پی ٹی آئی، نوجوان اور مولانا کے آنسو — حمزہ صیاد

0

2013 کے الیکشن کے دوران ایک اینکر نے مولانا فضل الرحمان سے کہا کہ تبدیلی کی ہوا چل رہی ہے، تو مولانا بڑے آہنگ سے کہتے ہیں کہ بھٹو کے دور میں بھی تبدیلی سے پورا ملک متاثر ہوا تھا سوائے خیبر پختونخواہ کے، اس لیے خاطر جمع رکھیے ہمارے ہاں کوئی تبدیلی نہیں آنے والی۔

مجھے یاد ہے جب بھی عمران خان کے بارے میں سوال کیا جاتا مولانا حقارت آمیز لہجے میں کہتے کہ آپ کس آدمی کی بات کر رہے، یہ شخص پاکستانی سیاست کا غیر ضروری عنصر ہے۔ مولانا کو اپنے تعلقات کی وسعت اور اپنی سیاست پر بڑا ناز تھا لیکن وہ اپنی تمام تر بصیرت کے علی الرغم سیاسی و سماجی حرکیات نہ سمجھ سکے اور تبدیلی کو شکار ہو کر رہے۔

اس دور میں عمران خان صرف نون لیگ اور پیپلزپارٹی کو ٹارگٹ کیا کرتے تھے مگر مولانا نے ہر موقع پر عمران کو ٹارگٹ کیا اور یہودی ایجنٹ کا خطاب دیا۔ مولانا نے عمران کے خلاف اپنے ترکش کا ہر تیر چلایا مگر ناکام رہے۔ مولانا یہ نہ سمجھ سکے کہ نئی نسل نون لیگ اور پیپلزپارٹی سے بیزار ہوتی ہو چکی ہے۔ مولانا نے ان سیاسی جماعتوں کی وکالت ان کے کارکنان سے بھی بڑھ کر کی۔

الیکشن کے بعد عمران خان نے دھاندلی کے خلاف تحریک شروع کی اور ہر آئینی و قانونی دروازہ کھٹکھٹایا، ہر طرف سے مایوسی کے بعد اسلام آباد میں بیٹھ گئے۔ مولانا صاحب خود الیکشن کو دھاندلی زدہ قرار دے رہے تھے مگر مناسب ایڈجسٹمنٹ کے بعد وہ سب بھول بھال کر عمران خان کے خلاف صف آراء ہو گئے۔ مولانا ہر روز ایوانوں سے طنز کے نشتر چلاتے بلکہ کئی بار انہوں نے دھرنے والوں کے لئے نامناسب الفاظ کا استعمال بھی کیا۔ کڑکڑاتے جاڑے میں مشکلات برداشت کرتے نوجوان مولانا کے ریمارکس پر تنہائی میں ضرور اشک بار ہوئے ہوں گے۔ ان نوجوانوں کی بڑی تعداد خیبر پختونخواہ سے تھی۔ ان نوجوانوں نے مولانا کی طرف سے دیے گے زخموں کو یاد رکھا اور پچھلے الیکشن میں مولانا سے بھرپور انتقام لیا۔ مولانا صاحب اپنی دونوں سیٹوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

مولانا نے ایک آدھ بار یہ کہہ کر کہ وہ ’اپنے دروازے کھلے رکھتے ہیں‘ یہ اشارہ دیا کہ وہ حکومت کے ساتھ چل سکتے ہیں مگر اب کے عمران خان کے ہاں مولانا کے لیے کوئی نرم گوشہ باقی نہ رہا تھا۔ مولانا بجائے اپنی سیاست کا ازسرنو جائزہ لینے کے آگ بگولہ ہو گیے اور حکومت وقت کے خلاف مذہبی کارڈ کھیلنے لگے۔ مولانا نے ملین مارچ کیے اور پھر دھرنہ دیا مگر اس بار رونے کی باری ان کی تھی۔ کل رات ان کو اشک بار دیکھ کر مجھے تحریک انصاف کے دھرنے کا وہ دور آیا جب تحریک انصاف کے کارکن بے بسی کا شکار تھے اور تمام اپوزیشن ان پر ہنسا کرتی تھی۔ باوجود مولانا کی اس تاریخ کے مجھے ان کی کل رات کی تقریر میں جو بے بسی نظر آئی اس سے بڑا دکھ ہوا۔ ایک ایسا شخص جس نے مذہبی طبقے کو دہشتگردی سے بچایا اور اپنا ایک نام پیدا کیا وہ سیاسی ہار کے بعد اعتدال برقرار نہ رکھ سکا اور بیچارگی کی مجسم تصویر بن کر رہ گیا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: