کچھ خلیل الرحمان قمر کی حمایت میں — خرم شہزاد

0

خلیل الرحمان قمر صاحب کو شائد اتنی شہرت اپنے کام سے نہیں ملی جتنا آج کل ان کا نام گونج رہا ہے کہ ہر خاص و عام خاتون کے لب و قلم پر بس انہی کا ذکر ملتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ آپ کیا سوچتی اور دیکھتی ہیں، سوال تو یہ ہے کہ خلیل الرحمان قمر نے جو دیکھا، اسے وہ کس طرح سے نظر انداز کر دے؟

مجھے یاد ہے کہ خاندان میں ایک بار, دو سال بڑے ایک صاحب سے تلخ کلامی ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ میاں تمہیں پتہ ہی کیا ہے، ہم نے پوچھا کبھی تھانے گئے ہیں، فورا توبہ توبہ کرنے لگے تو عرض کی کہ محترم کم از کم تھانے کا آپ سے زیادہ ہی پتہ ہے۔ اسی طرح کہوں گا کہ ہر شخص کا مشاہدہ اور مطالعہ ایک جیسا نہیں ہوتا، جہاں لوگ مختلف طرح سے ملتے ہیں وہیں لوگوں سے واسطہ پڑنے کا انداز بھی مختلف ہوتا ہے، تو کسی دوسرے شخص کو اس بات پر لعن طعن کرنا کہ وہ ایسی کوئی بات کیوں اور کیسے کہہ رہا ہے، نہ تو پڑھے لکھے ہونے کا پتہ دیتا ہے اور نہ اخلاقی طور پر درست ہے۔ اسی وجہ سے یہ سوال ضرور ہونا چاہیے کہ سب اچھا والے اس معاشرے میں جہاں ایک لڑکی شادی کے بعد ہر طرح کا ظلم سہہ کر بھی اپنے میکے میں سب اچھا کی کہانی سناتی ہے کیا اس معاشرے میں ہمیشہ ہی سب اچھا کہا جاتا رہے گا یا سچ بھی کبھی بیان کیا جا سکے گا؟

قمر صاحب کے انٹرویو کے بعد خواتین تو بالکل سسرالی ہوئی بیٹھی ہیں کہ جیسے سسرال میں بہو کو سامنے بٹھا کر میکے فون کروایا جاتا ہے ویسے ہی یہاں بھی خواتین کی خواہش ہے کہ مرد ان کے سامنے بس اچھے اچھے خیالات کا اظہار کریں، میٹھی میٹھی باتیں کریں، لب و رخسار کے قصے کہیں، شاعری ہو، قصیدہ ہو اور تعریفوں کے پل باندھے جائیں اور بس۔ پھر جب مائیک ان کے ہاتھ آئے تو وہ بول سکیں کہ مرد ظالم اور کمینہ ہوتا ہے جو صدیوں سے عورت کے حقوق کھا رہا ہے، ان پر کون سے پہاڑ ہیں جو نہیں توڑے جا رہے اور کون سی جگہ ہے جہاں وہ ذلیل نہیں ہو رہی۔ کوئی نہیں پوچھے گا کہ بھئی آپ اب جواب میں کچھ اچھا اچھا کیوں ارشاد نہیں فرما رہیں کہ میں توانوں ملک آکھیا سی، ہن تسی سانوں ملک آکھو لیکن ایسا بھلا کہاں ہوتا ہے؟ جب نہیں ہوتا تو مردوں کو بھی بولنے دو تاکہ پتہ چلے کہ وہ کیا سوچتے ہیں۔

خواتین کو خلیل الرحمان قمر صاحب کے پورے انٹرویو میں اگر کوئی بات سمجھ آئی تو وہ صرف یہ کہ عورتوں نے اگر برابری کرنی ہے تو چار چھے عورتیں جائیں اور کسی مرد کو اغوا کر لیں، تب میں بھی مانو کہ واقعی برابری کی بات کی جا رہی ہے۔ بہت معذرت چاہوں گا کہ خلیل الرحمان قمر صاحب کا مشاہدہ ذرا سا کمزور ہے اور وہ جس گہرائی سے معاشرے کو دیکھنے کی بات کرتے ہیں وہ بس بات ہی ہے کیونکہ آنکھوں سامنے کی حقیقت تو انہیں پتہ نہیں، نفسیاتی اور دوسرے پہلووں پر وہ کیا بات کریں بھلا۔ باقی شہروں کی کیا بات کریں کہ صرف لاہور میں بوائز کالجز کے باہر پولیس والوں کی تعیناتی کی خبریں تو ہم برسوں پہلے پڑھ چکے ہیں اور اس تعیناتی کی صرف ایک وجہ ہوتی تھی کہ لڑکیاں مختلف گاڑیوں اور گروپوں میں بوائز کالجز پر چھٹی کے وقت حملہ کرتیں اور نہ صرف لڑکوں کو چھیڑتی اور بد تمیزی کرتیں بلکہ ہفتہ آدھ میں ایک آدھ اغوا کا کیس بھی سامنے آ جاتا تھا۔ اخبارات قطارمیں لگی ان لڑکیوں کی تصاویر بھی چھاپتے تھے لیکن بات آئی گئی اس لیے ہو جاتی تھی کیونکہ لڑکیاں بڑے گھرانوں سے تعلق رکھتی تھیں اور بڑے گھرانے جو کچھ بھی کریں ہمارے معاشرے میں عموما ان کی باتوں کو سننے اور چسکے لینے کے بعد دفع کرو جی مٹی پاو والا رویہ دیکھا جاتا ہے اور یوں بہت سے معاملات کے ساتھ یہ بات بھی ہماری ڈالی ہوئی مٹی کے نیچے دفن ہو گئی۔

مقام حیرت ہے کہ ہم پوری زندگی میں شائد دو چار دفعہ کسی پولیس والے کو سو پچاس روپے رشوت دینے نے مرتکب ہوتے ہیں لیکن ساری زندگی پورے محکمہ پولیس کے حرام خور ہونے کی کہانیاں سناتے ہیں۔ ہم کسی ایک کونسلر کے پاس کوئی درخواست لے کر گئے ہوتے ہیں لیکن کام نہ ہونے کے بعد تما م ارکان قومی و صوبائی اسمبلی بمعہ اداروں کے خلاف ڈھول لے کر بازار میں نکل آتے ہیں لیکن یہاں تو خلیل الرحمان قمر کامے اور بریکٹ لگا کر بتا رہا ہے کہ وہ عورت کی عزت کرتا ہے، اس کی حیا کو مانتا ہے ماسوائے گندے کردار کی عورت کے جسے وہ عورت نہیں سمجھتا، ماسوائے اس عورت کے جو اپنی بند مٹھی کسی اور مرد کے آگے کھول دے۔ سوال یہ ہے بجائے اس شخص کی ہاں میں ہاں ملانے کے یہاں ہر پڑھی لکھی، سمجھدار اور عزت دار عورت بھی چھری کانٹے بیلن اور چمٹے سے لیس خلیل الرحمان قمر پر حملہ آور ہے۔ خدارا بولنے کی اگر آزادی نصیب ہوئی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنی ہی عزت اچھالنے لگیں اور اپنا آپ کسی غلط عورت کے ساتھ ملا کر فخر کریں یا اسے اپنے ساتھ بیٹھا کر صرف اور مرف مرد کی مخالفت میں اپنے شفاف دامن کو بھی داغدار کریں اور اپنے نتھرے کردار پر سوالیہ نشان لگوانے کی کوشش کریں۔ خلیل الرحمان قمر نے صرف چور کی داڑھی میں تنکا نہیں کہا بلکہ چوروں کا نام لیا ہے، پوری نشانیاں بتائی ہیں، آپ سب خواتین سیخ پا ہو کر کس طرح کے سوالوں کو جنم دینے کے لیے کوشاں ہیں کچھ اس پر بھی سوچیں کہ میں تو ایسی کوئی بات کہنے اور لکھنے میں بھی شرم محسوس کرتا ہوں۔ ماں باپ کی لاج رکھتے ہوئے چپ کر کے شادی کر لینے والی، اپنے سسرال کی ہر سختی برداشت کر لینے والی، اپنے شوہر کی مالی تنگدستی میں گزارا کر لینے اور بچے پال لینے والی، اپنی عزت اور ناموس کی حفاظت کر لینے والی ایک عورت بھلا کیا اس عورت کے برابر ہو سکتی ہے جو شادی سے پہلے دوسروں کی دسترس میں رہے، جو شادی کے بعد بھی کئی بستر آباد کرتی ہو، جسے بچے بوجھ لگیں اور جسے میاں کی کم کمائی میں فیشن پورے نہ کرنے کا خیال دوسروں سے تحفے تحائف لینے اور کچھ دینے پر اکسائے۔

گولی مارئیے خلیل الرحمان قمر کو، صرف آپ اپنے ضمیر کو سامنے رکھتے ہوئے بتائیے کہ کیا آپ ایسی دو عورتوں کو برابری کا درجہ دے سکتی ہیں؟ کیا آپ ایسی دو عورتوں کو برابر عزت دے سکتی ہیں؟ ایک بار پھر معذرت کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ایک عورت اپنے شوہر کو کسی دوسری عورت کے ساتھ صرف ہنستے اور چائے کا ایک کپ پیتے دیکھ لے تو دونوں سے کوئی سوال کرنے سے پہلے ہی اس دوسری عورت کو کمینی، کتیا، حرافہ، بد کردار، نیچ خاندان کی، گھر برباد کرنے والی، تارے لانی جیسے کئی القابات سے نواز دیتی ہے اور اس سب کے بعد وہ شوہر سے یہ پوچھتی ہے کہ بتاو اس ماں سے تمہارا کیا رشتہ ہے جو اس کے ساتھ ہنس ہنس کر چائے پی رہے تھے؟ ایسے معاشرے میں جب خلیل الرحمان قمر یہ کہتا ہے کہ وہ کسی بدکردار عورت کی عزت نہیں کرتا تو سبھی اس کے خلاف ایسے ایسے بول رہی ہیں کہ خدا کی پناہ۔ اس شخص کی ذات پر ایسے ایسے الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ سیاست دان بھی شرمندہ نظر آئیں۔ اس کے برسوں کے کام اور محنت کو ایک طرف رکھتے ہوئے صرف اس کے چند جملوں کی بنیاد پر، جن کی آپ کو پوری طرح سمجھ بھی نہیں، آپ اپنے خیالات میں اس کے خلاف پورا محاذ ترتیب دئیے ہوئے ہیں کیا یہی آزادی اظہار ہے اور کیا یہی اختلاف کرنے والوں سے پیش آنے کا پڑھے لکھے، عزت دار لوگوں کا رویہ ہے؟ عورت قابل عزت ہے اور اس کی عزت کرنا مرد پر فرض ہے لیکن عورت پر بھی اس عزت کو برقرار رکھنے کی وجہ مہیا کرنا فرض ہے۔ میری طرح خلیل الرحمان قمر بھی ایک عزت دار، با حیا اور قربانیاں دینے والی عورت کے دفاع اور حقوق کی بات کر رہا ہے اور آپ اگر کسی بے کردار، بے حیا اور تہذیب سے عاری کو بھی عورت کہتے ہوئے پہلے نہیں بلکہ صرف اور صرف اس کے لیے بات کرنے پر مصر ہیں تو بھلا آپ سے کیا بات ہو سکتی ہے؟

یہ بھی پڑھیں: خلیل قمر صاحب منٹو بنو ۔۔۔۔۔۔۔ لالہ صحرائی
(Visited 1 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: