چوک کی بہار ——– شاہد احمد دہلوی

0

دنیا میں بڑی بڑی مسجدیں بھی ہیں اور ایک سے ایک خوب صورت مسجد بھی۔ مگر دلّی کی جامع مسجد بڑی بھی ہے اور خوب صورت بھی۔ کہتے ہیں کہ شاہجہاں نے اس کا نمونہ خواب میں دیکھا تھا۔ اسے مسجد جہاں نما بھی کہتے ہیں۔ تعمیری نقطۂ نظر سے اس مسجد کی بے شمار خوبیاں گنائی گئی ہیں جنہیں بیان کرنے کے لیے پوری پوری کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ایک نمازی جو پابندی سے جامع مسجد میں نماز پڑھا کرتے تھے انہوں نے بتایا کہ مسجد کے اندر جہاں پیش امام صاحب کھڑے ہوتے ہیں سامنے ایک سنگِ مرمر لگا ہوا ہے۔ اس دودھیا پتھر میں یہ خوبی ہے کہ جب مشرق میں کرنیں پھوٹتی ہیں تو یہ پتھر گلابی ہو جاتا ہے۔ ہمیں تو اس کا مشاہدہ کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ سنا ہی سنا ہے۔ البتہ ایسا سنگِ مرمر ہم نے دیکھا ہے جس میں سے روشنی چھنتی ہے۔ شیخ کلیم اللہ جہاں آبادی کے مزار کے سرہانے جو چراغ دان ہے اس کے طاقچوں میں چراغ جلائے جاتے ہیں تو دوسری طرف روشنی پھوٹتی رہتی ہے۔ آگرے کے قلعے میں جو حمام ہیں ان میں بھی ایک جگہ ایسا سنگِ مرمر ہے جس سے اجالگ حمام کے اندر پہنچتا ہے۔

patrick cullen 1 | India art, Indian paintings, Paintingبعض روائتیں نہ جانے کیسے مشہور ہو جاتی ہیں؟ کہا جاتا ہے کہ جب جامع مسجد بن کر تیار ہو گئی تو بادشاہ نے آن کر اس کا معائنہ کیا۔ قطب نما رکھ کر جب قبلہ کو جانچا تو معلوم ہوا کہ کچھ فرق رہ گیا ہے۔ بادشاہ نہایت مایوس اور رنجیدہ ہوئے مگر ایک درویش رونما ہوئے اور انہوں نے پائے والوں کی طرف جو مسجد کا کونہ ہے اس سے پشت لگا کر مسجد کو سیدھا کر دیا اور فوراً ہی دم بھی دے دیا۔ بادشاہ نے ان بزرگ کی قبر اسی مقام پر بنوا دی۔ اتفاق سے آج بھی وہاں چند قبریں موجود ہیں۔ لہٰذا اس روایت میں اور بھی جان پڑ گئی۔ مگر کسی تاریخ کی کتاب میں اس عجیب و غریب کارنامے کا ذکر نہیں ملتا۔

ہاں تو دلّی کی جامع مسجد بہت اونچی کرسی دے کر بنائی گئی ہے۔ اصل وجہ یہ ہے کہ اس کے نیچے ایک پوری پہاڑی دبا دی گئی ہے۔ شہر میں اور بھی کئی پہاڑیاں ہیں جن پر مکان بنتے چلے گئے ہیں۔ پہاڑی دھیرج، بھوجلہ پہاڑی۔ املی کی پہاڑی اور چمڑے والی پہاڑی۔ یہ سب خاصے بڑے پتھریلے ابھار ہیں جن پر خوب گنجان آبادیاں ہیں۔ بڑے بڑے غدار محلے ہیں جن میں پیچ در پیچ گلیاں ہیں اور ہزاروں گھر بستے ہیں۔ ایسی ہی ایک پہاڑی جامع مسجد کے نیچے دبی پڑی ہے۔ مسجد کے جنوبی، مشرقی اور شمالی رخ بڑی بڑی چوڑی چوڑی سیڑھیاں ہیں جن پر لمبی لمبی پتھر کی سلیں جڑی ہوئی ہیں۔ جہاں سیڑھیاں اوپر جا کر ختم ہوتی ہیں وہاں خاصی بڑی کشادہ جگہ ہے۔ اس جگہ پر سیڑھیاں تین طرف سے آکر ختم ہوتی ہیں۔ ہر دروازے کی سیڑھیوں کا یہی ڈھنگ ہے۔ مشرقی رُخ کی سیڑھیاں اور ان کے اوپر کی کھلی جگہ کا نام ’’چوک‘‘ پڑ گیا۔ یہ چوک ایک تاریخی مقام کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہی چوک دلّی کا دبستان اردو بھی تھا۔

شاہی کے زمانے ہی سے یہاں ایک انوکھی وضع کا بازار تھا۔ یہ منجھ کی جگہ تھی جہاں شام کو دلّی والے سمٹ آیا کرتے تھے۔ دھوپ سنولائی اور اس بازار کی رونق شروع ہوئی، دن ڈھلے سیلانیوں کی ریل پیل شروع ہو جاتی اور مغرب کے لگ بھگ یہاں کھوے سے کھوا چھلنے لگتا۔ پچھلی بڑی جنگ کے زمانے میں یہ بازار اجڑ گیا کیونکہ آرائشِ شہر کے محکمے نے اس بازار کو یہ کہہ کر اٹھوا دیا کہ اس سے مسجد کی خوشنمائی میں فرق آتا ہے۔ اردو بازار کے سنگھاڑے میں کچھ دکانیں اٹھ گئی تھیں۔ مگر صدیوں کا شیرازہ بکھر گیا اور چوک کی بہار لٹ گئی۔

دلّی والوں کو چوک سے عشق تھا۔ یہ صرف بازار ہی نہیں تھا، ایک ادارہ تھا تمدن کا۔ ایک اشارہ تھا تہذیب کا۔ میر باقر علی ہوتے تو اس چوک کی داستان سناتے۔ خواجہ ناصر، نذیر فراق یا فرحت اللہ بیگ ہوتے تو اس چوک کا مفصل حال لکھتے۔ وہ پیاری پیاری زبانیں گنگ ہو گئیں اور وہ شاداب قلم سوکھ گئے۔ وہ جیتے رہتے تو موتی برساتے۔ میں صرف آنسو ٹپکا سکتا ہوں۔ اے لو! میں بھی کہاں سے کہاں بہک گیا؟ اچھا سنیے:

جیٹھ اساڑھ کی گرمی۔ آسمان تانبا ہو رہا ہے۔ سورج آشوبی آنکھ کی طرح سرخ، آگ برسا رہا ہے۔ لُو کے تھپیڑے لگ رہے ہیں زمین جھلس رہی ہے۔ بازار ویران ہو گئے ہیں۔ دکان داروں نے خَس کی ٹٹیاں اور پردے لگا لیے ہیں۔ ان پر پانی چھڑکا جارہا ہے۔ امیروں کی حویلیوں میں خس خانے اور برفاب کا اہتمام ہے۔ غریبوں کے کھنڈلوں میں بھی ہرے جوالنے کی ٹٹیاں اور گیلے پردے لٹکے ہوتے ہیں۔ چارپائیوں پر سے بستر ہٹا دیے گئے ہیں اور ان پر پانی کا چھینٹا دے دیا ہے۔ بان گیلا ہو کر ٹھنڈا ہو گیا اور سوندھی سوندھی خوشبو دینے لگا۔ ذرا پنکھا جھلا کہ جھپکی آ گئی۔ حویلیوں میں تہہ خانے ہیں جن میں گرمی کا گزر نہیں ہوتا۔ جن کا دم تہہ خانوں میں گھٹتا ہے انہوں نے دالانوں کے کھلے رخوں پر خس کی ٹٹیاں چڑھوا دی ہیں ان پر پانی کے تڑیڑے پڑ رہے ہیں۔ ٹبوں میں برف کی سلّیاں رکھی ہیں۔ ان کے قریب بجلی کا فرشی پنکھا اس طرح رکھا ہوا ہے کہ ہوا کا فراٹا برف کی سلی سے ٹکراتا ہوا آتا ہے۔ یخ بستہ جھونکے آ رہے ہیں۔ گلاب اور کیوڑا چھڑکا جا رہا ہے۔ ہزارے چھوٹ رہے ہیں، ہلکے ہلکے اندھیرے میں بھینی بھینی خوشبو پھیل رہی ہے۔ باہر آگ برس رہی ہے اور اندر ایسی خنکی کہ شملہ مسوری میں بھی کیا ہوگی۔

دوپہر یوں گزری، دن ڈھلا۔ تکلفات برطرف کر دیے گئے۔ صحن میں تخت بچھے ہیں۔ ان پر دری چاندنی کا اجلا اجلا فرش ہے۔ چھڑکائو کا بھبکا نکل چکا ہے۔ گڑھل، صندل، فالسہ، انار کا شربت بڑے سے بڑے بادینے میں بنا رکھا ہے۔ اس میں کیوڑہ، بیدِ مشک، تخمِ ریحان اور کچلی ہوئی برف پڑی ہے۔ اتنے یہ ٹھنڈا ہوجھٹ نہا دھو جوڑا بدل تیار ہو گئے۔ چاندی کے جھمباتے ہوئے کٹوروں میں شربت پیا۔ پان کی گلوری منہ میں دبائی اور چوک کا رستہ لیا۔

ادھر غریبوں نے حسب حیثیت ستّو، پنّا، آبشورہ، افشردہ پیا کہ ٹونس سے بچے رہیں۔ دلّی کے دل والے جنم کے سیلابی جیوڑے، کپڑے پہن کر گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔ ٹہلتے ٹہلتے جامع مسجد پہنچے۔ چوک پر میلہ سا لگ رہا ہے۔ کیوں نہو؟ آٹھ دن نو میلوں کا شہر ہے۔ خوب گہما گہمی ہے۔ چھلکارا کٹورا بجاتا چلا آتا ہے۔

’’میاں! آبِ حیات پلائوں؟ میاں صابر صاحب کے کنوئیں کا ہے۔‘‘

ذرا ٹھٹکے کہ اس نے برنجی کٹورے میں ٹھنڈا برف سا پانی پیش کر دیا۔ پانی پیا پیسہ دیا اور آگے بڑھ گئے۔ لو وہ ککڑ والا چلا آتا ہے، خمیرے کی لپیٹیں اڑ رہی ہیں۔ کمر پر چمڑے کا تھیلا ہے جس میں تمباکو اور کوئلے ہیں۔ ایک ہاتھ میں بڑا سا حقہ ہے۔ خوب تازہ کیا ہوا۔ اس پر موتیا کے گجرے لپٹے ہوئے ہیں۔ چلم پر سرپوش جما ہوا ہے۔ نَے کے سرے پر چاندی کی منہال، جس میں چاندی کی زنجیروں کا گچھا لٹکا ہوا ہے۔

’’میاں شربت کے سے گھونٹ آ رہے ہیں۔‘‘
’’ہاں بھئی کیوں نہ ہو؟ حقہ پیر دوڑی کا‘‘ دو کش لیے۔ دھواں اڑایا۔ پیسہ ٹکا ہاتھ پر رکھا اور آگے بڑھ گئے۔

سیڑھیوں کے قریب پہنچے۔ برف کی قلفیوں والا ہنڈا لیے بیٹھا ہے۔ ربڑی کی، پستے کی برف ہے۔ آئیے ملائی کی قلفیوں میں، لوٹے ہو رہے ہیں ملائی کے۔‘‘ جی چاہا تو دو قلفیاں کھائیں۔ سامنے گرما پکوان اتر رہا ہے۔ بڑے سے کڑھائو میں تیل کھول رہا ہے۔ پھلکیاں، پالک کے پتے، قلمی بڑے جھپا جھپ اتر رہے ہی۔ لوگ چڑے، تئی کے کباب، پانی کی پھلکیاں، قیمے کی گولیاں، مچھلی کے کباب الگ الگ قرینے سے لگے ہیں۔ گاہک پر گاہک گر رہا ہے۔ وار نہیں آتا۔ دونا بھر کر ایک ہاتھ سے گاہک کو تھما دیا اور دوسرے ہاتھ سے پیسے لے لیے۔ بیٹھے کا انتظام بھی ہے۔ جی چاہے تو یہیں بیٹھ کر کھائیے۔ جی چاہے تو ساتھ لے جائیے۔

ایک کڑھائو میں سے گرما گرم پیٹھی بھری کچوریاں اتر رہی ہیں۔ ان کا مزہ آلو کی ترکاری ہی کے ساتھ ہے۔ برابر میں دہی بڑے والا بڑا سا لگن لیے بیٹھا ہے۔ قیمہ بھرے دہی بڑے ہیں۔ دہی میں بڑا ڈبویا اور نکال کر ایک طشتری میں رکھا۔ سفید نمک، کالا دہی ڈال چمچا ٹکا گاہک کے حوالے کیا اور آواز لگائی۔ ’’یاد کرو گے، یاد کرو گے ہمارے دہی بڑوں کو۔ یہ دہی کی چاٹ ہے۔ پیاروں کی چاٹ ہے۔‘‘ ایک سرخ کپڑے پر دکان کی پیشانی پر لکھ کر لگا دیا ہے:

1880 - A mosque and street scene at Delhi in North India. From the 12th century onward, India was one of the most important tra… | North india, Street scenes, India’’دہی بڑے کا قیمہ اس کا جو ہر شیریں ہے؟‘‘
’’ارے بھئی، اس کا کیا مطلب ہے؟‘‘
’’جی حضرت مطلب و طلب تو میں کچھ جانتا نہیں۔ پر بات اس کی یہ ہے کہ شیریں یعنی دودھ اور قیمے ہی کا یہ سارا کھیل ہے۔‘‘
’’بھئی واہ! کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔‘‘

چٹ پٹے دہی بڑے جو کھائے تو آنکھ اور ناک سے پانی جاری ہو گیا۔ سُو سُو کرتے کھیر والے کے پاس پہنچے۔ مٹی کے پیالوں میں کھیر جمی ہے اس پر چاندی کا ورق لگا ہے اور پستے کی ہوائیاں پڑی ہوئی ہیں۔ انگشتِ شہادت سے کھیر نوش کی۔ منھ ٹھکانے ہوا۔

چرخ چوں، چرخ چوں کی آواز آئی۔ انگاروں پر کلیجی اور تکے کی سیخیں سنک رہی ہیں ان سے ذرا دور انہی کی طرح کا چرخی پنکھا لگائے میاں مسیتا گولے کباب والے اپنی گدی پر جمے ہوئے ہیں۔ دہکتے انگاروں پر سیخیں پلٹتے جاتے ہیں اور خالی سیخیں بھرتے جاتے ہیں۔ ان کے کباب سارے شہر میں مشہور ہیں۔ یہ بڑے اصول کے آدمی ہیں۔ ایک تسلہ قیمے کا گھر سے بنا کر لاتے ہیں اور دو گھنٹے میں اپنا سودا بیچ باچ کر چل دیتے ہیں۔ گاہکوں کو نمبر سے کباب دیتے ہیں۔ لگے بندھے گاہک ان کی عادت سے واقف ہیں کہ ’’چچا‘‘ کسی کی دھونس میں نہیں آتے۔ اول تو بولتے ہی نہیں اور اگر کوئی انہیں چمکارے تو وہ لچھے دار باتیں کرتے ہیں کہ مزہ آ جاتا ہے۔ بہت خرانٹ آدمی ہیں۔ جب تیہا بڑھتا ہے تو دوسروں پر رکھ کر گالیاں تک دے جاتے ہیں، مگر ان کا خاص لہجہ اور دلّی والوں کی عام بول چال کا انداز ایسا بھلا لگتا ہے کہ گاہک انہیں اد بدا کر چھیڑتے ہیں جب کسی دن کوئی نیا پکھیرو پھنس جاتا ہے تو چچا بہت جز بز ہوتے ہیں کہتے ہیں:

’’دیکھا حصّت آپ نے، یہ باہر والے کیسے گائو دی ہوتے ہیں؟ ان کے کسی کام میں ذرا بھدرک نہیں ہوتی۔ ایک ساں سِر ہوئے جاریا ہے کہ پہلے مجھے کباب دے دو۔ میں کےریا ہوں کہ بیٹا ذرا چھری تلے دم لو لے۔ جب تیرا لمبر آئے گا تو تیرے تیئں بھی دوں گا۔ مگر بارے زلدی کے اس کی۔۔۔۔‘‘

انہیں بکتا جھکتا چھوڑیے۔ وہ دیکھیے مجمع کیسا ہے؟ افوہ! ان کی تو تالو سے زبان ہی نہیں لگتی۔ ان کا تو تانتوا ٹوٹا ہوا ہے۔
’’تخم اُٹنگن، بوٹی رتن۔‘‘

اوہو یہ تو سبزی منڈی والے حکیم جی ہیں۔ یہ صاحب چار پیسے کی پڑیا بنا کر دیتے ہیں جس میں ۳۲ دوائیں ہوتی ہیں۔ بتیسے کی یہ پڑیا دنیا بھر کی بیماریوں کو دور کرتی ہے۔ یہ بڑے نامی اشتہاری حکیم ہیں۔ انہیں ۵۰ سال ہو گئے، روزانہ شام کو اسی جگہ مجمع لگاتے ہیں اور دھڑلے سے اپنی پڑیاں بیچتے ہیں۔

انہیں دیکھیے یہ رمال ہیں۔ رمل کا حساب پھیلاتے ہیں، جفر بتاتے ہیں۔ ہاتھ بھی باچھتے ہیں۔ قسمت کا لکھا ہاتھ کی لکیریں دیکھ کر فرفر سنا دیتے ہیں۔ مگر نصیب کے ایسے ہیٹے ہیں کہ اپنی بگڑی نہیں بنا سکتے۔

اللہ رزاق ہے۔ حیلے رزق بہانے موت۔ انہیں بھی دھیلی بارہ آنے مل جاتے ہیں۔

ان سے زرا آگے ایک بزرگ دراز ریش ایک خوبصورت سا پنجرہ لیے بیٹھے ہیں۔ ان میں سے ایک بیا اچھلتا پھر رہا ہے۔ پنجرے کے آگے لفافے چنے ہوئے ہیں۔ انہیں ایک پیسہ دیجیے یہ صاحب پنجرے کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔ بیا باہر نکلتا ہے اور ایک لفافہ نکال کر انہیں دیتا ہے۔ اس میں کیا لکھا ہے؟ آپ خود نکال کر پڑھ لیجیے۔

’’عن قریب تمہیں کوئی بڑی خوشی ہونے والی ہے۔‘‘ ایک پیسے میں یہ خوش خبری مہنگی نہیں ہے۔ آئیے اب اوپر سیڑھیوں پر چلیں۔

کھانچوں اور پنجروں میں دنیا بھر کے پرندے ہیں۔ کبوتر بہت ہیں۔ لال بند، نیل بند، گلوے، لوٹن، لقہ، سراج مکھی، شیرازی، گولے، کلسرے، للسرے، نساورے، بیسیوں قسم کے کبوتر ہیں۔ اصیل مرغ ہیں۔ بطخیں ہیں۔ بلبل، کٹیرے، بئے، طوطی، دیڑ، ہزار داستاں اگن۔ بستنیاں چڑھے خوشنما پنجروں میں بند۔ تیتر کے جوڑے سنجوگیوں میں۔ بٹیر، لال، پدڑیاں، طوطے، کا کتوے، شکرے، بہری، باز، پہاری، مینائیں، بنگالی مینائیں، قمریاں غرض ہر قسم کے پرندے موجود۔

ان صاحب کو دیکھیے، پدڑیاں کیسی سدھائی ہیں کہ دو ڈھائی سو کا غول پنجرہ کھول کے چاہے جہاں اڑا دیتے ہیں اور دور دور تک چکر کاٹ کر پدڑیاں پھر پنجرے میں واپس آ جاتی ہیں۔ خلیل خاں کو فاختہ اڑاتے نہیں دیکھا تو کیا غم۔ پدڑیاں اڑاتے تو ہم نے بھی دیکھ لیا۔ یہی حال کبوتروں کا ہے۔ غول کے غول اڑائے جاتے ہیں۔ دوسری ٹکڑیوں میں مل جاتے ہیں۔ اور پھر اپنے اپنے کھانچے پر اتر آتے ہیں۔

اچھا اب ذرا سیڑھیوں کے دوسرے رخ پر چلیے۔ ادھر کاٹ کباڑ کی تھڑیاں لگی ہوئی ہیں۔ ان میں پرانی اور نایاب چیزیں بھی ہیں۔ رسالوں اور کتابوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ کتابوں کا سودا جلد پر ہوتا ہے اس لیے بعض دفعہ کوئی بڑی قیمتی کتاب کوڑیوں کے مول یہاں سے مل جاتی ہے۔ ان سے آگے پرزے بیچنے والے ہیں۔ یہ جو بھی مشین کباڑ میں خرید کر لاتے ہیں اس کے انجر پنجر الگ کر دیتے ہیں اور خریداروں سے ایک پیسے کا ایک روپیہ کرتے ہیں۔ دلّی کے بعض کباڑیے اسی وجہ سے لکھ پتی ہو گئے تھے۔

سیڑھیوں کے پہلو میں تہہ بازاری ہے جس میں کپڑے والوں کی دکانیں ہیں۔ یہاں سستا کپڑا بڑی افراط سے ملتا ہے۔ چند دکانیں جوتے والوں کی ہیں۔ یہ اپنی جھوٹ کے لیے مشہور ہیں۔ گاہک سے مول تول کرنا کوئی ان سے سیکھے۔ تیس روپے کا جوتا پانچ روپے میں دے دیتے ہیں۔ دلّی والے تو خیر ان کے ہتھکنڈوں سے خوب واقف ہیں مگر باہر والے بڑی بری طرح ان میں منڈتے ہیں۔ گاہک کو جوتا دکھا کر کہتے ہیں:

Jama Masjid, Old Delhi, India | Ursula's Weekly Wanders’’دوں؟‘‘
جب وہ نہیں لیتا تو کہتے ہیں:
’’کیوں اچھا نہیں لگا؟‘‘
اور اگر خرید لیتا ہے تو کہتے ہیں:
’’جا چودہری تو بھی کیا یاد کرے گا۔ تجھے ہم نے گھاٹے سے دے دیا۔ ابے بڑا سستا پڑا تجھے۔‘‘

سیڑھیوں کے سامنے ہرے بھرے صاحب اور سرمد شہید کے مزار ہیں۔ ہرے بھرے صاحب کے مزار پر سبز رنگ کا غلاف ہے اور سرمد کے مزار پر سرخ رنگ کا۔ ان کے سامنے سقے مشکیں بھرے کھڑے رہتے ہیں اور آوازیں لگاتے ہیں:
’’بھر دے خواجہ کے مٹکوں میں بھر دے۔ پیاسے پئیں گے دعائیں دیں گے۔‘‘

جمعرات کے جمعرات یہاں قوالی ہوتی ہے۔ حال قال کی محفل ہوتی ہے اور خوب حال اور وجد آتے ہیں۔

ان مزاروں کے بائیں جانب ایک بڑا مجمع لگا ہوا ہے۔ ذرا دیکھیں تو یہاں کیا ہو رہا ہے؟ ایک صاحب کالے بھجنگ زلفیں کھولے چھاج سی ڈاڑھی پھیلائے کھڑے ہیں۔ ان کے گلے میں سانپ گجروں کی طرح پڑے ہوئے ہیں۔ ایک ہاتھ میں کوڑیالا بل کھا رہا ہے۔ دوسرے ہاتھ میں ایک آنکرا ہے۔ سامنے سینکڑوں منہ بندھی ہنڈیاں رکھ ہوئی ہیں۔ ان سب میں وضع وضع کے سانپ ہیں۔ ایک کالا ناگ زمین سے ہاتھ بھر اٹھا ہوا لہرا رہا ہے۔ دو سانپ جلیبی بنے اندر ہی اندر بل مار رہے ہیں۔ ان سے ذرا ہوشیار رہیے۔ یہ اڑ کر چٹک لیتے ہیں۔ استاد کلن نے ہاتھ کا سانپ تو ایک ہنڈیا میں بند کیا اور دوسری ہنڈیا میں سے ایک خالی رنگ کا بڑا بے چین سا سانپ نکالا۔ بتا رہے ہیں کہ یہ دھامن ہے۔ گھوڑے سے تیز بھاگتی ہے اور بھینس کے پیروں میں لپٹ کر دودھ پی جاتی ہے۔ دس بیس سانڈے بے حس و حرکت پڑے ہیں۔ ایک خاموش گیند بنا پڑا ہے۔ دو پڑا گوئیں ہیں۔ بھاری بھاری پتھروں سے بندھی ہوئی۔ فرماتے ہیں کہ:

’’کسی زمانے میں کمند ڈالی جاتی تھی تو گوہ کی کمر میں رسہ بندھا ہوتا تھا۔ اسے گھما کر عمارت پر پھنک دیا جاتا تھا۔ یہ جہاں گرتی وہاں چپک جاتی بس پھر رسے پر سے چڑھ جایا کرتے تھے۔‘‘
’’اور بھلا یہ موٹر کے ٹائر یہاں کیوں ڈال رکھے ہیں؟‘‘
’’میاں صاحب یہ ٹائر نہیں ہیں اژدھے ہیں۔ یہ یونہی بے حس و حرکت پڑے رہتے ہیں۔‘‘

Try 'Shahi Tukda' With Homemade Ice Cream At Jama Masjid And Satisfy All Your Sweet Cravings! | WhatsHot Delhi NCR’’تماشہ دکھاتے ہیں۔ ہنڈیوں میں سے طرح طرح کے سانپ نکال کر دکھاتے ہیں۔ لوگ خوش ہو کر پیسے پھینکتے ہیں۔ سانپ کاٹے کی دوا دو چار پیسے میں دیتے ہیں۔ سانپ کاٹے کو جھاڑتے بھی ہیں اور گھروں میں جو سانپ نکل آتے ہیں انہیں بھی پکڑتے ہیں۔ دن بھر جنگلوں میں گھوم پھر کر سانپ پکڑتے ہیں اور شام کو ان کا تماشہ دکھاتے ہیں۔

ان کے پیچھے ایک اور ہجوم ہے۔ ڈگڈگی اور بانسری کی آواز آ رہی ہے۔ یہ مداری ہے جو شعبدے دکھا کر پیسے جمع کرتا ہے۔ مزے مزے کی باتیں کرتا ہے۔ ایک جھمبورا سامنے بٹھا رکھا ہے۔ یہ گویا معمول ہے۔ جادو وادو انہیں خاک نہیں آتا۔ لیکن ہاتھ کی صفائی اچھی ہے۔ سوکھی گٹھلی سے آم کا پودا چشم زدن میں پیدا کر دیتے ہیں۔ ڈھٹ بندی کے اچھے حاصے تماشے دکھاتے ہیں۔ ساتھ کے ساتھ سارے مجمع کا چکر کاٹ کر اپنے کشکول میں پیسے جمع کرتے جاتے ہیں۔ ہر پھیرے میں کچھ نہ کچھ آ ہی جاتا ہے۔ کوئی ایک پیسہ دیتا ہے تو کہتے ہیں:
’’جو اس کا جوڑ بنائے گا اللہ اس کا جوڑا بنائے گا۔‘‘
دوسرا پیسہ کسی نہ کسی طرف سے آ جاتا ہے۔

آخر میں سانپ اور نیولے کی لڑائی دکھانے کے وعدے پر سارے مجمع کو روک رکھا ہے۔ مغرب کے لگ بھگ شعبدے ختم ہوتے ہیں۔ دیکھنے والے اصرار کرتے ہیں تو یہ اپنا کشکول گھماتے ہیں اور روپیہ سوا روپیہ جمع ہو جاتا ہے۔

مگر اتنے سے پیسوں میں وہ بھلا اپنا سانپ نیولے سے مروا دیں؟ چنانچہ سارے مجمع کو برا بھلا کہتے جاتے ہیں اور اپنا سامان سمیٹے جاتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنا جھولا اور ڈنڈا اٹھا یہ جا وہ جا!

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20