مجھے میرے دوستو سے بچاؤ: ثمینہ رشید

0
سجاد حیدر یلدرم کا ایک مضمون ہے "مجھے میرے دوستو سے بچاؤ” مجھے علم نہ تھا کہ اس کا سیکئول مجھے لکھنا پڑے گا- مارک زکر برگ نے جب فیس بک ایپ بنائ ہوگی اس کو بھی اندازہ نہ ہوگا کہ ایک سوشل نیٹ ورکنگ کی ایپلیکیشن کہ کچھ ایسے بھی مضمرات ہونگے کہ سائبر کرائم کے حوالے سے قوانین کو دنیا بھر میں متعارف کرانا پڑے گا۔ 
 
خیر بات نکلی تھی یلدرم کے مضمون سے تو جناب آج کل کچھ ایسے ہی مسائل سے یہ خاکسار دو چار ہے۔ کچھ عرصے پہلے ویب سائٹس پہ لکھنا شروع کیا تو فرینڈ ریکوئسٹ کی بڑھتی ہوئ تعداد دیکھ کر پروفائل اور ٹائم لائن کو پبلک کرکے کمنٹس تک بھی سب کو رسائ دے دی ۔ حقیقت تو یہ ہے لوگوں نے مایوس نہیں کیا بہت سے نفیس سلجھے ہوئے لوگوں کی تحریریں پڑھنے کو ملیں اچھے، حوصلہ افزا، اور تنقیدی کمنٹ سے مزید لکھنے اور تحریں نکھارنے کا موقع ملا ۔ لیکن اب کچھ عرصے سے فرینڈ ریکوئسٹ ایکسیپٹ کرتے ہی لوگ ان باکس میں چیٹ کے خواہش مند ہوتے ہیں
 
[animate animation=”rotateIn”]کچھ لوگوں کا شاید یہ خیال ہوتا ہے کہ فرینڈ شپ ریکوئسٹ کے قبول ہوتے ہی انہیں یہ حق حاصل ہوجاتا ہے کہ وہ جب چاہیں ان باکس میں میسیج بھیجیں یا کال اور ویڈیو چیٹ کا آپشن استعمال کریں۔ 
[/animate]
 
آپ سلام کا جواب دے دیں تو آگے سے آپ سے موبائل نمبر کا مطالبہ آجاتا ہے تو کبھی اسلامی معاملات میں راہنمائ مفت میں فراہمی کی آفر۔ کبھی کبھی تو جو لوگ آپکی فرینڈ لسٹ میں نہ بھی ہوں وہ بھی فون نمبر کا مطالبہ کردیتے ہیں۔ کچھ انتہائ سلجھے ہوئے نظر آنے والے معاشرے کے عزت دار کرداروں کی طرف سے بھی اس طرح کی حرکات کے تجربے نے تو مایوس ہی کردیا۔
 
لیکن اس ساری تنقید اور ذہنی کوفت سے قطع نظر سوشل میڈیا کے بہت سارے مثبت پہلو  اپنی جگہ ایک حقیقت ہیں۔ مختلف ویب سائٹس پہ میری تحریریں پڑھنے والوں قارئین میں نہ صرف ایک پہچان بنی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اُن کی حوصلہ افزائ سے مذید لکھنے کا حوصلہ بھی ملا۔ ایک اور مثبت پہلو یہ ہے کہ بہت سارے نئے لکھنے والوں کو پڑھنے کا موقع ملا۔ کچھ نوجوان  طالب علم لکھاریوں کی حوصلہ افزائ اور تعریف کرنے پر جواب میں ‘آپی اور آپا’ جیسے تخاطب پڑھ کر نہ صرف ان نوجوان لکھاریوں پہ بہت فخر محسوس ہوا بلکہ ان کے والدین کی تربیت پہ بھی ناز ہوا۔ اور جو کبھی کبھی اپنے اکلوتے ہونے پہ دل میں اک خیال آتا ہے وہ بھی نہ رہا۔ 
 
اگر خواتین سوشل میڈیا پر ویب سائٹس پہ لکھ رہی ہیں تو آپ بے شک اپنے فرینڈ ریکوئسٹ بھیجیں لیکن دوست ہونے کے حقدار ٹہرنا ہے تو ہماری تحریروں پہ کمنٹ کریں ہمیں ہماری تحریروں کے آئینے میں دیکھیں ہم پہ مثبت تنقید کریں۔ ہماری رہنمائ کریں۔ پتہ نہیں کتنے ہی گوہرِ نایاب اس قسم کی حرکات کی وجہ سے سوشل میڈیا استعمال نہیں کرتے۔ کتنی ہی خواتین اپنی شناخت ظاہر نہیں کرتیں اور اپنا ہنر منظرِ عام پر نہیں لاتیں۔ ان کے راستے آسان بنائیں اپنے مثبت اور متوازن سوچ کے زریعے۔ 
 
دراصل اس سارے تجربے سے گُزر کر ایک احساس شدت سے ہوا کہ ہمیں بحیثیتِ مجموعی اپنے رویوں میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔ 
 
ایک ایسے معاشرے میں جہاں عورت اور قلم کے بیچ  کئ رکاوٹیں حائل ہیں وہاں اگر کوئ خاتون قلم اور کاغذ سے رشتہ جوڑنا چاہتی ہے تو اس کو عورت  کے روایتی تصور سے بالاتر ہو کر دیکھیں اس کی عزت کرنا سیکھیں ایک عورت کے طور پہ نہ سہی کم از کم ایک انسان کے طور پر ہی سہی۔ بے شک یہ خاکسار پاکستان میں مقیم نہیں لیکن اپنے ملک سے محبت کی جڑیں ہم پردیس میں رہنے والوں کے بھی دل میں پیوستہ ہوتی  ہیں۔ آپ کے شب وروز کی تکالیف سے آگاہ اور ان کی نشاندہی اور حل کے لئے آپ ہی کی طرح  فکرمند اور دعاگو رہتے ہیں۔ 
 
 ہمارے جیسے معاشرے میں ایک عورت جب قلم سنبھالتی ہے تو وہ ایک ماں، بیوی، بہن  اور بیٹی ہونے کے سارے فرائض کی ادائیگی کے ساتھ اپنی راتوں کی نیندیں قربان کر کے اپنے ہم زبان اور اپنے ہم وطنوں کے لئیے لکھنے کا فرض نبھاتی ہے۔ اور بدلے میں صرف ایک عورت ہونے کے ناطے نہ سہی ایک انسان ہونے کے ناطے صرف عزت کی خواہاں ہوتی ہے۔ ہم اور آپ مل کر ایک معاشرہ بناتے ہیں اور ایک مہذب معاشرے کی تشکیل اسی طرح ممکن ہے کہ آپ اس فرض کے نبھانے میں خواتین کا ساتھ دیں۔ انہیں اخلاقی طور پہ سپورٹ کریں۔ ایک عورت کے طور پر اپنی وقتی یا زہنی تسکین کا زریعہ نہ بنائیں، کہ قلم اٹھانے والے لوگ اس سے کچھ زیادہ کے حقدار ہوتے ہیں۔ اگر آپ ان  کا راستہ آسان نہیں کرسکتے تو ان کی راہ کھوٹی بھی نہ کریں۔ 
 
 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: