متبادل بیانیہ ۔۔ آصف محمود

0

وزیر اعظم نے ایک متبادل بیانیے کی بات کی ہے ۔معلوم نہیں ان کے ذہن میں متبادل بیانیے کے خدوخال کیا ہیں تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ متبادل بیانیہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس سے محض اس لیے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ یہ بات ایک ایسا وزیر اعظم کر رہاہے جس کے خلاف کرپشن کا ایک اہم مقدمے کا فیصلہ کسی وقت بھی آ سکتا ہے اور بادی النظر میں وہ اس کیس میں اپنی بے گناہی ثابت نہیں کر پایا.

متبادل بیانیہ کسی متبادل دین کا نام نہیں ۔یہ فہم دین کے ایک متبادل تصور کی بات ہے۔ ایک فہم دین وہ تھا وہ وقت کے ڈکٹیٹر نے سوویت یونین کے خلاف جہاد افغانستان میں کودتے وقت ہمیں دیا تھا۔ وہ محض ایک جنگ نہ تھی جو میدان میں لڑی گئی۔ اس کے ہمراہ ایک کامل بیانیہ تھا۔ اس بیانیے میں نیشن سٹیٹ نام کی کوئی چیز نہ تھی ۔اس بیانیے میں امت کا ایک ایسا سیاسی تصور دیا گیا جو عملی طور پر کہیں وجود نہیں رکھتا۔کوئی سرحد نہیں کوئی کسی ریاست کی حاکمیت نہیں ۔مسلمان ایک ہیں جس ملک کے ہوں ۔چنانچہ دنیا بھر سے جنگجو اکٹھے کیے گے اور انہیں افغانستان میں جھونک دیا گیا۔

سوال اٹھا کہ جن ممالک سے جنگجو لائے گئے ان کی حکومتوں نے تو اعلان جہاد ابھی کیا نہیں تو کیا انفرادی سطح پر جہاد کیا جا سکتا ہے؟اسی بیانیے نے جواب دیا کہ جہاد شروع کرنے کے لیے حکومت کا اعلان ضروری نہیں۔آپ انفرادی اور گروہی حیثیت میں بھی جہاد شروع کر سکتے ہیں۔افغانستان کی حکومت کے خلاف جہاد شروع ہوا تو سوال اٹھا کہ ایک اسلامی ریاست کی حکومت کے خلاف جہاد کیا جائز ہے؟اس کا جواب دینے کے لیے ایک فکری بیانیہ جنرل ضیاء الحق اور جماعت اسلامی وغیرہ کے ہمراہ تھا ۔کہا گیا جب حکومت وقت دشمن قوتوں کی آلہ کار بن جائے تو اس کے خلاف جہاد جائز ہے۔سوال اٹھا اس جنگ میں مسلمان مر رہے ہیں کیا کیا جائے ؟اسی بیانیے نے جواب دیا کہ بڑے مقصد کے لیے جنگ میں جو مارا جائے کوئی مضائقہ نہیں ہے بے گناہ ہوا تو شہید کہلائے گا۔اسی بیانیے کے تحت خود کش حملہ ہوتا ہے ، اسی بیانیے کے تحت آج داعش ہو یا القاعدہ وہ کسی سر حد کو نہیں مانتیں اوراسی بیانیے کی بنیاد پر جنگجو کہتے ہیں کہ چونکہ پاکستان اس جنگ میں امریکہ کے ساتھ کھڑا ہے اس لیے پاکستان کے خلاف جہاد کیا جا سکتا ہے۔یہی بیانیہ ہے جس کے تحت طالبان نے علماء سے سوال بھی پوچھا تھا کہ آپ کل جب سوویت یونین کے خلاف جہاد کیا جا رہا تھا ہمیں یہ اصول خود بتاتے تھے آج یہ اصول کہاں گئے؟

اب وزیر اعظم نے اگر یہ کہہ دیا ہے کہ ایک متبادل بیانیے کی ضرورت ہے تو اس میں کیا برائی ہے۔ انہوں نے درست کہا ہے ۔ہمیں اپنے فہم دین پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

البتہ وزیر اعظم صاحب کو یہ بات ملحوظ خاطر رکھنا ہو گی کہ بیانیہ جو وہ لانا چاہتے ہیں یہ متبادل بیانیہ ہو ۔دین سے متصادم بیانیہ نہ ہو۔متبادل بیانیے کے لیے ضروری ہو گا کہ فہم دین پر نظر ثانی قرآن و سنت کے دائرہ میں رہ کر کی جائے ۔اگر اس سے بے نیاز ہو کر یہ کام کیا گیا تو یہ متصادم بیانیہ ہو گا ۔اگر چہ یہ خطرہ موجود ہے کہ کہیں یہ بیانیہ متبادل کی بجائے دین سے متصادم نہ ہو جائے تاہم اس خطرے کے باوجود یہ ماننا پڑے گا کہ متبادل بیانیہ وقت کی ضرورت ہے اور وزیر اعظم نے درست نشاندہی کی ہے۔ تاہم یہ وقت بتائے گا کہ وزیر اعظم خیر خواہی سے متبادل بیانیے کی بات کر رہے تھے یا ایک متصادم اور لادین سیکولر بیانیے کی بات کر رہے تھے. تاہم جب تک دوسری صورت کے مظاہر سامنے نہیں آتے تب تک وزیر اعظم سے اختلاف کی کوئی منطق میری سمجھ سے باہر ہے.

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: