تین دن لاہور میں ——– محمد حمید شاہد

0

وہ تقریب جو کئی ماہ پہلے ہونا تھی، بوجوہ ملتوی ہوتے ہوتے اب کہیں جا کر منعقد ہو رہی تھی۔ اردو افسانے کی نمایاں ترین شخصیت اسد محمد خاں اور ہمارے دوست افسانہ نگار، شاعر اور مدیر مبین مرزا کراچی سے لاہور پہنچے اور ادھر اسلام آباد سے میں اور یاسمین وہاں حاضر ہو گئے تھے۔ لاہور کے نمایاں لکھنے والے بھی اسد محمد خاں کی محبت ڈوری میں بندھے چلے آئے تھے۔ جی، اس تقریب کا اہتمام LUMS میں حلقہ دانش کے تعاون سے گرمانی سینٹر فار لینگویجز اینڈ لٹریچر نے ’’ہم عصر اردو افسانہ‘‘ کے تحت پروگرواموں کے سلسلے میں کیا تھا اور اردو افسانے کی جس شخصیت کو ہم خراج تحسین پیش کرنے پہنچے تھے وہ اسد محمد خاں تھے۔ ہم ایک روز قبل ہی وہاں پہنچ گئے تھے اور ہم سے پہلے ضیا الحسن اور زاہد حسن وہاں موجود تھے۔ ڈاکٹر ضیا ء الحسن، آفتاب حسین اور امجد طفیل کو لاہور میں، میں اپنے سب سے قدیم دوستوں میں سمجھتا ہوں۔

آفتاب حسین کی کتاب مطلع آئی تھی تو اردو دنیا میں اسے توجہ سے دیکھا گیا۔ آج کل ملک سے باہر ہیں مگر جانئے کہ دل میں ہیں، گاہے گاہے ان کی تخلیقات نظر سے گزرتی رہتی ہیں اور جی خوش ہوتا ہے۔ ڈاکٹر امجد طفیل نفسیات کے اُستاد ہیں، اردو افسانے اور تنقید کی اسی کی دہائی میں شناخت پانے والوں میں ان کا نام بہت اہم ہے، جب یہ اسلام آباد میں تھے تو ہماری شامیں ساتھ گزرتی تھیں، لاہور سے استعارہ کے نام سے ایک اہم ادبی جریدہ بھی نکال رہے ہیں۔ ڈاکٹر ضیا الحسن اردو ادب کے ایسے اُستاد ہیں کہ ان کا جو شاگرد ملا اسے ان کی شان میں رطب اللسان پایا۔ ہمارے یہ دوست آفتاب حسین کی طرح شاعر ہیں اور انہی کی طرح بے پناہ شاعر مگر بالکل الگ لحن رکھنے والے۔ اورینٹل کالج کے جن دو اساتذہ نے تنقیدکے میدان میں اپنے اپنے کام سے ہم سب کو متوجہ کیا اور مسلسل توجہ پارہے ہیں ان میں ڈاکٹر ضیاء الحسن اور ڈاکٹر ناصر عباس نیر ہیں۔ دونوں کا ادبی موضوعات پر سوچنے پرکھنے کا طریقہ کہہ لیجئے تنقیدی وتیرا مختلف ہے تاہم لگن ایک سی ہے۔ کوئی ان کے تنقیدی نظریات سے اتفاق کرے نہ کرے اس باب میں دونوں کی سنجیدہ فکری، اپنے اپنے موضوعات پر دسترس اور اپنے کام کے ساتھ خلوص کے ساتھ وابستگی کا اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکے گا۔ ہاں تو بات ہو رہی تھی ضیاالحسن کی اور حوالہ ان کی شاعری کا آیاتو دھیان میں ان کی ایک معروف غزل گونجنے لگی ہے۔ وہی جس کا خوب صورت مطلع ہے:

موجود کچھ نہیں یہاں معدوم کچھ نہیں
یہ زیست ہے تو زیست کا مفہوم کچھ نہیں

یہ پوری غزل ایسی ہے کہ جب جب میں پڑھتا ہوں، اس وسیع کائنات کو دیکھتا ہوں اور اس کے بھیدوں کی طرف دھیان جاتا ہے تو اس ایک غزل سے نئے نئے معنی پھوٹ نکلتے ہیں :

منظر حجاب اور ہی کچھ منظروں کے ہیں
معلوم ہم کو یہ ہے کہ معلوم کچھ نہیں

خواب و خیال سمجھیں تو موجود ہے جہاں
کچھ بھی سوائے نقطہ موہوم کچھ نہیں

اسی غزل کا ایک اور شعر ہے، ذرا الگ مزاج کا:

جس کے بغیر جی نہیں سکتے تھے، جیتے ہیں
پس طے ہوا کہ لازم و ملزوم کچھ نہیں

بتا چکا ہوں کہ لمز پہنچنے پر جنہیں منتظر پایا اُن میں زاہد حسن بھی تھے۔ اردو پنجابی، دونوں زبانوں میں لکھنے والے مگر پنجابی میں ایسے تخلیقی سرمائے کے مالک، کہ یہی اُن کی پہچان ٹھہری۔ ناول’’عشق لتاڑے آدمی‘‘ کاعنوان ہی ایسا دھانسو ہے کہ پڑھنے والا اس کی طرف لپکتا ہے۔ اسی طرح ’’غلیچا انن والی‘‘، ’’قصہ عاشقاں‘‘ اور’’ تسی دھرتی‘‘ جیسے پنجابی ناول ہوں یا ’’ہجر تیرا جے پانی منگے‘‘ کے پنجابی افسانے؛ سب ہمارے اس پیارے دوست کی تخلیقی قامت بلند کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک زمانے میں ’’کہانی گھر‘‘ کے نام سے ایسا ادبی رسالہ نکالا اور فکشن سے محبت کرنے والوں کی ساری توجہ بٹور لی۔ ’’کہانی گھر‘‘کے تین شمارے ہی میری یادداشت میں ہیں ؛اور تینوں ایسے ہیں کہ ہر شمارہ ایک کتاب۔ اسدمحمدخاں، نیر مسعود اور حسن منظر پر لائق توجہ مضامین کے ساتھ۔

رات گئے تک ہم پی ڈی سی یا کہہ لیجئے یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا سے باہر بیٹھے وہاں کے طلبا و طالبات کی سرگرمیوں سے زندگی کی تازگی کشید کرتے رہے۔ سچ ہے جواں سال لوگوں میں بیٹھنا اور انہیں ہنستے کھیلتے دیکھنا کسی کو بھی جواں کر سکتا ہے۔ کہیں کسی کی سالگرہ کی پارٹی چل رہی تھی، کہیں کوئی ٹولی ایک میز کے گرد بیٹھی کوئی گیت گار ہی تھی، ذرا فاصلے پر ایک بس آکر رکی تو اپنے اپنے اسباب کے ساتھ لڑکے لڑکیا ں اس پر سوار ہونے لگے، معلوم ہوا کسی ٹرپ پر نکل رہے تھے۔ اسد محمد خاں، مبین مرزا، ضیاالحسن، زاہد حسن یاسمین اور یہ خاکسار ایک ٹیبل کے اردگرد بیٹھے ان نوجوانوں میں گھرے ہوئے تھے جنہیں ادب سے دلچسپی تھی۔ ان نوجوانوں کی ادب سے دلچسپی کا اندازہ تو اگلے روز ہوا، جب وہ پروگرام شروع ہوا جس کے لیے ہم لمز پہنچے تھے۔ کانفرنس ہال میں کوئی سیٹ خالی نہ بچی تو آنے والے طلبا اور طالبات چپکے سے کسی دیوار کے ساتھ لگ کریا سامنے خالی زمین پر پھسکڑا مار کر اسد محمد خاں کو سننے بیٹھ گئے تھے۔

اسد محمد خاں نے پہلے لاہور کی یادداشتوں پر مشتمل ایک مضمون پڑھا اور پھر ’’اپنے شاہکار افسانے’’باسودے کی مریم‘‘ سے اقتباسات سنائے اور سماں باندھ دیا۔ پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز حمیدہ شاہین کے مضمون سے ہوا۔ یہیں یہ بتادوں کہ ڈاکٹر ضیاالحسن نے نظامت کرتے کرتے اسدمحمد خاں کے فکشن پر بہت سے اہم نکات سجھا ئے۔ ضیاالحسن ہوں یا ان کی بیگم حمیدہ شاہین دونوں باکمال تخلیق کار ہیں۔ حمیدہ شاہین کا محبوب میدان شاعری ہے اور اس حوالے سے اپنی الگ شناخت مستحکم کر چکی ہیں۔ غزل ہو یا نظم خوب کہتی ہیں۔ ’’ دستک‘‘، ‘‘دشت وجود‘‘ اور ’’میں زندہ ہوں‘‘ جیسے نظموں اور غزلوں کے مجموعے عطا کرنے والی اس شاعرہ کا ایک شعر:

کون بدن سے آگے دیکھے عورت کو
سب کی آنکھیں گروی ہیں اس نگری میں

حمیدہ شاہین جب اسدمحمد خاں کے فکشن پرمکالہ عطا کر رہی تھیں تو لگتا تھی فکشن ہی ان کا میدان ہے۔ کراچی سے اسد محمد خاں کے ساتھ مبین مرزا آئے تھے اور اپنی باری پر گفتگو کرنے آئے تو اسد محمد خاں کے فکشن کے ان کرداروں کو نشان زد کیا جو ہند اسلامی تہذیب کے نمائندہ ہو گئے تھے۔ مبین مرزا بتارہے تھے کہ جب خاں صاحب کوئی نئی تحریر لکھتے ہیں پہلے انہی کے پرچے میں چھپتی ہے۔ یہیں بتاتا چلوں کہ یہاں جس پرچے کی بات ہورہی ہے وہ ’’مبین مرزا کی ادارت میں مسلسل چھپنے ولا ’’مکالمہ‘‘ ہے۔ اپنے مزاج کے اعتبار سے بالکل الگ۔ پہلے ہر تین مہینے بعد ایک ضخیم کتاب کی صورت آتاتھا، اب ہر ماہ آتا ہے اور مسلسل توجہ میں رہتا ہے۔ مبین مرزا مدیر، شاعراور نقاد ہیں تاہم ان کا وہ حوالہ جو مجھے محبوب ہے وہ ان کی افسانہ نگاری کا حوالہ ہے۔ اسی صنف پر ان کے مباحث کچھ کم لائق توجہ نہیں ہیں۔ موضوعات کی تعیین کے ساتھ وہ کچھ سوالات قائم کرتے ہوئے، مجموعی تخلیقی سفراور فن پاروں کو دھیان میں رکھ کر جس طرح جوابات سجھاتے ہیں وہ انہی کا حصہ ہیں۔ گفتگو کرتے ہوئے بھی وہ اتنے منضبط رہتے ہیں کہ گماں گزرتا ہے جیسے لکھا ہوا پڑھ رہے ہوں۔ جب وہ ڈائس پر کھڑے ہوئے تو بھی یہی ہوا تھا۔ میری پاس لکھا ہوا مقالہ تھا سو، اپنی باری پر اسے پڑھنے لگا اور اس جادوگر افسانہ نگار کے ان تخلیقی پہلوئوں کی طرف توجہ چاہی جو انہیں دوسروں سے مختلف کر دیتے ہیں۔ اسد محمد خاں ماضی اور حال سے جڑے ہوئے تخلیق کار ہیں ان کے لیے ماضی، محض گزرے وقت میں دفن ہونے کا حوالہ نہیں ہے، کہ ان کے نزدیک اس سے جُڑیں تو پھر سے جی اُٹھنے کا قرینہ آتا ہے۔ اپنی راکھ سے ققنس کی طرح پھر سے جی اُٹھنے کا قرینہ۔

مجھے اسد محمد خاں کی ایک کہانی’’شہر کوفے کا محض ایک آدمی‘‘ یاد آئی تو کہہ دیا کہ اسے پڑھ کر یوں لگتا ہے جیسے ہمارے وجودوں پر حرام خوری، آلکسی اور کاہلی کی چڑھی چربی کو اس کا بیانیہ اپنی تیز آنچ سے پگھلانے لگا ہے۔ یادرہے اس کہانی کے پہلے حصے میں تاریخ کے وہ لمحات ہیں جنہوں نے زمرد اور یاقوت اورمشک اور عنبر کے بہتر تابوت اپنے کندھوں پر اٹھا ئے تھے۔ بہتر آسماں شکوہ لاشوں کو سنبھالنے والے تابوت۔ اسی حصہ میں کہانی کے راوی نے ایک ایسے آدمی کا تصور باندھنے کو کہا ہے جس نے کوفے سے امام عالی مقام کو خط لکھا تھا کہ:’’میرے ماں باپ فدا ہوں، آپ دارالحکومت میں ورود فرمایے، حق کا ساتھ دینے والے آپ کے ساتھ ہیں۔ ‘‘ اور وہ آدمی اپنے وجود کی پوری سچائی کے ساتھ اس بات پر ایمان بھی رکھتا تھا، مگر خط لکھنے کے بعد گھر جا کر سو گیاتھا۔ اپنے امام سے آخری لمحوں میں سچی وابستگی کا مظاہرہ کرنے والے کوفے کے اس آدمی، جی اس زندہ جاوید آدمی کو کہانی کے دوسرے حصہ میں، کہ جہاں فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے ستم کا ذکر ہو رہا ہے اور ان دعائوں کا جن سے ہماری ہتھیلیاں لبالب بھری ہوئی ہیں اور ساتھ ہی اس خوف کا جو جارح اور ظالم کے ٹینکوں کے سامنے جانے اور قیمہ قیمہ ہو جانے سے ہمیں روک دیتا ہے تو کہانی ماضی میں غوطہ لگاتی ہے اور ہمارے کسالت بھرے اور خوف کی چربی چڑھے بدنوں پر چرکے لگانے کے لیے، کوفے کے اس ایک آدمی کو، زندہ جاوید آدمی کو سامنے لے آتی ہے۔ ہاں، ہمارے بدنوں پر چرکے لگانے کے لیے۔ مگر یوں ہے کہ ہم میں اتنی بھی استقامت نہیں رہی کہ چولہے میں سے جلتی لکڑی ہی کھینچ کر ظالم کے مقابل ہو سکیں۔ کہ ہمیں تو ہمارے پنیر اور روغن زیتون اور خرمے کھا گئے ہیں، قیمہ بنا گئے ہیں اور ہمیں چیونٹوں کی پہلی قطار نے دریافت کر لیا ہے۔

یہیں ہماری ملاقات محقق، شاعر، فارسی زبان و ادب کے استاد اور تہذیبی شخصیت معین نظامی سے ہوئی۔ جی، میں نے انہیں ’تہذیبی شخصیت ‘یوں ہی نہیں لکھ دیا کہ یہ محض میل ملاقات ہی میں تہذیبی نہیں ہیں اپنے تخلیقی وتیرے میں بھی ہیں۔ اس کا احساس مجھے ان کی شاعری پڑھ کر ہوا۔ جس طرح وہ لفظیات سے اپنی تخلیقات میں معاملہ کرتے ہیں اور لفظوں کی اپنی تہذیب کو دھیان میں رکھ کر برتتے ہیں، اس قرینے سے جو شخصیت بنتی ہے، اس نے مجھے ایسا لکھ دینے کی تحریک دی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے قاسم یعقوب اور صفدر رشید کی وساطت سے ان کی شاعری کے ’’چار مجموعے‘‘ ایک جلد میں پڑھنے کو ملے تھے اور ایک عجب سرشاری کا احساس ہوا تھا:

سارے عدد طلسم تہجی کے اس میں ہیں
اور مجھ پہ تو ’’الف‘‘ کا بھی نکتہ نہیں کھلا

اقتدار جاوید، حسین مجروح، غافر شہزاد اور عارفہ شہزاد بھی ملنے یونیورسٹی پہنچ گئے تھے۔ اقتدار جاوید سے دوہرا تعلق ہے، وہ میری طرح بینکار ہیں، اسی بینک سے وابستہ ہیں جس سے بتیس سال وابستہ رہ کر میں دو اڑھائی سال پہلے سبک دوش ہوا۔ دوسرا حوالہ بینکارہوتے ہوئے نہ صرف اپنے تخلیق جوہر کو بچا لینے کا ہے، اس باب میں اپنی شاخت مستحکم کر لینے کا بھی ہے۔ اردو پنجابی دونوں زبانوں میں لکھتے ہیں اور الگ دھج سے لکھتے ہیں۔ پیارے دوست حسین مجروع سے بھی تین ساڑھے تین دہائیوں کا تعلق ہے۔ جب جب اسے دیکھا، ملا بات کی، لگا اس شخص نے نہ بدلنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ وہی ملنے میں وارفتگی، وہی کھنکتی آواز، اور عمر تو جیسے کہیں پیچھے ٹھہر گئی تھی۔ اپنے مزاج کے الگ شاعر ہیں اور مکالمے میں بھی خوب سلیقہ برتتے ہیں۔ ان کے منفرد اشعار پر مشتمل مجموعہ کچھ عرصہ پہلے ملا تھا اسی سے ایک شعر:

لازم ہے نیا رنگ، سخن میں کہ روایت
قندیل ہوا کرتی ہے، منزل نہیں ہوتی

غافر شہزاد کی شخصیت کی کئی جہتیں ہیں شاعری، افسانہ نگاری، ماہر تعمیرات، کالم نگار۔ اور لطف یہ کہ وہ ہر دم ہر جہت سے متحرک نظر آتے ہیں۔ کبھی کبھی وہ اپنی دلچسپی کے دو علاقوں کو باہم آمیز بھی کر لیتے ہیں اور ایسا جب تخلیقی سطح پر ہوتا ہے تو ‘‘کارساز‘‘ جیسی کتاب منظر عام پر آجاتی ہے۔ یہ افسانوں کی کتاب ہے جس میں ایک ماہر تعمیرات کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ عارفہ شہزادوہاں میرے لیے اپنی تازہ کتاب’’انگریزی میں اردو ادب کی تنقید‘‘ کے ساتھ موجود تھیں۔ نظم، تنقید اور تحقیق عارفہ کے شعبے ہیں حال ہی میں ان کی پنجابی نظموں کا ایک سلسلہ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ پنجابی ہو یا اردو یکساں سہولت سے لکھتی ہیں اور ہاں، ان کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ ان سے بہتر کوئی سیلفی نہیں بنا سکتا۔

اس یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کو زبان و ادب کی جانب راغب کرنے اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کے لیے ایسے پروگراموں کے انعقاد کے پیچھے ایک اور شخصیت کی کوشش بھی صاف نظر آتی ہیں۔ جی وہی صاحب جو اپنے طلبہ وطالبات کے ساتھ فرش پر بیٹھ کر پروگرام سننے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کر رہے تھے۔ میری مراد بلال تنویر سے ہے۔ شعبہ زبان و ادب کے یہ محترم استاد جانے مانے فکشن نگارہیں۔ جی ناول ’’The Scatter Here Is Too Great ‘‘ والے اور انہوں نے محمد خالد اختر اور ابن صفی کو انگریزی میں بھی تو منتقل کرکے توجہ پائی ہے۔ بلال تنویر سے ملنا بھی اچھا لگا۔

ارادہ تھا کہ پروگرام کے بعد اسلام آباد واپس ہو لیں گے مگر محترم سلمیٰ اعوان کا حکم ہوا، شام ان کے ہاں پہنچنا ہوگا۔ سلمیٰ اعوان کا حکم کیسے ٹالا جاسکتا تھا ہماری سینئر لکھنے والی ہیں اور خوب لکھتی ہیں۔ ان کی تخلیقی زندگی تو شاید ہم میں سے کئیوں کی عمروں سے زیادہ ہوگی۔ افسانہ، ناول، سفرنامہ، کالم غرض جس شعبے کے لیے قلم اٹھایا اس کا حق ادا کیا۔ سادگی خلوص اور محبت کا استعارہ ہوجانے والی سلمی اعوان نے اپنے ہاں کئی دوستوں کو جمع کر رکھا تھا۔ لگ بھگ یہی اہتمام ثروت محی الدین نے اگلے روز برنچ پر اپنے گھر میں کیا تھا ثروت محی الدین اردو پنجابی، دونوں زبانوں میں لکھتی ہیں، تصوف ان کا محبوب موضوع ہے، شاعری اور نثر دونوں ان کے میدان ہیں۔ ان دونوں تقاریب میں ڈاکٹر عمر عادل سے ملاقات رہی۔ ڈاکٹر صاحب پیشے کے اعتبار سے Orthopedician ہیں اور اپنے شعبے کے ماہر، فنون لطیفہ سے ان کی دلچسپیاں قابل رشک ہیں۔ میوزک ہو یا فلم، ڈرامہ ہو یا تھیٹر بات چل نکلے تو وہ کسی کے روکنے سے کہاں رکتے ہیں۔ خوش لباس۔ خوش مزاج اور کسی موضوع پر بات کرنا چاہیں انہیں تیار پائیں گے۔ یہیں خالد شریف سے ملاقات رہی۔ شاعر اور ناشر خالد شریف سے اور ان کی ایک غزل بار بار دھیان آتی رہی۔ وہی جس کا ایک شعر ہے:

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

ڈاکٹرامجد طفیل، ڈاکٹرضیاالحسن، حمیدہ شاہین، بینا گوئندی، امیر حسین جعفرینیلم احمد بشیر، بلقیس ریاض، سیما پیروز جیسے دوستوں سے ملاقات اور اس پر پر تکلف دعوتیں تحائف اور کئی اہم موضوعات پر گفتگوئیں؛ یہ سب ایسا تھا کہ ان تین دنوں کا لمحہ لمحہ یادگار بنا رہا تھا۔ کچھ دوستوں سے پرانی جان پہچان تھی اور کچھ سے پہلی بار مل رہا تھا مگر یوں لگتا تھا مگر ان میں سے کوئی بھی اجنبی نہ تھا کہ گاہے گاہے انہیں پڑھنے کا اتفاق ہوتا رہاتھا۔ نیلم احمد بشیرناول نگار، سفرنگار اور بہت اچھی دوست ہیں وہ اس پر بہت پریشان تھیں کہ ہمارے سماج میں تنگ نظری بڑھتی جاتی ہے۔ نیلم اپنی تحریروں میں سیاسی سماجی صورت حال کو بہت دلیری سے موضوع بتاتی رہی ہیں۔ حال ہی میں شائع ہونے والا ناول اس کی عمدہ مثال ہے۔ ان کے افسانے ہوں یا سفرنامہ اور دوسری تحریریں وہ سیاسی سماجی صورت حال سے جڑی رہتی ہیں۔ بلقیس ریاض سے سلمی اعوان کے ہاں ملاقات رہی تو میرا دھیان رہ رہ کر’’ حادثے‘‘، ’’ پہنچی وہیں پہ خاک‘‘، ’’مسیحا‘‘، ’’ خلش‘‘ اور’’ انوکھا سفر‘‘ جیسی کتب اور اخبارات میں شائع ہونے والے ان کے کالموں کی طرف جاتا رہا۔ ثروت محی الدین کے ہاں، سیما پیروز سے ملاقات بھی پہلی تھی تاہم یہ نام بھی میرے لیے نیا نہ تھا۔ ’’ شام کی سرگوشی‘‘، ’’ طوفان کے بعد‘‘، ’’کافی کی پیالی اور محبت‘‘، اور’’ روشنی کی تتلیاں‘‘ ان کی تصانیف ہیں۔ بہت نفس خاتون ہیں، بہت خوب مکالمہ رہا۔ یوں تین دن تیزی سے گزر گئے اور دوستوں سے ملاقاتیں کسی اور وقت پر اٹھا رکھنا پڑیں۔ چاہتے ہوئے بھی ان کے لیے وقت نہ نکال پایا کہ یہاں اسلام آباد میں پہلے سے کچھ وعدے کر رکھے تھے جنہیں نبھانا تھا۔ سو ’’لاہور لاہور ہے‘‘ کا ورد کرتے اور شیخ ابراہیم ذوق کا شعر گنگناتے واپس ہو لیے :

اے ذوق کسی ہمدم دیرینہ کا ملنا
بہتر ہے ملاقات مسیحا و خضر سے

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: