ٹیبلٹ اور ہمارے بچے: کچھ سوچئے —– غزالہ خالد

0

ہائے ہمارا بچپن , شاید ہر انسان کا بچپن اس کے لئے ایک ایسا ناقابل فراموش دور ہوتا ہے جب اسے نہ تو کسی چیز کی فکر ہوتی ہے اور نہ ہی کسی بات کا غم۔ بچپن خوبصورت یادوں کا ایک انمول خزانہ ہوتا ہے یقیناً میرے قارئین بھی اکثر اپنے بچپن کو یاد کرتے ہونگے، بچپن کی یادیں جہاں بہت سے خوبصورت واقعات اور کبھی نہ بھلائےہجانے والے رشتوں سے سجی ہوتی ہیں وہیں ایک طاقتور یاد ان کھیلوں کی بھی ہوتی ہے جو ہم نے اپنے بچپن میں کھیلے ہوتے ہیں۔

میری یادوں میں میرے بچپن کے ایسے ایسے کھیل موجود ہیں جن کے نام بھی آجکل کے “برگر بچے “نہیں جانتے ہونگے مثلاً، “اندھا بھینسا” “پہل دوج ” “اونچ نیچ”، “نون پاٹ جسے سندھی میں وانجھی کہتے تھے” “گھوڑی پکی یا کچی”، “پکڑم پکڑائی”، “کوڑا جمال شاہی پیچھے دیکھا مار کھائی” “لال پری آنا دھیرے دھیرے آنا”، “بھاگم دوڑی” “لنگڑی ٹانگ” “برف پانی” “ڈمب شو” “اکڑبکڑ” “چیل اڑی کوا اڑا”، “نام چیز جگہ جانور” ” پٹھو گرم “, ” کھو کھو” ,” پانچ کونے”، “بیچ کی بلی”، “گھر گھر”، “ہم پھول چمن میں آتے ہیں” وغیرہ وغیرہ

ان میں سے چند کھیلوں کو انگلش بگھار کے ساتھ اب بھی کچھ بچے جانتے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ کہ کھیلتے نہیں ہیں۔ فزیکل ایکٹیویٹی کے لئے کچھ نوجوان کرکٹ، ہاکی یا فٹ بال کھیلتے نظر آجاتے ہیں لیکن بچپن کے وہ کھیل جو ہم نے کھیلے ناپید ہوتے جارہے ہیں کیونکہ ان سب کھیلوں کا اب ایک ہی نعم البدل ہے اور وہ بڑے بچوں اور نوجوانوں کے لئے “موبائل” اور شیر خواروں کے لئے “ٹیبلٹ” ہے۔

ہمارے زمانے میں کھیلے جانے والے کھیلوں سے کچھ کھیل فزیکل فٹنس کے لئے بہترین ہوتے تھے تو کچھ ذہنی صلاحیتوں میں اضافے کا سبب بنتے تھے۔

“کھو کھو” “برف پانی” “پہل دوج” “پکڑم پکڑائی” “آنکھ مچولی” کھیلتے وقت ہم خوب دوڑتے، بھاگ بھاگ کر تھک جاتے لیکن پھر بھی کھیل سے دل نہیں بھرتا تھا بالکل اسی طرح جیسے آج کل کے بچوں کا موبائل اور ٹیبلٹ سے دل نہیں بھرتا۔

یہ ” ٹیبلٹ “بھی خوب ہے جب تک “مؤنث” رہی دوا تھی اور جب سے اس کی جنس بدلی یعنی یہ “مذکر” ہوئی خود ایک بیماری بن گئی مطلب یہ کہ گوروں نے پہلے بیماری میں” ٹیبلٹ” کھاناسکھایا اور کچھ عرصےبعد ” ٹیبلٹ” کو مذکر میں تبدیل کرکے ایک لاعلاج بیماری بنا دیا۔

بھٔی سچی بات یہ کہ پہلے جب ہم بیمار پڑتےتو گولی کھاتے تھے لیکن پچھلی کچھ دہائیوں سے جب کراچی میں “گولی کھانا کے بجائے “گولی لگنا” شروع ہوئی تو ہم نے بھی ڈر کے مارے “ٹیبلٹ” کھانا شروع کردی تھی۔

شروع شروع میں جب” ٹیبلٹ” کے نام کی یہ ڈیوائس پاکستان میں متعارف ہوئی تو یہ نام مجھے بہت عجیب لگا تھا کہ بھلا یہ کیا نام ہوا؟ اکثر بھول جاتی اور ٹیبلٹ کے بدلے “کیپسول” کہہ دیتی تھی بچے ہنستے کہ “امی ٹیبلٹ ہوتا ہے کیپسول نہیں”۔ مجھے خود بھی ہنسی آجاتی کہ ٹیبلٹ کے بدلے منہ سے کیپسول کیوں نکل جاتا ہے، یہ اس وقت تک ہوتا رہا جب تک کہ ٹیبلٹ عام نہیں ہوگیا اور بچے بچے کے ہاتھ میں نظر آنا شروع نہیں ہوگیا اب تو حالت یہ ہے کہ “نیو بورن” (new born) کے لئے جہاں پیمپرز خریدے جاتے ہیں وہیں ایک عدد ” ٹیبلٹ” بھی لے لیا جاتا ہے تاکہ ان کی والدہ محترمہ بہت سی پریشانیوں سے محفوظ رہ سکیں،ادھر بچے کی نظر ٹھہری ادھر اس کی آنکھوں کے سامنے ٹیبلٹ کیا جس میں بچوں کی دل پشوری کا رنگا رنگ سامان موجود ہوتا ہے طرح طرح کے کارٹون، کارٹونی فلمیں، انگلش نظمیں، گانے، گڑیوں کی کہانیاں وغیرہ وغیرہ۔ پھر ہوتا یہ ہے کہ بچے کے ذرا چیاؤں پیاؤں کرتے ہی ٹیبلٹ اس کی آنکھوں کے سامنے کردیا جاتا ہے، ماں مصروف ہے ٹیبلٹ بچے کے ہاتھ میں، بچہ کھانا نہیں کھا رہا ٹیبلٹ پر بچے کی پسند کی کوئی بھی چیز لگا دی اور بچہ ایک الگ ہی دنیا میں پہنچ کر فٹا فٹ نوالے نگلنا شروع کردیتا ہے میں نے نوٹ کیا ہے کہ اس وقت بچے کو کچھ ہوش نہیں ہوتا کہ کھانا اس کی پسند کا ہے یا نہیں اس کی نظریں چھوٹے سے اسکرین پر ہوتی ہیں اور منہ میکانیکی انداز میں چل رہا ہوتا ہے۔ مائیں خوش ہوتی ہیں کہ بچے نے پیٹ بھر کر کھانا کھا لیا، جب بچہ کہنا نہیں مانتاتو ماں کا ڈراوا ہی یہ ہوتا ہے کہ میرا کہنا مان لو ورنہ ٹیبلٹ نہیں ملے گا۔ بچہ جب ذرا سمجھ دار ہوتا ہے تو اسے “یو ٹیوب” چلانا آجاتا ہے اور پھر اسے کسی کی محتاجی نہیں رہتی اس کا جو جی چاہتا ہے وہ دیکھتا ہے اور مزید بڑا ہونے پر گھر بیٹھے ایک الگ ہی دنیا کی سیر کو نکل جاتا ہے۔

اگر آج کل کے بچوں اور نوجوانوں کے سامنے گیم کی بات کی جائے تو ان کے ذہن میں صرف موبائل کے گیم ہی آتے ہیں انہیں ہمارے زمانے کے کھیلوں کا نہ تو پتہ ہے اور نہ ہی دلچسپی۔

ہم پکڑم پکڑائی کھیلتے تھے آجکل کے بچے “پب جی” کھیلتے ہیں ہم “آنکھ مچولی” کھیلتے تھے یہ “فورٹ نائٹ” کھیلتے ہیں۔ ہمیں کھیلنے کے لئے ہم جولیوں کو جمع کرنا پڑتا تھا یہ ایک اندھیرے کمرے میں اکیلے بیٹھے پوری دنیا سے رابطے میں ہوتے ہیں اور صرف ایک کلک سے سو سو پارٹنرز کو جمع کرکے پوری پوری رات “گیم” کھیلتے رہتے ہیں دس بارہ سال کے بچے اس تاک میں رہتے ہیں کہ کب اپنی ماں کا موبائل موقع پاتے ہی اٹھالیں تاکہ “گیم” کھیل سکیں یہان تک کہ کرکٹ، فٹبال اور ہاکی بھی انٹرنیٹ پر کھیلا جاتا ہے۔

نتیجتاً ایک تحقیق کے مطابق چھوٹے بچے دیر سے بولنا سیکھ رہے ہیں، انہوں نے اپنے آس پاس کی دنیا سے لاتعلقی والا رویہ اپنا لیا ہے وہ لوگوں کو دیکھتے ہوئے بھی نہیں دیکھ رہے ہوتے۔ ان کے دماغ میں صرف وہ کیریکٹرز اور ماحول رہتا ہے جنہیں وہ ہر وقت دیکھتے رہتے ہیں آپ لوگ بھی میری اس بات سے اتفاق کریں گے کہ ان بچوں کی انگریزی اردو سے بہتر ہوتی ہے کیونکہ وہ انگریزی کے کارٹون اور فلمیں وغیرہ دیکھتے ہیں یعنی اب بچے کی مادری زبان چاہے اردو، سندھی، پنجابی، بلوچی، گجراتی، پشتو کچھ بھی ہو لیکن ہر وقت ٹیبلٹ دیکھنے والا بچہ “انگریزی” ہی اچھی بولے گا اور یہ بات ماؤں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

کراچی میں ذاتی طور پر میں نے ایسے کیسز دیکھے اور سنے بھی کہ پوری پوری رات وڈیو گیم کھیلنے والے بچے نفسیاتی عوارض کا شکار ہوئے اور ماہر نفسیات کے پاس لائے گئے، ایک جاننے والے ڈاکٹر کے پاس گیارہ برس کے بچے کو لایا گیا جس نے اچانک بولنا چھوڑ دیا تھا اس کی والدہ کا کہنا تھا کہ بچہ پوری پوری رات وڈیو گیم کھیلتا تھا اور وہ گیم نجانے کس طرح کا تھا کہ بچے نے اس میں کھو کر اپنی کوئی الگ ہی دنیا تخلیق کرلی تھی اور سب سے بولنا ہی چھوڑ دیا تھا۔ ڈاکٹر کے ویٹنگ لاونج میں اس بچے کی ماں ہر ایک کو تلقین کررہی تھی کہ خدارا اپنے بچوں کو اس قسم کے وڈیو گیمز سے دور رکھیں، کچھ ماہ پہلے “پب جی” گیم کھیلنے والے ایک ٹین ایج بچے کی خودکشی کی خبر بھی سننے کو ملی تھی۔ اگر کسی ماں کو سمجھا نے کی کوشش کی جائے تو جواب ملتا ہے کہ آج کل کے دور میں ان چیزوں سے بچنا بہت مشکل ہے یہ دور ٹیکنالوجی کا دور ہے اور یہ زمانہ انٹرنیٹ کا زمانہ ہے اگر وہ مائیں خود بھی اس ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ سے فایدہ اٹھالیں اور اپنے مصروف وقت سے ٹایم نکال کر اسی “انٹرنیٹ” پر دیکھ لیں تو واضح طور پر نظر آجایے گا کہ کس عمر میں کتنا اسکرین ٹائم بچے کے لئے مناسب ہوگا۔ میں مانتی ہوں کہ اسکرین کے ذریعے بچے کی تصوراتی دنیا بہتر ہوسکتی ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ جب بھی دو تین سال کا بچہ اسکرین کے سامنے ہو تو کوئی بھی بڑا اس کے ساتھ موجود ہو اور تصویروں کے ساتھ ساتھ ان کے بارے میں معلومات بھی بچے کو دیتا رہے مثلاً ایک چڑیا کو ہی دیکھ کر بتایا جاسکتا ہے کہ یہ پرندہ ہے, یہ چیں چیں کرکے بولتا ہے, آسمان دکھا کر بتائیں کہ یہاں اڑتا ہے، دانہ کھاتا ہے۔ یہ ساری باتیں بچوں کی تخیلاتی حس کو بیدار کرنے میں مدد دیتی ہیں پہلے بچوں کو رات سونے سے پہلے کہانیاں اسی لیۓ سنائی جاتی تھیں کہ کہانیاں سن کر ان کی تصوراتی و تخیلاتی دنیا مضبوط ہو تی تھی بلکہ اب تو زیادہ آسانی ہے کہ جو بات آپ بچے کو بتانا چاہ رہے ہیں وہ دکھا بھی دیں تو اس کا اثر اور بھی زیادہ اچھا ہوگا اور بچے کی ذہانت میں بھی اضافہ ہوگا۔

زمانہ تو واقعی ٹیکنالوجی کا ہے بچوں کو اس سے بچانا اور دور رکھنا بہت مشکل ہے کچھ اچھے اسکولوں میں بھی باقاعدہ اسکرین ٹایم ہوتا ہے اور ٹیلیویژن پر مختلف طریقوں سے چیزیں دکھا کر بچوں کو معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ بچے ہمارا مستقبل ہیں آللہ نے آج کل کے دور میں بچے دیکر یقیناً ہمیں ان کو ذہین اور تخلیقی بنانے کی آسانی عطا کی ہے۔

بات اسی پرانی چھری والی مثال پر ختم کرتی ہوں کہ “چھری آپ کے ہاتھ میں ہے اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ اس سے کیا کام لیتے ہیں”۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: