کرتار پور صاحب کے مُونگ —- لالہ صحرائی

0

اس بات میں اب کوئی شک و شبہ باقی نہیں کہ مشرقی پنجاب کے پاکستان کی طرف جذباتی لگاؤ کے باعث کرتارپور صاحب کوریڈور بھارتی حکومت بالخصوص ہندو قوم پرستوں کے گلی کی ہڈی بن چکا ہے جسے نگلا جا رہا ہے نہ اگلا جا سکتا ہے۔

سردار نووجوت سنگھ سدھو کی باجوہ صاحب سے جپھی کے دن سے لیکر اب تک کی ساری ڈویلپمنٹ ان حاسدوں کے سینے پر مسلسل مونگ دلتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے ہر روز ایک نئے زاویئے سے اس معاملے کو رگیدا جاتا ہے یا کوئی نہ کوئی ایسا شوشہ چھوڑ دیا جاتا ہے جو اس معاملے میں متحرک لوگوں کی دل شکنی کا باعث ہو، ان میں سکھ قوم کے علاوہ اس راہداری کے اصل ہیرو نووجوت سنگھ سدھو اور عمران خان بطور خاص شامل ہیں۔

اس سلسلے میں تازہ خبر گرم ہے کہ منموہن سنگھ کیساتھ آنیوالے سرکاری ڈیلیگیٹ کی لسٹ میں کرتارپور کوریڈور کے اصل ہیرو سردار نووجوت سنگھ سدھو کا نام شامل نہیں کیا گیا یا خارج کر دیا گیا ہے۔

گو یہ خبر سرکاری طور پر ابھی مستند نہیں لیکن سدھو پاء جی کی مسز نووجوت کور کا کانگریس کی رکنیت سے حال ہی میں استعفٰے دے دینا اور سدھو جی کی اپنی خاموشی بتاتی ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔

اس خبر پر مشرقی پنجاب کے ساتھ ساتھ اوورسیز سکھوں، مغربی پنجاب اور پاکستان بھر میں سدھو پاء جی کے فینز نے سخت ناگواری کا اظہار کیا ہے، دونوں طرف کی بھاری اکثریت نے اس معاندانہ سلوک پر بھارتی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور سدھو پاء جی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی حیثیت سے اس تقریب میں ضرور شامل ہوں۔

اس عوامی ردعمل کو ٹھنڈا کرنے کیلئے بھارت کے حکومت نواز میڈیا نے بھی یہ الاپ شروع کر دیا ہے کہ ابھی تک یہ لسٹ فائنل نہیں ہوئی، نہ ہی ان کے ذاتی حیثیت میں اس تقریب میں شامل ہونے پر کوئی پابندی لگائی گئی ہے۔

یہ تمام باتیں سدھو پاء جی کی شمولیت کو مشکوک بنا رہی ہیں جبکہ اس تقریب کا اصل حسن اور جذبہ ان کے منفرد انداز تکلم پر مبنی کھڑاک کے بغیر بالکل ادھورا رہ جائے گا۔

اس معاملے میں سدھو جی کا نمایاں ہونا ایک ایسی وجہ ہے جو تقریب میں ان کی شرکت پر پابندی کا باعث بھی بن سکتی ہے کیونکہ بھارتی حکومت کے گلے میں ہڈی پھنسانے والا اس تقریب میں بھی مرکزِ نگاہ رہے اور مشرقی پنجاب کا مستند ہیرو بھی بن جائے یہ کسی طور بھی انہیں گوارا نہیں ہو رہا۔

یوں تو پوری سکھ برادری سدھو جی کو ہی کرتارپور کا ہیرو سمجھتی ہے اور ان کا مطالبہ بھی ہے کہ راہداری کے اس طرف سدھو جی کا قدآدم پورٹریٹ لگانا چاہئے لیکن اس جے جے کار کے باوجود جہاں مودی گورنمنٹ سمیت کیپٹن امریندر سنگھ و دیگر کانگریسی سکھ لیڈروں کے بہت سے لوگ اپنی سیاست چمکانے کیلئے اس بات کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں وہاں یہ لوگ سدھو پاء جی کی جان کیلئے خطرہ بھی بن سکتے ہیں، اسلئے پاء جی کو اپنے گرد و بیش سے سخت محتاط رہنا چاہئے۔

اس معاندانہ رویئے کی دوسری بڑی مثال دو دن قبل سامنے آئی ہے جب امرتسر سے آنیوالے نگرکیرتن کی بس کو اٹاری بارڈر پر روک کے پاکستان جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

نگرکیرتن اس سفر کو کہتے ہیں جس میں سکھوں کی مقدس کتاب گرو گرنتھ صاحب کو ایک مقدس استھان سے کسی دوسرے مقدس استھان تک لیجایا جاتا ہے، اس دوران لوگوں کو گرو گرنتھ صاحب کی زیارت بھی کرائی جاتی ہے۔

سکھوں کے دسویں مایہ ناز گرو اور ہمہ جہت شخصیت گرو گوبند سنگھ جی کے بعد گرنتھ صاحب کو گیارہویں اور آخری زندہ گرو کا درجہ حاصل ہے اسلئے اس کتاب کا پروٹوکول بھی مقدس کتاب سے زیادہ زندہ گرو جیسا ہوتا ہے، گرو گرنتھ صاحب کو جب اپنے مخصوص کمرے سے استھان تک یا استھان سے کمرے تک منتقل کیا جاتا ہے تو یہ تقریب بھی قابلِ دید ہوتی ہے۔

اسی طرح جب نگرکیرتن کا سفر چلتا ہے تو گرو گرنتھ صاحب کو احتراماً پالکی شریف میں رکھا جاتا ہے اور پالکی شریف کو خصوصی سواری پر لیجایا جاتا ہے۔

نگرکیرتن کی یہ سواری جو بابا جی گرونانک صاحب کے جنم استھان ننکانہ صاحب تک آنی تھی پھر ان کے انتم استھان کرتارپور جا کے گروگرنتھ صاحب کی انسٹالیشن ہونی تھی اسے پاکستان میں داخل ہونے سے منع کر دیا گیا تو سکھ سنگت نے پالکی شریف کو سروں پہ اٹھا کے واہگہ پار کیا جہاں گورنر پنجاب چوہدری سرور اور مقامی سکھ سنگتوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔

سکھوں نے پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی پرجوش انداز میں فتح بلائی اور یہ اعلان کیا کہ بھارت سے چلا پہلا نگرکیرتن گرونانک دیو مہاراج کی پوتر دھرتی پر پہنچ جانا ایک معجزے سے کم نہیں کیونکہ بھارت میں اکثریت کا کہنا تھا کہ بھارت سرکار کی کدورت کے باعث یہ سفر سرے چڑھنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

ایسا ہی ایک نگرکیرتن ننکانہ صاحب کے جنم استھان سے بھارت لیجانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے جو بھارت کی ایک سکھ سنگت لیکر جائے گی اور عوام کو زیارت کرانے کیلئے پورے بھارت کے اندر ایک بڑے قافلے کیساتھ سفر کرے گی، دیکھتے ہیں انہیں بھارت سرکار سے اس کی اجازت ملتی ہے یا نہیں۔

تیسرا پروپیگنڈہ پاکستان کی طرف سے عائد کی گئی وزٹ فیس پر بھی بہت زور و شور سے جاری ہے۔

حکومت پاکستان نے اس راہداری پر کثیر رقم خرچ کرنے اور زائرین کیلئے رکھی گئی سہولیات پر آنے والی لاگت کے پیش نظر زائرین سے فی کس بیس ڈالر فیس وصول کرنے کی شرط رکھی تھی جسے ہندو قوم پرستوں اور ان کے ہمنوا پنجابی سیاستدانوں کی ایماء پر بھارتی میڈیا میں خوب اچھالا گیا ہے، خود پنجاب کے مرکز نواز کانگریسی چیف منسٹر کیپٹن امریندر سنگھ نے اسے جزیہ دینے کے مترادف قرار دیکر جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کیا ہے۔

لیکن مشرقی پنجاب کے عمومی ردعمل نے اس تنقید کو سرے سے غیر معیاری قرار دے کر رد کر دیا ہے، اس کے باوجود یہ بات بار بار اٹھائی جا رہی ہے کہ غریب آدمی جس کے خاندان میں چھ سے سات افراد ہوں وہ اس یاترا کیلئے کم و بیش دس ہزار روپے کی فیس کیسے ادا کرے گا۔

اس سوال پر مشرقی پنجاب کے منسٹر جیل خانہ جات نے سکھ چینل کیساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب میں غریب ضرور ہیں لیکن دل کا اتنا غریب کوئی بھی نہیں جو اس مقدس مقام کی زیارت کیلئے تن من دھن قربان کرنے پر راضی نہ ہو کجا کہ وہ پندرہ سو روپے فیس دینے پر چوں چراں کرے۔

کیبنٹ منسٹر ہرگجیندر سنگھ نے مزید کہا کہ اگر واقعی کوئی خاندان یہ فیس ادا نہیں کرسکتا تو اکالی دل جو سکھوں کی نمائندہ سیاسی جماعت ہے اور گرداروں کے انتظام کی ذمہ دار تنظیم گردوارہ پربندھک کمیٹی کے پاس بے پناہ فنڈز ہیں جو اس کام میں لوگوں کی مدد پر خرچ کئے جا سکتے ہیں مگر حکومت پاکستان پر تنقید کی بجائے یہ کیوں نہیں کرتے کہ اس فنڈ سے نادار لوگوں کی فیس ادا کرنے کا اعلان کر دیں، پھر پنجاب حکومت اور سینٹر سرکار بھی زائرین کو سبسڈی دے سکتی ہے جیسا کہ مسلمانوں کو حج کیلئے دی جا رہی ہے۔

اس معاملے پر سکھ چینل کے پلیٹ فارم پہ اظہار خیال کرنیوالے اوورسیز سکھوں کی اکثریت نے بھی اس تنقید کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ میں کسی بھی تفریحی مقام کا ٹکٹ بیس ڈالر سے کم نہیں ہوتا جو اپنے لطف کیلئے ہر کوئی خوشی سے ادا کرتا ہے، جہاں تک انتہائی غریبوں کا معاملہ ہے تو انہیں اوورسیز سکھ فاؤنڈیشنز بھی امدادی فنڈ فراہم کر سکتے ہیں۔

اس چینل پر مشرقی پنجاب کی اکثریت نے بھی اسی طرح کے استدلال سے اس تنقید کو رد کیا ہے کہ دربار صاحب امرتسر سمیت کسی بھی مقدس استھان کو جانے والے زائرین کیلئے ٹول ٹیکس سمیت کہیں بھی کوئی رعایت نہیں دی جاتی جبکہ زائرین ہر استھان پر آنے جانے کا خرچہ برداشت کرنے کیساتھ بیس ڈالر روزانہ کے حساب سے رہائش کا کرایہ بھی بخوشی دیتے ہیں تو ایک ناممکن سہولت کو ممکن بنانے پر حکومت پاکستان کا شکر گزار ہونے کی بجائے فیس کو بنیاد بنا کے شرانگیزی کرنے کی ضرورت کیا ہے؟

ان سب مزاحمتوں کے باوجود برسوں تک پابندی کا شکار رہنے والا گرونانک صاحب کا انتم استھان کرتارپور صاحب رقبے اور یاتریوں کی آمدو رفت کے اعتبار سے دنیا میں سکھوں کی سب سے بڑی عبادت گاہ بننے والی ہے جس کے بعد دربار صاحب امرتسر دوسرے نمبر پہ آجائے گا اور سری حضور صاحب جو گرو گوبند صاحب کا انتم استھان ہے وہ تیسرے نمبر پہ چلا جائے۔

کرتار پور صاحب میں بین الاقوامی سطح کے فائیو اسٹار ہوٹل، سینکڑوں اپارٹمنٹس، کمرشل ایریاز، اپنا گرڈ اسٹیشن، ٹورسٹ انفارمیشن سینٹر، دو بڑی کار پارکنگ اور بارشوں کے دوران راوی کے سیلابی پانی سے بچانے کیلئے کئی میٹر اونچا بند بھی بنایا گیا ہے۔

دربار صاحب کے شروع میں بارڈر ٹرمینل ہے جہاں سے دوطرفہ آمدورفت کیلئے مسافر بسوں کی شٹل سروس دن بھر چلتی رہے گی، دربار صاحب کے وسط میں نہانے کا مقدس تالاب بنایا گیا جسے سروور کہتے ہیں، اور پورے اندرونی رقبے پر ماربل لگایا ہے۔

سکھوں کے بعض گروپ اپنی عقیدت کے اعتبار سے کوئی پیدل اور کوئی ننگے پاؤں چل کر بھی آیا کریں گے اسلئے کوریڈور کے دونوں اطراف میں پیدل چلنے والوں کیلئے شاندار منقش راہگزر الگ سے مختص کی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ کرتار پور صاحب کو چالیس ایکڑ سے زائد زمین دی گئی ہے جہاں لنگر کیلئے سبزیاں اور پھل اگائے جائیں گے جو زائرین کیلئے مخصوص لنگر خانے میں استعمال ہوں گے۔

دنیا بھر کے سکھوں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ بابا جی کے جنم دن کے موقع پر کرتار پور صاحب کے درشن کریں جہاں بابا جی نے اپنی زندگی کے آخری پندرہ سال گزارے تھے اور یہیں ان کا انتقال ہوا۔

کہا جاتا ہے کہ انتقال کے بعد ان کی میت چارپائی پر پڑی تھی کہ سکھوں اور مسلمانوں کے درمیان سخت قسم کا نزاع پیدا ہو گیا تھا، مسلمانوں کا دعویٰ تھا کہ گرو نانک صاحب ان کے گرو ہیں، انہوں نے عمر بھر ایک خدا کی عبادت کی تبلیغ کی ہے، وہ اپنے شبدوں میں اللہ کا ذکر بارہا کرتے ہیں اسلئے ہم دفنائیں گے اور سکھوں کا دعویٰ تھا کہ وہ سکھ مذہب کے بانی ہیں لہذا ان کا انتم سنسکار کیا جائے گا۔

اس دوران گرو صاحب کی میت غائب ہوگئی اور چارپائی پہ چادر اور پھول باقی رہ گئے جو میت کے اوپر تھے، اس کے بعد اس چادر اور پھولوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا، ایک حصہ مسلمانوں نے دفنا کے ان کی باقائدہ قبر بنائی جو کرتارپور صاحب کے احاطے میں موجود ہے، دوسرے حصے کا اپنے عقیدے کے مطابق انتم سنسکار کرکے سکھوں نے دربار صاحب کے اندر گرو صاحب کی سمادھی بنا دی تھی، اس جگہ کو باباجی نے کرتارپور کا نام دیا تھا جس کا مطلب ہے خدا کا گھر۔

کئی سال بعد روای کے سیلاب میں ان کی باقیات کا کچھ حصہ راوی میں بہہ نکلا جسے روای کے پرلے کنارے پر چننے کے بعد اسی طرف دفنا دیا گیا، اس جگہ کو ڈیرہ بابا نانک کہا جاتا ہے، بابا جی کا سسرال اور اپنا بال بچہ بھی اسی جگہ کے قریب گاؤں پکھوکی رندھاوا میں رہتا تھا، بابا جی کے بہنوئی اور سسر اس وقت کے مسلمان حاکم سردار دولت خان لودھی کے محکمہ مال میں ملازم تھے۔

اس جگہ کے قریب ہی دولت خان لودھی کا بسایا ہوا شہر سلطان پور واقع ہے جہاں بابا جی نے گرسکھی کی بنیاد رکھی تھی۔

ایک دن بابا صاحب نے سلطان پور لودھی کے وسط میں بہنے والی ندی میں غوطہ لگایا مگر واپس نہیں ابھرے، پھر تین دن بعد واپس ابھرے اور نعرہ لگایا کہ کوئی ہندو ہے نہ مسلمان، سب ایک خدا کے بندے ہیں، خدا سب کیساتھ ہے، اس کے بعد سکھ مذہب کی تعلیمات کا آغاز کیا۔

یہ اصل میں مسلمان صوفیاء کے طرز کی وحدت الوجود پر مبنی ڈاکٹرائین ہے جس میں ہر کسی کو خدا کیساتھ ایک جیسا تعلق دار سمجھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ گرو نانک صاحب کے دو ابتدائی معتمد ساتھی بھائی مردانہ اور بھائی لہنا مسلمان تھے جو وحدت الوجودی تھے، ان کے علاوہ سلطان دولت خان لودھی بھی بابا جی کا معتقد ہو گیا تھا۔

بابا صاحب نے جب سکھ مذہب کا آغاز کیا تو کئی لوگوں نے سلطان کو بابا جی کے خلاف اکسانا شروع کر دیا، ایکدن سلطان نے حقیقت حال جاننے کیلئے بابا صاحب کو کہلا بھیجا کہ آج آپ میرے ساتھ نماز پڑھیں گے، بابا جی نے کہا خدا کے آگے سر جھکانے کو میں بخوشی حاضر ہوں، جب نماز ختم ہوئی تو بابا جی نے کہا، سلطان خان تمہاری نماز قبول نہیں ہوئی کیونکہ پوری نماز میں تم نے کنویں میں گرنے والے اپنے بندوں کے افسوس میں دھیان لگائے رکھا تھا، اس حیران کن بات پر دولت خان بابا جی کا دیوانہ ہوگیا اور ساری عمر ان کا معتقد رہا۔

اسی سلطان پور شہر کے کنارے پر بھارتی حکومت نے ایک بہت بڑی خیمہ بستی سجائی ہے جس میں پانی بجلی، بستر، صوفے، قالین، ٹوائلٹس سمیت ہر سہولت فراہم کی گئی ہے، یہ انتظام امریندر سنگھ کی پنجاب گورمنٹ کے اخراجات پر کیا جا رہا ہے۔

کرتارپور کی زیارت کیلئے آنے والے تمام سکھ اپنی باری آنے تک اسی خیمہ بستی میں قیام کیا کریں گے، اور اس کے سامنے موجود امیگریشن آفس سے اینٹری کی کاروائی مکمل کراکے کوریڈور کے ذریعے دربار صاحب تک آیا کریں گے۔

بابا صاحب نے آخری بیس پچیس سالوں کے علاوہ زندگی کا بیشتر حصہ دنیا کی سیاحت میں گزارا تھا، اس دوران انہوں نے نو براعظم دیکھے ہیں، بھائی لہنا اور بھائی مردانہ کی خواہش پر انہیں حج کرانے کیلئے ایکبار مکہ مکرمہ بھی تشریف لے گئے تھے۔

کرتارپور کوریڈور کی اوپننگ میں صرف دو دن باقی ہیں، اس افتتاح کے بعد عمران خان، نووجوت سنگھ سدھو اور منموہن سنگھ کا نام سکھوں کی تاریخ میں ہمیشہ کیلئے رقم ہو جائے گا جبکہ مشرقی پنجاب کا ہر سکھ اس معاملے میں عمران خان اور سدھو جی کے ہمیشہ گن گاتا رہے گا۔

لیکن اس موقع پر سدھو پاء جی کو بھارت کے سرکاری ڈیلیگیٹ میں شامل نہ کرنا یا ان کی آمد میں روڑے اٹکانا مودی گورنمنٹ کے بدترین تعصب میں ہی شمار کیا جائے گا۔

اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ہندو سامراج نے اس لانگھے کو ابھی تک کھلے دل سے تسلیم نہیں کیا، اب تک اس نے جو کچھ بھی کیا ہے وہ سکھوں کے دباؤ میں آکے کیا ہے اسلئے وہ مشرقی پنجاب اور پاکستان کے تعلقات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش بھی کرتا رہے گا، جیسے کل اس نے امرتسر سے ننکانہ صاحب آنے والے نگر کیرتن کو اٹاری پر روک کے گروگرنتھ صاحب کی سواری کو پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔

دو دن بعد سکھوں کی ایک دیرینہ دلی مراد تو پوری ہو جائے گی لیکن سکھوں کو اپنے حاسدین کے اوپر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہمیشہ درپیش رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں: مطالعہ پاکستان کی مذہب آلودگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لالہ صحرائی
(Visited 1 times, 3 visits today)

About Author

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: