خواتین کے نام ایک کھلا خط ——- خرم شہزاد

0

السلام علیکم خواتین! آج کل ملک کے سیاسی حالات کی جو گہما گہمی ہے اس میں اکثر کھلے خط صرف اور صرف سیاست دانوں کو لکھے جاتے ہیں یا سیاست دانوں کی طرف سے لکھے جاتے ہیں لیکن اس سب کے باوجود میں آپ سب کی توجہ ایک نہایت اہم معاملے کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں اور خواہش رکھتا ہوں کہ وہ تمام خواتین جو آن لائن دنیا میں آتی جاتی ہیں وہ کسی فرصت کے لمحے میں اپنے ہاتھوں پر توجہ دیں اور کسی مظلوم کے خون کے دھبے تلاش کرنے کی کوشش کریں گی۔

عورت جو گھر سے باہر نکلتی ہے اسے کسی بھی طرح سے تنگ یا پریشان کرنا، اس کی عزت کا خیال نہ کرنا اور اپنے کسی بھی رویے یا انداز سے ان کو کسی غلط کام کے لیے مجبور کرنا ہراسمنٹ کے قوانین کی ذیل میں آتا ہے۔ کسی مرد کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ گھر سے باہر نکلی کسی عورت کو کسی بھی طرح سے پریشان کرے۔ یہاں تک تو وہ بات ہے جو آپ خواتین نے کہی اور ہم نے مان لی۔ لیکن یہ بتائیے کہ اس قانون پر عمل کس طرح سے ممکن ہے اور جو جتنا عمل کیا جا رہا ہے کیا اس سے ہراسمنٹ ختم کرنے میں مدد ملی ہے یا اب خواتین نے اس قانون کے سہارے مردوں کو ہراس کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے؟ میں اپنی بات کے لیے دو عملی مثالیں دینا پسند کروں گا کہ میشا شفیع صاحبہ نے علی ظفر پر ہراسمنٹ کا الزام لگایا لیکن وہ اسے ثابت نہ کر سکیں، عدالت نے علی ظفر کو بے گناہ قرار دیا۔ دوسرے واقعہ ایم اے او کالج لاہور کا ہے جہاں ایک طالبہ نے اپنے استاد پر ہراسمنٹ کا الزام لگایا، خوشی کی بات یہ ہوئی کہ یہاں بھی طالبہ اپنا الزام ثابت نہ کر سکی لیکن استاد کی اتنی بدنامی ہو چکی تھی کہ اب اسے مرنا جینے سے زیادہ بہتر لگنے لگا اور اس نے کہا کہ آپ اپنا فیصلہ میری والدہ کو سنا دینا کہ اس کا بیٹا بد کردار نہیں تھا۔

سوال یہ نہیں ہے کہ میشا شفیع یا اس طالبہ نے ہراسمنٹ کا ہی الزام کیوں لگایا؟ سوال یہ بھی نہیں کہ اپنا الزام ثابت نہ کر سکنے کے بعد اب وہ معاشرے کا کس منہ سے سامنا کر یں گی؟ سوال تو یہ بھی نہیں کہ جن مردوں پر الزام لگایا گیا، انہیں بدنام کیا گیا، وہ الزام کے غلط ثابت ہونے کے بعد کیا پہلے جیسی عزت اور وقار کے ساتھ اس معاشرے میں جی سکتے ہیں کہ نہیں؟ سوال تو بس اتنا سا ہے کہ آپ جو اس معاشرے کا کا باون فیصد ہو، سوشل میڈیا اور آن لائن دنیا کا ایک بڑا حصہ ہو، آپ کو کسی مرد کے حق میں بولتے ہوئے کیوں موت پڑ گئی؟ یقینا آپ میں سے ایک بڑی تعداد کسی تحریک حقوق نسواں کی حمایتی نہیں، نہ کسی می ٹو کو سپورٹ کرتی ہے لیکن جہاں دیگر ہزار باتوں پر آپ پوسٹیں کرتی ہیں وہاں اس غلط کو غلط کہنے میں کس بات نے روکا ہوا ہے؟ مجھے نہایت افسوس سے یہ کہنا پڑا کہ میشا شفیع، ایم اے او کالج کی طالبہ سمیت کسی بھی ایسی خاتون کے خلاف، جس نے ہراسمنٹ کے قانون کے ذریعے کچھ گندے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کی ہو، خواتین کی طرف سے کوئی ایک بھی مذمتی پوسٹ پڑھنے کو نہیں ملی۔ کیوں؟

کیا مرد کی عزت، عزت نہیں ہوتی یا مرد لائق عزت نہیں ہوتا۔ کسی بھی خاتون کی ہراسمنٹ کے واقعے پر سوشل میڈیا آپ خواتین سر پر اٹھا لیتی ہیں لیکن جب پتہ چلے کہ سارا واقعہ صرف اپنے مفادات اور مقاصد کے حصول کے لیے تھا تو آپ جو ایک عام خاتون ہیں، ان کی طرف سے چند لفظی مذمت بھی نہیں ہوتی تو اس کا کیا مطلب لیا جائے؟ آپ کو حقوق چاہیے یا نہیں، آپ کو برابری کی خواہش ہے یا نہیں لیکن عزت تو بہرحال چاہیے ناں لیکن جب ایک عورت کسی دوسرے مرد کی عزت پر سوالیہ نشان لگا دے اور جھوٹی بھی ثابت ہو جائے تب بھی آپ کے پاس اس عورت کی مذمت میں لفظ نہ ہوں، مرد کی تسلی اور تشفی کے لیے دو بول بولنے کے بجائے آپ گونگا بنے رہنے کو ترجیح دیں تو بتائیے کہ کسی آنے والے کل میں، زندگی اور بازار کے کسی موڑ پر کوئی مرد کس طرح سے آپ کی طرف اٹھی ہوئی غلط نگاہ کو برا جانے گا؟ آپ کی عزت کے لیے دوسرے کے سامنے کھڑا ہوگا؟

ایم اے او کالج کے استاد کا خون آپ لوگوں کی خاموشی اور کسی حد تک بے حسی کی وجہ سے آپ سب کے ہاتھوں پر ہے کیونکہ آپ نے جھوٹے ہراسمنٹ کیسز کے باوجود اپنی صف میں موجود غلط عورتوں کے خلاف ایک لفظ تک نہیں بولا اور یہی غلط عورتیں آنے والے کسی کل میں آپ کی بے عزتی کا بھی سبب بن سکتی ہیں۔ تب بھی آپ معاشرے کے مردوں کو الزام دیجئے گا اور اپنی خاموشی کے ساتھ ساتھ جھوٹے ہراسمنٹ کیسز سے مفاد حاصل کرتی غلط عورتوں کو پناہ دیجئے گا۔ معاشرہ تو تباہ ہو ہی رہا ہے، آپ کی خاموشی اس گرتی دیوار کو ایک دھکا اور لگا رہی ہے، ہم تو فقط اتنا کہیں گے کہ اپنے ہاتھ روک لیں کیونکہ دیوار گر گئی تو آپ بازار میں پہنچ جائیں گی۔

آخرمیں فقط اتنا کہ اپنا خیال رکھئے مگر مرد کی عزت کو بھی اپنی عزت کی طرح ایک قیمتی چیز سمجھیں تاکہ آپ کی عزت کو بھی انمول سمجھا جائے۔ آپ کے لیے نیک تمنائیں۔

آپ سب کی عزت اور حفاظت کے لیے فکر مند، ایک مرد۔

(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: