز کے اغوا اور سیاسی قیدیوں کو چھڑانے جیسی کارروائیوں و دیگر پر مرتضیٰ بھٹو کے خلاف سنگین نوعیت کے مقدمات درج تھی گو کہ یہ مقدمات جنرل ضیاء الحق کے زمانے کے تھے۔

اس زمانے میں یہ بات بھی بہت عام تھی کہ محترمہ نصرت بھٹو مرتضیٰ بھٹو کو قومی سیاست میںداخل کرنا چاھتی ہیں لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو ماضی کے واقعات یاکسی اور وجہ سے مرتضیٰ بھٹو کی سیاست میں انٹری نہیں چاہتی ہیں۔خیر میں نے پوچھا کہ مجھے کیا کام کرنا ہے۔ بولے کہ تمھیں پوسٹرکی کاپی لکھنی ہے۔ approval کے بعد اس کا ڈیزائن بنے گا۔ اس کے بعد یہ پوسٹر پرنٹ ہونے جائے گا اور پھر رات میں شہر بھر میں لگا دیا جائے گا۔ باس نے کہا کہ کیپشن catchy ہونا چاہیئے۔ اس زمانے میں ایک سیاسی حلقے کی جانب سے یہ بات موضوع بحث تھی کہ بھٹو کا وارث بھٹو ہی ہونا چاہیئے۔ یاد رہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شادی آصف علی زرداری سے ہوچکی تھی۔ اس لئے ان دنوں محترمہ کے نام کے ساتھ زرداری لکھنے پر بھی اخبارات اور عوامی حلقوں میں اس موضوع پر دھواں دار بحث و مباحثہ ہوا کرتا تھا۔سندھ میں موروثیت کے حوالے سے پگ دار کا لفظ اس دنوں اخبارات میں بہت آیا کرتا تھا۔ باس نے کہا کہ کوئی ایسا کیپشن لکھو جس میں مرتضیٰ بھٹو کی کراچی آمد، تلوار (پیپلز پارٹی کا انتخابی نشان) اور پگ دار کے الفاظ آجائیں۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد میں نے یہ کیپشن لکھا:

چمکی حیدر کی تلوار، آیا بھٹو کاپگ دار

اور پھر کراچی آمد کے حوالے سے مختصر سی باڈی کاپی اور غالباً نیچے پنچ لائن کے طور پر “بھٹو کا وارث بھٹوــ” لکھا۔ اب یہ میرے علم میں نہیں کہ اس کی approval لی گئی تو کس سے؟ بہرحال کاپی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور اس پر پوسٹر کی ڈیزائننگ کا کام شروع ہوا جس میں یقیناً دیر لگنی تھی۔ بڑی مشکلوں سے یہ یقین دلانے کے بعد کہ میں اس بارے میں کسی کو بھی کچھ نہیں بتائوں گا رات بارہ بجے کے بعدمیری گلو خلاصی ہوئی۔ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے راستے بھر مجھے ہلکا ہلکا سا خوف رہا۔ گھر آیا اور کسی کو ایک لفظ بتائے بغیر سو گیا۔

صبح پھر وہی وقت پر آفس پہنچنے کی جلدی تھی۔ کراچی میں نئی نئی کوچ سروس شروع ہوئی تھی۔ راستے میں تو میری نظر نہیں پڑی لیکن میں جیسے ہی اپنے آفس کے اسٹاپ پر اترا تو کیا دیکھتا ہوں کہ جگہ جگہ مرتضیٰ بھٹو کی آمد کے پوسٹر لگے ہوئے ہیں جن پر جلی حروف میں مرتضیٰ بھٹو کی پگ والی تصویر کے ساتھ “چمکی حیدر کی تلوار، آیا بھٹو کا پگ دار” لکھا ہے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کیا جائے۔ کسی کو اب بھی بتائوں یا خاموش ہی رہوں۔ آفس آیا۔ حسبِ عادت میڈیا ڈیپارٹمنٹ میں جا کر اخبارارت دیکھے تو کراچی کے سب سے کثیر الاشاعت اخبار ایک کالمی خبر چھپی ہوئی تھی کہ رات گئے کراچی میں مرتضیٰ بھٹو کی آمد پر خیر مقدمی پوسٹر لگا دیئے گئے۔ مرتضیٰ بھٹو تو خیر کراچی آگئے مگر ہمیں خوف نے کئی دنوں تک گھیرے رکھا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: