میکڈونلڈ برگر کھانے والا کارل مارکس —- فرحان کامرانی

0

کراچی میں ایک عجیب قسم کے بڑے میاں رہتے ہیں۔ وہ کروڑ پتی ہیں، نیب سے کروڑوں روپے خرد برد کرنے کا الزام ثابت ہونے پر کئی سال قید کی سزا کاٹ چکے ہیں اور۔۔۔۔۔ ان کے بنگلے میں ایک قد آدم کارل مارکس کی تصویر ڈرائنگ روم میں ٹنگی ہے۔

وہ کارل مارکس کے بھگت ہیں اور فیض احمد فیض سے لے کر شوکت صدیقی تک ہر ترقی پسند کے ترانے پڑھتے رہتے ہیں۔ انقلاب کے نعرے لگاتے ہیں اور ”اسٹالن زندہ باد“ کا ورد کرتے ہیں مگر اپنی اصل میں یہ ایک کھلے سرمایہ دار ہیں۔ محترم کسی دوسرے پر ایک پائی بھی خرچ کرنے کے بھی روادار نہیں۔

سوچنے کی بات ہے کہ یہ کیسی دو رنگی ہے؟ اشتراکی سرمایہ دار ہے؟ اشتراکی اپنے کروڑوں روپوں میں سے 4 پائی کسی دوسرے پر خرچ کرنے پر تیار نہیں۔ اشتراکی دولت کے پہاڑ پر بیٹھ کر اس کی پوجا پاٹ میں مشغول ہے؟ اور اشتراکی نے (جو فکری اعتبار سے ایک دہریت میں یقین رکھتا ہے) کارل مارکس کو کسی نوع کا دیوتا بنا لیا ہے اور اس کی تصویریں اپنے گھر میں ٹانگ رکھی ہیں؟

حال ہی میں انہی صاحب نے کارل مارکس کا ایک مجسمہ بنوانے کی بھی بات کی ہے جو محترم اپنے لان کے وسط میں نصب کروائیں گے، واہ بھئی واہ! اگر یہ اشتراکیت ہے تو پھر سرمایہ داری اور سرمایہ پرستی کس بلا کو کہتے ہیں؟

مگر بات ان ایک صاحب کی مثال سے ختم نہیں ہوتی۔ کراچی میں ایک معروف سائیکیاٹرسٹ بھی بڑے پکے اشتراکی اور دہریت پسند ہیں۔ وہ بھی غالباً مارکس کی تصویر اپنے پاس ضرور رکھتے ہوں گے مگر کسی مریض کے لئے فیس میں ایک پائی کی رعایت نہیں ہے۔ لاکھوں لاکھ روپے مریضوں کی جیبوں سے نکال لینے والے یہ اشتراکی بابا کراچی کے ایک پوش علاقے میں کلینک کرتے ہیں تا کہ اشتراکیت کے حقیقی بینی فشری یعنی مزدور اور کسان ان کے کلینک سے دور دور ہی رہیں۔

مگر کاش یہ ہی آخری مثال ہوتی مگر ایسا بھی کب ہے؟ ایک معروف اشتراکی وکیل جو اپنے اشتراکی نظریات کے باعث 7 سال جیل بھی کاٹ چکے ہیں، اپنے موکلین سے 10 لاکھ سکہ رائج الوقت فیس طلب فرماتے ہیں۔ پھر دھونس یہ ہے کہ ”جی میں تو بڑی لابی والا وکیل ہوں!“۔ فیس لینے کے بعد محترم کی اپنے موکلین میں دلچسپی روز بروز کم ہونے لگتی ہے۔ اتنی بھاری فیس کا مطلب بھی شائد اشتراکیت کی خدمت ہی ہو؟

کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ تو قول اور فعل میں تضاد ہے اور یہ تو غیر اشتراکیوں میں بھی پایا جا سکتا ہے۔ کیا مذہبی کے ہر عمل میں مذہب کے احکامات کی پیروی ہی ہوتی ہے؟ کیا ان میں کبھی کوئی تضاد نہیں ہوتا؟

بالکل کسی بھی نظریے یا عقیدے کے ماننے والوں میں تضاد ممکن ہے اور ہوتا بھی ہے مگر اشتراکیوں میں تضاد اس لئے بہت برا لگتا ہے کہ یہ کوئی پیدائشی عقیدہ تو ہے نہیں۔ اوپر مذکور تینوں ہی افراد اپنی مرضی سے اشتراکی بنے ہیں جیسے کوئی اپنا مذہب بدل کر کوئی اور مذہب اختیار کرتا ہے۔ اب جو خود اپنے نظریات کا چناؤ کرے وہ کسی عقیدے یا نظریے کے حامل افراد کے گھر پیدا ہو جانے والے کسی بھی فرد سے بہت زیادہ پکا اور نظریاتی ہوتا ہی ہے۔ آپ کسی پیدائشی مسلم کو تو غیر اخلاقی حرکات میں پڑا دیکھ لیں گے مگر کسی نومسلم میں آپ کا بداخلاقی یا تضاد شاذ و نادر ہی نظر آئے گا۔

تو پھر ان لوگوں میں اپنے نظریے سے ایسا انحراف کیوں ہے؟ کیا اشتراکیت ان کی کھال سے نیچے نہیں اتری یا کوئی اور بات ہے؟ بات بہت ہی آسان ہے، ذرا غور سے پڑھئے، یہ لوگ دراصل حقیقی معنوں میں اشتراکی ہیں، جی ہاں! مسئلہ ان کا نہیں اشتراکیت کا ہے۔ یہ ظاہری تضاد دراصل محض ایک التباس ہے۔ حقیقت میں اشتراکیت انسان کو یہی بنا دیتی ہے جو یہ لوگ ہیں مگر ہمارے پاس اپنے دعوے کی دلیل کیا ہے؟

دلیل نمبر 1: اشتراکیت ایک خالص مادیت پرستی کا نظریہ ہے اور اس میں اور سرمایہ دار میں محض فرق اتنا سا ہے کہ سرمایہ داری میں مادیت انفرادیت کے ساتھ ہے جب کہ اشتراکیت میں مادیت اجتماعیت کے ساتھ ہے۔ مادیت پرستی مادے سے برتر کسی حقیقت کا انکار کرتی ہے اور اشتراکیت میں یہ انکار بالکل شعوری ہوتا ہے۔ جب مادیت ہی سب کچھ ہے تو پھر انسان ہرحال میں قوی بننے کی فکر کرے گا، یہ ہی فکر اشتراکی کو طاقت کا پجاری بناتی ہے۔ اوپر مذکور تینوں ہی افراد اب سیاسی قوت یا اقتدار تو حاصل کر نہیں سکتے کہ (اشتراکیت کا دنیا میں دیوالیہ نکل چکا) اس لئے ان کے پاس قوی ہونے کا محض ایک رستہ ہے دولت۔ سو یہ وہی کسی سرمایہ دار کی طرح جوڑ رہے ہیں۔

دلیل نمبر 2: اشتراکیت میں مذہب کا انکار دراصل سب سے پہلا اصول ہے۔ چاہے کوئی اشتراکی خود کو مذہبی بھی کہتا ہو مگر اس تاریخی حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ اشتراکیت کا نظریہ ”لا سلاطین، لا کلیسہ، لا الہ No king, No Calargy, No God“ کے نظریے سے برآمد ہوا ہے، مذہب کے کلی انکار کے بعد اخلاقیات صرف و محض سرکار کے ڈنڈے کا ردعمل ہی ہوتی ہے۔ کوئی اندرونی حقیقت نہیں۔ اشتراکی کو کون سا جنت پر یا دوزخ پر یقین ہے کہ وہ اس کے خیال سے کسی شے سے رک جائے؟ نتیجہ یہ کہ اشتراکی ہر نوع کی بداخلاقی پر نہ صرف تیار ہوتے ہیں بلکہ وہ دولت و طاقت کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

دلیل نمبر 3: سوال یہ بھی ہے کہ اگر واقعی اشتراکیت انسان کو یہی نہیں بنا دیتی جس کا دعویٰ ہم کر رہے ہیں تو پھر سارے اشتراکی ممالک زرپرست ممالک کیوں بن گئے؟ چین امریکا سے بھی بدتر زرپرست کیوں ہے؟ روس آج زرپرست کیوں ہے؟ ویت نام زرپرست کیوں ہے اور شمالی کوریا کے حوالے سے جو خبریں آ رہی ہیں کہ وہ بھی اندر سے بدترین زرپرست اور طبقاتی معاشرہ بن چکا ہے۔
(حوالہ: Rolex’s and Gastro Club: Welcome to Pyongyang, written by Travis Jeppesen: NY Times Feb 18, 2019)

تو ایسا کیوں ہو جاتا ہے ہر اشتراکی معاشرے کے ساتھ؟

ان سب دلائل کا کوئی جواب اب تک تو راقم کو کسی بھی سکہ بند اشتراکی سے بھی نہیں ملا۔ بات یہ ہے کہ سرمایہ داری، جاگیرداری کے خلاف نعرے لگانے والے اشتراکی گرو گھنٹال، کارل مارکس صاحب کا بھوت بڑے مزے سے سرمایہ داری کا پھل، مکڈونلڈ کا برگر کھا رہا ہے، یہ لالچ اور ہوس ایسی ہے کہ کسی سرمایہ دار، کسی عام زرپرست میں بھی کیا ہو گی؟

اگر راقم الحروف مجسمہ ساز یا مصور ہوتا تو کارل مارکس کا مکڈونلڈ کا برگر کھاتا ہوا مجسمہ یا تصویر بناتا۔ اس تصویر یا مجسمے میں مارکس کی جیب سے سٹی بینک کا کریڈٹ کارڈ جھلک رہا ہوتا۔ یقینی طور پر یہ مجسمہ یا تصویر ہمارے مذکورہ اشتراکی سرمایہ دار بڑے ذوق و شوق سے خریدتے کیونکہ مادیت پرستی کے اس فلسفی کا حقیقی روپ تو یہی ہے، باقی جو کچھ ہے صرف و محض وہم و التباس ہی تو ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی لیفٹ کا کنفیوذ آدمی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد الیاس
(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: