میڈیکل کالج کا آخری دن‎ ——– محمد شافع صابر

0

تو لیجیئے جناب، آج “داستان اپنے اختتام کو پہنچ گئی “۔ میڈیکل کالج کا پانچ سال کا سفر آج اختتام پذیر ہوا۔ اس کالج میں آخری دن بھی گزر گیا۔کالج کے یہ پانچ سال ایک عجب سی داستان تھی، جو نشیب و فراز سے مزین تھی۔

میڈیکل کالج کا سفر دو نومبر 2014 سے شروع ہوا تھا اور آج دو نومبر 2019 کو ختم ہو گیا۔ مجھے آج بھی نومبر کا وہ دن یاد ہے، جب ہمارا اس کالج میں پہلا دن تھا ۔ ہم سے کالج کے پرنسپل اور وائس پرنسپل اور دیگر پروفیسرز کا تعارف کروایا گیا، آج جب ہم کالج کلیرنس کروانے گے تو یوں محسوس ہو رہا تھا کہ یہ پانچ سال کا سفر تو پلک جھپکتے ہی کہیں گزر گیا ۔

کالج کے پہلے دن یہ احساسات تھے کہ یہ عرصہ کیسے گزرے گا، آج جب کالج میں جب آخری دن تھا تو یوں لگ رہا تھا کہ یہ پانچ سال اتنی جلدی گزر کیسے گئے۔لیکن پانچ سال پہلے کے نومبر اور آج کے نومبر میں بڑا فرق ہے۔ نومبر 2014 میں کوئی دوست نہیں تھا، اور نومبر 2019 میں فیملی جیسے دوست ہیں، جو کہ زندگی کا اہم حصہ بن چکے ہیں ۔

میڈیکل کالج کے پانچ سال ہوتے ہی ایسے ہیں ، خوشیوں، لڑائیوں اور یادوں سے بھرپور ۔ ہر دن کوئی نا کوئی ایسا واقعہ ہو جاتا ہے جو ساری عمر کے لئے یادوں کا حصہ بن جاتا ہے۔

کالج کے جھگڑے، روزانہ کی لڑائیاں، گروپنگ یہ تو پانچ سال ساتھ چلتے ہی رہتے ہیں، لیکن افسوس تب ہوتا جب اپکو احساس ہوتا کہ آج کے دن کے بعد ایسا نہیں ہو گا۔

دوستوں کا اکھٹے باہر جانا، بنک مارنا، دوست کی غیر موجودگی میں اسکی جگہ رکھنا، لالہ کے کیفے میں اکھٹے ناشتہ کرنا، ڈھیر ساری پروکسی لگانا، کالج کے ٹورز اور فنکشن، یہ سب جو یادوں میں محفوظ ہو چکے ہیں، ان سب خوشیوں کا آج آخری دن تھا۔

یہ کلاس (2014-2019) عجیب ہے۔ اس کا ہر فرد دوسرے سے منفرد ہے ۔ یہ کلاس مسلسل تین سال سے کلاس آف دی ائیر بنتی چلی آ رہی ہے۔ کالج کے ہر فنکشن میں یہ کلاس فل انرجی سے ساتھ حصہ لیتی رہی ہے تو وہی تعلیم میں بھی اس کلاس نے ہمیشہ اچھے رزلٹس دئیے ہیں ۔ یہ کلاس اگر لڑائیوں کی وجہ سے مشہور ہے تو اسکی unity بھی قابل رشک ہے۔

ہم نے کھبی سوچا نہیں تھا کہ دو نومبر 2014 سے شروع ہونے والا سفر جب دو نومبر 2019 کو ختم ہو گا تو ہم اتنے اداس ہوں گے ۔ یہ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان پانچ سالوں میں ایسے دوست ملیں گے جن کے بنا ہم رہنے کا سوچ بھی سکیں گے۔ ان کے ساتھ ایسی یادیں بنیں گی جو ساری زندگی ہمارے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرتی رہیں گی۔

میڈیکل کالج کے ان پانچ سالوں میں کچھ افسردہ لمحات بھی آئے۔ کچھ بہت ہی اچھے دوست ساتھ چھوڑ گئے، کچھ نے راستہ بدل لیا۔ آج بھی انکی کمی محسوس ہوتی ہے۔ انکے ساتھ بیتے پل آج بھی یاد آتے ہیں ۔وہ ہمیشہ اس کلاس کا حصہ رہیں گے ۔

یہ پانچ سال کا سفر بہت ہی منفرد تھا، ہر جگہ اس کلاس نے اپنی unity برقرار رکھی۔ کچھ غلط فہمیاں بھی ہوئیں ہوں گی لیکن خوشیاں اور یادیں انکا کسی نا کسی حد تک ازالہ کر ہی دیتی ہیں ۔

ان پانچ سالوں میں بے شمار یادیں بنیں ۔ لاتعداد لڑائیاں لڑی، لاکھوں بنک مارے، ڈھیروں پروکیساں لگائیں۔۔ کالج لان میں بیٹھ کر سارے معاملات حل کیے ۔ فنکشن ارینج کیے۔ گویا اپنی طرف سے اس سفر کو خوبصورت بنانے کی ہرممکن کوشش کی، میرے خیال میں ہم اس میں کچھ کامیاب بھی ٹھہرے ۔

کالج کے آج آخری دن ہم سبھی پرانی باتوں کو یاد کر کے مسکرا رہے تھے وہی غمگین بھی تھے کہ ان دوستوں کے بنا چھٹا سال کیسے گزرے گا؟؟ کیا ہم دوبارہ ایسے اکھٹے ہوں گے، ایسا ہنسی مزاق کریں گے؟؟ ایک گروپ بنا کر ایک دوست کو زلیل کریں گے؟؟ کیا ایک بندا ہمیں ٹریٹ دیا کرے گا؟؟ جب بھی ان سوالوں کا سوچو۔۔۔تو اداسی کی ایک لہر پورے جسم میں دوڑنے لگتی ہے۔ اور ان سوالوں کا جواب ابھی تک ہم ڈھونڈ سکے۔

کہتے ہیں کہ کالج کے دوست، ساری عمر آپکا ساتھ نبھاتے ہیں ۔ ہم سب پرامید ہیں کہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ لیکن جب یہ سوچتے ہیں کہ جن کے ساتھ پانچ سال اکھٹے گزارے تھے، انکے بنا اگلا سال کیسے گزرے گا، ہم سب سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں لیکن کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملتا۔

آج کالج کے آخری دن ہم سب دوست نہایت افسردہ تھے ،وہ درد الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ آج کالج کے آخری دن، جب سارے دوست باہر کھانا کھانے گئے تو ایک عجب سی خاموشی تھی، شاید یہ ساتھ چھوٹنے کا غم تھا ۔ جب ہم ایک دوسرے کو گلے ملے تو آنسوؤں کی لڑی آنکھوں سے رواں تھی ۔۔۔شاید ہم اسی وجہ سے انسان ہیں کیونکہ ہم احساسات رکھتے ہیں ۔ سب ایک دوسرے کو تسلیاں دے رہے تھے کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔۔ہم ہمیشہ یوں ہی ملتے رہیں گے ۔۔یادیں بناتے رہیں گے۔

کالج کی ان یادوں کا بوجھ بڑا وزنی ہے۔ ہمیں امید ہے ہم ان یادوں کو یونہی سنبھال رکھیں گے۔۔جب کبھی زندگی کوئی نیا راستہ اختیار بھی کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ یادیں ہماری ہمسفر رہیں گی اور ہمیں ہنساتی رہیں گی۔

آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہوں کہ وہ کلاس (2014-2019) کو کامیاب کرے، ان سب کو اچھا ڈاکٹر بنائے، ان سب کے سارے خواب پورا کرے، انکو زندگی کے ہر مقام پر ترقی دے اور انکو ہر خوشی سے نوازے ۔امین

 

(Visited 1 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: