آج کل کے دوست یعنی Passive دشمن — فرحان کامرانی

0

بچپن سے فلموں اور ڈراموں میں دوستی کے قصے دیکھے، کہانیوں میں دوستی کے بے مثال داستانیں سنیں مگر زندگی خود سب سے بڑی معلم ہے۔ اس معلم کے ہوتے ہوئے قصوں، ڈراموں، فلموں سے حکمت کی توقع کرنا ہے بھی حماقت مگر سوال یہ ہے کہ آج کی تاریخ میں جب دوستی ہر اعتبار سے اس کی صریح ضد معلوم ہوتی ہے کہ جو تصور قصوں کہانیوں میں ملتا ہے تو یہ تضاد قابل توجہ ضرور ہے۔

دوست ہوتا کون ہے؟ ایک ایسا انسان جو آپ سے محبت رکھتا ہو، آپ کا خیر خواہ ہو، آپ کی بھلائی چاہے۔ اور جو آپ کا نقصان چاہے، جو آپ کی ترقی سے جلتا ہو، جو آپ کی ہر خوبی کو نظر انداز کرتا ہو اور آپ کی ہر خامی کو سب کے سامنے لانا چاہتا ہو، جو آپ کی غیر موجودگی میں آپ کا مذاق اڑاتا ہو، اور اگر آپ کی غیر موجودگی میں اس کے سامنے آپ کی تعریف کی جائے تو وہ طنزیہ طور پر مسکراتا ہو، کوئی زہر میں ڈوبا جملہ بول دے، کیا یہ خواص کسی دوست کے ہو سکتے ہیں؟ یقینا اس کا جواب نفی میں ہے۔

یہاں پر قاری اعتراض کر سکتا ہے کہ تمام انسانوں کو ایک ہی چھڑی سے ہانکنا درست نہیں۔ یہ اعتراض درست ہے مگر آج کل کی اکثریت کا دوستی کا تجربہ بدل چکا ہے۔ دوست اب آپ کے قریب رہ کر آپ پر نظر رکھ کر آپ سے جلنے اور آپ کو نقصان پہنچنے پر خوش ہونے والے کا نام ہے۔ یعنی آپ کہہ سکتے ہیں کہ آج کل دوست دراصل passive دشمن ہیں مگر سوال یہ ہے کہ اگر 1فیصد بھی دوست وہ بن چکے ہیں جو ہم نے بیان کیا تو اس کی ممکنہ وجوہات کیا ہو سکتی ہیں؟

دراصل ہمارے معاشرے کی اقدار بڑی تیزی سے بدل رہی ہیں۔ آج کی تاریخ میں ترقی اور سب پر سبقت لے جانا سب سے بڑا سماجی جنون اور سب سے بڑا نشہ ہے۔ یہ ایک ایسی دوڑ ہے کہ جس سے سگے بھائی بھی محفوظ نہیں رہتے۔ سگی بہنیں بھی محفوظ نہیں۔ ہر کوئی معاشی اعتبار سے، سماجی طاقت کے اعتبار سے دوسرے سے برتر رہنا چاہتا ہے، برتر محسوس کرنا چاہتا ہے۔ سماج میں اب عزت کا معیار ہی معاشی طاقت ہے۔ مگر سگے بھائی بہنوں میں کیونکہ خون کا رشتہ ہوتا ہے اس لئے ایک دوسرے کا درد بہرحال محسوس ہو ہی جاتا ہے مگر؎ دوستوں میں خون کا رشتہ نہیں ہوتا اس لئے تعلق محض ایک جگہ پڑھنے، رہنے، نوکری کرنے وغیرہ جیسے امور سے بنتا ہے۔ ابتدائی طور پر تعلق مثبت ہی ہوتا ہے اور ایک دوسرے کی حمایت اور ساتھ دینے کی خواہش بھی کم و بیش موجود ہوتی ہے مگر رفتہ رفتہ سماجی طاقت کی دوڑ اس تعلق میں بھی در آتی ہے۔ پھر حسد کا جذبہ تو انسان میں ہے ہی۔ اب وہ سماجی نظام بھی بڑی حد تک انحطاط کا شکار ہے کہ جو لالچ، مسابقت، حسد وغیرہ کو منفی گردانتا تھا اور اس کا انسداد کرتا تھا۔ اب ہر جگہ لالچ اور مسابقت کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔ اب اشتہارات کی ٹیگ لائن ہی دیکھ لیجئے۔ ”سب سے آگے“، ”سب سے حسین“، ”سب سے مفید“۔ الغرض جو بھی بات ہے اس میں موازنہ ضرور ہے۔ بڑی حد تک زندگی اب انسانوں کے لئے ایک دوڑ ہے، ایک ایسی دوڑ جس میں کوئی اول آئے گا کوئی دوئم، کوئی سوئم اور بس یہ رتبہ، یہ مقام ہی انسان کی سماج میں قدر متعین کرتا ہے۔ انسان جب کم عمر ہوتا ہے تو اس دوڑ میں اس قدر الجھا ہوا نہیں ہوتا مگر رفتہ رفتہ یہ مسابقت ہر چیز میں در آتی ہے۔ وہی افراد اس کا سماجی تناظر اور Reference point بن جاتے ہیں۔ وہ انہی افراد کے سماجی مقام سے اپنے سماجی مقام کا تعین کرتا ہے۔ حسد اور مسابقت بھی پھر سب سے زیادہ انہی افراد سے ہوتی ہے جو ارد گرد ہوں۔ اب کیونکہ مسابقت کی دوڑ ہی زندگی کی سب سے اہم چیز ہے، اسلئے انسان سوتے جاگتے اپنا موازنہ ہر اس انسان سے کرتا رہتا ہے جو اس کے سماجی حلقے میں ہے۔ آج کل سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر ہر وقت اسی مسابقت کے اشتہار لگے رہتے ہیں۔ لوگوں کے مہنگے کپڑوں، مہنگے موبائل فونز، گھروں، کھانوں، بیرون ملک اور اندرون ملک کی سیاحت الغرض ہر کام، ہر قدم کی تصویری نمائش جاری رہتی ہے۔

ہم اکثر لوگوں کو تنہائی میں یہ رنج کرتے دیکھتے ہیں کہ ”فلاں“ اور وہ ایک ہی جگہ پڑھتے تھے مگر ”فلاں“ کتنے آگے نکل گیا۔ اس ضمن میں ایک دلچسپ نفسیاتی مطالعہ قابل ذکر ہے۔ میں جامعہ کراچی کے زمانہ طالب علمی کے اپنے دو ساتھیوں کے رویے کا 14 سال سے مطالعہ کر رہا ہوں۔ دونوں ایک ہی شعبے میں ہم جماعت تھے۔ ان میں سے ایک ہر مضمون میں اول پوزیشن لیتا جبکہ دوسرا دوئم آتا۔ جو اول آتا اس کے نمبر اگر 85 ہوتے تو دوئم آنے والے کے 75 ہوتے۔ یہ دوئم آنے والا لڑکا کبھی اپنی کامیابی پر خوش نہ نظر آتا بلکہ ڈھکے چھپے طور پر یہ کہہ ہی دیتا کہ اسے لگتا ہے کہ ”اول“ کو اساتذہ Favor کرتے ہیں۔ بعد میں دونوں نوکری کے میدان میں گئے، ان میں سے اول آنے والے نے ایک جامعہ میں استاد کی نوکری کی جب کہ دوئم ایک بالکل مختلف شعبے میں نوکری کرنے لگا۔ بعد میں اس کی وہ نوکری چلی گئی تو اس نے بھی تدریس کے شعبے میں مجبوراً قدم رکھا۔ اب جیسے دوئم میں موجود اول کی وہی زمانہ طالب علمی کی مسابقت پھر کسی سوئے ہوئے درد کی طرح جاگ گئی۔ جب بھی اول کی معاشی ترقی یا تعلیمی ترقی ہوتی، میرے پاس دوئم کا فون آتا۔ باتوں باتوں میں وہ اول کی ترقی کا ذکر زہر میں ڈوبے لہجے میں ہوتا۔ کچھ عرصے قبل جب اول PhD کی اسکالرشپ پر بیرون ملک چلا گیا تو دوئم کا ماتم کرتا فون آیا۔ بس رو نہیں رہا تھا، اس کے علاوہ شدید غم کی تمام علامات اس کی ہر بات میں ظاہر تھیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اول اور دوئم جامعہ کے دور میں بڑے گہرے دوست تھے اور ابھی بھی ایک دوسرے کو دوست ہی کہتے ہیں۔ اسی میں اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ جذبہ مسابقت دونوں کے رشتے میں دو طرفہ ہے۔ میں کئی مرتبہ اول کو بھی دوئم کی بابت منفی باتیں کرتا دیکھ چکا ہوں اور اس سے آگے نکل جانے پر ایک احساس تفاخر بھی باتوں میں جھلکتا ہے۔ غور کریں تو یہ دو ”دوست“ کوئی استثنائی مثال ہیں بھی نہیں۔ بڑی حد تک ہمارے اخلاقی طور پر انحطاط پذیر معاشرے میں اب دوستی ہے ہی اسی چیز کا نام۔ یہ وہ خوفناک منظر نامہ ہے کہ جس میں انسان آخر میں بالکل تنہا رہ جائے گا، ظاہر سی بات ہے کہ اگر زندگی کسی Race کا ہی نام ہے تو پھر حسد و رقابت کے علاوہ انسانوں میں کون سا جذبہ رہ سکتا ہے؟ اسی لئے آج انسانوں کا باہمی تعلق بس دشمنی ہی ہے۔ کچھ Active دشمن ہیں جنہیں آپ دشمن ہی گردانتے ہیں اور کچھ Passive دشمن ہیں کہ جن کو آپ ”دوست“ کہتے ہیں مگر آپ کو بھی ان ”دوستوں“ کی ضرورت تو ہے کیونکہ Race تنہا تو نہیں لگائی جا سکتی۔ اسی لئے یہ دو طرفہ رقابت و حسد کے رشتے زندگی بھر قائم رہتے ہیں اور دوستی کا التباس اس معاشرے میں قائم رہتا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: