چینامی : ایک تبصرہ — فتح محمد ملک صاحب کے قلم سے

0

آج سے تقریباً ایک صدی بیشتر علامہ اقبال نے ہمیں اِس حقیقت کی جانب متوجہ کیا تھا؛
گراں خواب چینی سنبھلنے لگے
ہمالہ کے چشمے اُبلنے لگے

چین نے خود کو نیند کی آغوش میں کب اور کیوں گُم کر دیا اور ایک مدت کے بعد جب نئی بیداری کی نعمت سے سرفراز ہوا تب سے لیکر اب تک جہدوعمل کے کِن کِن منطقوں سے ہو کر آج دُنیا کا عظیم خطہء زمین وزماں بن چکا ہے؟ بریگیڈئیر عبدالرحمن (ریٹائرڈ) نے اِن سوالات پر بڑے اِنہماک کے ساتھ غوروفکر کیا ہے جِس کا بہترین ثمر اُن کی زیرِ نظر کتاب “چینامی” ہے۔ کتاب کے پیشِ لفظ کا پہلا فقرہ ہی ہمیں چین کے ماضی، حال اور مستقبل کے باب میں اُن کے مشاہدات، تجربات اور خیالات کی جانب یوں متوجہ کرتا ہے؛

“چین کیا ہے؟ اُس کا ماضی کیسا تھا؟ مستقبل میں وہ کِس سمت میں جاتا دکھائی دیتا ہے؟ بین الاقوامی طاقت بن کر اُس کا رویہ کیسا ہوگا؟” عبدالرحمن نے اِن سوالات پر نادر و نایاب وسعت علمی کے ساتھ غوروفکر کیا ہے اور اُسی غوروفِکر کے اثرات کو زیرِنظر کتاب کی صورت میں پیش کیا ہے۔ یوں تو اِبن انشا سے لیکر مستنصر حسین تارڑ تک ہمارے متعدد شاعروں اور ادیبوں نے چین کے بڑے دِلچسپ اور دِلنشین سفر نامے لکھے ہیں مگر اُن کی کتابوں میں فقط انقلاب کے بعد کے چین کی سیروسیاحت کی روداد پیش کی گئی ہے۔ مجھے جب اِن کتابوں اور اپنے چین نواز سیاستدانوں کی باتیں یاد آتی ہیں تو حبیب جالب کی ایک نظم کا بند بے ساختہ یاد آ جاتا ہے؛
چین اپنا یار ہے اُس پے جاں نثار ہے
پَر وہاں ہے جو نظام اُس کو دُور سے سلام

رحمان صاحب پاکستان کے وہ پہلے دانشورہیں جنہوں نے قدیم چین سے لے کر آج کے چین میں مروجہ سیاسی، اقتصادی اور معاشرتی نظام کو نہ صرف بہت قریب سے دیکھا بلکہ سمجھا بھی ہے۔ اپنی اِس تفہیم و تعبیر کی جُستجو میں اُنہوں نے مغربی دُنیا کے سیاسی مدبرین اور دانشورانِ کرام کی چین شناسی کا گہرا تنقیدی مطالعہ بھی پیش کیا ہے۔ وہ اپنی اِس کتاب کے بنیادی محرک پر روشنی ڈالتے وقت قارئین کو بتاتے ہیں کہ؛

“میں نے جب چین کو قریب سے دیکھا تو مجھے وہ اُس سے بہت مختلف نظر آیا جِس تاثر کے ساتھ میں وہاں پہنچا۔ اُس فرق نے مجھے مجبور کیا کہ میں چین اور چینی قوم کے بارے میں سچ لکھوں، جو اُس تصویر سے بہت مختلف ہے جو بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور سماجی رابطے پیش کر رہے ہیں۔ جو چین دُنیا کو دکھایا جا رہا ہے، جب اُس کاموازنہ جِسے میں نے دیکھا اُس سے کیا، تو اندازہ ہوا کہ ذرائع ابلاغ پر اجارہ داری سے کِتنی آسانی سے ملکوں اور قوموں کے بارے میں دُنیا کی سوچ اور خیالات کو مرضی کے مطابق ڈھالا جاسکتا ہے”۔ اِس مطالعے کے دوران اُنہوں نے چین کے بارے میں مغربی دُنیا کے سامراجی مقاصد کے تجزیہ و تنقید کا حق ادا کرتے ہوئے پاکستانی قارئین کو چین اور ایشیا کی زندگی اور سیاست کے باب میں اُن دانشوروں کی عقلِ عیار سے خبردار کرنے کا فریضہ بھی خوب ادا کیا ہے۔ چین اور پاکستان کی باہمی رفاقت اور یک دِلی مغربی دُنیا کے لیے سوہانِ روح بن چکی ہے جِس کے بارے میں رحمان صاحب لکھتے ہیں کہ پاک چین مشترکہ ترقیاتی منصوبوں کو ناکام بنانا ہی سامراجی قوتوں کی رواں صدی کی اصل ‘گریٹ گیم’ ہے۔ پاکستان کے خلاف نت نئی سازشیں بھی اُسی ‘گریٹ گیم’ کی حکمت عملی سے جنم لیتی چلی آ رہی ہے۔

” وہ قوتیں جو چین کی ترقی کو اپنے بین الاقوامی اثرورسوخ اور اجارہ داری کے لیے خطرہ سمجھتی ہیں وہ اِس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ چین کو اُن کی گرفت سے نکلنے میں اگر کوئی مدد کر سکتا ہے تو وہ صرف پاکستان ہے۔ اِس لیے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ چین کے لیے پاکستان کی ایسی غیر معمولی اہمیت اُس کے ‘طوفان کی آنکھ’ میں رہنے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اِس لیے یہ سمجھنے میں غلطی نہیں کرنی چاہیے کہ پاکستان کے موجودہ مسائل کی بہت بڑی وجہ اُس کے چین کے ساتھ مشترکہ منصوبے ہیں جِن کو ناکام کرنا ہی اِس صدی کی اصل ‘گریٹ گیم’ ہے۔ بیسویں صدی سے چین کو مغربی تہذیب اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتی ہے اِس لیے اُس کے خلاف سازشیں اور پروپیگنڈا اتنا شدید ہے کہ پاکستانی قوم کی اکثریت بھی اُس کا شکار دکھائی دیتی ہے”۔

عبدالرحمن نے مغربی دانشوروں کی شعوری چین ناشناسی کے درپردہ استحصالی مقاصد کو بھی خوب بے نقاب کیا ہے۔ اُنہوں نے ہینری کیسینجر کے سے سیاستدانوں سے لے کر متعدد صحافیوں اور دانشوروں کی کتابوں سے بڑی دانشمندی کے ساتھ استفادہ کیا ہے اور بڑے موثراستدلال کے ساتھ اِس حقیقت سے پردہ اُٹھایا ہے کہ ان لکھاریوں کی عقلِ عیار نے سو سو بھیس بدل کر حقائق کو مسخ کرکے دکھایا ہے۔ اُن کی تمنا ہے کہ پاک چین رفاقت کو ثمربار ہونے میں نت نئی رکاوٹیں ڈالتے رہیں۔ رحمان صاحب نے اپنی اِس کتاب میں ہمیں فکروخیال کی اِن اُلجھنوں سے آزاد کرنے کا سامان کیا ہے۔ اِس اعتبار سے دیکھیں تو اُن کی مساعی چین شناسی کے ساتھ ساتھ پاکستان شناسی بھی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اُن کی یہ محنت رائیگاں نہ جائے گی اور یہ کتاب پاکستانی قارئین کے وسیع ترین حلقے تک پہنچ کر حق کا بول بالا کرے گی۔

رحمان صاحب اپنے تجربات، مشاہدات اور خیالات کو قارئین کے وسیع ترین حلقے تک پہنچانے کے تمنائی ہیں چنانچہ اُنہوں نے کتاب کے لیے قومی زبان کا انتخاب کیا ہے۔ کتاب کے ابتدائی باب میں اُردو زبان کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے تمنا کی ہے کہ کاش جِس طرح چین کی وسیع و عریض دُنیا میں ہر جگہ چینی زبان کو اپنا لیا گیا ہے اُسی طرح پاکستان میں بھی اُردو کی ہمہ گیر مقبولیت سے استفادہ ہونے لگے۔ قومی زبان کے ساتھ ساتھ اپنے ملکی مستقبل سے گہری محبت بھی اِس کتاب کی سطر سطر سے عیاں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب فکروخیال کے نئے دریچے وا کرنے اور پاکستان کی ترقی و استحکام کے امکانات روشن کرنے میں تاریخ ساز ثابت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کا دباؤ اور سی پیک ۔۔۔۔۔۔۔۔ ضمیر احمد اعوان
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: