چغتائی اسکول آف آرٹ کے نمائندہ مصور : دلاور مرزا — اظہر عزمی

0

میرے مربی، میرے محسن
(ایک اشتہاری کی باتیں)

کہتے ہیں قدیم زمانہ میں رام کے بھائی لکشمن نے دریا گومتی کے کنارے پر ایک شہر کی بنیاد رکھی۔ اس لئے ابتدا میں یہ شہر لکشمن پور کہلایا اور پھر وقت وقت کے ساتھ مختلف ناموں سے پکارے جانے کے بعد لکھنو کہلایا۔

18 ویں صدی میں یہ شہر قابل ذکر قرار ہایا۔ 1720 میں مغلوں نے اودھ صوبہ کے نظم و نسق کو بہ حسن و خوبی انجام دینے کے لئے نوابین کی تقرری کا عمل شروع کیا۔ 1732 میں محمد امیر سعادت خان کو یہ ذمہ داری دے دی گئی۔ اب صوبے کے صدر مقام لکھنو میں فنون لطیفہ جس میں شاعری، موسیقی، رقص، مصوری وغیرہ کی ہر شاخ تناور درخت بنتی گئی اور بالاخر اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ اختر کے بعد یہ دور اپنے اختتام کو پہنچا لیکن سینہ تاریخ پر اپنے انمٹ نقوش چھوڑ گیا۔

کہتے ہیں کہ والیان ریاست جس فن کے قدر داں ہوں اس کی بو باس ایک عرصہ تک وہاں کے رہنے والوں کےمزاج میں رہتی ہے اور یہ جاتے جاتے زمانہ لگ جاتے ہیں۔

1918 میں لکھنو میں منے مرزا کے ہاں دلاور مرزا متولد ہوئے۔ ذرا بڑے ہوئے تو کوئلہ، چاک جو مل جائے اس سے دیواروں پر تصویر کشی شروع کردی۔ پڑھائی سے دور پرے کا کوئی واسطہ نہ تھا۔ والدہ جب بہت جزبز ہوجاتیں تو پھونکنی (چولھے میں آگ بھڑکانے کے لئے استعمال ہوتی تھی) سے دلاور مرزا کی آو بھگت کرتیں مگر اس تمام تر تواضع کے بعد بھی والدہ شوق کی اس بھڑکتی آگ کو ٹھنڈا نہ کر پائیں۔ دلاور مرزا روز صبح اسکول کے لئے نکلتے مگر ایک ہندو تھیٹر کمپنی کے باہر دو زانو ہو کر بیٹھ جایا کرتے ہندو پینٹر ان سے لاکھ کہتا “بالک کاھے اپنا سمے جائع کرے ہے۔ جا ماتا نے پڑھنے بھیجا ہے تو پڑھ” مگر دلاور مرزا کہاں ٹلنے والے تھے۔

سب نے بہت سمجھایا مگر سب بے سود۔ ایک دن تھک ہار آکر ماں نے ڈرائنگ ٹیچر کے حوالے کر دیا اور کہا “اب تم جانو اور یہ۔ ہڈی ہماری کھال تمھاری”۔ ماسٹر نے ماں کی بات کو ذہن میں بٹھا لیا اور بنا لیا اپنا خاص الخاص شاگرد رشید۔ طے یہ ہوا کہ اب یہ ہفتہ میں ایک بار گھر آیا کریں۔ کام سیکھانا شروع کیا اور سختیاں بھی ساتھ ساتھ شروع کردیں۔ ماسٹر کے برتن بھی دھو اور گھر کے کام کاج بھی کرو۔ لڑکے نے سوچا یہ سب کیا ہے ایک دو بار راہ فرار کی کوشش کی مگر بے سود رہیں۔ ماسٹر کے شاگرد پھر پکڑ لاتے۔ اللہ اللہ کر کے یہ دن گذرے اور لکھنو اسکول آف آرٹس میں تین سالہ ڈپلومہ میں داخلہ لیا۔

ڈپلومہ مکمل ہوا تو ہہلی ملازمت لکھنو ریلوے کے آرٹ اینڈ ڈیزائن ڈیپارٹمنٹ میں کی۔ 1943 میں بمبئی کی راہ لی۔ وہاں رہے اس کے بعد تلاش معاش میں ڈرامہ کمپنیز کے ساتھ بطور پینٹر لکھنو کے علاوہ آگرہ اور کان پور میں بھی قیام پذیر رہے۔

دوسری جنگ عظیم میں آپ برٹش فوج میں ملازم ہو گئے اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہاں آپ کا کام فوجی گاڑیوں کو کیموفلاج کرنے کا تھا۔ 1945 میں جنگ ختم ہوئئ تو آپ نے اپنی پینٹر شاپ کھول لی۔

پاکستان بنا تو رکاب گنج لکھنو سے کراچی ہجرت کی اور بطور ڈیزائنر کام کرتے رہے۔ 1951 یا 1952 کی بات ہوگی کہ ماما پارسی اسکول میں عبدالرحمن چغتائئ کی پینٹنگز کی نمائش ہوئی۔ اس زمانے میں آپ مالک صاحب کے ساتھ کام کیا کرتے تھے۔ وہ آپ کو وہاں لے گئے۔ یہاں چغتائئ صاحب کے 400 سے 500 فن پارے نمائش کے لئے رکھے گئے تھے۔ یہی وہ موقع تھا کہ دلاور مرزا نے چغتائئ کے انداز مصوری کو مکمل طور پر اپنانے ک دور رس فیصلہ کیا اور پھر اسی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ پاکستان ائیر فورس کے مقبول رب نے آپ کے لائن ورک کو دیکھتے ہوئے ائیر فورس میس کے لئے عمر خیام کو پینٹ کرنے کے لئے کمیشن کرلیا۔ آپ نے پاکستان آئیر فورس کے لئے 5 سال کام کیا۔ اس کے بعد دلاور مرزا نے اورینٹ ایڈورٹائزنگ میں ملازمت اختیار کی۔ آرٹ ڈائریکٹر ہوئے اور پھر یہیں سے ملازمتی زندگی کا اختتام کیا۔

دلاور مرزا میں ایک ایسی صلاحیت بھی تھی جس سے صرف ان کے خاندان کے افراد بالخصوص 50 اور 60 کی دھائی کے بچے واقف ہیں۔ وہ صلاحیت تھی داستان گوئی کی۔ ہجرت کے بعد آپ کا خاندان ایک ہی گلی میں رہنے لگا جہاں سب کے گھر ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے اور سب کے دروازے ایک گھر سے دوسرے کے گھر میں کھلتے چلے جاتے۔ ٹی وی اس وقت تک ان گھروں میں نہیں آیا تھا۔ دلاور مرزا داستان گوئی کے فن میں بہت طاق تھے۔ ہفتہ کی رات گھر کے صحن میں پلنگ بچھا دیئے جاتے۔ بچے تو بچے بڑے بھی داستانیں سننے آیا کرتے۔ دلاور مرزا کا حافظہ کمال کا تھا اور اس پر پاٹ دار آواز سونے پر سہاگہ تھی۔ لیجئے صاحب قصہ چہار درویش شروع ہوگیا۔ ہر ایک ہمہ تن گوش ہے۔ اب اہک داستان 6 سے 7 ہفتہ چلے گی اور ہر سیشن ہوگا کم از کم دو گھنٹے کا۔ دلاور مرزا کی داستان بعض اوقات فی البدیہہ بھی ہو جاتی مگر کمال یہ ہے کہ کوئی محسوس کر جائے۔ آپ تمام کرداروں کو ساتھ لے کر چلتے اور اپنی آواز کا بھرپور فائدہ اٹھاتے۔ صفدر مرزا نے بتایا کہ داستان گوئی والد صاحب نے لکھنو کے ایک مشہور داستان گو سے سیکھی۔ جب ٹی وی آیا تو یہ سب قصہ پارینہ بن گیا۔

آپ 80 کی دھائئ میں کینیڈا تشریف لے گئے چہاں پہلی مرتبہ شاعر مشرق علامہ کے اشعار پر آپ کی پینٹنگز کی نمائش کی گئئ جسے وہاں اہل نظر نے خوب سراھا۔ پاکستان میں آپ نے میر تقی میر اور مرزا غالب کے اشعار پر پینٹنگز کی نمائش کی جسے بے حد پذیرائئ حاصل ہوئئ۔ کراچی آرٹس کونسل میں ہونے والی نمائش میں بھئ شریک ہوا۔ تب مجھے آپ کے فن کی قدردانی دیکھ کر کھڑکی کا ایک پٹ کھولے خاموشی سے مصوری کرنے والے خالو کی حیثیت کا اندازہ ہوا۔ اشعار پر مبنی پینٹنگز کو عام کرنے میں آپ کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ آپ نے رنگوں اور برش سے دلاوری کے جوہر دکھائے مگر افسوس زمانہ جوہر شناس نہ تھا۔

دلاور مرزا ایک طرف مجسم مصور تھے تو دوسری طرف اپنے اہل خانہ کے سرپراہ کے طور پر اپنی فرائض پوری تندہی سے ادا کرتے۔ آندھی آئے یا طوفان۔ ہڑتال ہو یا کوئئ اور چھٹی کا امکان۔ مرزا صاحب ایسے تمام امکانات کی رد پر عملی طور پر کار بند رہا کرتے تھے۔ صبح 8 بجے ویسپا اسکوٹر نکلتی اور بو شرٹ پینٹ میں ملبوس مرزا صاحب ایک مخصوص انداز سے عازم دفتر ہو جایا کرتے۔

اپنے اعزاز میں ہونے والی ایک تقریب میں

مجھے یہ بات کہنے میں کوئئ عار نہیں کہ لابنگ کے ذریعے شہرت پانے والے بیماری مرزا صاحب کو لاحق نہیں تھی یہی وجہ ہے کہ وہ شہرت کی بلندیاں نہ چڑھ سکے مگر فن کی جس مقام پر آپ تھے اس پر آج کے بڑے مصور نہیں پہنچ سکتے۔ بات بہت سیدھی سی ہے جن کو فن سے دلی نسبت ہوتی ہے وہ اپنے کام میں اتنے مطمئن اور مگن ہوتے ہیں کہ شہرت کی سیڑھیاں ان کا مطمح نظر ہی نہیں ہوتیں۔ جب انسان اندر سے اپنے کام سے مطمئن ہوجاتا ہے تو پھر باہر بناوٹی اور لابنگ سے حاصل شدہ شہرت اسے بہت معمولی اور وقتی لگنے لگتی ہے۔

دلاور مرزا کا فنی حوالہ تو آرٹ ہی ہے۔ آپ شکیل عادل زادہ کی ادارت میں شائع ہونے والے سب رنگ ڈائجسٹ کے لئے اسکیچیز کیا کرتے تھے۔ ذرا سوچیں !شکیل عادل زادہ جیسے پرفیکشنسٹ دلاور مرزا کے ممدوح رہے۔ میرا خیال ہے کہ دلاور مرزا کی فنی شخصیت کا اگر کوئئ احاطہ کر سکتا ہے تو اس کے لئے شکیل عادل زادہ سے بہتر کوئئ اور نہیں۔

بلند قامت و کردار رکھنے والے دلاور مرزا پابند شرع تھے۔ تعصب نام کی کوئئ چیز مزاج میں نہ تھی۔ صلح جو طبیعت پائئ تھی۔ ربط سب سے رہا کرتا تھا۔ مولانا کوکب نورانی آپ کے پاس کتابوں کے سرورق بنوانے تشریف لایا کرتے تھے۔

ایک بات ضمنا عرض کردوں کہ آپ کے ہاں سال بھر نذر و نیاز کا اہتمام ہوتا جس میں ہم نیازمندانہ شریک ہوتے۔ زندگی میں پہلی مرتبہ لوکی اور شکرقندی کی کھیر آپ کے ہاں ہی کھائی اور اس کے بعد ایسی کھیر کہیں نہیں کھائی۔ سال بھر ان دو کھیروں کا انتظار رہتا۔ اب تو دلاور مرزا کے دونوں صاحبزادے عباس مرزا اور صفدر مرزا (ہمارے ہر دل و دم عزیز دوست) کینیڈا میں رہتے ہیں اس لئے امکانات کم کم ہیں مگر صاحب کیا کیجئے امید پر دنیا قائم ہے۔

مرزا صاحب، کینیڈا میں اپنی پینٹنگز کی نمائش کے لئے تشریف لے گئے تھے۔

میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ گھروالوں نے نام دلاور رکھا تھا مگر انہیں کیا پتہ تھا کہ وہ رنگوں پر دل آور ہوں گے۔ ابتدا سے اس فن کے دل آگاہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مصوری سے دل چسپی، دل پذیری اور دل بستگی رکھی۔ کبھی اس ہنر سے دل گرفتہ نہیں ہوئے۔ کام میں دل کشائی اور دل شگفتگی رہی۔ ایک سے ایک فن پارے تخلیق کئے۔ لوگ ان پر دل فریفتہ ہوئے۔ تعریفوں کی راگنیاں گائی گئیں مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ لابنگ کے فن سے ناواقف ہونے کی وجہ سے انہیں وہ مقام نہ دیا گیا جس کے وہ حقدار تھے۔

1918 میں وارد دنیا ہونے والے دلاور مرزا 2014 میں 96 سال کی عمر میں دل کے عارضہ کے باعث راہی ملک عدم ہوئے۔ دلاور مرزا میرے لئے ان لوگوں میں سے ہیں جو کچھ دیر کے لئے کسی کی زندگی میں آتے ہیں اور زندگی بنا کر چلا جاتے ہیں۔ جب میں اپنے ذاتی گھر میں منتقل ہوا تو خاص طور پر ایک پینٹنگ دی جو آج بھی گھر لگی ہے۔ مجھے جب بھی دلاور مرزا کو دیکھنا ہوتا ہے۔ اس پینٹنگ کو دیکھ لیتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ مصور اپنے فن میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ آپ مجھے ایڈورٹائزنگ میں لے کر آئے ورنہ میں بھی کہیں اکتا دینے والی چھوٹی موٹی ملازمت کر رہا ہوتا۔ آپ کے لئے مرحوم لکھتا ہوں تو دل مغموم ہوجاتا ہے۔ کیا کروں ایک دلاور کا غم جو ہے؟

دن ڈھل رہا تھا جب اسے دفنا کے آئے تھے
سورج بھی تھا ملول، زمیں پر جھکا ہوا

یہ بھی پڑھیں: فنون لطیفہ، پینٹنگ، نیوڈ Nude اور ہمارا معاشرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حلیمہ سعدیہ/ سجاد خالد
(Visited 1 times, 10 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: