باطنی اصوات —— فرحت راشد

0

وہ تنہائی میں ماضی کی آواز وں کو سنتے ہوئے اپنے وجود کی تمام تر حقیقتوں کو خود سے مس رکھتی تھی۔ باطنی شویدہ سری کا احساس کسی پر واضح کرنا اسکے لیئے ممکن نہ تھا۔ حد درجے کا خیالی لبادہ اسکو اپنے آپ سے نکال کر ایک خوابی دنیا کا مقیم رکھتا۔ اس کے لیئے یہ اندازہ لگانا قدر مشکل تھا کہ اسکا اصل مقام اصلی دنیا ہے یا پھر وہ دنیا جو خو د اس میں اپنا گھر کر چکی تھی۔

ماضی کے بہت سے واقعات، جذبات اس کے اندز گھمسان کی جنگ رکھتے تھے یہی وجہ تھی مضطرب الحال کیفیات اسکا مقصدحیات بنتی چلی گئیں۔ اب ایک عمر میں استغراق کا عالم اس پر اس قدر حاوی ہوا کہ وہ زندگی سے بیزاری کی طرف مائل ہونے لگی۔ بہت کچھ حاصل ہونے کے بعد بھی اب تنہائی اور گھٹن سانسوں کے ساتھ اپنی جگہ رکھنے لگے تھے۔

زندگی کا راستہ چننا اس کے لیئے اس وقت مشکل تھا۔ بہت سی تخلیقی صلاحیتوں کے بعد بھی اب اکیلا پن اس کے وجود کو قتل کرنے پر آمادہ تھا۔ یہ جنگ اب اکیلے پن اور عزائم کی تھی جس کا فتح کرنا اس کی زندگی کا لا شعوری مقصد تھا۔ اب مستقل تنہائی کے وار اس کی بے چینی میں اضافہ کرتے مگر اس کا خود کو نفسیاتی طور پررضا مند کرنا اس کی زندگی کے لئیے بہت ضروری تھا۔

اس جنگ میں وہ اب شاید اکیلے پن کو ترجیح دے چکی تھی اور اس وجہ سے اس کا اپنے آپ سے ہار جانے کا قوی امکان تھا۔ اس نے پھر اپنی اس حالت پر توجہ دینی شروع کی کہ آ خر وہ زندگی کہ کس مراحل سے گزار رہی ہے۔ کیا وہ ماضی کے افسوں سے کبھی باہر نہ آ کر اپنے آنے والے لمحات کو ماضی کا افسانہ بنادے گی۔ اس کے خیال میں حال کی اپنی اہمیت ہے جو اسکو آتش پا سے چھٹکارے سے حاصل ہوگی۔

وہ اپنی ذات کے اندر واویلا مچاتے جھمیلوں کے حصار میں اپنی حقیقت کو ملتوی کرچکی تھی اس کو اپنے وجود پر کئی دروازے دکھائی دیتے تھے۔ لیکن اس کا باطن التفات سے محبت کرتا تھا۔ ا لتوانے اس کو یک دم سکون بھرے لمحات تو دیئے مگر پیچدگیوں کا سامنا کرنا بہت ضروری تھا۔

ایک پہر پھر اس نے خود سے ہی بات کرنا شروع کی۔ جس رنج اور ملال نے اس کی زندگی اس سے چھیننا شروع کی وہ اسکو اتنا وقت کیسے دے سکتی ہے۔ خیالات کے التباس اس کو شدت سے اذیت پہنچاتے اس نے فیصلہ کیا وہ اشک بار جذبات سے کوسوںدور اپنے ہونے کے احساس پر مبنی زندگی گزارے گی۔ ضروری نہیں یہ خیالات اس کے ذہن سے یک دم نکل جائیں شاید ایک وقت لگے گا جب وہ التہاب کے ساتھ خود کو ایک خوب صورت زندگی میں کا حصہ بنادے گی۔ اس نے اپنے وجود میں موجود دروازوں پر دستک دینا شروع کی تا کہ وہ اپنے مسائل کو حل بنادے اور ان کواپنے وجود سے عاق کردے۔

اسکی زندگی کا پہلا مسئلہ خود سے دور ہوجانا تھا۔ جسکی وجہ سے اسباب اس کی زندگی کو نئے موڑ پرے گئے تھے۔ اس نے خود سے اگا ہی شروع کی جو اس کی زندگی میں خوشی کی جانب پہلا قدم تھا۔ اس نے تمام ان خیالات سے دشمنی اختیار کرلی جو اسکو رائیگاں کہتے اور حمایت سے دور رکھتے۔ جو خیالات اس کو ستاتے تھے اور سوالات کی فہرست دیتے تھے۔ اس نے ان خیالات سے ہی سوالات کرنا شروع کردیے۔ آخر الامرایک وقت آیا خیالات اسے سوالات کا جواب دیتے دیتے تھک کر لاچار ہوگئے۔ وہ منفی خیالات سے لڑتی ہوئی جنگ کا خاتمہ اپنی جیت سے کرتی ہے۔ اب منفی خیالات اس کے اندر دبی ہوئی کیفیت اختیار کر چکے تھے۔ مثبت اثرات نے اس کی زندگی میں وہ فضا قائم کی جو اس کی سانس لینے میں تسکین پیدا کر تی۔

اس کے اندر بھروسے کا بیج پھلنے پھلنے لگا تھا کہ اب بھی زندگی اس کے اندرانبساط کی مانند ہے۔ اب ابر اس کی زندگی میں اطمینان رکھنے لگاتھا۔ ورنہ شدید تپش میں ایک عر صہ گزار کر وہ کلفت بھرے لمحات کو پے در پے استقبال کرتا پاتی۔ سوچ کے حملے جو اسکے تجربوں کو زنگ لگارہے تھے اس نے ان کا مقابلہ ان پر سے پہرا ہٹاکرکیا۔ اب سوچ خراماں اس کے ساتھ تھی مگر وہ بہت پر باش انداز میں زندگی گزارنے لگی اس نے پھر فیصلہ کیا کہ اب زندگی اس کے اصولوں پر گزاری جائے گی اور اس سے منسلک زندگیاں اس کے اوپر گرانی کا باعث نہ بنیں گی۔ اس کا فہم اب اس کو منزل دکھانے لگا۔ اس نے اپنے آپ میں جیتنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ پہلے وہ دوسروں کی زندگیاں گزارتی تھی۔ اب اس نے اپنی زندگی گزارنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ یہی وجہ تھی اس دنیا میں جب کہ اس کے وجود کو ہر کوئی اپنے مطابق کرتا اب وہ خود سے مطابقت رکھنے لگی تھی۔ یہ اس کی زندگی کا حاصل تھا جو باعث یکجوی تھا۔

اس کی زندگی اب موجود تھی اور اس کے سامنے وہ نظارے تھے۔ جو خیالات کے باعث دھندلے ہونے لگے تھے۔ وہ شجاعت کے ساتھ اب بزدلی سے لڑنے کو اپنا شیوہ بناچکی تھی۔ اس کے اندر اس کو ستانے والے سوالات کا جواب اس کی خاموشی دینے لگی اس کے وجود پر اب موجود زخم اس حد تک بھر چکے تھے کہ کبھی کبھی ان کے ہونے کا احساس بھی اس کو نہیں ہوتا تھا۔

اب اس کی زندگی کما لات کا نمونہ تھی کیونکہ وہ دائرے سے باہر اور مقید نہ تھی بلکہ پرواز کا سفر تھا اور اس کا جنون۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: