امت کا ارتقاء اور نبی کریم کی حکمت عملی: تدریج اور مصلحت — ہالہ غازی فاروقی

1

خدائے بزرگ و برتر کی سنت رہی ہے کہ جب وہ کسی انسان کو اپنے کام کے لیے چنتا ہے تو اس کو مختلف آزمائشوں سے گزارتا ہے۔ یہی معاملہ نبی آخر الزمان محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی ہوا۔ آنجناب نے اپنی دعوت کا آغاز کیا تو مخالفین نے آپ کو روکنے کے لیے مختلف اوچھے ہتھکنڈے اپنائے۔ آپ پر تہمتیں باندھی گئیں، جھوٹا کہا گیا، ساحر گردانا گیا۔ یہیں تک بس نہیں کیا بلکہ مختلف علاقوں سے آنے والوں کے سامنے آپ کو نیچا دکھانے کی تدبیریں کی گئیں۔

مگر اللہ نے ابتدائی مرحلے پر ہی اپنے محبوب کو یہ کہہ کر تسلی دے دی آپ مخالفین کی ذرا پرواہ نہ کریں اور اپنا کام بھرپور طریقے سے جاری رکھیں۔ ان کی پھیلائی ہوئی افواہوں کے بجائے یہ یاد رکھیں کہ ہم نے آپ کے لیے آپ کے ذکر کو اونچا رکھا ہے، آپ کے لیے مشکل کے ساتھ آسانیاں بھی رکھی ہیں۔ آپ کا سینہ کھول دیا اور آپ کا بوجھ کم کردیا۔ یہ محض ایک تسلی یا دلاسہ نہیں تھا، یہ اللہ کا اپنے محبوب کے لیے وعدہ تھا کہ اب سے لے کر رہتی دنیا تک آپ کا ذکر تمام عالم سے بلند رہے گا۔ آپ کو مخالفین کے ہتھکنڈوں سے تکلیف نہیں پہنچے گی بلکہ آپ کے پرخلوص ساتھی آپ کے لیے طمانیت کا باعث ہوں گے۔

جب اللہ نے اپنے نبی کے ذکر کو ہر لحاظ سے اونچا رکھا تو اس کے لئے بہت سے طریقے اختیار کئے۔ جب محبوب کے ذکر کو رہتی دنیا تک اولیت بخشنا تھی تو اس کے لیے ایک ایسی نسل کی افزائش بھی ضروری تھی جن میں بذات خود وہ رہنماء پیدا ہوں جن کا اپنا مقام و مرتبہ بھی دنیا کے باقی انسانوں سے بڑھ کر ہو اور وہ نسل اور اس کی آئیندہ نسلیں اس قابل بن کر ابھریں کہ وہ ہمیشہ اللہ کے محبوب کا ذکر بلند رکھیں اور ہر کام میں ان کو فوقیت دیں۔

اس نسل کی آبیاری کے لیے اللہ کے نبی نے وہ اعلی اور ارفع حکمت عملی اپنائی جس کے مثل آج تک کوئی پیش نہیں کرسکا۔ اس عمل کے لیے دو نکات ضروری تھے ؛ تدریج اور حکمت۔

یہ عمل ایک ایسے معاشرے میں وقوع پذیر ہونا تھا جو اس زمانے کی تہذیب و تمدن کی علمبردار اقوام سے بہت پیچھے تھا۔ وہ معاشرہ کہ جو اچھائیوں اور برائیوں کا مرقع تھا، جس میں جہاں ایک طرف حاتم طائی جیسے فرشتہ صفت لوگ پائے جاتے تھے وہاں دوسری طرف وحشی اور جنگجو قسم کے افراد اور گروہ بھی تھے۔ ایسے معاشرے میں وہ نسل اٹھانا تھی کہ جس کی نظیر رہتی دنیا تک نہ مل سکے۔ جو تہذیب و تمدن کی اعلی ترین مثال قائم کرے۔ اللہ سبحانہ و تعالی اگر چاہتا تو بیک جنبش قلم اپنا مطلوبہ ہدف حاصل کر لیتا۔ لیکن اللہ نے اس معاشرے کی افزائش کے لیے تدریج کو پسند کیا۔ چنانچہ 23 سال تک حبیب علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں نے مشقتیں اٹھائیں، تکلیفیں سہیں، گھر بار چھوڑے، دین کی خاطر ہر طرح کا جبر برداشت کیا۔ ہر تکلیف ان کو نیا حوصلہ دیتی، ہر مشقت ان کا لہو گرما دیتی اور ہر جبر ان کے سینے کو ایک نئے ولولے سے بھر دیتا۔

آہستہ آہستہ اور درجہ بدرجہ ان کی تربیت ہوتی رہی، ہر مشکل وقت میں فرقان حمید کی نئی آیات نازل ہوتیں جو ان کو اس مشکل سے نمٹنے کا حوصلہ عطا کرتیں۔ یوں ایک ایسی ملت تیار ہوئی جس کی رگ و پے میں دین اسلام لہو کی طرح بہتا تھا۔ اور ایک وقت وہ آیا کہ جب اللہ کے حبیب نے بھرے مجمع میں گورے کو کالے کے، عربی کو عجمی کے، سرخ کو سفید کے برابر قرار دے دیا اور اعتراض کا ایک لفظ سامنے نہ آیا۔ فرمایا: “کسی گورے کو کالے پر، عربی کو عجمی پر اور سرخ کو سفید پر فوقیت نہیں، ہاں مگر تقوی کے سبب”۔

یہیں تک نہیں، بلکہ محبوب علیہ افضل الصلوۃ والسلام کی رحلت کے سالوں بعد بھی چشم فلک نے وہ منظر دیکھا کہ ایک غلام بھرے مجمع میں سابق بادشاہ کے منہ پر بدلہ کے طور پر تھپڑ دے مارتا ہے اور خلیفہ وقت غلام کی طرف داری کرتا ہے کیوں کہ وہ حق پر تھا! ہر کام یوں رفتہ رفتہ کیا کہ لوگوں پر گراں نہ گزرے اور بار نہ ہو۔ مکہ مکرمہ میں اسلام کے اولین دنوں میں ہی باقاعدہ تعلیمی نظام کی بنیاد ڈالی۔ پہلے پہل گھروں میں خفیہ طریقے سے مراکز قائم کئے۔ پھر آہستہ آہستہ اس کو وسعت دی اور اس کمال تک پہنچایا کہ ہر صوبے میں باقاعدہ طور پر ایک ایک معلم تعینات کیا۔ مدینے جا کر باقاعدہ مساجد میں یہ اہتمام کیا گیا۔ ابو درداء کو اس عمل کا ناظم الامور مقرر کیا۔ وہ وقتا فوقتا سب مسجدوں کا دورہ کیا کرتے تھے اور رسول اللہ کو رپورٹ دیا کرتے تھے۔ مصعب بن عمیر کو پہلا سفیر بنا کر اپنی آمد سے قبل مدینہ طیبہ میں تعینات فرمایا کہ وہاں کے لوگوں کی بھی اسی طرح تربیت فرمائیں جیسے بذات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی۔

تدریج کا یہ اصول تربیت کے ساتھ ساتھ تعلیم میں بھی نظر آیا۔ تعلیم کا آغاز اخلاقی تربیت سے فرمایا، پہلے تزکیہ نفس کی تعلیم دی، اخلاص، صبر و تحمل، تقوی اور صدق و توکل کی تربیت فرمائی اور جب اپنے اصحاب کو اس پر اچھی طرح جما دیا تو پھر ظاہری اصلاح پر توجہ فرمائی اور عبادات و احکام کے ساتھ خدمت خلق اور کمزور طبقات کی مدد کرنے کا جذبہ اور صلاحیت پیدا فرمائی۔ مقاصد شریعہ میں انسانی حقوق پر زیادہ زور دیا۔ حصول علم میں بھی تدریج کا خیال رکھا، سادہ پڑھائی سے آغاز فرمایا اور جس سے ممکن ہوسکا اس ضمن میں کام لیا۔ بدر کے ان قیدیوں سے جن کو لکھنے پڑھنے پر عبور حاصل تھا، فدیے کے طور پر مسلمان بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھانے کا کام لیا۔ پہلے سے تعلیم یافتہ مسلمانوں کو مختلف علوم و فنون اور زبانوں میں تخصص حاصل کرنے کےلئے آمادہ فرمایا۔ عہد رسالت ہی میں حدیث، تفسیر، سیرت، فقہ، تاریخ، علم الانساب، جغرافیہ اور علم الافلاک وغیرہ میں مہارت رکھنے والے اپنےاپنے شعبے میں خدمات انجام دینے لگے تھے۔ اصحاب صفہ کا تقرر فرمایا، کاتبین وحی مقرر کیے، یوں وہ نسل تیار ہوئی جس نے زبانی اور تحریری دونوں طریقوں سے رفعت ذکر کا کام کیا۔ نہ صرف غیر رسمی بلکہ رسمی اور باقاعدہ درسی تعلیم کا بھی اہتمام فرمایا۔ اس سلسلہ کو صرف مردوں تک ہی محدود نہ رکھا بلکہ خواتین کو، اپنی ازواج کو اس عمل میں حصہ لینے کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ چنانچہ سیدہ حفصہ کو شفا بنت عبداللہ کی زیر نگرانی بازاری علوم پر مہارت دلوائی۔ ام المومنین عائشہ صدیقہ کی بذات خود ایسی تربیت فرمائی کہ بڑے بڑے صحابہ اور تابعین ان کے شاگرد بنے۔

ارتقاء کے اس عمل کی دوسری خوبی حکمت تھی۔ نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے دین میں آنے کے بعد لوگوں کی نفسیات کو سمجھ کر، اس حکمت کے ساتھ ان کی تربیت کی کہ ان کے علاوہ شاید کوئی نہ کر سکے۔ کوئی شخص آتا اور کہتا کہ یا رسول اللہ! فرائض کے علاوہ کچھ نہ کروں گا۔ کیا جنت ملے گی؟ فرمان ہوتا ہاں ملے گی۔ کوئی شخص آتا اور یہ نوید لے کر جاتا کہ سلام پھیلاو، مسکینوں کو کھانا کھلاو اور رات کے اس پہر نماز پڑھو جب لوگ سو رہے ہوں اور جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہوجاو۔

نہایت قلیل مدت میں وہ ملت تیار کی کہ جس کی خصوصیات اللہ کی کتاب میں بیان ہوئیں۔ چنانچہ ارشاد ہوا؛ *محمدؐ اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں تم جب دیکھو گے اُنہیں رکوع و سجود، اور اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں مشغول پاؤ گے سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں یہ ہے ان کی صفت توراۃ میں اور انجیل میں اُن کی مثال یوں دی گئی ہے کہ گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی، پھر اس کو تقویت دی، پھر وہ گدرائی، پھر اپنے تنے پر کھڑی ہو گئی کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تاکہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں اِس گروہ کے لوگ جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے*

زمانہ جاہلیت میں جس شخص کی جو خوبی تھی اس کا زمانہ اسلام میں بھرپور خیال رکھا گیا۔ چنانچہ جو سپہ گری میں تیز تھے ان کو اسی میدان میں استعمال کیا گیا، جو تعلیم کے میدان میں آگے تھے ان کی اسی میں حوصلہ افزائی کی گئی، جو سیاست میں مشاق تھے ان کو سفراء کے طور پر بھیجا گیا۔ ہر شخص کی قدرتی صلاحیتوں کو دین کے احکام کے مطابق یوں سنوارا کہ ہر میدان میں کمال حاصل ہو۔ خالد بن ولید، جو احد میں مسلمانوں کے نقصان کے ذمہ دار تھے، ایمان لائے تو ان کو اسی لشکر کی کمان سونپی گئی۔ سہیل بن عمرو، جو مکہ کے ان رؤسا میں تھے جنہوں نے مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا، جب نبی کے ہاتھ پر بیعت کرنے تشریف لائے تو حکم ہوا کہ سہیل آرہا ہے، کوئی اس کو گھور کر نہ دیکھے کہیں اس کو تکلیف نہ پہنچ جائے اور پھر اسی محبت اور حکمت کے ساتھ وہی سہیل اپنے عالی مرتبہ پر فائز رہے۔ جس زبان سے انہوں نے نبی کو ہزیمت پہنچائی، وہی صلاحیت خطابت انہوں نے نبی کے ذکر کو بلند رکھنے اور دین کو پھیلانے کے لیے صرف کی۔ معاذ بن جبل کو یمن بھیجا تو بذات خود ان کی تربیت کی۔ نہایت محبت سے پوچھا کہ معاذ فیصلے کیسے کرو گے؟ عرض کیا؛ اللہ کی کتاب کے مطابق۔ پوچھا: اور اگر اللہ کی کتاب میں حکم نہ پایا تو کیا کرو گے؟ جواب ملا: نبی کی سنت کے مطابق۔ پوچھا: اگر سنت میں بھی کچھ نہ پایا تو کیا طریقہ کار اختیار کرو گے؟ عرض کیا؛ اپنی فہم کے مطابق جو ٹھیک لگے گا وہ کروں گا اور اس میں اپنی بھرپور طاقت صرف کروں گا۔ یہ سن کر صرف زبانی حوصلہ افزائی نہیں فرمائی بلکہ پشت پر تھپکی دی اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے ایسے لوگ عطا کیے۔

یہ وہ طریقہ کار تھا جس کے ذریعے اپنے اصحاب کی تربیت فرمائی، یہ وہ حکمت تھی جس نے ابوبکر و عمر جیسے جید رہنما، خالد بن ولید اور ابو عبیدہ جیسے سپاہ سالار، علی جیسے ماہر تعلیم، ابن عباس اور ابن مسعود جیسے مفسرین، عمرو بن العاص جیسے گورنر، معاذ بن جبل جیسے فقیہ اور ابو ہریرہ جیسے محدثین پیدا کیے۔

یہ سلسلہ یہیں تک نہیں رکا۔ اللہ نے اپنی نبی کے ذکر کو کہیں عمر بن عبدالعزیز جیسے حکمرانوں کے ذریعے اوج کمال تک پہنچایا تو کہیں محمد بن قاسم کے ذریعے اس کو زندہ کیا۔ کہیں طارق بن زیاد کے لشکر سے کام لیا تو کہیں صلاح الدین ایوبی کی بصیرت سے۔ کبھی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے ذریعے واپس لوٹایا تو کبھی مجدد الف ثانی کے ذریعے دین کی تجدید کی۔ مدینہ کے لوگوں کو مالک بن انس دیا تو برصغیر تک براستہ کوفہ ابو حنیفہ کے افکار پہنچائے۔

شاعر مشرق کا ماننا ہے کہ اگر آج بھی وہی ایمان پیدا ہوجائے جو پہلوں کا تھا تو آگ کو گلستان میں بدلا جاسکتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

چنانچہ اگر ہادی برحق کے عطا کردہ اصول اپنائے جائیں تو آج کے اس دور میں، جہاں بہت سے مدحت سراوں کے ساتھ ساتھ چند شر پسند عناصر بھی سرگرم ہیں، اگر حکمت سے کام لیا جائے تو عین ممکن ہے کہ اقوام عالم پر اسلامی پرچم لہرایا جاسکے۔

اللہ تبارک و تعالی نے اپنے نبی کے ذکر کو رہتی دنیا تک بلند کردیا۔ یہ اس کا اپنے محبوب سے وعدہ ہے۔ جو کوئی بھی اس الہی حکمت عملی کا حصہ بنے گا اس کو بھی اس رفعت ذکر میں سے حصہ ضرور ملے گا۔ تاریخ اس کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ بس ادراک کی کمی ہے۔

(Visited 1 times, 3 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: