دائیں، بائیں اور سرخ، سبز کی بات۔۔۔ سجاد خالد

0

لڑکپن اور جوانی چھوٹے چھوٹے نظریاتی گروہوں میں گزار لی۔ اب میرے ساتھ میرا گروہ بھی بڑا ہو رہا ہے اور شاید نظریہ بھی۔

اب میں نہ سبز انقلاب کے رومان میں مبتلا ہوں نہ سرخ کے لئے ہلکان۔ میرا دایاں اور بایاں بازو میرے جسم سے جُڑے ہیں۔ یہ دونوں یکجا نہ ہوں تو ڈھنگ سے کوئی کام نہیں ہوتا۔ ان کے درمیان سینے میں دھڑکنے والے دل کو دونوں جانب سے درد اور راحتیں ملتی ہیں۔ اور سر کے آتش فشاں میں تو ست رنگا لاوا اُبلتا رہتا ہے۔

کسی سوسائٹی کو محض درآمد شدہ نظریات اور حکمتِ عملی سے کسی مثبت، ہمہ گیر اور دیرپا ترقی کے راستے پر نہیں ڈالا جا سکتا۔

نظریات کا جغرافیائی سرحدیں پھلانگ لینا فطری عمل ہے لیکن ان کو رد و قبول کے تہذیبی عمل سےگزرنا پڑتا ہے۔ اور ہر اچھائی یا برائی کو ایک نئی اجتماعی موضوعیت کی چھلنی سے گزرنا پڑتا ہے۔

ہم تنکوں کی طرح وقت کےدھارے پر خود سے بیخبر بیجان مادے کی طرح بہے جاتے ہیں۔ جب تک ہمارا اجتماعی شعور اس تہذیبی عمل کو تسلیم نہیں کر لیتا ان تنکوں سے کوئی ناؤ نہیں بننے والی جسے کبھی دھارے سے کچھ مختلف سمت میں بڑھایا جا سکے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: