مرد عورت کی برابری کا پوسٹ مارٹم کریں تو ——- خرم شہزاد

0

حقوق مرد کے ہوں یا کسی عورت کے، کوئی بھی پوری طرح سے ادا نہیں کر سکتا۔ کہیں نہ کہیں کوئی کوتاہی ہو جاتی ہے۔ اسی طرح فریقین میں سے ایک اگر اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی کوشش کرے تو دوسرا فریق ڈرانے دھمکانے کے ساتھ فرائض کی ایک لمبی فہرست نکال لاتا ہے۔ اس لیے آج ہم حقوق و فرائض کی بات نہ کرتے ہوئے برابری کو موضوع بنائیں گے کیونکہ یہ بھی حقوق کی جنگ میں ایک برابر کا میدان ہے جہاں ہر دو فریقین کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔

آجکی ماڈرن عورت جہاں حقوق کے لیے لڑنے میں مصروف ہے وہیں اسے معاشرے میں برابری بھی درکار ہے کہ ایسا اس کا کہنا اور ماننا ہے۔ اسی وجہ سے آئے روز کہیں نہ کہیں سے کچھ خواتین برابری کے نعرے لگاتی برآمد ہوتی ہیں اور کارواں بنانے کی آس میں ہی کئی میل کی واک کر جاتی ہیں۔ کارواں تو بنتا نہیں البتہ صحت اچھی ہو جاتی ہے۔ اسی طرح مرد حضرات کی طرف سے اس برابری پر کبھی جارحانہ انداز میں اور کبھی جگت سے حملہ کیا جاتا ہے جو کہ اپنی جگہ ایک نا انصافی ہے۔ برابری کی بحث بھی اکثر لاحاصل رہ جاتی ہے کیونکہ دونوں اطراف سے اپنے اپنے کام اور ذمہ داریوں کو سامنے لایا جاتا ہے اور قدرت کے قوانین کے منافی چلنے کی خواہش کو برابری کا نام دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مانا کہ ایک مرد عورت کی طرح بچہ نہیں پیدا کر سکتا لیکن اپنی جسمانی ساخت کی وجہ سے وہ جتنی سخت جان محنت سے اور مسلسل ایک کے بعد دوسری نوکری، اوور ٹائم وغیرہ لگا کر اپنے گھر والوں کے لیے کمائی کر سکتا ہے یہ بھی تو عورت کے بس کی بات نہیں۔ اس لیے آج ہم مرد و عورت کی ذمہ داریوں اور کاموں کے بجائے ان کے رویوں میں برابری کی بات کریں گے کہ کیا عورت رویے میں بھی مرد کی برابری کر سکتی ہے اور کیا مرد اپنے رویے میں کسی عورت کے برابر آ سکتا ہے؟

لڑکے اور لڑکی میں فرق یا سماجی ناانصافی کا آغاز کئی گھرانوں میں بچے کی پیدائش سے پہلے ہی ہو جاتا ہے اور کہیں یہ سلسلہ پیدا ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ لڑکے کو فوقیت اس لیے ملتی ہے کہ اس نے آنے والے کل میں کمانا اور ماں باپ کا سہارا بننا ہوتا ہے جبکہ لڑکی نے تو پرائے گھر چلے جانا ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود پڑھائی لکھائی میں لڑکے لڑکیوں کے برابر کیا آدھ تک بھی بمشکل پہنچ پاتے ہیں۔ لڑکیوں کو برابری کا اتنا ہی شوق ہو تو امتحان والی رات بے فکری سے سوکر دیکھا دیں جو کہ لڑکوں کا معمول ہوتا ہے بلکہ کئی جگہوں پر گروپ اسٹڈی کے نام پر جمع لڑکے تاش وغیرہ کھیلتے پائے جاتے ہیں۔ ہم نے خود پتے کھیلنا میٹرک کے امتحانات کی تیاری میں سیکھا تھا تو کیا لڑکیاں یہ برابری کر سکتی ہیں؟ ایک چار پانچ سال کی بچی خود منہ ہاتھ دھو کر کنگھی کر کے تیار ہو جاتی ہے لیکن اس سے سال بڑا بھائی گھگو کی طرح کھڑا ہوتا ہے کہ کوئی اسے بھی تیار کر دے تو وہ بھی سکول چلا جائے۔ پیٹ درد کے بہانے کرنے والوں میں اسی فیصد لڑکے ہی ہوتے ہیں اور یہی عادت ان کی سکول کالج تک بھی چلتی ہے کہ آخری منٹ میں اٹھیں گے، بنا منہ ہاتھ دھوئے اور دانت برش کئے بھی سکول کالج نکل جائیں گے، لیکن کیا لڑکیاں ایسا کر سکتی ہیں؟ سکول کالج جاتے لڑکے بسوں اور ٹرکوں سے لٹک کر بھی پہنچ جاتے ہیں لیکن ہم نے کبھی بس یا ٹرک پر لٹکی ہوئی لڑکی نہیں دیکھی۔ لڑکے اکیلے بھی چلے جاتے ہیں اور یہ کوئی خاص بات نہیں لیکن لڑکیوں کو ہمیشہ گھر سے کوئی چھوڑنے ہی جائے گا چاہے اس کا بھائی ہی کیوں نہ ہو جو اسے سکول چھوڑتے چھوڑتے خود اپنے کالج سے لیٹ ہوجائے لیکن لڑکی کے اکیلے جانے پر سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔ یہیں کہیں جب لڑکی کو اس کا بھائی لینے کے لیے آئے تو اس لڑکی کی سہیلی بنا کسی پریشانی کے بول سکتی ہے کہ ہائے تمہارا بھائی کتنا ہینڈسم ہے، لیکن لڑکے اپنے عزیز ترین دوست سے یہ لائن آدھی بھی نہیں بول سکتے کہ دوست عمر بھر کی دوستی چولہے میں جھونکے گا اور سر پہلے پھاڑے گا ہڈیاں بعد میں توڑے گا۔ مجھے برابری کی کسی بحث میں لڑکوں کی طرف سے ایسا کوئی مطالبہ کبھی سننے کو نہیں ملا کہ انہیں بھی اس معاملے میں برابری دی جائے کہ وہ اپنے دوستوں سے ان کی بہنوں کی خوبصورتی کے بارے بات کر سکیں۔

امتحانات کے نتائج آئیں تو پوزیشن ہولڈز کی ایک لمبی لائن میں کہیں کوئی ایک دو لڑکے بھی نظر آجاتے ہیں تو کبھی لڑکیوں نے نہیں سوچا کہ ہم بھی پوزیشن نہ لے کر برابری کریں۔ عملی زندگی میں قدم رکھتے اور شادی کے بعد بھی دونوں میں برابری کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مرد حضرات شادی اور سالگرہ کی تاریخیں بمشکل یاد رکھ پاتے ہیں کہ اب تو موبائل میں الگ ریمائنڈر لگانے پڑتے ہیں اور فیس بک پر الگ نوٹیفیکشن کا دھیان رکھنا پڑتا ہے لیکن خواتین کو پندرہ سال پہلے والی شادی میں کس نے کیا اور کس رنگ کا پہنا تھا، سب یاد ہوتا ہے۔ برابری کا اتنا ہی شوق ہے تو دماغ پر اتنا بوجھ اٹھانے کی کیا ضرورت ہے۔ کھانے کے بعد شوہر حضرات کو بیگم کا دوپٹہ ملے یا کھڑکی کا پردہ، ہاتھ صاف کر کے نکل لیتے ہیں، کبھی خواتین بھی ایسی برابری کا حوصلہ کریں۔ مردوں میں صفائی اور نفاست کا وہ معیار اور درجہ نہیں ہوتا جو عورتوں میں ہوتا ہے کہ ایک لڑکے اور لڑکی کے کمرے میں قدم رکھتے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ یہ کس کا کمرہ ہے۔ ویسے ہی شادی کے بعد جب شام کو مرد گھر آ کر کہتا ہے کہ آخر تم سارا دن کرتی ہی کیا ہو، تو عورت اس سے لڑائی جھگڑا کر سکتی ہے لیکن اگلے دن سب چھوڑ چھاڑ کر انگلش والا چل نہیں کرتی نہ ہی صفائی ستھرائی پر کوئی سمجھوتہ کرتی ہے۔ برابری کی اتنی ہی خواہش ہے تو کمرے میں گندی جرابوں کی بو کو برداشت کرتے ہوئے کھانے کے برتن بھی وہیں پڑے ہوں، ریپرز اور دوسرا کچرا بھی اور مزے سے گانے سننے کا حوصلہ کریں۔ اسی طرح کوئی بل جمع کروانا ہو کہ بازار میں کوئی سبزی خریدنی ہو، گھنٹے سے کھڑے دس مردوں کے بجائے ابھی پہنچنے والی خاتون کو اہمیت دی جاتی ہے، دفاتر میں ان کے لیے الگ کاونٹر موجود ہوتے ہیں اوربازار میں انہی عورتوں کی برابری برابری کی باتیں سننے کے باوجود دس میں سے آٹھ مرد اپنی جگہ چھوڑ کر انہیں جگہ دیتے ہیں کہ یہی ہمارے معاشرے کی تہذیب ہے اور یہی طریقہ بھی (جو دو مرد جگہ نہیں دیتے وہ ان خواتین کو برابری کا موقع دے رہے ہوتے ہیں)۔

ویسے میرے معلومات میں برابری کے نعرے لگانے اور برابری پر اکسانے والی ایسی کوئی خاتون موجود نہیں ہیں جنہوں نے مرد حضرات کی طرح تعلیم مکمل کرنے کے بعد کوئی نوکری یا کاروبار کیا ہو، گھر بنایا ہو اور پوری طرح سیٹل اور سٹیبلش ہونے کے بعد شادی کے بارے سوچا ہو۔ بلکہ دیکھنے کو یہی ملتا ہے کہ ایسی تمام خواتین نے ہمیشہ سیٹل اور سٹیبلش مردوں سے شادیاں کیں اور پھر ان کے پیسے سے اپنے فارغ وقت کو گزارنے کے لیے این جی اوز بناکر یہ سارے ڈرامے بنا نے میں لگ گئیں۔ ہم بھی چاہیں گے کہ برابری کرنے والی خواتین پہلے اپنے دم پر پیسہ کمائیں، گھر بنائیں اور پھر شادی کریں تاکہ برابری کا اصل مفہوم ہمیں بھی سمجھنے میں آسانی ہو۔ اس شادی میں طلاق کا حق اپنے پاس رکھیں اور سال ایک میں بچہ نہ ہو تو لات مار کر میاں کو گھر سے باہر کریں اور دوسری شادی کریں جیسا کہ اکثر مرد کرتے ہیں یا کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔ اگر لات مار کر میاں گھر سے باہر نہیں کرنا تو کم از کم ہر وقت اولاد نہ ہونے کا طعنہ دے کر اس شخص کا جینا تو حرام کریں تاکہ معاشرے میں کچھ تو برابری کی صورت پیدا ہو اور ہاں طلاق کی صورت میں بچے میاں کے منہ پر مارے اور اپنی نئی زندگی نئے سرے سے شروع کرئے، بھلا یہ کہاں لکھا ہے کہ طلاق کے بعد بچوں کو پالنا عورت کی ہی ذمہ داری ہو؟سوال یہ ہے کہ ایسا بھلا کب اور کہاں ہوا ہے یا ہوتا ہے۔

برابری کی ماری خواتین کو یہ بھی یاد دلانا چاہوں گا کہ ابھی بھی ہمارے معاشرے میں یہی ریت اور رواج قائم ہے کہ ایک گھر میں بھلے چھ بھائی ہوں اور ایک کام نہ کرتا ہو تو اسے نکما اور نکھٹو کہا جائے گا، کام نہ کرنے پر شرم دلائی جائے گی لیکن اگر ایک گھر میں گیارہ بہنیں بھی ہیں تو ان کا ایک بھائی سب کو اپنی ذمہ داری سمجھے گا، ان کا والد اپنی ہر بیٹی کی خواہش اور ضرورت پوری کرنے کے لیے اپنی جان لڑا دینا اپنا فرض سمجھتا ہے اور کبھی کہیں کسی لڑکی کو نکمی اور نکھٹو کا طعنہ نہیں دیا جاتا اور نہ ہی لڑکیوں کو والد یا بھائی کا ہاتھ بٹانے کے لیے باہر نکلنے اور نوکریاں کرنے کو کہا جاتا ہے۔ آج بھی ہمارے معاشرے میں بہن یا بیٹی کی کمائی کھانے کو برا سمجھا جاتا ہے لیکن اسی معاشرے میں تین بھائی بھی ہوں تو گھر والے سب سے پورا پورا حساب مانگتے ہیں اور خرچے کے وقت کندھے اچکا کر کہہ دیا جاتا ہے کہ ہمیں نہیں پتہ کہاں سے پورے کرنے ہیں، لیکن خرچے پورے تو تمہی نے کرنے ہیں لہذا شور بند کرو اور کچھ کرو۔

سوال یہ نہیں کہ معاشرے میں مرد اور عورت برابر سمجھے جاتے ہیں کہ نہیں لیکن سوال یہ ضرور ہے کہ آخر برابری کا شور مچانے والی خواتین نے خود مردوں کی برابری کے لیے کیا کچھ کرنے کی ٹھانی ہے۔ ہمارے ہاں برابری کے نام پر صرف نوکری کی اجازت مانگنا اور ملنا ہی برابری کی معراج سمجھ لیا جاتا ہے۔ ہر بحث اور ہر تقریر میں عورت کو برابری چاہیے کے رٹے لگانے والے اور والیاں یہ نہیں بتاتیں کہ آخر کون سی عورت کو برابری چاہیے اور کس مرد سے برابری چاہیے۔ کیا کسی بہن کو اپنے بھائی سے برابری چاہیے کہ کسی بیٹی کو اپنے باپ سے برابری چاہیے یاں پھر ایک ماں کو اپنے بیٹوں سے برابری کے لیے پلے کارڈ اٹھا کر سر بازار آنے کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ وہ بھائی جو اپنی بہن کی عزت کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی بیوی بچوں اور اپنی جوانی کو یاد نہیں رکھتا بلکہ دوسرے کی جان لینے سے کم پر راضی نہیں ہوتا اور ایسے درجنوں بھائی اپنی جوانیاں اس وقت جیلوں میں کاٹ رہے ہیں لیکن انہیں اس کا کوئی ملال نہیں۔ ایسے باپ ہر گلی ہر بازار میں مل جائیں گے جو اپنی بیٹیوں کی ایک خواہش پوری کرنے کے لیے خجل خوار ہو رہے ہوتے ہیں، مزدوریاں اور اوور ٹائم کرتے ہیں کہ آج میری گڑیا نے بولنے والی گڑیا مانگی ہے اور مجھے وہ لے کر ہی گھر جانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آج کی عورت مظلوم؟ جھوٹ یا لطیفہ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شوکت نیازی

سوال تو پھر وہی آ جاتا ہے کہ عورت کو برابری چاہیے لیکن کس عورت کو؟ لے دے کر ایک بیوی کا رشتہ رہ جاتا ہے جسے اپنے شوہر سے برابری اور جینے کا حق چاہیے ہوتا ہے او ر یقینا ہمارے معاشرے میں ایک خاتون جو کسی شخص کی بیوی ہے اس کو بہت سے مسائل اور سخت حالات کا سامنا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ باقی تمام رشتوں کے تقدس پر نشان لگا دیں اور معاشرے کے باقی افراد کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیں۔ ایک عورت جو بیوی ہے اس سے باقی رشتوں بھائی، باپ اور بیٹے کے بارے سوال کیا جائے تو وہ ان پر اپنی جان نچھاور کرتی نظر آئے گی تو پھر صرف ایک بیوی اور شوہر کے رشتے کے مسائل پر بات کرنے کے بجائے تمام رشتوں اور افراد کو رگڑنا ناانصافی اور مسئلہ حل نہ کرنے کا عمدہ طریقہ ہے۔ آج بھی ہمارے معاشرے میں بھائی اپنی بہنوں کا مان ہوتے ہیں، بیٹیوں کے لیے ان کے والد بادشاہ اور سپر ہیرو ہوتے ہیں اور وہ ان کی شہزادیاں ہوتی ہیں، ماوں کے لیے بہتی ناک والا کالا سیاہ بیٹا بھی چاند جیسا ہوتا ہے۔ اس لیے خدارا اپنی فضول کی برابری کی بحث اور بکواس میں معاشرے میں موجود رشتوں کے تقدس اور خوبصورتی کو گہنانے کی کوشش نہ کریں۔ معاشرے میں مرد عورت اگر کہیں بستے ہیں تو اسی معاشرے میں باپ بھائی بیٹے بھی رہتے ہیں جن کو اپنی بیٹیوں بہنوں اور ماوں سے بہت پیار ہے اور ہر دو فریق اس پیار کے ہمیشہ قائم رہنے اور کسی کی نظر نہ لگنے کے لیے دعا گو بھی رہتے ہیں۔

ہماری بھی دعا ہے کہ ایسے خوبصورت رشتوں کو کسی دوہرے معیار والی موم بتی مافیاکی حاسدانہ نظر نہ لگے اور ان رشتوں کی خوبصورتی میں کوئی برابری کبھی حائل نہ ہو اور خانگی مسائل بہتر انداز میں حل ہونے کا بھی کوئی سبب ہو سکے۔ آمین۔

(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: