قصۂ ہزار درویش : ہری ٹوپیوں کا راز — لالہ صحرائی

0

مردِ درویش اپنی پیرانہ سالی و خستہ حالی کیساتھ صحرائے دہر کی پرسکوت آغوش میں داد عیش دے رہا تھا کہ مثلِ طوفانِ باد گرد کے کئی پیغامات اس کے برقی آلۂ سندیس رساں پر نمودار ہونے لگے جو بھیجے ہوئے دوستوں کی طرف سے تھے۔

ان ناگہاں رقص کناں پیغامات کو دیکھ کر درویش بے چینی سے پہلو بدلنے لگا کہ شوق ان ہوشمندوں کو لاحق تھا ہری ٹوپیوں کے پیچھے چھپا راز جاننے کا مگر کتھا اس راز کی بتانے پر درویش راضی ہرگز نہ تھا کہ ابھی چند یوم بیشتر فاختہ والے خلیل کی حمایت کرکے وہ غریب بال بال بچا تھا اکبریوں کے ہاتھوں بے قصور پٹنے و شکستہ پا ہونے سے اور سہما ہوا بڑے زور کا پڑا تھا کہ دوست اسے گھسیٹنے پر کمربستہ تھے ایک نئی رزم گاہ کی طرف۔

کار کوش باز آنے والے اپنی جدوجہد سے ہرگز نہ تھے، کہنا ان کا تھا کہ ہر عاقل و بالغ مملکت کا اس راز سے پردہ کشائی کا شائق ہے، پھر کچھ ناگفتی مباحثے کے بعد درویش نے کتھا اس راز کی دوستوں کو بلآخر سنانا یوں شروع کی۔

ملکِ یمنیشیہ کا قصہ ہے برادرانِ عزیز!
کان کھول کر سننا چاہئے اور عقل و خرد کو حاضر و ناظر جان کے سچ ماننا چاہئے کہ تقدیر اچھی ہو تو برے دن جاتے اور اچھے دن لوٹ کے آتے کبھی دیر نہیں لگتی۔

مثل اس کہاوت کے پیچھے زمانہ ساز بندۂ خدا مسمی عمرو عیار کی ہے جو اس قعرِ مذلت کے شب و روز میں بیسیوں دن سے بیروزگاری کے عذاب میں گرفتار تھا۔

اس مرد بست و کشاد کی زنبیل میں جو کچھ سامان تھا کہ گزر بسر کے کام آتا وہ سب گزشتہ ایامِ بے فکری میں دادِ عیاش کی نذر ہو چکا تھا، حسینائیں اپنا معاوضہ سمیٹ کے اپنے اپنے شہروں کو روانہ ہو چکی تھیں اور مارے تنہائی کے وہ اکیلا ہی اپنے فارم ہاؤس کے ایک سبزہ زار میں لیٹا آمدنی کی نئی سبیل ڈھونڈنے کا چارہ سوچنے میں منہمک تھا۔

سوچیں اس کی ناکام ہوکے جب واپس لوٹ آئیں تو مدنظر رکھ کے چھائی ہوئی کسلمندی کو مسمی نے پانی کا قریبی چشمہ نظرانداز کرکے تییم سے کام چلانے کی ٹھانی اور پتھر پہ اپنا سر مل کے پرانے برگد کی اکسیری شاخ پر چڑھ کر چلۂ معکوس کھینچنے لگا۔

سمے کچھ زیادہ نہ گزرا تھا شاخ سے لٹکے ہوئے کہ ایک انجان سرپٹ اپنے گھوڑے پہ سوار اس کی جانب آتا ہوا دکھائی دیا، بعد السلام کے انجان نے خبر دی کی وہ رہنے والا اسی ریاست کا ہے، بھیجنے والا اس کا ایک نامی گرامی سردار ہے، نام کا امیر حمزہ کہلاتا ہے اور رحمدل سخی نامور سارے گرد و بیش میں جانا مانا ہوا ہے، احتیاج اس کو شدید ہے تمہارے مشورے کی بیچ ایک مہم کے جو اس کے عزیز دوست کو درپیش ہے، اس خدمت کے عوض تمہیں منہ مانگا معاوضہ دیا جائے گا کہ سردار قدر دان بہت اہل ہنر کا ہے۔

عمرو عیار حاضر ہوا جب سردار امیر حمزہ کے دربار میں تو بے احتیار چونک پڑا، قریب میں اس کے براجمان تھے ملکِ سیفمیشیا کے بادشاہ سلامت، جو ہزاروں لے پالک دانشوروں کے ان داتا اور پناہ گاہ مانے جاتے تھے، عمرو نے شہرہ اس شاہ کا بہت دیر سے سن رکھا تھا مگر بالمشافہ دیکھنے کو موقع پہلی بار ملا تھا۔

آؤ عمرو عیار!
سردار نے پرتپاک استقبال کرتے ہوئے کہا، اے دوست ہم تمہارے ہی منتظر تھے، سیفمیشیا کے شاہ ہمارے ہمدم اور برادر عزیز ہیں، ایک مہم میں ان کو تمہاری مدد کی سخت ضرورت آن پڑی ہے۔

بعد از علیک و سلیک بیٹھتے بیٹھتے اپنی نشت پر عمرو نے عرض کی، حکم کیجئے عالیجاہ! یہ ناچیز آپ کی کیا مدد کر سکتا ہے؟

شاہ نے کہا، عمرو!
شائد تمہیں علم نہ ہو اس بات کا کہ سیفمیشیا نے اپنے ارد گرد کی ریاستوں میں پھیلے ہوئے ضیاءالحقی سماج سے لڑ بھڑ کے ایک لمبی جنگ تیار کی تھی نوجوانوں کی ایک ایسی کھیپ جو اسریلیشیا، بھرتیشیہ اور امریکیشیہ سے درآمد شدہ ہمارے نظریاتی مال ملات بمعہ ست رنگی شیٹاں پاپلیناں و مہین پرت کی مرد مار ویلاں لاؤناں ترقی پسندی کے نام پر کج فہم عوام الناس تک پہنچانے کی ضامن بن گئی تھی۔

پھر شہنشاہ نے ایک ٹھنڈی آہ بھر کے کہا، چشم بددور! میرے ان شہزادوں کی محنت نے قرب و جوار کی نظریاتی منڈیوں سے مطالعۂ پاکیشیا مارکہ دقیانوسی لٹھے و کھدر تھانوں کے تھان اٹھا دیئے تھے، مگر نہ جانے کس کی نظر کھا گئی، بیٹھے بٹھائے میرے بچے گم گشتہ ایسے ہوگئے ہیں جیسے مغرب کے سماج سے حلال کا بچہ ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔

اتنا کہہ کے شاہ آبدیدہ ہوگئے تو کہا عمرو نے، اے خرد مند شاہ! فکر مند ہونے کی بجائے مجھے ان معصومین کی تصاویر فراہم کی جاویں تاکہ آپ کا یہ بااعتماد سراغرساں اپنا کام شروع کر سکے۔

شاہ نے عمرو کو بتایا، ہمارے ان شہسواروں میں شہزادہ جعفر ہیں، یہ وزیر زادہ آصف، اخبار زادہ امیر احمد، سپہ سالار بہبود عالم اور یہ ہیں شہزادی فریدہ جو پچھلے سات دن سے غائب ہیں، ہم نے اطراف میں چہار سو تلاش کے گھوڑے دوڑائے پر کہیں سے کچھ سراغ نہ ملا کسو کا۔

شاہ نے توقف کرکے آبدیدہ آنکھوں کی نمی خشک کرنے کو چشمہ اپنا اتارا تو امیر حمزہ نے قدرے بے چینی سے کہا، بس اسی پر اکتفا نہیں عمرو!

یوں تو ہم کشف و کرامات پر سرِ مُو بھی یقین نہیں رکھتے پھر بھی اس کڑے وقت میں ڈوبتے کو تنکے کا سہارا جان کے ایک نجومی کو بلایا جو ماہر پکا اپنے کام کا ہے مگر معاملہ سلجھنے کی بجائے مزید الجھ کے رہ گیا ہے، کیا بہتر نہیں کہ اگلی بات تم نجومی سے ہی سن لو، کہنا اس کا ہے کہ اس مہم کو عمرو ہی سر کر سکتا ہے۔

کہا اس نجومی نے، اے مرد کارساز، میرے علمِ غیب کے حساب سے گمشدہ شاہی خانوادے کا وجودِ عنصری قرطاس عالم پر ایک بڑے خطرناک علاقے میں مقید نظر آتا ہے، ان کے ارد گرد سینکڑوں وردی پوش سپاہیوں کا پہرہ دکھائی دیتا ہے، جن کے ہاتھ نیزوں سے مسلح ہیں، ڈر ہے وہ شہزادگان کو نقصان نہ پہنچائیں، تلاش ان کی مشکل اور آزادی مشکوک دکھائی دیتی ہے مگر ایک امید تیرے ہنر کی وجہ سے باقی ہے، تو جو حامی بھرے تو پتا اس جگہ کا ٹھیک ٹھیک بتانے سے میں چوکنے والا نہ ہوں گا۔

عمرو نے امیر حمزہ کی طرف دیکھا اور اثبات میں سر ہلایا، پھر شہنشاہِ سیفمیشیا کو تسلی بھرے انداز میں کہا، عالیجاہ! میں شاہی خاندان کے چراغوں کو بحفاظت واپس لانے کے واسطے ہر حربہ اپنا ساتھ بے جگری کے آزماؤں گا، آپ چنداں فکر مند نہ ہوں برابر ایک رتی کے بھی۔

ماہر نجومی نے عہدنامہ عمرو کا سن کے محل وقوع اس جائے واردات کا یوں بتانا شروع کیا۔

یہاں سے پانچ سو میل کی مسافت پر شمال کی جانب ایک بہت بڑا جنگل ہے جسے گنی بالا کا جنگل کہا جاتا ہے، وہاں درندوں اور خوفناک جانوروں کی بہتات ہے، بیچ اس جنگل کے ایک جھیل ہے اور اس جھیل کے نیچے پاکیشیا کے بادشاہ کا بہت بڑا محل ہے، اس محل میں بادشاہ بوڑھی پیرنی کیساتھ اکیلا رہتا ہے، نام کا ارمان خان کہلاتا ہے، دبلا پتلا اور بوڑھا انسان ہے مگر نوجوانوں سے زیادہ سخت جان اور مزاج کا بہت اکھڑ انسان ہے۔

سیفمیشیا کے شاہی خانوادے کے آثار اس بادشاہی محل کے آس پاس پائے جاتے ہیں لیکن خبردار وہاں تک جانا کوئی آسان کام نہیں، اس کیلئے تمہیں سخت محنت کرنا پڑے گی۔

عمرو نے امیر حمزہ سے کہا، اےسردار، اپنی گنج بخش شہرت کے حساب سے زادِ راہ عنایت کیجئے تاکہ فدوی اپنا سفر شروع کر سکے۔

سردار امیر حمزہ نے مسکراتے ہوئے کہا، چالاک نہ ہوتا تو تمہیں عمرو عیار کون کہتا، کمبخت نظریں بھی تمہاری جا کے ٹکیں تو میرے گلے کے قیمتی موتیوں کے ہار پر۔

امیر نے اپنا ہار اتار کے عمرو کی طرف اچھال دیا جسے عمرو نے فورا جھپٹ لیا۔

بہت بہت شکریہ سردار، آپ نے مجھے نیک شگون دے دیا ہے اب میں جانوں اور گنی بالا کا بادشاہ، میں ایک ہفتے میں شاہی نوجوانوں کو واپس لا کر ہی رہوں گا۔

عمرو کی بات سن کے سیفمیشیا کے شاہ نے گھبرا کر کہا، نہیں یہ وقت بہت زیادہ ہے، اتنے وقت میں کچھ بھی ہو سکتا ہے، مجھے اپنے شہزادے اور شہزادی اس سے بھی جلد واپس درکار ہیں۔

تو کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں ان کو تین دن میں یہاں حاضر کر دوں؟

شاہ نے کہا، اگر ایسا ہو جائے تو میرے لئے اس سے زیادہ خوشی کی اور کیا بات ہو سکتی ہے؟

عمرو نے شاہ کے گلے میں پڑی قیمتی مالاؤں کو للچائی ہوئی نظر سے دیکھتے ہوئے کہا، عالیجاہ! آپ کی آشیرباد سے سب کچھ ممکن ہے۔

عمرو نے شاہ کی مالاؤں کو بھی لپک کے تھاما اور حاصل شدہ سب جواہر اپنی زنبیل میں ڈالتا ہوا دربار سے باہر نکل گیا، آبادی سے چند کوس دور جا کے اس نے گھوڑا روکا اور ایک صاف ستھری جگہ پر درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر نکالی اس نے اپنی زنبیل سے ایک سنہری تختی اور حکم دیا، اے سنہری تختی، مجھے گنی بالا کے بادشاہ کی تفصیلات بتائی جائیں۔

سنہری تختی پر چمک سی نمودار ہوئی، پھر اس پر سیاہ حروف پھیلتے چلے گئے۔

پاکیشیا کا حکمران بے رحم ایسا ہے جس نے اپنے سے پہلے والے بادشاہ کو ڈال رکھا ہے ایک زندان میں اور نہیں راضی کوئی سہولت اسے دینے کیلئے، تمام جرنیل اس کی فوج کے وفادار اس کیساتھ ہیں، بال بیکا کوئی اس کا کرنے والا سر دست نہیں ہے، خبردار! مدبھیڑ اس کیساتھ مصیبت کا باعث بہت گھمبیر بن سکتی ہے۔

عمرو نے گھوڑے کو ایڑھ لگائی اور ہوا ہو گیا، قریب پہنچ کے گنی بالا کے اس نے دوسرا پڑاؤ کیا اور آگے کی صورتحال جاننے کیلئے ایکبار پھر سنہری تختی کو رگڑا مارا۔

تختی نے بتانا شروع کیا، اے عمرو! ابھی بھی وقت ہے واپس لوٹ جا، یہ مہم سخت دشوار ہے، میرے حساب سے بے سود رہے گی، گوہرِ مراد تیرے ہاتھ نہ لگے گا، پھر بھی تو چاہے تو گنی بالا جانے سے پہلے زرا سا بائیں ہاتھ گھوم جا، یہاں سے پانچ کوس کے فاصلے پر تجھے ایک مجمع ملے گا۔

یہ پاکیشیا کے مفتیٔ اعظم کی ذاتی فوج کا دستہ ہے جو بادشاہ کی تنزلی اور سابقہ بادشاہ کی رہائی کا متمنی ہے، اگر تم اس کے ساتھ مل کے اپنے دوستوں کی تلاش کرنا چاہو گے تو تمہیں بادشاہ کے معتمد جرنیل کے تندوتیز ٹویٹ پڑیں گے جو نہایت مہلک ہوتے ہیں، اور اگر تم گنی بالا کی حدود میں بری نیت سے داخل ہوئے تو انصافی بلائیں لے ڈوبیں گی۔ اور کسی طرح شاہی محل کے اندر پہنچ گئے تو تجھے تجھے مؤکل پیرنی کے کسی قیدخانے میں لے جائیں گے جہاں سے این۔آر۔آؤ کسی کو ملتا دیکھا گیا نہ سنا گیا آج تک۔

عمرو نے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ کرکے کہا، اے سنہری تختی، نہیں جانیوالا میں تیرے مشورے کے خلاف مگر کیا برائی ہے اگر مفتیٔ اعظم کے اکٹھ کا جائزہ لے لیا جائے کہ حلال کرنا اس دولت کو ضروری ہے جو تازہ تازہ کمائی ہے، یہ اگلے دو برسوں کی پرتعیش زندگی کے مترادف ہے، چھن جانا اس کا نہیں گوارا مجھے، چنانچہ پیش قدمی کرنا ایک مجبوری ٹھہرتی ہے۔

سنہری تختی نے کہا، ٹھیک ہے عمرو!
واسطے اس اکٹھ میں شریک ہونے کے تم پر لازم ہے ختم کرنا پہلے ان طلسمات کا جو اس مجمعے کے گرد بُنے گئے ہیں، ان میں پہلا طلسم حکومت پاکیشیا کے نیلے جنوں کا ہے۔

یہ تم کو اندر نہ جانے دیں گے اس حلیئے کیساتھ اس مجمعے میں تاآنکہ نہ ہو تمہارا حلیہ اس سپاہ جیسا جو مفتیٔ اعظم کیساتھ ہے، اور ہوا نہ لگنے دینا تم ان کو اپنے مقصد کی ورنہ یہ جن تجھے قید کر کے لیجائیں گے بادشاہ کی عدالت میں اور انجام ہوگا تیرا بھی سابقہ بادشاہوں کیساتھ مگر اس میں کتنے سال لگیں گے کچھ پتا نہیں۔

نیلے جنوں کا مقابلہ کرنے کیلئے تمہارے پاس ہونا ضروری ہے لال کاغذ کے پارچے جن پر سو لکھا ہوا ہو، دوسرے جن شیر نما ہوں گے، ان کا مقابلہ کرنے کیلئے تمہارے کندھے پر بھی شیر کی علامت ہونی چاہئے یا اس منتر کو یاد کرلو “میں بھی ایک ولیج آفیسر ہوں شہر لہور کا”٬ سن کر یہ منتر شیر نما جن تمہارے آڑے نہ آئیں گے، تیسرے جن تیر والے ہوں گے، پڑے واسطہ جب ان کیساتھ تو گانا یہ منتر “مونجھا مارواڑا ہلے، مونجھا جوگیاڑا ہلے، ہن دشمنوں کی ہلے، مونجھا تیریاڑا ہلے”، پھر چوتھے جنوں سے “آلکا سنگے یی جوڑ تکڑا خوشال دے، د مولانا صیب خدا پہ امان دے، دھرنا ڈیر ڈیر کامیاب دے” کہنا اور لوگوں میں گھل مل جانا، اور یاد رکھو وہاں مجھ سے کام پڑے تو تختی کی بجائے میپ۔کمپیوٹر بولنا، ورنہ پکڑے جاؤ گے۔

حروف پھیلتے گئے سنہری تختی پر اور بگڑتا گیا عمرو کا چہرہ پڑھ پڑھ کے انہیں حیرت سے مگر سوال روزی اپنی کے حلال کرنے کا تھا سو چارہ آگے بڑھنے کے سوا پاس اس کے کوئی اور نہ تھا۔

ارے باپ رے!
ایک طلسم میں تین تین چار چار طلسم، بڑا سخت انتظام ہے مفتیٔ اعظم کی سپاہ کا، منہ ہی منہ میں بڑبڑاتے ہوئے اسنے باندھا اپنا گھوڑا وہیں پر اور اگلے سفر کیلئے نکالیں اپنی زنبیل سے سنہری جوتیاں، لال کاغذ، شیر کا نشان اور تیر کا بول گنگناتا ہوا آگے بڑھ گیا۔

طے کئے عمرو نے اپنی فطری عیاری کے بل پر سارے مراحل کامیابی کیساتھ اور پہنچ گیا خوشی خوشی بیچ اس مجمعے کے جہاں کھوے سے کھوا چھلتا تھا، اس نے دیکھا وہاں شہزادی فریدہ کی ہمشکل ایک لڑکی کو جو ہوبہو اس کے جیسی تھی مگر لباس اس کا قطعی مشرقی طرز کا تھا جبکہ شہزادی مغربی فیشن کی دلدادہ تھی، جب کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا تو اس نے مدد لینے کا تختی سے چارہ کیا، نکالی جو اس نے تختی تو قریب سے کسی نے پوچھ لیا، د چی شے دے منڑا؟

د میپ۔کمپیوٹر دے، د فرانس سرا ورکڑم، یہ کہہ کے وہ اس جگہ سے نکل آیا، خدشہ تھا اسے مجمعے کا اپنے گرد اکٹھا ہو جانے کا، جو پیچھے اس کے پکار رہا تھا، دیکھو ایک بندہ فرانس سے بھی آیا ہے، واہ مولانا صیب تمہارا جانثار دنیا بھر سے آرہا ہے۔

سنہری تختی نے تھرمل ہیٹ سینسر سے کام لیکر یہ کنفرم کر دیا بارے اس لڑکی کے، دراصل وہ شہزادی فریدہ ہی تھی جو ظالم بادشاہ سے پاکیشیا کی جان چھڑوانے کیلئے اپنے پسندیدہ آؤٹ فٹ کو تیاگ کر ساتھ ہو چلی ہے ہاتھ مضبوط کرنے کو مفتیٔ اعظم کے، اگلے ایک دن میں باقی غائب شہزادے بھی اسی مجمعے میں دریافت ہوتے گئے ایک کے بعد ایک کرکے۔

عمرو نے شہزادے بہبود عالم کا ہاتھ پکڑا اور ایک چائے خانے پر لے گیا یہ بتا کر کہ بھیجا ہوا شاہِ عالم سیفمیشیا کا آیا ہوں جو پریشان ہیں سخت تمہاری گمشدگیوں سے، آخر ماجرا کیا ہے یہ سب؟

بتایا شہزادے عالم نے کہ واجب ہے نصرت اس بزرگ کی جو افکار میں مدِمقابل ہمارا سخت ہے، روا کسی صورت ہم آہنگی اس کیساتھ نہیں، مزاج میں، خیالات میں، نظریات میں مگر بیڑا اٹھایا ہے اس نے مقابلے کا اس بادشاہ سے جو ناپسند ہم کو سخت ہے، دہائی دیتے ہیں ہم فقط اسی ایک کارن سے اور حلیئے بدلے ہیں یکجہتی اس کیساتھ رکھنے کو چند دن کے واسطے، کام جب تک یہ سرے نہیں چڑھتا ہم شیدائی اس کی جدوجہد کے ہیں کھرے۔

کہا عمرو نے، اے نادان!
لیکن سیفمیشیا نے جس ضیاءالحقی سے جان چھڑانے کی سعی برسوں کی محنت لگا کے کی تھی ہاتھ سے جاتی رہے گی جب پڑوس میں تمہارے آجائے گی بنیاد پرست حکومت فضل الحقی کے نیچے کہ سخت مولانا افکار میں ہے اپنے جو بنیاد پرستانہ ہیں بعینیہٖ ضیائی افکار کے۔

کہا شہزادے نے!
واللہ ہم تجربہ کار و تند ہیں اب بنیاد پرستی کی جڑیں کاٹنے میں، کل کو وقت پلٹے گا تو ہم بھی لوٹ جائیں گے مثل پہلے کے اپنے کام کی طرف تندہی سے کہ آتا ہے لڑنا قلمی جنگ ہمیں اچھی طرح سے اب ماہروں کی طرح۔

عمرو گویا ہوا!
مگر بتایا تھا مجھے امیر حمزہ نے، مفتیٔ اعظم دشمن ہیں سخت اس مال کے جو آپ برتاتے ہیں اسریلیشیا، بھرتیشیہ اور امریکیشیہ سے منگوا کے لاٹ اندر لاٹ گردوں میں، پھر ملن ہوگا کیسے آگ اور پانی کا، دیسی اور بدیشی کا، ایمانیات اور لادینیات کا، موٹی چدر برقعے اور منی اسکرٹ کا، چاردیواری کی عورت اور شمع محفل کا، قدامت پسند مرد اور روشن خیال بابو کا، تم پچھتاؤ گے بنیاد پرستی کو بڑھاوا دیکر، کیا نہیں سوچتے تم اس طرح سے۔

کہا شہزادے نے!
ہمارا پہلے بھی کچھ نہیں تھا اب بھی کچھ نہیں ہے، ہمیں درکار ہے وہی بادشاہت جس میں رستہ ہمارا روکنے والا کوئی نہ ہو، رستہ کھلا ہوگا تو سفر ہوگا، منڈی کھلی ہوگی تو سودا بکے گا، یہ بادشاہ جانا چاہئے خواہ ہمیں کوئی بھی بھیس بدلنا پڑے، وارے میں نہیں ہم کو بادشاہت اس کی قرب و جوار میں اپنے جو راہ روکتی ہو بدیشی مال کا مملکت کو دوام دیکر، ٹوٹ پھوٹ کی شکار قوم ہی بدیشی مال کی خریدار ہوگی، مفتیٔ اعظم کامیاب ہوگئے تو بادشاہت انہی کو ملے گی جو ماہر پہلے سے اس کام کے ہیں اور سنگی ساتھی تھے ہمارے دامے درمے سخنے ماضی میں، مفتیٔ اعظم کا ٹکراؤ ہوگیا تو نفع ہمیں ہی ہوگا اس بے دوامی کا جو ٹوٹ پڑے گی اس راجدھانی پر چہار سو، بخت ہمارے کھلیں گے ہر دو صورت میں تو ہم کیوں نہ افکار بدل لیں، حلیہ تبدیل کرلیں واسطے چند دنوں کے۔

رات کے پہلے پہر مجمعے میں بارش شروع ہو چکی تھی، سردی بڑھ رہی تھی، چائے ختم کرکے عمرو نے زنبیل اٹھائی اور واپسی کا ارادہ ظاہر کیا، مگر ٹھہرو، میں شاہ عالم کو کیا جواب دوں جا کے، عمرو نے جاتے جاتے شہزادے سے آخری سوال کیا۔

شہزادے نے ایک ہری ٹوپی تھما کے کہا، عالم پناہ سے کہنا یہ وقت ہے رنگ بدلنے کا، تفکر سے رنگ پیلا کرنے کی بجائے حکمت سے رنگ بدلو، گو خدا پہ ہم یقین نہیں رکھتے مگر رام بھلی کرے گا، ہماری کامیابی کیلئے دعا کرتے رہنا، ہم دونوں صورتوں میں کامیاب لوٹیں گے۔

عمرو نے پانچ کوس واپس جا کے اپنے گھوڑے کو ایڑھ لگائی اور صبح دربار کھلنے سے پہلے یمنیشیہ پہنچ گئے، چرچا پورے شہر میں پھیل گیا، عمرو کے ناکام لوٹنے کا، چہ مگوئیاں ہونے لگیں کہ زبان کھلے گی تو کیا برآمد ہوگا عمرو کی تلاش سے اور اس ناکامی پر کیا ردعمل ہوگا امیر حمزہ کا جو اپنے ہمدم کو اپنے ہرکارے کی کامیابی کا دلاسہ دیتے رہے تھے۔

یہی سوالات امیر حمزہ اور عالم پناہ کے چہرے پر سجے ہوئے تھے جب دربار شروع ہوا، عمرو نے دونوں سرداروں کے درمیاں بیٹھ کے سرگوشیوں میں ساری بات ان کے گوش گزار کر دی، شہزادی فریدہ اور شہزادوں کا اسلامی معیار کے تازہ حلیئے کی شبیہات سنہرے تختی پر ان کو دکھا کے مطمئن رہنے کا پیغام بھی پورے کا پورا پہنچا دیا۔

عالم پناہ نے شہزادوں کی جانفشانی کا حال معہ ثبوت کے سنا تو نعرہ لگا کے الااللہ کا فرط جذبات کے مارے سجالی ہری ٹوپی سر اپنے کے اوپر اور لگے ورد کرنے یاحفیظُ یا فتاحُ کا صمیم قلب سے کہ معاملہ شہزادوں کی محنت کو بار آور کرنے کا تھا۔

درویش نے قصہ ختم کرکے دوستوں کی طرف دیکھا تو وہ اناللہ پڑھتے ہوئے خراماں خراماں داستان سرائے سے باہر نکلتے چلے گئے۔

(Visited 1 times, 3 visits today)

About Author

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: