حقوق نسواں سے برابری کے حقوق تک —- ڈاکٹر مریم عرفان

0

خدائے بزرگ و برتر نے کائنات کی تخلیق کو اتنا مبہم نہیں بنایا جتنا ہم نے بنا رکھا ہے۔ انسان کا اشرف المخلوقات ہونے کا سیدھا سا فلسفہ ہے کہ جانوروں کی زندگی جن و انس سے مختلف ہے۔ وہ کھڑے ہو کر پیشاب کرتے ہیں، اپنی حاجت روائی میں خونی رشتوں سے نابلد ہیں۔ ان کی دنیا کا دستور انسانوں سے تو بالکل میل نہیں کھاتا اسی لیے وہ جانور ہیں۔ جب انسان ولایت کے عہدے پر فائز ہوتا ہے تو اس کا مقام و مرتبہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہی عقل والوں کے لیے نشانیاں بتا دیں اور کہہ دیا کہ کبھی عالم اور جاہل برابر نہیں ہوسکتے۔ دین اسلام فطرت کے اصولوں پر قائم ہے اس لیے اس میں بحث و مباحثہ کی بھی گنجائش نہیں ہے۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ آدم کے لیے حوا کو پیدا کرنا اور اسے فہم و فراست میں مردسے کم رکھنا حکمت کی نشانی ہے اور اس دلیل کے بعد مزید کسی بات کی دلیل بے کار ہے۔ دنیا کا پہلا قتل ایک عورت کے لیے ہوا یعنی عورت کے نام پر ہابیل نے قابیل کو مار دیا۔ اقلیما قیامت تک اس قتل کی ذمہ دار ٹھہرائی جائے گی اسی لیے قرآن مجید نے بتا دیا کہ زن، زر اور زمین انسان کے لیے زمین پر فتنہ ہیں۔ جب زلیخا نے حضرت یوسف پر الزام لگایا تو ان کی پاکدامنی نے یہ ثابت کر دیاکہ دنیا میں زلیخا جیسی عورتیں بھی جنم لیں گی اور یوسف ثانی بھی پیدا ہوتے رہیں گے۔ خیر و شر کا تصادم تو ازل سے ابد تک کے لیے ہے اس لیے ان حقیقتوں سے منہ موڑنا آسان کام نہیں ہے۔

اب آتے ہیں قدیم تہذیبوں کی طرف، جب فلسفیوں کے پاس کائنات کے رازوں کو سمجھنے کے لیے کوئی سرا نہیں تھا۔ کسی کو خدا کے جلال میں جمال دکھائی دیتا تھا تو کوئی پتھروں اور درختوں میں اپنے خدا کو تلاش کر رہا تھا۔ ایسے میں مصر، یونان اور روم میں دیوی دیوتاؤں کے وجود نے جنم لیا اور میسوپوٹیمیا میں قدیم عورت کے خدو خال سومیری تہذیب کے اندر نظر آئے۔ یہ وہی سومیری تہذیب ہے جس میں اننا نامی دیوی کو جنس، خوبصورتی، محبت، جنگ، انصاف اور سیاسی طاقت کی دیوی مانا جاتا تھا۔ مصرمیں بھی ایسی ہی دیویاں موجود تھیں اور وہاں کی عورت بھی خود مختار اور آزاد تھی۔سومیری عورت کو جائیداد خریدنے، بیچنے اور وراثت میں حصہ مقرر کرنے کا اختیار حاصل تھا۔ قدیم مصر میں، خواتین مرد کی طرح قانون کے تحت ایک جیسے حقوق کی مالک تھیں لیکن وہاں معاشرتی طبقے کی تخصیص کے بعد ہی اس بات کا فیصلہ ہوتا تھا کہ عورت اپنی جائیداد کے انتظام کی حقدار بھی تھی اور عدالتی کارروائی کرنے کے علاوہ بچوں کو گود لینے والی عورتوں کو بھی خرید سکتی تھی۔

قدیم ویدک ادوار میں مرد و خواتین برابری کے حقوق استعمال کرتے تھے۔ یہاں تک کہ رگ وید کے مطابق خواتین اپنے شوہر کا انتخاب بھی خود کرتی تھیں۔ یونان میں خواتین کو سیاسی اور مساوی حقوق کی پامالی کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ آثار قدیمہ کے زمانے تک تحریک کی ایک خاص آزادی سے لطف اندوز ہوئیں۔ بعد ازاں قانون سازوں نے صنفی امتیاز کو نافذ کرنے والے قوانین بنائے جس کے نتیجے میں خواتین کے حقوق میں کمی واقع ہوئی۔ اسی طرح قدیم ایتھنز میں خواتین کی قانونی حیثیت مجروح ہوئی انھیں شاعر، سکالر، سیاست دان اور فنکار بننے سے بھی روکا گیا۔ ارسطو کے ہاں بھی عورتوں سے متعلق متعصبانہ رویہ نظر آتا ہے جس کا برملا اظہار کرتے ہوئے وہ کہتا ہے کہ عورتیں عدم استحکام اور برائی لائیں گی۔ ایتھنز کی خواتین نے تعلیم بھی بہت کم حاصل کی۔ اس کے برعکس اسپارٹا میں خواتین کو فوجی اور سیاسی زندگی سے باضابطہ طور پر خارج کر دیا گیالیکن وہ پھر بھی جنگجوؤں کی ماؤں کی حیثیت سے لطف اندوز ہوتی رہیں۔ افلاطون بھی اسی نظریے کا قائل تھا کہ عورت گھر کے امور کو دیکھنے کے لیے پیدا ہوئی ہے۔

رومن قانون بھی مردوں نے ہی بنایا تھا اس لیے وہاں پہلی صدی کے بعد چھٹی صدی قبل مسیح تک خواتین کے لیے عوامی آواز اٹھانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ قدیم روم کی آزادنہ خواتین وہ شہری تھیں جو قانونی استحقاق سے فائدہ اٹھاتی تھیں تاہم رومن معاشرہ آدرش پسند تھا اس لیے وہاں خواتین کوئی عوامی خدمت انجام نہیں دے سکتی تھیں۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ رومن معاشرے میں شوہر کو اپنی بیوی سے جسمانی تعلق پر اسے مجبور کرنے کا حق حاصل نہیں تھا۔ قدیم روما میں عورت اپنے باپ کے اختیار میں شمار ہوتی تھی اور اس کے مرنے کے بعد وہ خاوند کو جواب دہ گردانی جاتی تھی۔ پہلے رومن بادشاہ، اگسٹس نے اخلاقیات کو معاشرے کا جزوسمجھتے ہوئے زنا کو جرم قرار دیااور اسے ایک غیر قانونی جنسی فعل سے تعبیر کیا گیا جو شادی شدہ مرد اور عورت کے مابین ہو۔ اب ذرا قدیم چین کی خواتین کا حال ملاحظہ ہو جہاں عورت کو کوئی مقام حاصل نہیں تھا۔ اسے اتنا کم تر سمجھا گیا کہ بیویوں کو اپنے شوہروں اور بیٹوں کی اطاعت کرنے کا حکم دیا گیا۔ چین کا شاہی قانون بھی بڑا سخت تھا جس میں طلاق کی سات اقسام بیان کی گئیں۔

مذہب میں عورت کو کیسے اس کے حقوق حاصل ہیں اس کے مطابق بائبل کہتی ہے کہ خواتین کو ان کی نمائندگی کی اجازت دی جائے، معاہدہ کرنے کی اہلیت اور خریدو فروخت کا بھی اختیار ملے۔ بیویوں کے اپنے شوہروں کے ساتھ جنسی تعلقات کے حق کی ضمانت بھی دی گئی ہے۔ عہد نامے کی خلاف ورزی کی صورت میں چینی عورت کو طلاق کا حق دیا گیا۔

تمام ادیان میں عورت کے کردار کو جس طرح اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑا دین اسلام نے اس کی نفی کی۔ پہلی بار قرون وسطی کے یورپ میں صدیوں بعد دوسری تہذیبوں کے مقابلے میں اسلام نے خواتین کو قانونی حیثیت سے سرفراز کیا۔ اسلام سے قبل عربوں کے ہاں عورت کی جو توقیر تھی وہ بھی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ وہاں صرف عورت کا معاشی اور معاشرتی استحصال ہی نہیں ہوتا تھا بلکہ نفسیاتی سطح پر بھی اسے کچلا جاتا رہا۔ دین اسلام نے عورت کے مقام و مرتبے کو اس درجہ کھلے انداز میں بیان کیا کہ اگر حقیقتاً نفاذ اسلام ہو جائے تو برائی کی شرح میں کمی آ سکتی ہے۔

اب بات کرتے ہیں مغربی معاشرے کی، جس میں عورت کے مقام و مرتبے کا تعین کرتے ہوئے ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ وہاں مذہبی فرقے کا موقف معاشرتی حوالوں سے مختلف ہے۔ انگلینڈمیں عیسائی مذہب میں اس بات کو بیان کیا گیا کہ حوا کی جانب سے آدم کو شجر ممنوعہ تک جانے کی پاداش میں باغ عدن سے نکالا گیا اس لیے ولادت کے وقت درد زہ کا ہونا عورت کے لیے قدرت کی طرف سے سزا ہے۔ عورت کو مرد کے مقابلے میں حقیر، فریبی، ناقابل اعتماد، دھوکہ دہ اور ضدی جیسے القابات سے بھی نوازا گیا۔ قرون وسطی کے دور میں بھی عورتیں مردوں سے کم تر گردانی جاتی تھیں۔ آئرش قانون میں بھی خواتین کو عدالتوں میں بطور گواہ کام کرنے سے منع کیا گیا۔ ویلش قانون میں بھی خواتین کی گواہی کو دوسری خواتین کے خلاف قبول کرنے کا اختیار دیا گیا لیکن کسی دوسرے مرد کے خلاف وہ گواہی پیش کرنے سے محروم تھیں۔ قرون وسطی میں شادی کی حد عمر لڑکیوں کے لیے کم از کم بارہ سال اور لڑکوں کے لیے چودہ سال مقرر کی گئی۔ یورپ میں آزادی نسواں کا یہ دور بڑا تلخ معلوم ہوتا ہے خاص طور پر وائی کنگ ایج کے دوران، سویڈن، ڈنمارک اور ناروے کے نورڈک ممالک میں خواتین کو نسبتاًآزاد حیثیت حاصل تھی۔ جس کا اطلاق آئس لینڈ کے گریگس اور نارویجن فراسٹیٹنگ قوانین میں درج ہے۔ جب ایک شادی شدہ عورت کو اپنے شوہر کو طلاق دے کر دوبارہ شادی کرنے کا حق دیا جاتا ہے۔ آزاد عورت کے لیے مرد کے ساتھ صحبت کرنا اورناجائز بچے پیدا کرنے کا اختیار دینا بھی قانون کا حصہ تھاچاہے وہ مرد شادی شدہ ہو، ایسی عورت کے لیے ’ فریلا‘‘ کا لفظ استعمال ہوتا تھا۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ عیسائیت کے غلبے نے ان آزادیوں کو بڑی حد تک ختم کیا اور تیرھویں صدی کے آخر میں ان تمام باتوں کا ذکر ماند پڑ گیا۔

یورپ میں خواتین کی قانونی حیثیت ان کی ازدواجی حیثیت سے متصادم رہی اور مغربی معاشرے نے خواتین کو خودمختاری دیتے ہوئے ان سے شادی کے اختیار کو محدود کر دیا۔ ازدواجی عدم مساوات کا یہ مسئلہ سترھویں صدی میں ہی اٹھایا گیا جسے فلسفی جان لوک نے پیش کیا۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی کے آخر میں یورپ میں سیاسی، سماجی اور فلسفیانہ حقوق کی متعدد تحریکیں چلتی رہیں۔ ان میں مذہب کی آزادی، غلامی کا خاتمہ، خواتین کے حقوق، ملکیت نہ رکھنے والوں کے حقوق اور عالمی معاشی استحکام کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ انہی پرآشوب صدیوں میں فرانس اور برطانیہ میں خواتین کے حقوق کا سوال سیاسی بحثوں کا مرکز بنا۔روشن خیال طبقے نے جنم لیا تو مساوات کے جمہوری اصولوں کا دفاع کیا گیا اور ان نظریات کو چیلنج کیا کہ مراعات یافتہ طبقہ ہی حکومت کرنے کا اہل ہے۔ فلسفی روسو کے مطابق خواتین انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کی عدم مساوات کی شکایت کرنے کے لیے غلط کام کرتی ہیں۔ اس کا دعوی تھا کہ جب خواتین ہمارے حقوق غصب کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو دراصل وہ ہم سے کمتر ہوتی ہیں۔ سیاسی کارکن اور فرانسیسی ڈرامہ نگار اولمپے ڈی گاؤس نے حقوق نسواںاور خواتین شہریوں کا اعلامیہ شائع کیاجو درحقیقت جنگ عظیم اول میں فرانس کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ انقلاب تبھی عمل میں آئے گا جب تمام خواتین کو ان کے قابل مذموم حالت اور معاشرے میں ان کے کھو جانے والے حقوق کے بارے میں پوری طرح آگاہی ہو جائے گی۔ اسی اعلامیے میں یہ بھی اعلان کیا گیا کہ عورت آزاد پیدا ہوتی ہے اسی لیے وہ حقوق میں مرد کے برابر رہتی ہے۔ معاشرتی تفریق صرف عام افادیت پر مبنی ہو سکتی ہے۔

اس تمام بحث کا مقصد صرف یہ واضح کرنا تھا کہ عورت اپنی پیدائش سے ہی مسئلہ لانیحل رہی ہے۔ اسے مختلف تہذیبوں نے اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا۔ مصر، یونان اور روم میں عورت کا کردار دیویوں کی صورت مجسم تھا جو دیوتاؤں کا دل پرچانے کے لیے پیدا ہوئیں۔ یورپ میں عورت کے حقوق پر چلنے والی بحثیں کبھی انجام پذیر نہیں ہوں گی کیونکہ انھیں عورت جس خدوخال میں پسند ہے وہ انھیں میسر ہے۔ مسئلہ تو اس مشرقی معاشرے کا ہے جس میں اسلام کا نفاذ ہی نہیں ہو سکا۔ دین میں فلاح کا جو راستہ ہے وہ کسی کو ازواج مطہرات میں دکھائی نہیں دیا۔

گزشتہ کافی دنوں سے سوشل میڈیا پر خلیل الرحمان قمر کے جس بیان پر لعن طعن کی جارہی ہے، اسے میں سمجھنے سے قاصر ہوں۔ ہر مرد ایک نیک عورت سے شادی کا خواہشمند ہوتا ہے اور اس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اس کی غیر موجودگی میں عورت کی مٹھی بند رہے۔ جہاں یہ مٹھی کھلتی ہے وہاں مغربی معاشرے کی آزاد خیال دندناتی عورت نظروں کے سامنے آ جاتی ہے۔ برابری کے حقوق کی جو اصطلاح اہل مغرب استعمال کرتے ہیں ہمارے ہاں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ قدرت نے عورت کے قدموں کے نیچے جنت رکھ کر اس بحث کو دلیل کے ساتھ ہی ختم کر دیا ہے۔ ہر بیان قابل فہم اور قابل اعتراض تو ہو سکتا ہے لیکن لائق گفتگو نہیں ہوتا۔ بری عورت کو ہدایت کی روشنی درکارہے لیکن پاک باز عورت کی روشنی میں زمانہ بیٹھ جاتاہے۔

نوٹ: ذلیل کرنے کے لیے دلیل دینا ضروری ہے۔

(Visited 1 times, 5 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: