نواب محمد بن سلمان کی کرامات — فرحان کامرانی

0

ہم نے پیریڈ فلموں میں دیکھا ہے کہ جب بادشاہ اپنے درباروں میں جلوہ افروز ہوتے تو ایک آواز لگانے والا بڑے زوروں سے ان کی آمد کا اعلان کرتا اور حاضرین دربار کی نگاہیں جھک جایا کرتیں اور وہ بالکل ساکت ہو جایا کرتے جیسے کہ ان کو سانپ سونگھ گیا ہو۔ طاقت والوں کی تو آج تک یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کو ایسا ہی استقبال ملے مگر ظاہر ہے کہ بادشاہوں کا مقابلہ کوئی کیسے کر سکتا ہے؟

دور قدیم کے بادشاہوں میں کچھ ہو یا نہ ہو مگر ایک بات ضرور ہوتی تھی کہ وہ اپنی خواہشات پر چلا کرتے تھے اور اپنی ہر خواہش کو پورا کرنے کے لیے وہ بے پناہ طاقت حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگے رہتے۔ کسی دوسرے کے آگے سر جھکا دینا ہی بادشاہ کے لیے موت کے ہم معنی ہوتا تھا۔ رضا شاہ پہلوی تو نہ دور قدیم کا بادشاہ تھا نہ ہی اس کو اس نوع کی مطلق بادشاہی ہی کبھی نصیب ہو سکی جو اس کے باپ رضا شاہ کبیر کو ہی حاصل تھی مگر پھر بھی بادشاہت لفظ میں ہی اتنا نشہ ہے کہ جب رضا شاہ سے تخت چھنا تو وہ اس کے ایک سال بعد ہی اپنی موت آپ ہی مر گیا۔یہ ہی حال کم و بیش آخری تاجدار ہند کا بھی ہوا تھا حالانکہ ان کو تو کبھی صحیح معنوں میں حکومت ملی ہی نہیں اور وہ تو محض ”سیریمونیل“ بادشاہ ہی تھے۔

حقیقی بادشاہ تو اپنی انا کے لیے، اپنے وعدوں اور معاہدوں کے لیے (کہ انھوں نے اپنی زبان دے دی) اپنی مملکتیں لٹوا دیا کرتے تھے۔ اپنے سر کٹوا دیا کرتے تھے۔ تاریخ عالم اس بات پر شاہد ہے کہ جرمنی کے آخری تاجدار کے لیے آسٹرو ہنگرین امپائر کے شاہزادے آرک ڈیوک فرانزفرڈینیڈ کے قتل کا انتقام لینا ہر گز ضروری نہیں تھا مگر بادشاہ تو بادشاہ ہی رہے گا اسلئے اس جنگ میں اس نے اپنی سلطنت گنوادی۔

خیر یہ سب حقیقی بادشاہوں کی باتیں ہیں مگر ایک اور تجربہ بھی بادشاہت کے ذیل میں برصغیر میں پیدا ہوا جو کہنے کو بادشاہت ہی کی ایک شکل تھی مگر حقیقتاً تحقیر بادشاہت کے علاوہ کچھ نہیں تھی۔ جب 1857 میں جنگ آزادی ناکام ہوئی تو برطانیہ نے برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کو قومیا لیا اور یوں ہند کی حکومت براہ راست تاج برطانیہ کو مل گئی۔ اب برطانیہ نے کمپنی بہادر کی چھوٹی ریاستوں کو ختم کر کے مرکزی حکومت میں شامل کرنے کی پالیسی کو ختم کر دیا۔ اس کی جگہ چھوٹی ریاستوں کو کچھ شرائط، بھاری باج اور برطانیہ کی حاکمیت اعلیٰ کے تسلیم کرنے کے وعدے پر جزوی اقتدار دے دیا۔ اس طرح کے لاتعداد ننھی منی ”بادشاہتیں“ تاج برطانیہ کے سائے تلے پلنے لگیں، اس کے نواب اور راجہ اپنے دربار سجایا کرتے۔ اپنی عوام پر نت نئے احکام صادر فرماتے۔ اپنی پولیس اور عدالتی نظام چلاتے اور خود کو بڑے بڑے القاب سے نوازتے رہتے۔ یہ شہنشاہیت کا مذاق آزادی کے ساتھ ہی بھارت میں اور صدر ایوب کے دور میں پاکستان میں ختم ہو گیا۔ ان ”عالم پناہوں“، ”عالیجاہوں“ کے پاس مشاعرے کرانے، محلات تعمیر کرانے، مجرے کرانے اور اسی نوع کے بہت سے مشاغل ہوا کرتے۔ کبوتر بازی، کتوں کی لڑائی، نت نئے جانور پالنے کا شوق اور اسی قسم کی عادات ان کا وصف ہوتیں۔ یہ لوگ بادشاہت کے ایک رخ کا گھٹا ہوا اظہار تھے اور شاہی ”جاہ و جلال“ ان کے پاس صرف اپنی ہی عوام کے لیے تھا۔ ان کی غرور سے اکڑی شاہی گردن برطانوی ریذیڈنٹ کے سامنے بالکل جھکی رہتی۔

ہمارے وطن میں تو یہ تجربہ صدر ایوب کے دور میں ختم ہو گیا مگر یہ تجربہ سلطنت عثمانیہ کی جنگ عظیم اول میں شکست کے ساتھ ہی پارہ پارہ ہونے سے عالم عرب میں برپا ہوا۔ اب عربستان میں نام نہاد بادشاہوں لیکن بل اصل نوابوں نے جنم لیا۔ پھر ان نوابوں کو تیل کی دولت مل گئی۔ ان نوابین نے بھی ہوبہو وہی کچھ کیا اور کر رہے ہیں جو ہماری پرسنلی اسٹیٹس کے حکمران کیا کرتے تھے۔ عالم اسلام کے سب سے بڑے نواب زادے محترم محمد بن سلمان صاحب مغربی اخبارات میں اپنی طبع شاہانہ اور نئے دور کے خیالات کی وجہ سے بڑی دھوم مچاتے رہتے ہیں۔ ۲ سال قبل محترم نے پانچ سو ملین ڈالر کا بحری جہاز خریدا جو ان کے ذاتی تصرف میں ہے۔ محترم نے لیانارڈو ڈاؤنچی کی بنائی ہوئی یسوع مسیح کی تصویر Salvator Mundi یعنی ”دنیا کا مسیحا“ چار سو پچاس ملین ڈالر میں خریدی (جو اب تک دنیا میں خریدا گیا سب سے مہنگا فن پارہ ہے) پھر آپ نے شہنشاہ لوئس چہار دہم کا پیرس کے مضافات میں واقع محل (جو 57 ایکڑ پر محیط ہے) 300 ملین ڈالر میں خریدا۔ یہ تو تھوڑی پرانی باتیں ہیں۔ نواب صاحب نے نے اپنے وطن میں بھی بڑے شاندار محلات بنا رکھے ہیں اور آپکے اللے تللے اتنے ہیں کہ یورپ اور امریکہ کے حکمران اور بڑے بڑے راؤساء بھی آپکو رشک سے تکتے ہیں۔ نواب صاحب کا اقبال بلند ہو!۔

ملک میں نواب صاحب نے چند سال قبل بدعنوانوں سے سختی سے نمٹا اور بدعنوان نواب زادوں کو الٹا لٹکا کر ان کی جیبیں کھنگال لیں کہ ان میں جائز پیسہ کتنا ہے اور ناجائز کتنا ہے؟ مگر نواب صاحب سے کون کہے کہ بات اگر جائز اور ناجائزکی ہوئی تو بہت دور تلک جائے گی۔ کیا اس قدر دولت کا اس طرح ایک دو ہاتھوں میں ارتکاز ہی بجائے خود بدعنوانی نہیں ہے؟ اس دنیا میں جہاں ہزاروں لاکھوں انسان دن میں ایک وقت کی روٹی کے لیے ترستے ہیں، لیانارڈو ڈیونچی کی تصویر 450 ملین ڈالر کی خرید لینا کیا نا انصافی کے زمرے میں نہیں آتا؟ مگر نواب محمد بن سلمان صاحب تو مغرب کی آنکھوں کا تارا ہیں۔ اس لیے کہ انھوں نے اپنے وطن میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دے دی ہے (اور اب تو موٹر سائیکل چلانے کی بھی اجازت مل گئی ہے) اتنے آزاد خیال نواب کو مغرب کا سلام محبت تو بنتا ہی ہے۔

کاش نواب صاحب واقعی شہنشاہ ہی ہوتے۔ وہ صرف محل نہ خریدتے بلکہ ان کی ایک شاہی انا بھی ہوتی جو صرف انہی جیسے لولے لنگڑے قطر اور یمن یا مفلوک الحال ایران یا صرف کسی جلاوطن صحافی تک ہی محدود نہ ہوتی بلکہ امریکا اور اسرائیل کو بھی شہنشاہ صاحب اپنی انا کے زیر اثر ہی للکار پاتے۔ مگر افسوس ایسا نہیں ہے، نواب صاحب کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ان کے اقتدار اور اختیار کی حدود کہاں سے شروع ہوتی ہیں اور کہاں پر ختم ہو جاتی ہیں۔ واقعی بادشاہوں کی بے بسی بڑی عجیب شے ہے، اس سے آزاد تو درویش کی زندگی ہے، اسی لیے اقبال نے کہا تھا،

نگاہ فقر میں شاہی و خسروی کیا ہے
خراج کی جو گدا ہو وہ قیصری کیا ہے

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: