شوہر کی تلاش: مغربی ’آزاد‘ ذلت یا مشرقی بے بسی —– محمود فیاض

0

یورپ میں لڑکی جب پندرہ سال کی ہوتی ہے تو اس پر دوستوں اور معاشرے کا پریشر شروع ہو جاتا ہے کہ وہ ایک عدد بوائے فرینڈ ضرور رکھے۔ جو لڑکیاں ایسا نہیں کر پاتیں انکو ’مختلف‘ سمجھا جاتا ہے۔ ہم جولیاں طعنے مارتی ہیں۔ اچھی دوست مشورے دیتی ہے۔ رویے، شکل و صورت یا معلومات میں کوئی کمی پائی جاتی ہے تو اسکو درست کرنے کو کہا جاتا ہے۔

یہاں سے ڈیٹنگ کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ جو لڑکا دلچسپی لیتا ہے یا بوائے فرینڈ بننے کے لیے مناسب لگتا ہے اسکے ساتھ ملنا جلنا، آنا جانا، اور اگر دونوں کی مرضی ہو تو جسمانی تعلق قائم کرنا شروع ہو جاتا ہے۔ یورپی معاشرہ چونکہ جنس کو شجر ممنوعہ بنا کر نہیں رکھتا اس لیے ماں باپ کے لیے یہ اطمینان کافی ہوتا ہے کہ انکی بیٹی اس لحاظ سے ایکٹو ہے۔ یہ الگ بات کہ وہی ماں باپ سولی پر لٹکے رہتے ہیں کہ کہیں بیٹی کے پریگننٹ ہونے کی صورت میں اسکی پڑھائی ادھوری نہ رہ جائے۔ (یورپ میں اسکول جانے والی لڑکیوں کے ماں بننے کی شرح پچھلی دہائی تک کافی بڑھ رہی تھی۔ موجود سروے میرے پاس نہیں ہے)۔

لڑکی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ جذباتی مراحل سے بھی گذرتی ہے۔ بوائے فرینڈ سے گلے شکوے، جھگڑے، اور بریک اپ کے ساتھ ہی اسکو اپنی پڑھائی بھی جاری رکھنا ہوتی ہے۔ اچھی اور سمجھدار لڑکیاں شروع ہی میں مناسب لڑکا تلاش کرتی ہیں اور صرف اسی سے وابستہ رہتی ہیں۔ ان میں شدید اختلافات بھی ہوتے ہیں مگر وہ نوبت بریک اپ تک نہیں آنے دیتیں۔ (کمپرومائز اور فلیکسیبلٹی کا جو تصور مغربی لڑکیوں کو معاشرہ سکھا دیتا ہے اس کا عشر عشیر بھی ہماری موجود نسل کی لڑکیوں کو پتہ نہیں ہے۔ اگر آپ سمجھ رہے ہیں کہ میں کہانیاں سنا رہا ہوں تو بتا دوں کہ میں آنکھوں دیکھی بیان کر رہا ہوں۔ میں نے انگلینڈ ہاسٹلز میں یورپی لڑکیوں کو اپنے بوائے فرینڈز سے بریک اپ کے بعد روتے، مانتے، مناتے، اور ساتھ ساتھ اگلی اسائنمنٹ کی تیاری کے لیے نوٹس تیار کرتے دیکھا اور سمجھا ہے۔ میں ان لڑکیوں اور لڑکوں کے ساتھ اس سطح پر بے تکلف رہا ہوں کہ انکے باہمی جھگڑوں میں کاؤنسلنگ اور بسا اوقات صلح جو کا کردار بھی ادا کیا ہے)

جو لڑکیاں پسند ناپسند میں زیادہ سمجھدار نہیں ہوتیں، یا انکی شکل و صورت اور آئی کیو کی وجہ سے انکو بہتر لڑکے نہیں ملتے، وہ ایک کے بعد دوسرے بریک اپ کا سامنا کرتی ہیں۔ اور ہر گذرتا بریک اپ انکے معیار میں مزید کمی لاتا ہے اور وہ ایسے لڑکوں سے ڈیٹنگ کرتی پائی جاتی ہیں کہ انکے ساتھ صرف چند راتیں گذارنا چاہتے ہیں اور اپنا اسکور بڑھانا چاہتے ہیں۔

گرچہ پاکستانی جعلی فیمنسٹ اس بات کا بہت برا مانتی ہیں مگر میں نے قدرتی طور پر عورت میں ہی حیا کا مادہ زیادہ دیکھا ہے۔ اور یورپ میں مغربی لڑکیوں کی اکثریت کو بھی جسمانی تعلق قائم کرنے سے پہلے کافی سوچ و بچار کرتے دیکھا ہے۔ جبکہ مرد کسی بھی خطے کا ہو، پرواہ نہیں کرتا۔

اپنی پسند کے یا مناسب لڑکے تک پہنچنے سے پہلے عام مغربی لڑکی کو اوسطاً تین سے پانچ لڑکوں کے ساتھ جسمانی تعلقات سے گذرنا پڑتا ہے۔ اور بریک اپ کا ذہنی کرب الگ جھیلنا ہوتا ہے۔ اور یہ عام لڑکی کی بات ہے، ذرا کم شکل، یا زیادہ احمق لڑکی بسا اوقات بیس سے تیس لوگوں سے تعلقات کے بعد مجبوری میں کسی آخری بندے کے ساتھ سیٹل ہو جاتی ہے۔ کچھ چالیس سال کی عمر تک بھی ایسا نہیں کرپاتیں۔

یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ میں نے وہاں لڑکیوں کو ہر ہفتے کی رات اپنے چہرے سجا کر اس امید پر شہر کے بارز میں جاتے دیکھا ہے کہ وہ کسی مناسب بوائے فرینڈ کو ٹریس کر سکیں۔ میں نے ان کو واپسی پر مایوسی میں باتیں کرتے سنا ہے۔ ہاسٹل میں آ کر جب وہ مجھے جیسے “شادی شدہ اور براؤن پاکستانی” کو بے ضرر سمجھ کر اپنے دل کی بات کہہ ڈالتی تھیں۔ میں نے دیکھا کہ وہ کسی بہت ہینڈسم اور مسلز والے باڈی بلڈر سے جسمانی لذت کی خاطر ڈیٹ کرنے کی خواہش نہیں رکھتی تھیں، بلکہ کوئی سنجیدہ ، کمیٹڈ اور اپنا مناسب میچ تلاش کرتی تھیں۔ بہت سی قبول صورت مگر سمجھدار لڑکیوں کو میں نے یونیورسٹی کے ہاٹ لڑکوں کو صرف اس لیے ڈیٹ سے منع کرتے دیکھا ہے کہ وہ انکی “لیگ” سے نہیں تھا۔ یعنی وہ انکی پہنچ یا کلاس میں نہیں تھا اور امکان یہی تھا کہ یہ تعلق صرف جسمانی ہوگا۔

میں نے ان لڑکیوں سے انٹرویو نما ڈسکشنز کی ہیں جن کے چہرے پر تھکن تھی۔ اور وہ بات کرتے ہوئے اپنی شرمندگی قہقہوں میں چھپاتی تھیں کہ فلاں فلاں بریک اپ صرف اس لیے ہوا کہ انکے ایکس کو ان سے زیادہ خوبصورت لڑکی نے چھین لیا تھا۔ اپنی کم صورتی کا احساس انکے چہرے پر لہرا جاتا تھا۔ نجی محفل میں ایسی لڑکیاں مردوں کو گالیاں دینے کے ساتھ ساتھ بستر میں مزید “ایکٹو” ہونے کے گر پوچھتی تھیں، تاکہ کوئی دوسری حرافہ انکا بندہ نہ چھین سکے۔ اور وہ چند سال کی ڈیٹنگ کے بعد اپنے بوائے فرینڈ کو شادی پر راضی کر سکیں۔

آپ یورپ امریکا نہ بھی گئے ہوں، سوشل میڈیا پر لاکھوں ویڈیوز دیکھ لیں کہ پروپوز ہونے پر لڑکیوں کی کیا حالت ہوتی ہے۔ اپنے ہونے والے شوہر کو بوائے فرینڈ سے شوہر کے رشتے تک لانے کے لیے انکا کیا کردار رہا ہے یہ انکے بےساختہ آنسوؤں سے نظر آتا ہے۔

یہ یورپ کی آزاد عورت کی شادی ہے۔

ہمارے پسماندہ معاشرے میں لڑکی کو بیس، تیس، پچاس یا سو لوگوں کو چائے پیش کرنا پڑتی ہے۔ جن میں سے ننانوے یہ کہہ کر رشتہ نہیں کرتے، کہ لڑکی کی ناک موٹی ہے، قد چھوٹا ہے، تعلیم کم ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ہمارے معاشرے میں اس پر بھی تنقید ہوتی ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے، لڑکی کے گھروالوں اور لڑکی کی عزت نفس کا خیال رکھیں۔ اس لیے اب سمجھدار لوگ یہ کہہ کر انکار کرتے ہیں کہ ستارے نہیں ملتے، لڑکے کی دادی نہیں مانتی، استخارہ غلط آیا ہے وغیرہ۔

جبکہ یورپ کی آزاد لڑکی کو ساری آزادی کے باوجود مسلسل ریجیکشن سے گذرنا پڑتا ہے جس میں جسمانی، ذہنی یا جنسی کمزوریوں پر انکو رد کیا جاتا ہے۔ انکو بھی سیلیکشن کے اس پراسیس سے گزرنا پڑتا ہے۔

کس میں زیادہ مشکل ہے، یہ آج کا سوال ہے؟
چائے پی کر استخارہ غلط آنے کے بہانے انکار کرنا ؟
یا
تین ماہ کے جسمانی تعلق کے بعد مطابقت نہ ہونے کا بہانہ؟

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی سماج اورعورت  4 ۔۔۔ لڑکیو! تمھیں کیا ہو گیا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ نجیبہ عارف  
(Visited 1 times, 2 visits today)

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: