شیخ الا کبر محی الدین ابنِ عربی : ایک تعارفی مطالعہ —- عامر سہیل

0

ابنِ عربی کا پورا نام ابوبکر محمدبن العربی الحاتمی الطائی ہے۔ اکثر مآخذ میں اُن کی کنیت ابوبکر اور کچھ تذکرہ نگاروں نے عبداﷲ درج کی ہے۔ عین ممکن ہے کہ وہ اپنے عہد میں اِن دونوں حوالوں سے معروف ہوں۔ آ پ مشرق میں ابنِ افلاطون اور ابنِ سُراقہ کی کنیت سے بھی جانے جاتے ہیں۔ ابنِ عربی اپنے عقیدت مندوں اور مقلدوں میں ’’شیخِ اکبر‘‘ کے خطاب سے خاص شہرت رکھتے ہیں، لقب ’’محی الدین‘‘ ہے۔ آ پ ۱۷ / رمضان ۵۶۰ھ، بمطابق ۷ا/اگست ۱۱۶۵ء کوجنو بی سپین کے شہر مُرسیہ میں پیدا ہوئے۔ خاندان کا تعلق بنو طے سے ہے۔ اسلام کی فکری روایت میں ابن عربی اپنے مخصوص نظریہ تصوّف، فلسفہ اور کشف کے باعث ایک جداگانہ حیثیت کے مالک ہیں۔ ان کو محض صوفی یا فلسفی کہنا درست نہیں، کیوں کہ ان کی فکر کا دائر ہ اہم سماجی اور اسلامی علوم مثلاً قرآن کی تفسیر، علمِ حدیث، اصولِ فقہ، الہٰیات، فلسفہ، تصوّف، صرف و نحو، سیرت، وقائع نگاری، نفسیات، صوفیانہ شاعری، مابعدالطبیعیات اور فلسفہ زمان و مکان کے پیچیدہ مسائل تک پھیلا ہوا ہے۔

ابن عربی کا علمی مقام و مرتبہ کتنا بلند ہے اس کی ایک ادنیٰ جھلک محمد سہیل عمر کے بیان میں دیکھی جا سکتی ہے:

’’ہماری عرفانی روایت ایک نظامِ شمسی ہے جس کا مدار شیخ اکبر محی الدّین ابن عربی ہیں۔ ان کے ہاں بیان ہونے والا تصورِ حقیقت اپنی تمام تفصیلات اور اطلاقات سمیت، ہمارا کُل ورثہ ہے۔ ہم مابعدالطبیعی حقائق کا جتنا بھی علم اور تجربہ رکھتے ہیں، وہ سارے کا سارا انہی کا فراہم کردہ ہے۔ شیخ اکبر کا ایک بڑا امتیاز یہ ہے کہ انھوں نے حقائق کے جو علمی اور احوالی مراتب دریافت کیے، اُن سے ایک پوری عرفانی کائنات کی تشکیل ہوئی۔ حقائق کے حصول و حضور کی پوری درجہ بندی کر کے حقیقت کبریٰ کے حتمی اعتبار اور قطعی محل کی تعیین، ابنِ عربی کا وہ کارنامہ ہے جس کی بدولت ہمارے عرفانی اصول اور قواعدکا قیام عمل میں آیا۔‘‘ ۱؂

ایران کے معروف عا لم اور محقق سیّد حسین نصر اپنی بصیرت افروز تصنیف Three Muslim Sages” ” (تین مسلمان فیلسوف اُردو مترجم محمد منور) میں ابن عربی کی قدر و قیمت کا ذکر ہوئے کہتے ہیں:

’’ ابن عربی کے ظہور میں آنے کے ساتھ ما بعد الطبیعیات و کونیات کے لحاظ سے بھی اور نفسیات و انسانیات کی رو سے بھی تصوف کے بارے میں ہمارا واسطہ اچانک ایک ایسے وسیع الحدود اور کامل نظریے سے پڑتا ہے، جہاں بادی النظر میں تصوّف کی روایت ٹوٹتی ہوئی یا خود تصوّف کے اندر ہی ایک نیا موڑ اختیار کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔‘‘ ۲؂

تاریخ فلسفہ اسلامی کا مطالعہ کریں تو اندازہ ہو گا کہ امام غزالی، الکندی، ابن رشد، ابن سینا، ملا صدرا، اور ابن خلدون وغیرہم نے مخصوص علوم پر الگ الگ اصناف میں لکھا اور نام پیدا کیا۔ ابن عربی کا اسلوب اپنے متقدمین، متا خرین اور معاصرین سے یکسر منفرد رہا۔ وہ کثیرالاجزا علوم کو باہم مربوط کر کے نتائج اخذ کرنے کی طرف مائل تھے۔ ان کا نظامِ فکر کثرت میں وحدت کا نظارہ کرنے پر قادر ہے۔ اُن کے ہاں فکر کے تمام سرچشمے، کائنات کی سچائیوں کو سمیٹ کر ایک ایسا کُل (whole) تشکیل دیتے ہیں جہاں صداقت نُور کی صورت مجسم ہو کر اپنا جلوہ دکھاتی ہے۔ شیخ اکبرکی فکر کا نقطہء ما سکہ فلسفہ وحدت الوجود ہے، وحدت کایہ عرفانی تصوّر اُن کی فکر کا ایک ایسا مستحکم عنصر ہے جو علوم و فنون کی درجہ بندی اور نتائج کی ترتیب کے دوران پوری طرح فعال نظر آتا ہے۔ ان کی تحریروں میں گہری بصیرت اور رمزیت کا جہانِ معنی پوشیدہ ہے۔ علائم و رموز کی پیچیدگی اور ابلاغ کی تمام تر مشکلات کے باوجود مشرق و مغرب میں ان کی مطبوعہ اور غیر مطبوعہ تصانیف کا چرچا عام ہے۔

ابن عربی سے کئی سو کتابیں منسوب چلی آرہی ہیں، جن میں سے بیشتر غیر مطبوعہ اور مخطوطات کی شکل میں عظیم کتب خانوں کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ ویسے ان کی عمومی شہرت کا مدار صرف دو کتابوں ’’فصوص الحکم‘‘ اور ’’فتوحاتِ مکیّہ‘‘ پر ہے۔ گذشتہ چند برسوں میں مغرب نے ابن عربی کی طرف خاص توجہ دی اور دیکھتے ہی دیکھتے انگریزی، فرانسیسی، ہسپانوی، اطالوی اور جرمن جیسی اعلیٰ ترقی یافتہ زبانوں میں نہ صرف شیخ اکبر کی عربی کتابوں کے تراجم ہوئے بلکہ تشریحی و توضیحی اور سوانحی کتب کا معقول ذخیرہ منظرِ عام پر آیا۔ برطانیہ کے ایک اشاعتی ادارے ’’عنقاء‘‘ Anqa)) نے حا ل ہی میں ابن عربی پرآٹھ انگریزی کتب شائع کر کے شیخ اکبر سے اپنی بے پناہ محبت و عقیدت کی روشن مثال قائم کر دی ہے۔

پاکستان میں بھی کام کی رفتار خاصی حوصلہ افزا ہے، فصوص الحکم کا پہلا اردو ترجمہ انیسویں صدی کی آخری دہائی میں عبدالغفور دوستی کی ذاتی کاوش سے سامنے آیا، یہ لفظی ترجمہ زیادہ مقبول نہیں ہو سکا، بعد ازاں محمد برکت اﷲ لکھنوی فرنگی محلی نے ۱۹۰۱ء میں اسی لفظی ترجمے کو بامحاورہ اردو میں منتقل کر کے مطبع مجتبائی لکھنو سے شائع کرا دیا۔ اس کا دوسرا عکسی اڈیشن، تصوف فاؤنڈیشن، لاہور نے ۱۹۹۹ء میں چھاپ کر بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے، ’’فتوحات مکیہ‘‘ کا پہلا اردو ترجمہ بھی اسی فاؤنڈیشن کا شائع کردہ ہے، ایک تحقیقی اندازے کے مطابق ابن عربی کی یہ ضخیم تصنیف پندرہ ہزار صفحات پر پھیلی ہوئی ہے۔ ’’فصوص الحکم‘‘ کا ایک اور مستند اردو ترجمہ مولانا محمد عبدالقدیر صدیقی (نذیر پبلشرز، لاہور، طبع اول۱۹۹۲) کا ہے۔ جو معیاری ترجمہ کی عمدہ مثال ہے۔

’’ ابن عربی فاؤنڈیشن پاکستان‘‘ کا قیام اگرچہ ۲۰۰۷ء میں عمل پذیر ہوا، لیکن اتنی کم مدّت کے باوجود سن ۲۰۱۰ء تک یعنی صرف تین قلیل برسوں میں ابن عربی پر سولہ(۱۶) کتب و رسائل اردو میں طبع کر چکے ہیں اور مزید اہم کام اشاعت کے مختلف مراحل سے گذر رہا ہے۔

ابن عربی نے زندگی کے ابتدائی ا یّام مُرسیہ میں گذارے پھر اشبیلہ روانہ ہو گئے۔ اس دوران دو بزرگ درویش خواتین، مُرسیہ کی یاسمین اور قُرطبہ کی فاطمہ سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا، جس کے باعث اُن کی زندگی پر دور رس اثرات مرتب ہوئے۔ فاطمہ ایک کہن سال خاتون تھی اور دو سال تک بطور روحانی والدہ، ان کے مرشدِروحانی کا فریضہ انجام دیتی رہیں۔ شیخ اکبرتقریباً بیس برس کی عمر تک اُندلس کے شہروں میں گھومتے پھرتے رہے، نیز درویش عورتو ں اور مردوں کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ فکر و نظر کے اس سفر میں ان کی ملاقات ارسطو کے شارح و مترجم اور یکتائے روزگار فلسفی ابن رشد کے ساتھ ہوئی، فتوحات مکیہ میں ملاقات کا تفصیلی حال درج ہے۔ یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب ابن رشد فکر کی معراج پر فائز تھا اور ابن عربی عالم روحانی اور مشاہدہ و تجلیات کی منازل طے کر رہے تھے۔ ابن رشد سے دوسری ملاقات روحانی اسباب کے تحت ہوئی، جومحض یک طرفہ تھی کیونکہ ابن عربی ان کو دیکھ سکتے تھے، لیکن وہ اِن کی موجودگی کو محسوس نہ کر سکے، وجہ اس کی یہ بتائی گئی کہ دونوں کے درمیان روشنی کا ایک پردہ حائل تھا۔ تاہم ابن عربی نے ان دونوں ملاقاتوں سے یہ نتیجہ اخذ کیاکہ:

’’ اُس کا تفکر و تامل اُسے وہاں نہیں لے جا سکتا جہاں میں ہوں۔‘‘

سیّد حسین نصر اُس دور کی ایک جھلک دکھاتے ہوئے کہتے ہیں :

’’ ۵۹۵ھ(۱۱۹۸ء) تک ابن عربی اندلس اور شمالی افریقہ کے مختلف شہروں میں زندگی کے دن گزارتے رہے۔ صوفیا و علماء سے ملاقاتیں کیں۔ کبھی کبھی معتزلہ جیسے مختلف الخیال لوگوں سے بحث و مناظرہ کیا جو اسلام کی عقلی و استدلالی تعبیریں کرتے تھے۔ اس دوران میں وہ تیونس تک گھوم پھر آئے، جہاں اُنھوں نے ’’خلع النعلین‘‘ کا مطا لعہ کیا جو ابن قسیسی کی تصنیف ہے اور اس کے شرح بھی لکھی۔ علاوہ ازیں وہ المریہ میں بھی گئے، جو ابن مسرہ اور ازاں بعد ابن العارب کے مکتب و مسلک کا مرکزی مقام تھا اور جہاں Asin Palacios کے بقول ابن عربی نے تصوف کی راہ میں پہلا قدم رکھا تھا۔‘‘ ۳؂

ابن عربی کا یہ دور ذات صفات کی معرفت اور کشف و الہام کے حوالے سے خاصا اہم ہے۔ ان کے روحانی قویٰ کی استعداد روز بروز ترقی کرتی چلی جا رہی تھی۔ علمِ نظری اور وہبی کے در وا ہونے کا عمل تیز سے تیز تر ہوتا جا رہا تھا۔ ان برسوں میں شیخ کو عرفانی مشاہدات کا تجربہ ہوتا رہا۔ سیّد حسین نصر کا بیان ملاحظہ ہو:

’’ ان سالوں کے دوران شیخ کو عرفانی مشاہدا ت کا تجربہ ہوتا رہا۔ ان کو رجال الغیب کے سلسلہء مراتب کا، جوکائنات کے حاکم ہیں، پہلے ہی سے مشاہدہ ہو رہا تھا۔ اُن میں سے ایک قطب ہے، دو امام، چار اوتاد ہیں جوبنیادی اطراف کے فرماں روا ہیں۔ سات ابدال ہیں، ان میں سے ہر ایک کا اثر ایک اقلیم پر ہے۔ بارہ نقباء ہیں جو بارہ بروج پر حکمرانی کرتے ہیں۔ آٹھ نجبا ہیں جو آٹھ آسمانی طبقات سے مماثل ہیں۔‘‘ ۴؂

شیح اکبر کی تمام زندگی اس نوع کی روحانی کیفیات و واردات سے لبریز ہے۔ مرسیہ میں ا یک روحانی کیفیت کے دوران اُن کو زمانہ قبل از مسیح کے روحانی اقطابِ وحی کا مشاہدہ نصیب ہوا، عرشِ الٰہی کی زیارت کا تذکرہ بھی ملتا ہے، جس میں انھوں نے دیکھا کہ ایک پرندہ عرش کے گرد محوِ پرواز ہے اور عرش کو نوری ستونوں نے اُٹھا رکھا ہے۔

ابن عربی نے ایک روحانی حکم کے تحت مشرق کا رخ کیا۔ ۱۲۰۱ء میں خانہ کعبہ کی زیارت کی، اسی مقام پر فتوحات مکیہ کے لکھنے کا آغاز ہوا، دورانِ قیامِ مکہ ایک اصفہانی دوشیزہ سے ملاقات ہوئی جو حد درجہ حسین، پارسا اور تصوف کی طرف طبعی رجحان رکھتی تھی۔ ابن عربی کی زندگی پر اس خاتون کے وہی اثرات مرتّب ہوئے جو دانتے کی زندگی پر Beatrice کے تھے۔

مکہ میں کچھ عرصہ قیام کرنے کے بعد آپ ترکی روانہ ہو گئے، جہاں بمقام قونیہ ان کی ملاقات صدرالدین قونوی سے ہوئی، جو بعد ازاں سرزمین مشرق میں شیخ اکبر کی تصانیف کے سب سے اہم مبلغ اور شارح کے طور پر شہرت حاصل کرنے میں سب سے آگے نکل گئے۔ ابن عربی کثیر التصانیف مصنف ہونے کے ناطے محققین کے لیے بڑے کشش رکھتے ہیں، کیونکہ تا حال ان کی تصانیف کی حتمی تعداد کا تعین نہیں کیا جا سکا، ہر محقق کا بیان دوسرے سے مختلف ہے۔ ماجد فخری ’’تاریخ مسلم فلسفہ‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’ جدید تحقیق کے مطابق، ابن عربی سے آٹھ سو چھیالیس (۸۴۶) کتابیں منسوب کی جاتی ہیں، جن میں سے پانچ سو پچاس (۵۵۰) تک ہماری رسائی ممکن ہے، لیکن ان میں سے صرف چار سو (۴۰۰) رسائل و کتب کو ٹھیک تصور کیا جا سکتا ہے‘‘۵؂

ابن عربی کے ایک اور بڑے محقق و شارح اے۔ ای۔ عفیفی کا کہنا ہے:

’’ ابن عربی مسلم تاریح کے زود نویس مصنف ہیں، بروکلمان نے شیح اکبر کی اس خوبی کے لئے ”colossal fecundity” (عظیم الشان زرخیزی) کے الفاظ استعمال کیے ہیں ان کی طویل اور مختصر تحریروں کی تعداد ۱۴۰بنتی ہے۔ تاہم حتمی تعدادکا تعین محال ہے۔ عبدالوہاب شیرانی کے بقول یہ تعداد ۴۰۰ہے۔ محمد رجب حلیمی کے نزدیک ۲۸۴ ہے۔ ابن عربی نے اپنی کتاب’’ Memorandum‘‘ (اس کتاب کا عربی نام دستیاب نہیں ہو سکا) میں ۲۵۱کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے کہ:’’ سرِدست یہی یاد ہیں باقی کا حال معلوم نہیں‘‘چونکہ مصر میں ابن عربی کے دشمن بہت ہیں جنھوں نے ذاتی اور فکری عناد کی بنیاد پر کافی من گھڑت ذ خیرہ ان کے نام سے منسوب کر دیا ہے۔ (آزاد ترجمہ)‘‘۶؂

اس نزاعی بحث کے بعد عفیفی کی رائے کچھ اس طرح سامنے آتی ہے :

”To establish the identity and authenticity of all the works that have been ascribed to him is a task which has not been undertaking by any scholar yet. But we know within limits the genuineness of most of his major works, although doubt might arise with regard to certain parts of their contents.” (7)

محولہ بالا مسائل کی تمام تر ذمہ داری مخطوطات کی کثرت اور تراجم کے عدم معیار پر عائد ہو سکتی ہے، ایک عام قاری ذرا توجّہ سے مطالعہ کرے تو بڑی حد تک ان سب لغزشوں سے بچا جا سکتا ہے، البتہ اس تمام بکھرے مواد میں شیخِ اکبر کے ذاتی حالات اور حسب و نسب پر کافی تفصیلی روشنی پڑتی ہے اور نئے حقائق کا انکشاف بھی ہوتا ہے، مثلاً اُن کے اپنے بیان سے پتا چلتا ہے کہ وہ عربوں کے قدیم قبیلے ’’طے‘‘ سے تعلق رکھتے تھے۔ اس بیان کی روشنی میں اے۔ ای۔ عفیفی نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ’’اسلامی تصوف صرف ایرانیوں ہی کا مرہونِ منت نہیں بلکہ عربوں کی میراث بھی اس میں شامل ہے۔‘‘ عفیفی کی یہ بات دل کو لگتی ہے، خود ابن عربی کے والدِ گرامی اور دو ماموں (ابومسلم الخولانی، یحییٰ بن یغمان) اپنے عہد کے مشہور صوفیا ہو گزرے ہیں، تصوف کا سلسلہ آپ کے خاندان میں موجود تھا، حتیٰ کہ آپ کے چچا ابو محمد عبداﷲ بن محمد بن ا لعربی کو اپنی وفات سے تین برس قبل ولایت نصیب ہو گئی تھی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ عربوں میں تصوف کی روایت بڑی مستحکم رہی ہے۔ (اس ضمن میں مزید معلومات کی خاطر امام ابوالقاسم بن ہوازن قشیری اور ابونصر سراج طوسی کا مطالعہ سودمند ہو سکتا ہے۔)

ابن عربی کی مختلف تحریروں خصوصاً فتوحات مکیہ کے ذریعے ان کے حصول ولایت پر خاصی روشنی پڑتی ہے، وہ لکھتے ہیں کہ میں نے اس چیز کا مشاہدہ اپنے دورِ جاہلیت (۵۸۰ھ) میں کیا تھا (جب وہ بمشکل بیس برس کے تھے)۔ فتوحات مکیہ کی جلد اول اور دوم کے صفحات اس ضمن میں خاصی تفصیلات مہیا کرتے ہیں، مثلاً، تصوف کی دنیا میں وارد ہونے کی شروعات کچھ ایسے ہوئی کی ایک دن اشبیلیہ کے کسی ریئس نے دعوت پر بلایا، وہاں جب ا نہوں نے جام ہاتھ میں پکڑا تو اچانک غیب سے یہ آواز آ ئی ’’اے محمد کیا تم کو اس لیے پیدا کیا گیا تھا؟‘‘ اس واقعے نے دل و دماغ کی کایا پلٹ کے رکھ دی، ویرانوں میں گھومنا اور ٹوٹی قبروں میں بیٹھ کر ذکرِ الٰہی کرنا معمولات میں شامل ہو گیا، اپنے شیخ کی نگرانی میں نو ماہ کا چلہ بھی کاٹا۔

ان کے خود نوشت بیانات سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اپنی غیر معمولی استعداد کے باعث روحانیت کے مشکل ترین مقامات بہت جلد طے کر لیے تھے۔ آپ کے والد گرامی وزیر ریاست تھے اور اُن کا شمار ملک کے باوقار طبقے میں ہوتا تھا، ابن عربی بھی ابتدا میں کاتب (سیکرٹری) کے عہدے پر فائز رہے جو کہ دیوانِ سلطنت کا اہم عہدہ شمار ہوتا تھا، لیکن روحانی تجربات کے بعد آپ ملازمت سے دستبردار ہو گئے اور فَقر اپنا لیا۔ آپ کے مرشد شیخ یوسف بن یخلف الکومی نے آپ کی سمت نمائی میں اہم کردار ادا کیا، تاہم ابن عربی نے تصوف کی اصل معراج یعنی اسرارِالٰہیہ کا علم براہِ راست حضرت خضرؑ سے حاصل کیا۔ فتوحات میں خضرؑ سے ہونے والی ملاقاتوں کا احوال درج ہے، (تاریخ تصوف میں علی بن جامع کے بارے میں لکھا ہے کہ انھوں نے بھی خرقہ ولایت حضرت خضرؑ سے حاصل کیا تھا) فتوحات میں حضرت عیسیٰ، حضرت موسیٰ اور نبی اکرم ؐ کی رہنمائی کا ذکر بھی شامل ہے۔ ابن عربی کی فرانسیسی سوانح نگار کلاڈایڈس (Claude Addas) نے اپنی کتاب ’’Quest for the Red Sulphur‘‘ میں فتوحات کی یہ عبارت نقل کی ہے

”My return to the Way was accomplished through a vision under the guidance of Jesus, Moses and Muhammad. Elsewhere he writes, without giving any further details: It was as a consequence of this vision that I returned to God.” (8)

ابن عربی نے حصولِ علم کی خاطر دور دراز کے سفر کیے، بے شمار علاقوں میں درس و تدریس کا سلسلہ قائم کیا، شمالی افریقہ کی طرف ان کا رجحان بہت زیادہ تھا کیونکہ یہاں آپ کو ایسے صوفیا کی صحبت میسر آئی جو آپ کی روحانی ترقی میں کلیدی حثییت رکھتے تھے۔ اندلس کے ساتھ آپ کا رابطہ بحال رہا کیونکہ آپ کے والدین، دو غیر شادی شدہ بہنیں اور قریبی عزیز و اقارب وہاں مستقل رہائش پذیر تھے۔ آپ کی زوجہ مریم بنتِ محمد بن عبدون بذاتِ خود متقّی اور پارسا خاتون تھی، روحانیت کے کئی مدارج ابن عربی کی ہمراہی میں طے کئے، اُن کا قیام بھی اندلس ہی میں تھا۔

ابن عربی جب فاس میں تھے تو ایک کشف کے ذریعے اُن کو روحانی درجہ دکھایا گیا، یہ واقعہ مسجد الازہر میں رونما ہوا جہاں آپ عصر کی نماز پڑھ رہے تھے، اسی مسجد میں امام عبدالکریم کے درس میں بیٹھنے کا موقع ملتا رہا، اور اپنے وقت کے قطب سے ملنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ یہ اہم واقعہ ۱۱۹۶ء میں فاس ہی کے مقام پر پیش آیا، اور اسی جگہ آپ کو خاتم الاولیاء کی حقیقت سے بھی آگاہ کر دیا گیا تھا۔

والد کی وفات نے آپ کو دوبارہ اندلس جانے پر مجبور کر دیا، یہاں جائیداد وغیرہ کے تمام ضروری کام نمٹانے کے بعد اپنا باقی ماندہ خاندان سمیٹ کر پھر فاس روانہ ہو گئے، اسی جگہ آپ دونوں بہنوں کی شادی سے بھی سبکدوش ہوئے۔ جب والد کی وفات کے سات سال بعد والدہ کا انتقال ہوا تو آپ مختلف علاقوں کے سفر پر نکل کھڑے ہوئے، یہ ابن عربی کی زندگی کا ثروت مند دور ثابت ہوا، آپ مکہ پہنچے اور یہیں اپنی شہرہ آفاق تصنیف فتوحات مکیہ کی بنیادرکھی۔ اس ضخیم کتاب کا زیادہ تر حصہ یہاں مکمل ہوا۔ اس کتاب کا پورا نام ’’فتوحاتِ مکیہ فی معرفہ الاسرار المالکیہ و الملکیہ‘‘ ہے۔

ابن عربی نے ۱۲۰۴ء میں موصل کے سفر میں عبداللہ بن جامی کے ذریعے حضرت خضرؑ سے تیسری ملاقات کی جس کے باعث آپ روحانی اعتبار طور سے خود مکتفی ہو گئے، یہاں سے فارغ ہو نے کے بعد قاہرہ کا رُخ کیا، مگروہاں کی سرکاری مذہبی جماعتوں نے مصائب پیدا کرنا شروع کر دیے اور آپ کی جان کے درپے ہو گئے، اس نازک وقت میں شیخ ابوالحسن (بگیا) کی بروقت کوشش سے آپ کی جان بچ گئی۔

۱۲۰۷ء میں جب مصر کے لوگوں اچھا سلوک نہیں کیا تو آپ مشرقِ وسطیٰ کے اسفار پر روانہ ہو گئے، ایشائے کوچک کی سفری مہم کے بعد دمشق کو اپنا آخری ٹھکانہ بنایا اور ۱۷نومبر ۱۲۴۰ء اسی مقام پر رحلت فرمائی۔ سید حسین نصر کے بقول آپ کو دمشق کی جانب شمال قاسیون کی پہاڑی کے دامن میں بمقام صالحیہ ایک ایسے قطعہ زمین میں دفن کیا گیا جو ان کی تدفین سے پہلے بھی بڑا متبرک تھا، کیونکہ تمام پیغمروں نے اس جگہ کو تقدیس عطا کی ہے۔ ابن عربی کی جب وہاں تدفین ہوئی تو وہ جگہ پہلے سے بھی عظیم تر زیارت گاہ بن گئی۔ سولہویں صدی میں سلطان سلیم دوم نے ان کی قبر پرمقبرہ تعمیر کرا دیا جو تا حال سلامت ہے اور صوفیا کے لئے خاص مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

شیخِ اکبر کی وفات کے تقریباً نصف صدی بعد ان کی تصانیف مشرقی ممالک میں گردش کرنے لگ گئی تھیں، عبدالوہاب شعرانی جیسے جید عالم نے ابن عربی پر ابتدا ئی کام کر کے آنے والوں کے لئے راستہ ہموار کیا۔ جرمنی میں تیرھویں صدی عیسوی میں ابن عربی پر سنجیدہ کام شروع ہو گیا تھا، لیکن مغرب کے دیگر علاقوں کو یہ علمی خزانہ بہت بعد میں نظر آنا شروع ہوا، ا لبتہ گزشتہ پچاس ساٹھ برسوں میں مغرب کے دیدہ ور مستشرقین او ر مشرقی علما و حکما ابن عربی کی طرف متوجہ ہوئے اور اُ ن کی سحرانگیز شخصیت نیز افکارونظریات پر تحقیق و تنقید کے بے مثال مطالعات پیش کئے۔ یہاں خاص طور پر، ہنری کاربن(Henry Corbin)، آسین پھلاسی اوس (Asin Palacios)، اے۔ ای عفیفی، (A.E.Afifi)، محمد طاہر، عبدالعزیزسیّدالاہل، کارل بروکلمان، حا جی خلیفہ، ایچ۔ ایس۔ نیبرگ (H.S.Nyberg) آر۔ اے۔ نکلسن، اے۔ جے۔ آربری، ٹوشی ہائیکو Izutsu) (Toshihiko، جعفری کلیمی، سید حسین نصر، کلاڈ اڈیس (Claude Addas)، آر۔ ڈبلیو۔ جے۔ آسٹن، پی۔ کوٹس(P.Coates)، رالف آسٹن ) (Ralph Austin، ولیم چیٹک (william chittick)، مچل ہیڈ کیویچ (Michel Chodkiewich) ،(Jane Clark)، محمد برکت اﷲ لکھنوی فرنگی محلی، ماجد فخری، ڈاکٹر محسن جہانگیری، ایس۔ اے۔ کیو۔ حسینی اور محمد سہیل عمر وغیرہم کی مسلسل علمی کاوشو ں کا ذکر بے حد ضروری ہے کیونکہ انہی فاضل اصحاب کی بدولت ابن عربی تک عام لوگوں کی رسائی ممکن ہو سکی۔ حال ہی میں ’’ فصو ص الحکم‘‘ کا انگریزی ترجمہ ”The Bezels of Wisdom”، آر۔ اے۔ آسٹن کے قلم سے نکلا اور علمی حلقوں میں عام ہو گیا۔

دنیائے اسلام کے اکثر ممالک بشمول ہمارے ہاں، ابن عربی کے افکار و نظریات کو وحدت الوجود کے تناظر میں دیکھنے اور پرکھنے کا رجحان اس قدر عام ہے کہ اس یکطرفہ نقدو نظر نے یہ تاثر عام کرنے کی کوشش کی کہ اس عظیم صوفی اور فلسفی کے پاس کوئی اور قابلِ ذکر فکر موجود نہیں ہے۔ اس کے برعکس مغربی علاقوں خصوصاً جرمنی میں ابن عربی کے کثیرالابعاد افکار کا موازنہ ایکات فان ہوک ہائیم (Eckhart Von Hochheim,1260-1327) اور نکولس کیسانیئس (Nicolaus Cusanus,1401-1464)کے نظریات سے کیا جاتا ہے۔ یہ دونوں فلسفی جرمنی کی فکری روایت میں خاص مقام رکھتے ہیں۔ ابن عربی کی طرح انہوں نے بھی انسان اور کائنات کے باہمی ربط پر غور کیا، الہٰیاتی مسائل کی تعبیر و توضیح کے لیے فلسفیانہ طرزِ فکر اختیار کیا اور تمام فکری معاملات میں مذہب کو فوقیت دی۔

کیسانیئس، اپنے عہد کا مایہ ناز فلسفی، قانون دان، ماہرِعلمِ فلکیات اور کارڈینل کے عہدے پر فائز تھا۔ اس کا اُسلوبِ فکر فلسفہ، سائنس اور روحانیات کا جامع تھا۔ اس کی تصانیف گہری صوفیانہ بصیرت کی بھرپور عکاسی کرتی ہیں، یہ اپنی تحریروں میں انسان، کائنات اور دیگر اہم مابعدالطبیعیاتی مسائل کو استعارے اور علامت کے اُسلوب میں لکھ کر ابن عربی جیسا نظامِ فکر وضع کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ عجوبہء روز گار فلسفی اور صوفی افکار و نظریات کے تمام مباحث مذہب کے تابع رکھنے کا عادی تھا اور دوسری طرف اپنے عہد کے تمام مروجہ سائنسی نظریات سے کافی آگے نکل چکا تھا۔

ایکات فان، جرمنی کا ماہرِ دینیات، فلسفی اور مسیحی مابعدالطبیعیات میں روایتی عقائد کا باغی تھا۔ اس نے اپنی تصا نیف میں یہ نظریہ عام کیا کہ خدا ہر شخص کے اندر موجود ہے۔ درج ذیل اقتباس اس کے افکار کو مزید واضح کرتا ہے۔

”Our salvation depends upon our knowing and recognizing the Chief Good which is God Himself. I have a capacity in my soul for taking in God entirely. I am as sure as I live that nothing is so near to me as God. God is nearer to me than I am to myself… Thus must the soul, which would know God, be rooted and grounded in Him so steadfastly, as to suffer no perturbation of fear or hope, or joy or sorrow, or love or hate, or anything which may disturb its peace… the soul should be remote from all earthly things alike so as not to be nearer to one than another. It should keep the same attitude of aloofness in love and hate, in possession and renouncement, that is, it should be simultaneously dead, resigned and lifted up. (Excerpt from sermon: “The Nearness of the Kingdom,” translated by Claud Field, Christian Classics Ethereal Library)”

ابن عربی کا ان فلاسفہ کے ساتھ موازنہ از حد دل چسپ امر ہے، ان تینوں کا اسلوب حیران کن حد تک آپس میں گہری مماثلت رکھتا ہے۔ مگر بات یہاں ختم نہیں ہوتی کیونکہ ایم ایچ یوسف اپنی انگریزی تصنیف ”Ibn Arabi-Time and Cosmology” میں جدید فزکس کے کئی نظریات ابن عربی کے فلسفے سے اخذ کرتا ہے اور یوں وہ شیخ اکبر کو جدید اصطلاح کے مطابق ایک ”Physicist” کے روپ میں دیکھ رہا ہے۔ آئی المونڈ (I.Almond) پسِ ساختیات کے حوالے سے ابن عربی کو پرکھتا ہے، سن ۲۰۰۴ء اس کی شائع ہونے والی کتاب

”Sufiism and Deconstruction: A comparative study of Derrida and Ibn Arabi”

ابن عربی کی تفہیم میں نئے در وا کرتی ہے۔ یہ سلسلہ مزید آگے بڑھتا ہے، پی۔ کوایٹس (P.Coates) اور آر جے ڈوبی (R.J.Dobie) ابن عربی کو جدید تاریخِ فلسفہ میں بلند مقام عطا کرتے ہیں، ان حکما نے ابن عربی کے ’’تصورِ برزخ‘‘ میں علمِ فلسفہ کے ان درجنوں مسائل کا حل ڈھونڈ نکالا جو بقول ان کے ارسطو سے لیکر جدید امریکی فلسفی رچرڈ مکے رورٹی (Richard Mckay Rorty) تک لاینحل تصور کیے جاتے تھے۔ شاہ کازیمی (Shah-kazemi) فلسفہ ابن عربی کا موازنہ جاپانی مفکر ڈوجن زین جی (Dogen Zhungzi) چینی حکیم زوآنگ زی (Zhuangzi) اور معروف ہندوستانی فلسفی شنکر اچاریہ(Shankaracharya) کے مشترک فکری پہلووں پر سیر حاصل تبصرہ کرتا ہے۔ اس موضوع کے تفصیلی مطالعے کے لئے شاہ کازیمی کی لاجواب تصنیف ”Paths to Transcendence:According to Shankara, Ibn Arabi, and Meister Eckhart.” کا مطالعہ ضروری ہے۔ چین کے مسلمانوں نے ابن عربی کی علمی میراث کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک سکول قائم کیا جس کا نام ”The Han Kitab” ہے، یہ ادارہ ابن عربی اور کنفیو شس کی اخلاقی اور معاشرتی تعلیمات ایک ساتھ فروغ دے رہا ہے۔ فلسفہ ابن عربی کے اطلاقی اور عملی پہلووں کوایک ادارے کی صورت میں عام کرنا یقینا ایک انوکھی مثال ہے۔ یہ تازہ حقائق ابن عربی کی آفاق گیر بصیرت کو نمایاں کرنے کی صرف ایک ادنیٰ سی کاوش ہے۔ ابن عربی صحیح معنوں میں اسلامی علوم کا بحرِناپیدا کنار ہے، یہاں کائناتی راز اسرار کے دبیز پردوں سے باہر نکل کر عوام و خواص سے ہم کلام ہونے لگتے ہیں۔ یہاں برسبیلِ تذکرہ اس بات کی وضاحت لازمی ہے کہ شیخ اکبرکا فلسفہ وحدت الوجود حجرہ نشینی کا درس نہیں دیتا، بلکہ انسان کی حرکی قوتوں کو مہمیز عطا کرتا ہے۔ یہ خا لصتاً ایک عملی اور انقلابی فلسفہ ہے اور اسے بجا طور پر علم کی معراج کہنا چاہیے۔ یہ فلسفہ انفس و آفاق کو علوم کے مجموعی چوکھٹے میں رکھ کر فہم کے اصل در وا کرتا ہے۔ وجود ) (beingکی اس کیفیت و ماہیت کا اصل ادراک صرف وہی کر سکتا ہے جو قطرے میں دجلہ دیکھنے اور دکھانے پر قادر ہو۔ گویا مرزا غالب کے الفاظ میں:

؂ قطرے میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جز میں کُل
کھیل لڑکوں کا ہوا دیدہء بینا نہ ہوا

شیخ اکبر کے فلسفہ وحدت الوجود کی تشریح و تو ضیح کے لئے ماجد فخری نے فصوص الحکم کے مطالعے سے جو روشن نتائج اخذکیے وہ لائقِ توجہ ہیں:

“According to Ibn Arabi,divinity and humanity are not two distinct natures,but rather two aspects which find their expression at every level of creation.Divinity corresponds to the hidden or inward(batin)aspect to the external or outward (zahir).In philosophical terminology, the first corresponds to substance,the second to accident.The manifestation of reality reaches its consummation in man”(9)

فلسفہ وحدت الوجود کا یہی وہ باریک نکتہ ہے جس کی راست جانکاری ضروری ہے، یہی وجودی فلسفہ انسان کو اُس کے اصل مقام سے آگاہ کرتا ہے، اس فلسفے کی رو سے انسان صحیح معنوں میں کائناتِ اصغر ہے، انسان کو اگر کائنات کا سَت یا خلاصہکہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا، کیونکہ بظاہر یہ مٹھی بھر خاک کا پُتلا کائنات کی کاملیّت اور خدائی صفات کو اپنے اندر سموئے بیٹھا ہے، اپنی انہی افضل خصوصیات کے باعث قرآنِ حکیم نے اسے خدا کا نائب کہہ کر مخاطب کیا ہے۔

ابن عربی کے نزدیک کامل ہستی حضرت محمدؐ کی ہے، کیونکہ آپؐ کی ذاتِ مبارک میں خدا اور کائنات کی تمام جلّی و خفی صفات اپنی کامل صورت میں جلوہ گر ہیں، یوں اگر دیکھا جائے تو اصل شئے وجود کی معرفت ہے، کائنات کے سبھی جھر نے یہیں سے پھوٹتے ہیں۔ وجود کی ایک اور تشریحی جھلک فتوحاتِ مکیّہ کے ذریعے دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ اقتباس انگریزی ترجمہ کی صورت میں درج ہے، سرِدست فتوحاتِ مکیّہ کے اس حصے کا اردو ترجمہ دستیاب نہیں ہو سکا۔

”It is He who is revealed in every face,sought in every sign,gazed upon by every eye,worshiped in every object of worship,and pursued in the unseen and the visible.Not a single one of His creatures can fail to find Him in its primordial and original nature”

فلسفہ وحدت الوجود کا یہ فکری زاویہ ہر صاحبِ نظر کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے اور بصراحت یہ اعلان کرتا ہے کہ اس فلسفیانہ فکر کو محض وجود کی وحدت پر محمول کرنا اور ہر شئے کو وجودِ باری تعالیٰ کا جز یا کُل قرار دینا راست علمی رویہ نہیں ہو سکتا۔ وحدت الوجود کو سمجھنے کے لیے اُس فکری مغالطے کو الوداع کہنا ہو گا جو عرصہ دراز سے ہماری فکر پر جمود طاری کیے ہوئے ہے۔ علامہ اقبال نے ’’جاوید نامہ ‘‘ کے کئی اشعار میں ابن عربی کی فکر کو شعوری یا لاشعوری طور پر دہرانے کی کوشش کی ہے:

؂ ما ترا جوئیم تو از دیدہء دور
نے غلط، ما کور و تو اندر حضور
(ترجمہ) ’’ہم تجھے تلاش کر رہے ہیں اور تُو ہماری نگاہوں سے دور (اوجھل) ہے، نہیں، خود ہم اندھے ہیں جبکہ تُو ہمارے سامنے موجود ہے۔‘‘

سعدی کا یہ معروف شعر بھی مسئلہ حاضرہ سے ہم رنگ ہونے کے ناطے درج کیا جاتا ہے:

؂ برگِ درختان سبز پیشِ خداوندِ ہوش
ہر ورقے دفتریست معرفتِ کرد گار
(ترجمہ) ’’سبز درختوں کا ہر ایک پتّہ ایک صاحبِ ہوش ودانش کے لیے خالق کی معرفت کی ایک کتاب ہے۔‘‘

بُو علی قلندر (شرفؔ) کا شعر نئے ڈھنگ سے اسی مضمون کو بیان کر رہا ہے:

؂ گر چشمِ دل کشادہ شود اے شرفؔ ترا
ہر ذرہ جہاں شود آئینہ دارِ دوست
(ترجمہ) ’’اے شرفؔ، اگر تیرے دل کی آنکھ کھلی ہو تو، تُو دیکھے گا کہ کائنات کا ہر ذرّہ اُس محبوب کا آئینہ ہے۔

ابن عربی کا صوفیانہ فلسفہ تکریمِ انسانیت کا درس دیتا ہے۔ وحدت الوجود کے ا س نظریے میں اصل مرکزیت صرف اور صرف انسان کو حاصل ہے، ماجد فخری کے بقول:

”Man is thus for Ibn Arabi the embodiment of Universal Reason and the being in whom all the attributes or perfections of God are reflected.In addition, it belongs to man alone to know God fully.”(10)

مگر یہ سلسلہ یہاں آکر رکتا نہیں، بلکہ دعوتِ فکر دیتا ہوا آگے بڑ ھ جاتاہے:

”The angles know Him as a transcendent or spiritual reality only,whereas man knows Him in His duel character as essential reality (Haqq) on the one hand,and the manifestation of this reality in the phenomenal world (khalq) on the other.” (11)

ابن عربی کی تفہیم کے لیے ہمیں تمام غلط اور دقیانوسی تناظرات بدلنے ہوں گے۔ ان کے بارے میں یہ مغالطہ عام ہے کہ وہ خالق و مخلوق کے جھگڑوں سے یکسر آزاد، رام و رحیم کے فرق سے نا آشنا اور شریعت کی پاسداری سے خود کو ماورا تصور کرتے ہیں۔ ان گمراہ کُن تصورات سے بچنے کا ایک سیدھا سادہ طریقہ یہ ہے کہ تصوف کی اسلامی اور عجمی روایت کا باہمی فرق سامنے رکھا جائے۔

یہ امر بھی ملحوظِ خاطر رہنا چاہیے کہ شیخِ اکبر سے جہاں لامحدود لوگ عقیدت رکھتے ہیں وہاں اُن کے مخالفین بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں، اور یہی وہ طبقہ ہے جو من گھڑت با تیں شیخ اکبر سے منسوب کر کے نِت نئی غلط فہمیوں کو جنم دے رہا ہے۔ پروفیسر یوسف سلیم چشتی کا کہنا ہے:

’ قرامطہ نے فصوص الحکم، فتوحاتِ مکیّہ، مثنوی مولانا روم، احیاء العلوم اور دوسری مشہور کتابوں میں اپنی طرف سے عبارتیں اور اشعار داخل کر دیئے بلکہ بہت سی کتابیں خود لکھ کر بعض بزرگوں کے نام سے منسوب کر دیں۔ مثلاً ایک دیوان حضرت علیؓ سے منسوب کر دیا۔ بہت سی رباعیات مختلف صوفیوں سے منسوب کر دیں۔‘‘۱۱؂

اے۔ ای۔ عفیفی جس کی زندگی کا بیشتر حصہ ابن عربی پر تحقیق و تنقید میں صرف ہوا، اُس کے مطابق، ’’فتوحاتِ مکیہ‘‘ اور ’’فصوص الحکم‘‘ میں ایسا الحاقی مواد موجود جو بعد کے لوگوں نے جان بوجھ کر شامل کیا تاکہ شیخ کی اصل تعلیمات سے عوام و خواص کو دور رکھا جائے۔ یوں اس عظیم صوفی کے خلاف دشمنی کا نہ ختم ہو نے والا محاذ شروع ہو گیا۔ اسی معاندانہ رویے کی ایک یہ مثال دیکھے کہ جب امام شعرانی ؒ ’’فتوحاتِ مکیہ‘‘ کا خلاصہ تیار کر ر ہے تھے تو انھوں نے محسوس کیا کہ ’’فتوحات‘‘ کے بعض مقامات اصل اسلامی روح کے منافی ہیں۔ اُنھوں نے قدرے تامل کے بعد وہ مقامات حذف کر دیے، تھوڑا عرصہ گزرنے کے بعد امام شعرانی کو شیخ شمس الدین مدنی کے توسط سے ’’فتوحاتِ مکیہ‘‘ کا ایک ایسا مستند نسخہ مل گیا جو بذاتِ خود ابن عربی کا تصدیق شدہ تھا، اُنھیں یہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کی فتوحات کے جس حصے پر وہ شک کر رہے تھے وہ اصل نسخے میں موجود ہی نہیں تھا۔

تاریخی حقائق کی روشنی میں یہ کہنا مناسب رہے گا کہ امام شعرانی کے عہد اور پھر بعد میں بھی مصر میں ابن عربی کی زیادہ تر تصانیف اسی انداز سے مسخ کی جاتی رہیں ہیں۔ اب یہ اپنی جگہ تحقیق طلب مسئلہ ہے کہ آخر مصر اور چند دیگر عرب ممالک میں ابن عربی کے خلاف اتنی شدید دشمنی کے اصل اسباب و محرّکات کیا ہو سکتے ہیں! یہ دیکھنا بھی لازم بنتا ہے کہ شیخ اکبر نے تصوف کے علاوہ دوسرے علوم مثلاً علمِ حدیث، تفسیر، سیرت، فلسفہ، ادب، صوفیانہ شاعری، فقہ اور فطری سائنس جیسے موضوعات پر جو گراں قدر تصانیف یادگار چھوڑی ہیں اُن میں الحاق و اضافے کی کیا صورتِ حال ہے؟

ابنِ عربی اسلامی فکر کا عظیم سرمایہ ہیں، اُن کی علمی وراثت کی حفاظت اور تصنیفی قدر و قیمت کا تعین کرنے کے لیے ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔


(حواشی)

(۱) شیخ اکبر محی الدین ابنِ عربی، محمد شفیع بلوچ، دیباچہ، محمد سہیل عمر، مکتبہ جمال، لاہور، طبع، ۲۰۰۶، صفحہ ۱۲، ۱۱
(۲) تین مسلمان فیلسوف، سید حسین نصر، (مترجم) محمد منور، علاقائی ثقافتی ادارہ (آر۔ سی۔ ڈی)، تہران، (لاہور)۔ طبع اول، ۱۹۷۲، ص ۱۰۸
(۳) تین مسلمان فیلسوف، ص۱۱۴
(۴) ایضاً، ص ۱۱۵، ۱۱۴
(۵) History of Aslamic philosophy by Majid Fakhry,Columbia University Press New York,1983,P No 25 1
(۶), A History of Muslim Philosophy(vol 1)by M.M.Shrarif,Low Price Publications Delhi (1995),P No,40 0
(۷) A History of Muslim Philosophy(vol 1),by M.M.Shrarif, P No,40 0
(۸) Quest for the Red Sulpher(french)by Claude Addas,Eng trans by Peter Kinsley, Sohail Academy  Lahore(2000),P No,4 2
(۹) History of Islamic Philosophy, p No 25 3
(۱۰) History of Islamic Philosophy, p No 253-25 4
(۱۱) اسلامی تصوف میں غیر اسلامی نظریات کی آمیزش، یوسف سلیم چشتی، المحمود اکیڈمی، لاہور، طبع، ۱۹۹۷، ص ۴۳

(Visited 1 times, 10 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: