کیرئیر کاونسلر -یا- موٹیویشنل اسپیکر: ضرورت کس کی؟ ——- عمار احمد

0

سیانے کہتے ہیں اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنا عقلمندی جبکہ دوسروں کی غلطیوں سے سیکھنا حکمت ہے۔ علم کی پیاس رکھنے والوں کے لیے یہ دنیا بھری پڑی ہے، سیکھنے کی طلب ہو تو انسان کوے اور چیونٹی سے لے کر حقیر بے جان چیزوں سے بھی سبق حاصل کرسکتا ہے۔ لیکن جس انسان میں طلب ہی نہ ہو اس کے لیے دنیا جہاں کی کتابیں اور یونیورسٹیاں بھی ناکافی ہے۔ علم کے حصول کا واحد ذریعہ کتابیں اور درسگاہیں نہیں ہیں، حکمت کی نشانی یہی ہے کہ کتابوں کے ساتھ ساتھ انسانوں کو پڑھنا بھی سیکھ لیا جائے۔ لوگوں کی شخصیات، تجربات اور غلطیاں نہ صرف آپ کو کئی کتابوں سے زیادہ سبق دیتی ہیں بلکہ آنے والی کئی مشکلات اور خواری سے بھی بچا لیتی ہیں۔ پر افسوس یہ ہے کہ ہم بھولے لوگوں کا یہ معاشرہ مجموعی طور پر اس حکمت سے محروم ہے۔

پاکستان میں تعلیمی مسائل پر جب بھی بات کی جائے تو ہماری گفتگو کا موضوع ہمیشہ وہ درسگاہیں ہوتی ہیں جو کاغذ پر تو موجود ہیں لیکن حقیقت میں اپنا وجود نہیں رکھتیں، جو موجود ہیں وہ ٹوٹ پھوٹ اور عدم سہولیات کا شکار ہیں، یا ہمارا موضوع ہوتے ہیں درسگاہوں سے باہر موجود وہ لاکھوں بچے جو تعلیم کی نعمت سے محروم ہیں۔ لیکن بہترین سہولیات سے آراستہ مہنگے تعلیمی اداروں میں موجود طلبہ کے مسائل کیا ہماری توجہ کے مستحق نہیں؟ ان طلباء کے مسائل کی بھی ایک طویل فہرست ہے جن میں سب سے پہلا ہے کیرئیر کا انتخاب۔ ایک زمانہ تھا جب پیدا ہوتے ہی یہ فیصلہ کرلیا جاتا تھا کہ ہمارا بیٹا بڑا ہوکر انجینئر اور بیٹی ڈاکٹر بنے گی۔ آج کل بچوں کو کم از کم یہ آزادی حاصل ہے کہ ان پر کیرئیرز تھوپے نہیں جاتے بلکہ اپنی پسند ناپسند کے مطابق فیصلے کا مکمل اختیاردیا جاتا ہے۔ لیکن مسئلہ آج بھی وہیں ہے۔ کالج مکمل ہونے کے بعد اکثر طلباء کو معلوم ہی نہیں ہوتا ہے کہ ان کے شوق کیا ہیں؟ ان کی صلاحیتیں کیا ہیں؟ کون سے شہر کی کونسی یونیورسٹی میں کونسی فیلڈ ان کے لیے بہتر رہے گی؟

چند سال قبل پاکستان میں کیرئیر کائونسلنگ کی ایک نئی لہر اٹھی ضرور تھی لیکن جلد ہی اسے موٹیویشنل سپیکرز کا ریلا بہا لے گیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ کیرئیر کائونسلنگ کا کوئی ادارہ تو دور کوئی ایک ماہر کیرئیر کائونسلر بھی دستیاب نہیں ہوتا جبکہ موٹیویشنل سپیکنگ اور ٹریننگ کے ادارے کھمبیوں کی طرح جگہ جگہ اگ گئے ہیں اور ہر دوسرا شخص موٹیویشنل سپیکر بنا ہوا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کیرئیر کائونسلنگ ایک قدرے مشکل اور انتہائی ذمہ داری والا کام ہے، آپ کے ایک مشورے پر طلباء اپنی مکمل تعلیمی اور پروفیشنل زندگی کا فیصلہ کررہے ہوتے ہیں، جبکہ موٹیویشنل سپیکنگ میں آپ بڑے آرام سے بنا کوئی ذمہ داری لیے لوگوں کو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے سبز باغ دکھا کر ہزاروں لاکھوں بٹور سکتے ہیں۔ یہ موٹیویشنل سپیکرز خود بیشک روزانہ اسلام آباد سے کراچی تک روزگار کے لیے خوار ہورہے ہوں اورفلائٹ کے ٹکٹ کے لیے بھی دوسروں کے محتاج ہوں لیکن اپنے لیکچر کے دوران یہ بل گیٹس سے لے کر سٹیوجابز تک کامیابی کے ایک سو ایک نسخے سناکر آپ کواس بات پر راضی کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگادینگے کہ نوکری کی پیچھے بھاگنے کے بجائے آپ اپنا کارو بار کرکے دنیا کے امیر ترین انسان بن سکتے ہیں۔ ایک بار ایک موٹیویشنل سپیکر کو سننے کا اتفاق ہوا جو اپنے پورے لیکچر کے دوران سامعین کو اپنی اپنی نوکری سے استعفیٰ دے کر کاروبار کا آغاز کرنے کی ترغیب دیتے رہے لیکن ساتھ ساتھ یہ تنبیہ بھی جاری کرتے رہے کہ کاروبار کی ناکامی کی صورت میں (جب اپ ادھر کے رہیں گے نہ ادھرکے تو) ادارہ ہرگز ذمہ دار نہیں ہوگا۔ شاید اسی وجہ سے آپ موٹیویشنل سپیکرز کو سننے کے بعد بھی اتنے ہی کنفیوز رہتے ہیں جتنا ان کو سننے سے پہلے، یا شاید اس سے بھی زیادہ۔

دوسری جانب ایک کیرئیر کائونسلر کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ اگر آپ نے اب تک اپنا شوق، رجحان اور منزل واضح نہیں کی ہے تو وہ آپ کی چھپی ہوئی خصوصیات، صلاحیتیں اور ٹیلنٹ کو باہر نکال کر کیرئیر کے انتخاب میں آپ کو مدد اور راہنمائی فراہم کرے۔ لیکن پاکستان میں ایسے کتنے کیرئیر کائونسلرز طلباء کو میسر ہیں اس کا اندازہ اسی بات سے لگالیں کہ آپ کتنے کیریئر کائونسلرز کو جانتے ہیں جبکہ کتنے موٹیویشنل سپیکر ز کے نام آپ باآسانی انگلیوں پر گن سکتے ہیں؟ اپنے ہاسٹل اور یونیورسٹی میں کئی ایسے طلباء کو میں جانتا ہوں جو چھوٹے شہر وں یا گائوں سے کئی گھنٹے کی مسافت طے کرکہ بڑے شہروں میں اعلیٰ تعلیم کے لیے تو آگئے لیکن رہائش سے لے کرتعلیمی ادارے کے انتخاب تک شدید خواری کاسامنا کرنا پڑا۔ اگلا مرحلہ ڈپارٹمنٹ کا انتخاب ہوتا ہے، اس میں بھی طلبہ آخر تک مخمصے کا شکار رہتے ہیں۔ اس ساری مشقت میں پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں جنہوں نے تعلیم کو سو فیصد کاروبار کاذریعہ بنا لیا ہے۔ یہ یونیورسٹیاں مافیا کی طرح کام کرتی ہیں جنہوں نے ایڈمیشن فیس اور سمسٹر فیس کے لیے متفقہ طور پر Non Refundable Policy بنائی ہوئی ہے، یعنی اگر ایک بار کسی طالبعلم نے غلطی سے کسی ادارے میں داخلہ لے لیا اور بعد میں کسی اور ادارے میں تبادلہ کروانا چاہے تو پچھلے ادارے میں جمع کرائی گئی فیس ناقابل واپسی ہوتی ہے۔ اس لوٹ مار کو یونیورسٹی مالکان اپنا پرافٹ سمجھتے ہیں جس کیوجہ سے ہر سال کئی والدین کا محنت سے کمایا ہوا پیسہ ضایع ہوجاتا ہے اور کوئی روکنے ٹوکنے والا بھی نہیں۔

ان تمام مسائل کا ہرگز یہ حل نہیں ہے کہ اب دھڑادھڑ کیرئیر کائونسلنگ کے ادارے کھول کر ان کو بھی کاروبار کا ذریعہ بنا کر عوام کی مزید کھال کھینچی جائے، بلکہ مسئلے کا بہترین حل یہ ہے کہ کیرئیر کائونسلنگ کو بنیادی جز کے طور پر باقاعدہ تعلیمی نظام میں شامل کیاجائے۔ تعلیمی دور کے آغاز سے ہی طلباء میں اپنے شوق اور صلاحیتوں کی پہچان کی ترغیب نصاب کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ جہاں تک بات ہے موٹیویشنل سپیکرز کی تو مایوسیوں اور مشکلات سے بھرپور اداس لوگوں کے اس معاشرے کو موٹیویشنل سپیکرز کی یقیناََ ضرورت تو ہے لیکن انسان کی موٹیویشن کا سب سے بڑا ذریعہ خاندان کے بزرگ، والدین، بڑے بھائی بہن اور اساتذہ کرام ہوتے ہیں۔ اگر ہمیں ان ذرائع سے موٹیویشن نہیں مل رہی، اگر ہمیں موٹیویشن پیسے دے کرخریدنی پڑ رہی ہے، اگر مذہبی پیشوا معاشرے کی ٹریننگ نہیں کرپارہا، اگرہمارا خاندانی نظام ہمارے بچوں کی ٹریننگ نہیں کرپارہا تو یہ ایک اور تشویشناک المیہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

میرٹ کا مغالطہ: عاطف حسین

موٹیویشنل اسپیکراور این جی او کلچر : نبیلہ کامرانی 

موٹیویشنل سپیکنگ: تعریف اور ضرورت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی عمر عمیر‎

 

(Visited 1 times, 6 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: