محمد حسن عسکری: اردو تنقید کا قطب —- عزیز ابن الحسن

0

5 نومبر 1919، اردو کے سب سے منفرد نقاد محمد حسن عسکری کی پیدائش کا دن۔

5 نومبر 2019، اردو تنقید کے اس طرح دار نقاد کا صد سالہ یوم پیدائش۔

آج جب کہ عسکری کی پیدائش کو سو سال مکمل ہو رہے ہیں راقم کا یہ کہنا کہ عسکری اردو کے سب سے بڑے نقاد ہیں اسلیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا کہ اردو دنیا کے دو سب سے بڑے ہندوستانی زندہ نقاد شمس الرحمن فاروقی اور شمیم حنفی گزشتہ کئی برسوں سے محمد حسن عسکری کو اردو کا سب سے بڑا نقاد کہتے اور لکھتے چلے آرہے ہیں۔

راقم کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ عسکری اردو کے سب سے بڑے نقاد ہیں یا نہیں لیکن یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے جدید اردو زبان و ادب میں ہمہ جہت زندگی سے بھرپور نثر لکھنے، ادب کو صدیوں پر محیط تہذیب کے روحانی تجربے کے طور پر پڑھنے، نشاۃ ثانیہ کے بعد کے مغربی ادب پر ناقدانہ نظر رکھنے، مشرق و مغرب کی ہر للکار سے آنکھیں چار کر کے اسے اپنی مابعد الطبیعی اقدار کی روشنی میں پرکھنے، زندگی کے گہرے پیچیدہ اور تقدیری مسائل سے نبرد آزما ہو کر انہیں پاکستان کی ثقافتی روح میں سموتے ہوئے اردو زبان و ادب کو ایک جمال آفریں تجربہ بنانے کا خواب دیکھنے والے منفرد نقاد اور ادیب کے طور پر اردو کا کوئی دوسرا نقاد آج نصف صدی کے بعد بھی محمد حسن عسکری کے سائے کے قریب نہیں پہنچ سکا۔

سراج منیر کے بقول اردو تنقید میں محمد حسن عسکری کی مثال قطب تارے کی ہے۔ کوئی ان کی مخالف سمت میں گیا اور کوئی ان کی طرف رخ کرکے چلا، مگر ہر کسی نے سمت نمائی عسکری ہی سے پائی ہے۔

عسکری کی ادبی زندگی کا آغاز 1939میں ہوا اورجنوری1978 میں اپنے انتقال سے دو روز پہلے تک وہ مسلسل لکھتے رہے تھے۔ ان کی ابتدائی شہرت ایک افسانہ نگار کی تھی مگر اپنے پہلے افسانوی مجموعہ “جزیرے”، 1943، کے آخر میں انہوں نے جو اختتامیہ لکھا تھا وہ آج بھی نہ صرف فکشن بلکہ زندگی، ادب، ثقافت اور مشرق و مغرب کے تہذیبی امتیاز کے بارے ان کے پختہ تنقیدی شعور کا ایک بے مثال کارنامہ ہے۔ انکی بعد کی زندگی میں اگرچہ بہت سے نشیب و فراز آئے مگر ان کی یہ تحریر ان کے بعد کے مابعد الطبیعیاتی تصورات کے ابتدائی نقوش اپنے اندر اسی طرح رکھتی ہے جس طرح کسی چھتنار درخت کے پھیلاؤ، گیرائی اور خواص کے تمام تر امکانات اس کے ننھے سے بیج میں ہوتے ہیں۔

عسکری کی چالیس سالہ ادبی زندگی میں ان پر بہت سے لیبل چسپاں کیے گئے تھے۔ کبھی انہیں تاثراتی نقاد کہا گیا اور کبھی ادب برائے ادب کا نقیب مانا گیا لیکن زندگی اپنی تمام تر جہتوں اور ہمہ گیر روایتی تہذیبی اقدار کی کمک کے ساتھ جدید شعورِ حیات و تصورات سے نبرد آزما ہوتی جیسی ان کی تحریروں میں نظر آتی ہے اسے احاطۂ شعور میں لانے کے لئے مرغِ تصور کے بھی پر جلنے لگتے ہیں۔ ان کی تنقیدی کاوشوں پر کوئی سرنامہ لگانا اگر ضروری ہی ٹھہرے تو انہیں تہذیبی و ادبی تجربوں میں ان اقدار کی سراغرسانی کرنے والا ایسا نقاد کہہ سکتے ہیں جس نے اپنے زمانے کے ہر اس چیلنج پر نگاہ رکھی جو مغربی نشاۃ ثانیہ کے بعد روایتی تہذیبی اقدار اور مابعدالطبیعات کے لئے خطرہ ثابت ہوا ہے۔ وہ اردو کے پہلے اور اب تک کی تنقید کے شاید سب سے اہم نقاد ہیں جس نے ادب کو صدیوں پر محیط تہذیب کے روحانی تجربے کے طور پر پڑھا اور ادب کو اس طور پر پڑھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا کہ وہ زندگی کے گہرے، پیچیدہ، نازک اور تقدیری مسائل کا آئینہ بھی لگے اور خود ایک مجسم جمال تجربہ بھی ہو۔ ایسے نقاد کو جس نے محض وقت گزاری کا مشغلہ سمجھا تو جانیے کہ اس نے اپنے اور اس نقاد کے ساتھ بڑی زیادتی کی۔ عسکری کو پڑھنا زندگی بھر کی ریاضت ہے اس ریاضت کے بِنا جدید زندگی کی روئے دریا سلسبیل و قعرِ دریا آتش مثال ہولناکیاں اور لرزہ خیزیاں سمجھ نہیں آسکتیں۔ عسکری نے ان آتش فشانیوں کو لمس کی طرح محسوس کرنا اور آگ کی طرح ان میں پگھلنا سکھایا ہے۔

برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں پاکستان کا قیام جس تہذیبی روح کو مجسم و فعال کرنے کی ایک خواہش و کوشش تھی پاکستان میں محمد حسن عسکری کی تنقیدی سرگرمیاں انہی اقدار و تصورات کو ادب میں متشکل کرکے عصری طرزحیات اور مسائل کے شعور کو اس ادب کا لازمی جز دیکھنا چاہتی تھیں۔ قیام پاکستان کے زمانے میں ان کی اٹھائی “پاکستانی کلچر” اور “پاکستانی ادب” کی بحثیں اس کے سوا کچھ نہیں تھیں۔ اُس زمانے میں ہمارے ہاں دو بڑے ادبی تصورات کارفرما تھے: ترقی پسند نظریہ ادب اور جدیدیت (یاد رہے یہاں “جدیدیت” ادبی مفہوم کے اعتبار سے اس تصورِ ادب کا عنوان ہے جو قیام پاکستان کے گردوپیش ترقی پسند نظریہ ادب کے مقابل وہ تصورِ ادب تھا جس کی نمائندگی حلقہ ارباب ذوق کے پاس تھی)۔ ترقی پسند تو پاکستانی کلچر اور ادب کے ان تصورات کے سخت مخالف تھے جبکہ جدیدیت پسند ان معاملات کو ادب کا مسئلہ ہی نہ جانتے ہوئے اس بحث سے بالکل لاتعلق تھے۔ ایسے میں عسکری کا تصورِ ادب ان دونوں انتہاؤں سے الگ ہوکر جس طرح فعال اور سرگرم رہا وہ بڑی تحریکوں اور رجہانوں کے درمیان کسی فرد واحد کی انتھک اور رجحان ساز جد و جہد کی انوکھی مثال تھا۔ پاکستان میں عسکری کی کوئی سیاسی پشت پناہی نہیں تھی وہ اگر حکمران طاقت کی مخالف انتہا پر نہیں تھے تو اس کے ہم نواؤں میں بھی کبھی نہیں رہے بلکہ پہلے ترقی پسندوں کے مسئلے میں اور پھر امریکی اور سرمایہ دارانہ مفادات کو تحفظ دینے کی وجہ سے ان کا عمومی رخ مسلم لیگی اور مارشل لائی پالیسیوں کے نقاد کا ہی رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود پورے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی مذہبی، تہذیبی، قومی اور ادبی روح اپنی صدیوں پرانی شناخت کے لیے اگر کبھی کسی کو اپنے تنقیدی اظہار کا واحد نمائندہ قرار دے گی تو وہ محمد حسن عسکری ہی ہوں گے۔

پچھلے ساٹھ ستر سال کی اردو تنقید میں محمد حسن عسکری کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں رہی ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ بعض لوگوں نے ان کے خیالات کو درست تناظر کے بغیر ہدف تنقید بنایا ہے ان کے بارے میں بہت سی مفروضے یا تو گھڑ لئے گئے ہیں یا گھڑے گھڑائے مفروضوں کو بغیر درست تحقیقی تناظر کے قبول کر لیا گیا ہے۔ ایک ایسا ہی مفروضہ ان کی بار بار آراء بدلنے کا بھی ہے یار لوگوں نے یہ بات اتنے تواتر سے دہرائی ہے کہ کہ لگتا ہے کہ اپنے چالیس سالہ ادبی سفر میں عسکری تھالی کے بینگن کی طرح بس ادھر ادھر لڑکھتے ہی رہے ہیں کبھی کسی موقف پر انہوں نے ٹک کر نہیں دیا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے کچھ مسائل میں اگر اپنے خیالات تبدیل کیے ہیں تو ان کے ہاں بہت سے تصورات و اقدار ایسے بھی ہیں جن کے بارے میں ان کا موقف اول روز سے آخر تک کبھی تبدیل نہیں ہوا۔ معلوم نہیں کہ یہ دیانتداری کی کونسی قسم ہے کہ عسکری کی بار بار آراء بدلنے کی بات پر تو بڑے بڑے جغادری طوطوں کی طرح بیک زبان کرتے ہیں مگر جن باتوں پر وہ ساری زندگی کوہِ گراں کی طرح اٹل رہے اس کی طرف بہت کم اشارہ کیا جاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہر آدمی کے کچھ آدرش ہوتے ہیں اور ان آدرشوں کی تلاش میں وہ بیسیوں در کھٹکھٹاتا ہے۔ آگے بڑھنا لوٹنا پلٹنا دائیں بائیں جانا یہ ایک سچی پیاس کی نشانی ہے۔ افسوس کہ ہماری تنقید نے عسکری کی اس پیاس پر کم توجہ دی ہے پھبتیاں البتہ خوب کہی ہیں۔ اسکا کوئی دکھ نہیں کیونکہ پھبتیوں سے لطف اندوز ہونا تو اردو تنقید کو عسکری نے ہی سکھایا ہے۔ مگر ملال اس بات کا ہے کہ ہمارے نقادوں کی اکثریت (اس میں عسکری کے مخالف اور حامی دونوں طرح کے نقاد آتے ہیں) نے عسکری کے صرف تلوینی پہلو پر نظر رکھی ہے، ان کے تمکینی مقامات پر کم ہی لوگوں کی توجہ گئی ہے۔

آج جب کہ عسکری کی پیدائش کو سو سال پورے ہو رہے ہیں اردو تنقید کو چاہیے کہ عسکری پر کو اس تناظر میں بھی دیکھے جسے مابعد جدیدیت اور پس نوآبادیاتی مطالعات کہتے ہیں۔ مغرب میں ان رجحانات کا عرصہ وہی ہے جب اردو تنقید کا یہ قطبی ستارہ غروب ہو رہا تھا۔ مگر جاتے جاتے بھی اس ستارے کی چمک نے اس سمت اشارے کر دیے تھے جہاں ساختیات کے بعد پس ساختیات کے مباحث نے جنم لینا شروع کیا تھا۔ جس زمانے میں اُدھر فرانس میں پس ساختیاتی نقادوں نے ساختیات کی محدودیتوں کی طرف توجہ کی تھی اور جان ہاپکنز یونیورسٹی، امریکہ میں یاک دریدا لیوی سٹراؤس کو اپنی تنقید کا نشانہ بنا رہا تھا عین اسی دور میں اردو زبان کا ایک بے چارہ نقاد، عسکری، اپنے خطوط میں فرانس میں پیدا ہونے والی نئی ادبی لہر کی طرف توجہ دلا کر ارودو جدیدیت کے علمبرداروں کو اپنی تنقید میں وسعت پیدا کرنے کے مشورے دے رہا تھا کہ مغرب میں آئی اے رچرڈز وغیرہ کی جس “نئی تنقید” نے ادب کو زندگی اور گردوپیش کی معاشرت اور ثقافت سے الگ ہوکر صرف ادب پارے میں بند ہوکر سمجھنے کی کوشش کی تھی وہ آج مغرب کی یونیورسٹیوں میں وفات پا رہی ہے۔ یہ یاک دریدا کی مرکز شکنی (decentering) والی کاوشوں ہی کا دور تھا جب بشریاتی ساختیات کے سب سے بڑے نظریہ ساز لیوی اسٹراؤس کی بعض کوتاہیوں کی طرف توجہ دلا کر عسکری نے فرانس کے ساختیاتی قرآنی مفسر آرکون کو قرآن پاک کے اس طرزِ مطالعہ کی خطر ناکیوں سے آگاہ کیا تھا۔ مغرب میں پس نو آبادیاتی مطالعات کا آغاز ایڈورڈ سعید کی کتاب “اوریئنٹل ازم”، 1978، کے بعد سے مانا جاتا ہے۔ جبکہ عسکری کی تحریروں میں یورپ مرکزیت (Eurocentrism) سے گریز کا بیچ تو ان کے پہلے افسانوی مجموعہ “جزیرے” کے اختتامیہ، 1939، ہی میں نظر آنا شروع ہوگئے تھے مگر 54-1953 کے بعد ان کی تحریروں میں یہ رنگ بتدریج گہرا ہوتا ہوا مغربی ادب و تہذیب کو “سڑک کا غل غپاڑہ” کہنے پر منتج ہوا تھا۔ عسکری کے روئیے کو ہمارے ہاں “استردادِ مغرب” سمجھا گیا حالانکہ اس سے عسکری کی مراد نشاۃ ثانیہ کے بعد کی مغربی تہذیب اور ادب کو مشرقی مابعد الطبیعیاتی روایت کی روشنی میں دیکھنا، اسے جذب کرنا اور اس کے کھرے کھوٹے کو پرکھ کر مغرب کے اندھے تقلیدی رویوں کو ترک کرنا تھا۔ اس اعتبار سے محمد حسن عسکری ہمارے سب سے بڑے مابعد نوآبادیاتی نقاد کے طور پر بھی سامنے آتے ہیں۔ اس ذیل میں مہرافشاں فاروقی کا یہ اقتباس بہت اہم ہے:

Askari speaks from the center of a crisis of culture—both as a leader of Urdu intellectual discourse and as a subject of the rupture inflicted on Indo-Muslim literary-cultural history. The milieu of this cultural crisis was the progression of events leading to independence, Partition, and the creation of India and Pakistan in 1947, which, in turn, precipitated in Askari an emotive effort to chart the parameters of Indo-Muslim identity within a “new” Pakistani culture. It was an exceptional prefiguration of a postcolonial critic —writing back not only to the empire, but also to the nation— decades before the academy recognized such voices and the cultural-literary phenomenon they embodied. Askari’s intellectual journey commenced with cosmopolitanism, developed into a form of early postcolonialism, and was increasingly transformed by the last decade of his life when he began to map an exclusive Islamic-Sufistic philosophy.

آج جبکہ کہ اردو کے اس سب سے منفرد اور طرح دار نقاد کی پیدائش کے سو سال مکمل ہو رہے ہیں راقم کی یہ چھوٹی سی تحریر عسکری کے صد سالہ یوم ولادت پر اگلے قدم کی تمہید ہے۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

یہ بھی پڑھیں: محمد حسن عسکری کی خاکہ نگاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلیم احمد
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: