عاشقان رسول ﷺ : کچھ سوچئے — غزالہ خالد

1

میں اس بات پر  بحث نہیں کروں گی کہ بارہ ربیع الاول منانا چاہیئے یا نہیں؟ میرا موضوع ہے کہ کیا ہم جشن آمد رسول مناتے مناتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے دور تو نہیں ہو رہے؟

اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا جشن منانا اور سڑکوں پر، گلیوں میں اور گھروں پر چراغاں کرنا اتنا ہی ضروری ہے کہ اس کے لئے بجلی چوری کی جائے تو کیا ایک لمحے کے لئے بھی ہمیں یہ خیال آیا کہ ہمارے نبی صلعم ہمیں کیا سکھا کے گئے تھے اور ہم یہ کیا کر رہے ہیں؟

کیاجلوس نکالتے وقت عاشقان رسول کہلوانے والوں کو کنٹینروں سے راستے بند کرکے ہزاروں لوگوں کو تکلیف دیتے وقت ایک بار بھی یہ خیال آتا ہےکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے سے پتھر ہٹانے کو بہترین صدقہ قرار دیا ہے اور ہم یہ کیا کررہے ہیں؟ کہیں ہم لوگوں کے راستے بند کرکے ان بیماروں اور مجبوروں کی بد دعائیں تو نہیں سمیٹ رہے جنہیں ٹریفک جام میں پھنس کر اذیت ہورہی ہے یا ان رکاوٹوں کی وجہ سے لمبے لمبے راستے کاٹ کر اپنی منزل تک پہنچنا پڑ رہا ہے۔

زندگی میں کبھی نہ کبھی کوئی ایسا واقعہ ہم ضرور دیکھئے ہیں جسے تاعمر نہیں بھلا پاتے، جلوس کا ذکر کرتے ہی مجھے بھی اپنی یادوں میں محفوظ ہوا وہ جلوس ضرور یاد اجاتا ہے جو میں نے تقریبا دس سال پہلے گلشن اقبال تھرٹین ڈی سے گذرتا ہوا دیکھا تھا میں اپنی گفتگو اور تحریروں میں کئی بار اس کا حوالہ دے چکی ہوں۔

ہوا یوں تھا کہ ہم بارہ ربیع الاول کو مغرب کے قریب وہاں سے گذر ر ہے تھے کہ ٹریفک جام میں پھنس گئے پتہ چلا کہ عاشقان رسول (صلعم) کا جلوس جا رہا ہے جو آگے جاکر ہمیں بھی نظر آگیا۔ چند سو لوگوں کا جلوس تھا جس میں سے کچھ لوگ عربی لباس پہنے ہوئے تھے، کچھ لوگ گھوڑوں پر سوار تھے، ایک دو اونٹ بھی نظر آرہے تھے جن پر عربی لباس پہنے عاشق سوار تھے، کچھ اونٹ گاڑیاں اور بیل گاڑیاں بھی تھیں جن پر نوجوان کھڑے ان میوزیکل نعتوں پر جو اسپیکروں پر بجائی جا رہی تھیں رقص کرنے والے انداز میں جھوم رہے تھے۔ غرض ایک عجیب ہی عالم تھا کہ اچانک قریبی مسجد سے لاؤڈ اسپیکر پر “اللہ اکبر, اللہ اکبر” کی آواز گونجی مغرب کا وقت ہوچکا تھا “بلاوہ” آرہا تھا لیکن افسوس کہ اپنے آپ کو عاشقان رسول کہلوانے والوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ مسجد بالکل نزدیک تھی اور اذان کی آواز نہایت بلند لیکن مجال ہے جو کسی نے اپنا ناچنا اور جھومنا روکا ہو یا “لبیک یا رسول اللہ” کے نعرے لگاتے ہوئے جھنڈے لہرانا چھوڑا ہو۔

مؤذن کے اشھد ان لا الہ الااللہ اور اشھد ان محمد رسول اللہ سنکر واقعی میرا دل ڈوب ڈوب گیا، یہ کیسے عاشقان رسول ہیں جو رسول کی بات نہیں مان رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اذان کو خاموشی سے سننے کا حکم دیا تھا اذان کا جواب دینا سکھایا تھا لیکن یہاں تو غل غپاڑہ مچا ہوا تھا “حی علی الفلاح” “حی علی الصلاۃ” سن کر بھی کچھ نہ ہوا۔ مجھے لگا کہ شاید جلوس روک کر سڑک پر ہی نماز ادا کی جائیگی لیکن ایسا کچھ نہ ہوا بلکہ ٹریفک میں پھنسے نمازیوں کی بھی نماز قضا ہوئی۔ جن لوگوں کو گاڑی پارک کرنے کی مناسب جگہ مل گئی انہوں نے تو قریبی مسجد میں جاکر نماز پڑھ لی باقی لوگ سڑک پر پھنسے اپنی گاڑیوں کو ادھر ادھر کرتے رہے۔ خوش گمانی سے کام لیتے ہوئے کہہ رہی ہوں کہ شاید آگے جاکر ان لوگوں نے نماز پڑھ لی ہو لیکن یہ کیا طریقہ ہے؟
کیا یہ حب رسول ہے؟
کیا عاشقان رسول کو ایسا ہونا چاہئے؟

عشق ہوتا کیا ہے؟ حد سے زیادہ محبت کرنا، معشوق کے لئے مر مٹنا، اس کے منہ سے نکلے ہر حکم کو بنا سوچے سمجھے ماننا، اس کی خوشی کی خاطر اپنی آرزوؤں، تمناؤں کو چھوڑ دینا غرض ایک سچا عاشق اپنے معشوق کی خوشی کی خاطر تن من دھن وار دیتا ہے۔ ذرا سوچئے کیا ہم واقعی سچے عاشق رسول ہیں؟

اگر ہم دنیاوی زندگی کی مثال لیں تو فرض کریں کوئی کسی سے عشق کرتا ہے وہ اپنے معشوق کے لئے گھر سجا رہا ہے، نغمے گا رہا ہے، میٹھی چیزیں پکا پکا کر بانٹ رہا ہے یہاں تک کہ دیگیں بھی پکواکر کھائی اور کھلائی جارہی ہیں لیکن وہ اپنے معشوق کی بات نہیں مان رہا اس کے کسی بھی حکم کو اہمیت نہیں دے رہا تو کیا اس کا معشوق اس سے خوش ہوسکتا ہے؟ یقیناً ہرگز نہیں۔

ہم اپنے ماں باپ کو سجے سجائے کمروں میں بٹھا دیں ان کے سامنے انواع و اقسام کی نعمتیں رکھ دیں لیکن ان کے فرمانبردار نہ ہوں تو ہمارے والدین کبھی بھی ہم سے دل سے خوش نہیں ہونگے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو وہ عظیم ہستی ہیں جنہیں دیکھ کر صحابہ کرام تک “میرے ماں باپ آپ پر قربان یا رسول اللہ” کہتے تھے اور ہمیں بھی اگر اپنا ایمان مکمل کرنا ہے تو آپ صلعم سے اپنے والدین، اولاد، بھائی بہن غرض ہر رشتے سے بڑھ کر محبت کرنی ہے اوراس محبت کا تقاضا ہے کہ نبی کریم صلعم کی ہر بات مانی جائے۔

اتوار کو بارہ ربیع الاول ہے اور ٹی وی پر خبر آرہی ہے کہ گلی کوچوں کو دلہن کی طرح سجادیا گیا ہے، ہمارے جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں بجلی کی اتنی کمی ہے کہ لوگ سالوں سے لوڈ شیڈنگ کے عذاب جھیل رہے ہیں وہاں اتنی بجلی ضایع کرنا کہاں کی عقل مندی ہے اور وہ بھی اس نبی کریم کے جشن ولادت کے نام پر جس نبی نے ایک انتہائی اہم فرض نماز کی ادائیگی سے پہلے کیے جانے والے وضو کے وقت بھی یہ سکھایا کہ کم از کم پانی سے وضو کرو تاکہ پانی ضایع نہ ہو، اسراف سے بچنے کی تلقین کی۔ وہ نبی جوعرب کے جاہلانہ دور میں ایک سمبل تھا کہ اگر کوئی جھوٹ نہیں بولتا تو وہ محمد (صلعم) ہیں۔ اگر کوئی امانت دار ہے تو وہ محمد (صلعم) ہیں۔ اگر کوئی دشمن کو معاف کر نے والا ہے تو وہ محمد(صلعم) ہیں۔ وہ محمد رسول اللہ جن کی زندگی ہم سب کے لئے بہترین نمونہ ہے اور اگر ہمیں سچا عاشق رسول بننا ہے تو نہ چراغاں کی ضرورت ہے اور نہ نعلین مبارک کی شبیہ اپنے کپڑوں پر سجا کر گھومنے کی ضرورت ہے۔

اگراپنے رسول کا جشن ولادت منانا ہے تو ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے اور عمل کرنے سے بہتر اور کوئی طریقہ نہیں جس سے اللہ اور اس کے رسول کو خوش کیا جاسکے۔ سیرت طیبہ کا مطالعہ کریں جاننے کی کوشش کریں کہ ہمارے محبت میں راتوں کو رونے والے نبی نے کیسی زندگی گذاری، کہیں خدانخواستہ ایسا نہ ہو کہ وقت گذر جائے اور ہمارے پاس سوائے پچھتاووں کے کچھ نہ بچے۔ سورہ فرقان کی آیت نمبر27 میں ہے کہ پھر لوگ پچھتاءیں گے اور کہیں گے کہ
“اے کاش میں نبی کا راستہ اپنا لیتا”

اسی طرح سورہ احزاب کی آیت 66 ہے کے لوگ کہیں گے کہ،
“اے کاش میں نے اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کی ہوتی”

خود ہمارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

“تم میں سے زیادہ عزیز اور قیامت کے دن میرے قریب بیٹھے جانے والے وہ لوگ ہونگے جن کے اخلاق اچھے ہیں اور زیادہ باتونی، بڑ ہانکنے والے اور تکبر کرنے والے مجھ سے دور ہونگے”

یہ تو صرف ایک چھوٹی سی حدیث ہے جس سے ہمیں پتہ چل گیا کہ قیامت کے روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھنے والے کون لوگ ہونگے، میرے نبی کی شفاعت حاصل کرنے کے لئے نہ چراغاں کی ضرورت نہ ہی دیگوں اور میٹھوں کی ضرورت ہے اور نہ ہی نعلین مبارک کی شبیہیں لگانے اور انہیں چومنے اور بچوں کو ان کے نیچے سے گذارنے کی ضرورت ہے، میرے نبی کی شفاعت کوئی مشکل نہیں اپنی اخلاقیات سنوار لیں اور نبی کے قریب بیٹھ جائیں اللہ اللہ،
مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام
شمع بزم ہدایت پر لاکھوں سلام۔

سوچ لیں اگرہم اب بھی نہ سنبھلے تو قیامت کے دن حضور اکرم کو کیا منہ دکھائیں گے شاید اسی لئے شاعر نے کہا تھا،
تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہائے من پذیر
ور حسابم را تو بینی ناگزیر
از نگاہ مصطفے پنہاں نگیر
(اے خدا تو دو عالم کا غنی اور میں فقیر ہوں قیامت کے دن میرے اعمال سے در گذر کرنا اور اگر حساب لینا ناگزیر ہی ٹھہرے تو اتنا کرم کرنا کہ میرے مصطفیٰ کی نظروں سے چھپا کر لینا)۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: