ادب اور نفسیات کا دائرہ کار —- قاسم یعقوب

0

دیوندر اسّر نے اپنی کتاب ’’ادب اور نفسیات‘‘ میں لکھا ہے:

’’فرائیڈ، ژونگ اور ایڈلر اور ان کے پیروکار ماہرینِ نفسیات کے نظریات کی بنیاد انسانی ذہن کے لاشعوری عمل پر ہے، جس کے باعث ان میں بہت سی باتیں مشترک ہیں۔ ان ماہرین نفسیات کی رائے میں ذہنی کشمکش، لاشعور، داخلی تحریک اور شخصیت کو مجموعی حیثیت سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انسان کے تمام نفسی اور اعصابی امراض اور شخصیت کی کج رویوں کی بنیاد یہی کشمکش ہے۔ اس لیے شخصیت کی تمام کج رویوں کا باعث اس کے داخلی محرّکات کی باہمی کشمکش ہے۔ جدید علاج بالنفیسات (سائیکو تھراپی) ان مخالف داخلی تحریکوں میں ایک ایسی چیز سے ہم آہنگی پیدا کرتا ہے، جس سے ان باہمی مخالف داخلی تحریکوں کی تسکین ہو جائے۔ اس طرح انسان کی دبی ہوئی خواہشوں کے عقلی رشتے کے ذریعہ نارمل اظہار ہوتا ہے۔ ادب دبی ہوئی خواہشوں اور ان عقلی رشتوں کا فطری اور سماجی اظہار ہے، یہ کشمکش ادیب کے لاشعور سے جنم لیتی ہے اور اس کا محرک وہ شے نہیں جسے ہم بادی النظر میں دیکھ لیتے ہیں،بلکہ جو اس کے لاشعور میں جاگزیں ہوئی ہے۔ اس کشمکش کو سمجھنے کے لیے محض اس کے لاشعوری محرک کو الگ طور پر بیان کر دینا کافی نہیں بلکہ شخصیت کو مجموعی حیثیت سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ محرکات کی کشمکش ایک گنجلک صورت (کمپلیکس پیٹرن) میں ہوتی ہے، جس میں شخصیت کے مختلف پہلو باہم دست و گریبان ہوتے ہیں۔‘‘ (ادب اور نفسیات: مکتبۂ شاہراہِ دہلی۲،بار اول، اپریل ۱۹۶۳، ص ۱۱، ۱۲)

ایک شخصیت محض ایک فرد کا ظاہری ڈھانچہ ہی نہیں ہے، بلکہ اُس کی ذہنی کشمکش، لاشعور، داخلی تحرّکات، نفسی اور اعصابی کج رویاں مل کے اُس کی شخصی تعمیر کرتی ہیں۔ شخصیت کا داخلی اظہاریہ یعنی ادب اُس کی دَبی خواہشوں کا راستہ ہے، جو شخص کی لاشعوری تحرّکات کو منعکس کرتا ہے۔ دیویندر اسّر نے بہت اہم بات کہی کہ ایک شخصیت محض لاشعور کا بیان نہیں ہوتی بلکہ ایک کمپلیکس پیٹرن ہے، جس میں داخلی کیفیتوں کے بہت سے پہلو دست و گریبان ہوتے ہیں۔ جنھیں دھاگہ دھاگہ کھول کے دکھانے سے ہی پیچیدہ ذات کی کچھ گتھیاں سلجھنے کا اِمکان ہوتا ہے۔ ادب اس سلسلے میں بہت اہمیت اختیار کر جاتا ہے، جو انسان کی داخلی تحریکات اور محرکات کا سراغ لگا لیتاہے۔ نفسیاتی تنقید کہتی ہے کہ چوں کہ ادب ایک ادیب کی ذہنی کاوش ہے، اس لیے انسان کے مجموعی داخلی محرکات اور لاشعوری تحرّکات کو جاننے کے لیے ایک مصنف کے ذہنی و لاشعوری عمل کا تجزیہ کیا جانا چاہیے، جو اُس کی تحریر میں عیاں ہُوا ہے۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ادب میں بہت سی اصناف فرائڈئین (Freudian) فکر سے متاثر ہو کر لکھی گئیں۔ فرائیڈ کے نظریہ تحلیلِ نفسی نے نہ صرف ادیب کو متاثر کیا، بلکہ ادبی اصناف اور خیالات میں بھی ہلچل پیدا کی۔ ادب میں نئی نئی اصناف اور رجحانات کا ورود ہونے لگا۔ نفسیاتی سوانح نگاری و آپ بیتیاں، تنقید میں تحلیلِ نفسی کا رجحان، مونولاگ ڈرامے اور افسانے، سررئیلزم، شعور کی رو کی تکنیک وغیرہ، ادب کی تقریباً ہر صنف میں داخلی رجحانات بن کے آنے لگیں۔ خصوصاً نظم اور فکشن میں کرداروں کی نفسیاتی پیچیدگیوں کے ذریعے فرد کے اجتماعی مسائل کو مرکز بنایا جانے لگا۔

نفیساتی تنقید میں ایک تحریر کا تجزیہ کرتے ہوئے اُس کے مصنف کو مرکزِ تنقید بنایا جاتا ہے۔ یہ جاننے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مصنف نے کن نفسی کیفیات میں فن پارہ تخلیق کیا۔تحریر یا زبان میں موجود موضوعاتی یا موضوعی کیفیات و پیچیدگیاں مصنف کے لاشعور تک رسائی کا پتا دیتی ہیں۔ نفسیاتی تنقید کسی خاص نفسیاتی مسئلے یا حالت کو مصنف یا معاشرتی تناظر سے بھی جاننے کی کوشش کرتی ہے۔ پس منظری علامتوں کی ذیل میں پوشیدہ ذہنی رجحانات کو پیش منظر میں لانے ک اہتمام کیا جاتاہے۔ فکشن یا نظم کے کرداروں کے باہمی تصادم کو بھی لاشعوری قوتوں تک رسائی کا سبب جانا جاتا ہے۔ لاشعور کی تشریح میں ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے لکھا ہے:

’’فرائیڈ سے پہلے مفکرین (لیبنز اور شوپنہار نے بالخصوص) اور شعرا لاشعور کی نشان دہی کر چکے تھے۔ (خود فرائیڈ بھی اس بات کا اعتراف کرتا ہے) مگر فرائیڈ نے نہ صرف لاشعور کو سائنسی معروضیت اور اس کے مختلف اجزا کو منطقی ارتباط کے ساتھ پیش کیا بلکہ انسانی شخصیت میں اسے مرکزی اور فیصلہ کن حیثیت بھی دی اور یوں ڈیکارٹ کی اس فکر کو بے دخل کیا، جس کے مطابق شعور انسانی سائیکی کی مرکزی قوت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فرائیڈ کے لاشعور کے نظریے نے انسانی فکر میں وہی کام کیا،جو کوپرنیکس کے نظریے نے کیا۔ کوپر نیکس نے زمین کو مرکزِ کائنات سمجھنے کے صدیوں پرانے نظریے کو غلط ثابت کر کے مرکزِ ارض و سما ہونے کے قدیمی تصور کو پارہ پارہ کیا اور فرائیڈ نے لاشعور کو انسانی شخصیت کا مرکزہ قرار دے کر شعور کی حکمرانی کے تصور کو پاش پاش کیا۔‘‘ (جدید اور مابعد جدید تنقید (مغربی اور اُردو تناظر میں): انجمن ترقی اُردو کراچی،۲۰۱۳،ص ۱۰۶)

سو لاشعور تک رسائی ہی نفسیاتی تنقید کا محرک اول ہوتا ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب نقاد فن پارے میں وہ تمام حربے آزمائے، جو مصنف کے لاشعور تک رہنمائی کرتے ہوں۔ نفسیاتی تنقید کا زیادہ دارومدار عملی تنقید پر ہوتا ہے۔ کچھ نقاط مندرجہ ذیل ہو سکتے ہیں:

۱۔ نقاد فن پارے میں دیکھے کہ موضوعاتی سطح پر مصنف نے کن امور کی نشان دہی کروائی ہے ان کا نفسیاتی پس منظر کیا ہے؟

۲۔ مصنف نے کرداروں کے ذریعے کس کشمکش کو پیش کیا ہے۔ اُس کے کردار کن نفسیاتی الجھنوں میں گرفتارہیں اور ان کے پس منظر میں کون سی لاشعوری تحریکات کام کر رہی ہیں۔

۳۔ لفظوں کے انتخاب میں مصنف نے کن کو اولیت دی ہے اور کن کو رَد کیا ہے۔کسی ایک لفظ کے انتخاب اور دوسرے کے رَد کے پیچھے کیا نفسیاتی عوامل ہو سکتے ہیں؟

۴۔ متن میں موجود جنسی، منفی، تکراری اور ترجیحی حرکات کا مطالعہ بھی مصنف کے لاشعور تک رسائی میں مدد دیتا ہے۔

۵۔ فن پارے کے اجتماعی موضوع، کرداروں کی کرداریت اور لفظوں کے معنی کے پس منظر میں جاننے کی کوشش بھی نفسیاتی مطالعہ کہلاتا ہے۔ متن میں ایک معنی ظاہری ہوتے ہیں اور بہت سا کا تعلق مرادی معنی سے ہوتا ہے۔ مرادی معنی کو جاننا بہت ضروری ہوتا ہے۔

۶۔ متن کی تحلیل نفسی کی جائے۔

۷۔ اگر کہانی یا نظم شعور کی رَو میں لکھی گئی ہے تو اُس کی کلی حیثیت کو پکڑنے کا جتن کیا جائے۔

۸۔ اسی طرح فلیش بیک میں لکھے گئے متن کو سمجھنے کی کوشش کی جائے اور اُسے حال سے ملانے کی کوشش کی جائے۔

۹۔ اجتماعی لاشعور کی تلاش کے لیے ہیرو (Protagonis) کو مرکزی حیثیت دی جائے۔

۱۰۔ یونگ کی نفسیاتی تنقید کی صورت میں متھ یا اساطیر کا مطالعہ کیا جائے اور اُسے پوری انسانی تاریخ کی روشنی میں دیکھا جائے۔

۱۱۔ آرکی ٹائپ کا کردار بھی بہت اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے۔ ایسے آرکی ٹائپ جومصنف کی تحریروں میں بار بار آ رہے ہیں، ان کے تخلیقی مرکز کا کھوج لگایا جائے اور یہ جانا جائے کہ مصنف کے ہاں یہ آرکی ٹائپ کیوں اور کس شکل میں وارد ہو رہے ہیں۔

۱۲۔ خوابوں کو خوب نفسیاتی زاویوں سے پرکھا جائے اور مصنف کے داخلی غالب رجحان کو پکڑنے کی کوشش کی جائے۔ نفسیاتی تنقید کا مرکز و محور مصنف کی ذات ہوتی ہے۔ تنقید کا یہ رجحان زبان کا مطالعہ بھی اس لیے کرتا ہے کہ مصنف کے ذہن کو پڑھا جائے۔

(Visited 1 times, 5 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: