ذکر جاناں کے لیے بس اک بہانہ چاہیے —— سراج الدین امجد

0

ماہ ربیع الاول کی آمد کے ساتھ ہی سرور و انبساط کی البیلی کیفیات اس وجودِ عصیاں شعار کو گھیر لیتی ہیں۔لیکن کیا کروں عجب معاملہ ہے ایک طرف اپنی کورنگاہی اور تردامنی کا احساس دامن گیر ہوتا ہے  کہ کہاں وہ شاہکار ربوبیت  اور کہاں مجھ ایسا گناہگار و سیاہ کار،  ذکر کروں تو کیسے!   دوسری طرف ربِ قدیر کے احسان عظیم  کی جلوہ سامانی متقاضی ہوتی ہے کہ اس ذات ستودہ صفات علی صاحبہ الصلوة والتحیۃ  کی مدحت طرازی سے دامنِ مراد بھرا جائے۔ اسی جذبہ عقیدت کیشی کے تحت چند سطور سپردِ قلم کی ہیں۔

حضور نبی کریم صلی الله عليه وسلم کی ولادت باسعادت لاریب نعمت کبریٰ اور احسانِ عظیم ہے ۔لیکن اس احسان شناسی کے لیے ایمان و ایقان کی دولت سے بہرہ مند ہونا ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام  کے تذکار رحمت کے موقع پر “رحمۃ للعالمین” یعنی تمام جہانوں کا ذکر فرمایا تاہم جب ولادتِ مصطفی کریم صلی الله عليه وسلم کے احسان عظیم کا تذکرہ ہوا تو “مومنین” کے الفاظ سے حقیقت سے پردہ اٹھایا۔ آیہ کریمہ لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا  (بے شک اللہ تعالی نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں رسول بھیجا : سورہ آل عمران – آیت 164)  اس پر شاہد عادل ہے ۔ اس نعمتِ عظمیٰ اور موہبتِ کُبریٰ پر شکر بجا لانا گویا ہر فرزندِ توحید کے ایمان تقاضا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ شکرانہ نعمت کا اسلوب کیا ہونا چاہیے ۔
اس حوالے سے جب ہم چمنستانِ تعلیماتِ قرآنی کی خوشہ چینی کرتے ہیں تو تین بڑے اسالیب سامنے آتے ہیں:
١- ذکر و تحدیث نعمت  ٢-عبادت و بندگی  ٣- جشن و عید
پہلے دو اسالیب کے تعینات اور مظاہر میں امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والتحیۃ میں زیادہ اختلاف نہیں تاہم خوشی و مسرت کے اظہار کے لیے جشن و عید کے  طور طریقوں پر امتِ صاحبِ لولاک کے کچھ عناصر چیں بہ جبیں ہوتے ہیں۔ یوں ان خجستہ ایام کی مبارک و مسعود گھڑیاں رکیک مباحث، مناظرانہ جدل اور فرقہ وارانہ شدت پسندی کی نذر ہوجاتی ہیں۔ تاہم اس میں قصور طرفین کا ہے۔
ایک طرف محبت و عشق رسول صلی الله عليه وسلم کے نام پر لوگ منکرات و خرافات تک سے باز نہیں آتے۔ شبینہ محافل میں بجلی چوری کر کے رنگینی کا اہتمام ہورہا ہے۔ دن کے جلوس کہیں کہیں تارکین نماز کی پناہ گاہ بنے ہوئے ہیں۔ محافل میلاد تک میں غیر شرعی افعال کے ارتکاب سے روکنے والا کوئی نہیں۔ نعت فروشوں اور واعظان شیریں لسان کی فوج ظفر موج موضوع روایات سے سامعین و ناظرین کے خرمنِ ایمان کو خاکستر کر رہی ہے۔
دوسری طرف یہ مبارک ایام یوں گزر جاتے ہیں کہ شدید کفران نعمت کا ارتکاب ہوتا ہے۔ نہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی ذکر کی محفل ہے نہ درود و سلام کی کثرت۔ اگر معاشرتی جبر کے تحت “سیرت کانفرنس ” کے نام سے محفل کا انعقاد ہوتا بھی ہے تو 12 ربیع الأول کو یومِ غم ثابت کرنے میں خطیبِ شہر کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھتا۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے کیا یہ جشن منائے؟ بندہ خدا ان قدسی صفات نے تو عیدین (عید فطر و عید اضحیٰ) بھی اس ٹھاٹھ سے نہ منائیں جو آج کا چلن ہے۔ کیا چاند رات کی خرافات کی وجہ سے عید فطر کے تقدس مآب لمحات کو نظر انداز کر دیا جائیگا۔ نہیں قطعاً نہیں۔ اصلاح احوال کی کوشش کی جائیگی۔
آگے بڑھیے مفکرینِ جدید میں سے کچھ انقباضِ باطن کا اظہار عجب مغالطہ آمیز دلائل سے کر رہے ہیں۔ کبھی اظہار ہوتا ہے کہ صرف ربیع الاول کی کیا تخصیص حضور کا ذکر تو ہر وقت، ہر گھڑی کا ذکر ہے اس میں کچھ شک نہیں تاہم وذکرھم بایام اللہ کی تعلیماتِ قرآنی سے آشنا اس سے بے خبر نہیں کہ مخصوص ایام کی سعادت افروز گھڑیاں دراصل تجدید عہد کا سامان کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مشتاقان جمال مصطفوی علی صاحبہ التحیۃ والسلام  بفحوائے آیہ قرآنی قل بفضل الله وبرحمته فبذلك فليفرحوا ( ترجمہ: فرمادیجیے کہ یہ سب کچھ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے باعث ہے (جو بعثت محمدی کے ذریعے تم پر ہوا ہے)۔ سورہ یونس آیت ۵۸) جائز حد تک خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہیں ۔ چراغاں کا اہتمام بھی ہوتا ہے۔محافل میلاد کا انعقاد ہوتا ہے۔ انفرادی طور پر مطالعہ سیرت کے خصوصی اہتمام سے قلب و نگاہ کو شاد کام کرتے ہیں۔ اس شخص کو تو اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے جو ولادت رسول صلی الله عليه وسلم کی نعمتِ عظمیٰ اورموہبتِ کبریٰ کا کوئی احساس اپنے اندر نہ پائے ۔ ہاں اسالیبِ مسرت شریعت کی پاسداری کے امین ہوں ۔ اللہ کرے ہم معتدل روش سے اسوہ حسنہ کی پیروی سے امت کو جوڑنے میں کامیاب ہوسکیں۔ترجمان حقیقت عاشق رسول حضرت علامہ کے ان اشعار سے اجازت چاہوں گا۔
 ہر کجا بینی جہانِ رنگ و بو
آں کہ از خاکش بروید آرزو
یا زنورِ مصطفیٰ اوررابہاست
یا ہنوز اندر تلاشِ مصطفی است
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: