پاکستانی عوام کا متوازن اجتماعی شعور۔ جلیل عالی

0

پاکستانی عوام کا اجتماعی شعور بہت متوازن ہے۔ یہ چیک اینڈ بیلیس کے پراسس کو خوب سمجھتے ہیں ۔ ان کی اجتماعی رائے کو رد کرنے کی کوششیں آخر آ خر ناکام ہوتی ہیں۔
ایک زمانے میں ادبی پرچوں میں نعت کا داخلہ ممنوع تھا ۔شعری واردات میں حضور صلعم سے تعلق جھلکنے کی اقبالی روایت پہلے پہل منیر نیازی کی غزلوں میں سامنے آئی
فروغِ اسمِ محمد ہو بستیوں میں منیر
قدیم یاد نئے مسکنوں سے پیدا ہو
اور آج نہ صرف بیشتر شاعر اپنے مجموعوں کے آغاز میں نعتیں شامل کر رہے ہیں بلکہ ایک آدھ استثنا کے ساتھ تمام ادبی پرچے بھی حمد و نعت سے آغاز کرتے ہیں۔
’’کنھے کنھے جانا ایں بلو دے گھر‘‘ سے شروع ہونے والا پاپ میوزک کا سفر نصرت فتح علی خان کی پیروی میں کلاسیکی گھرانوں کے بچوں کے گائے ہوئے عارفانہ کلام تک پہنچ چکا ہے۔
عوامی سطح پر نعت خوانی کی محفلوں نے اپنے تہذیبی تشخص کا ایسا دفاع کیا ہے کہ دشمن تلملا کر رہ جاتے ہیں۔
مہذب بھارت میں منظم سیاسی پارٹیوں کے کارکن ہمارے کھلاڑیوں اور فنکاروں کے خلاف پر تشدد مظاہرے کرتے ہیں اور ادھر کبھی کسی مولوی نے انفرادی سطح پر بھی بھارتی مہمانوں کو اوئے تک نہیں کہا۔
بھارت میں شاعری اور گلوکاری لازم و ملزوم ہیں ۔ہمارے ہاں گلو کاری کوکمزور شاعری کا پردہ تصور کیا جاتا ہے۔
اُدھر انہتر سال جمہوری تسلسل اور سیکولرزم کے پرچار کے باوجود بنیاد پرستوں کی اکثریت منتخب ہو کر اسمبلی میں آ جاتی ہے اور حکومت بھی بنا لیتی ہے ۔ادھرہمارے اجتماعی شعور سے گبھرا کر لگائے جانے والے مارشل لا وں مین ملائیت کی پرورش کے باوجود مزہبی انتہا پسندی کو برائے نام بھی ووٹ نہیں ملتے۔
آج جب پاکستان کے نام نہاد اشتراکیوں ،آزاد خیالوں اور سیکولرسٹوں کو عالمی سامرا ج کی ریشہ دوانیوں کے خلاف بات کرنے کی بھی توفیق نہیں ہوتی پاکستانی عوام کا اجتماعی شعور اس حوالے سے کہیں زیادہ بیدار ومستعد ہے۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: