اِقبال کا فلسفۂِ زمان و مکان ——– منیر احمد خلیلی

0

’وقت‘ یا ’زمانہ ‘اقبالؒ کے فلسفہ کے ایک ہی تصور کے دو نام ہیں۔ اپنی ایک شاہکار نظم ’مسجدِ قُرطبہ‘ میں اقبالؒ نے زمانے کے لیے ’سلسلۂ ِ روز و شب‘ کی اصطلاح استعمال کی اور بتایا کہ اسی سلسلۂ ِ روز و شب کی گردش سے سانحات و حوادث پھُوٹتے ہیں۔ ان کے بطن سے انسانوں، قوموں، معاشروں اور تہذیبوں کو جنم ملتا ہے اور پھر اسی کی لپیٹ میں آ کر وہ موت اور فنا کے گھاٹ اُتر جاتے ہیں۔ بظاہر سیاہ رات اور روشن دن چوبیس گھنٹوں کا اُلٹ پھیر ہے لیکن حقیقت میں ان کی حرکت ایک دو رنگ کے ریشمی دھاگے سے کائنات کے خالِق کی صفات کی قبا تیار ہوتی ہے۔ جس طرح ساز میں آواز میں زیرو بم آتا رہتا ہے اسی طرح حوادثِ عالَم کی رفتار میں کمی بیشی ہوتی ہے۔ زمانے یا وقت کا یہ تغیّر ایک کسوٹی اور قوموں اور معاشروں کی خوبیوں خامیوں اور قابلیّتوں اور نااہلیّتوں کو جانچنے کا پیمانہ ہے۔ اس پیمانے پر پوری نہ اُترنے والی قومیں، نسلیں، سماج اور تہذیبیں اور تمدّن معدوم ہو جاتے ہیں۔ اس سلسلۂ ِ روز و شب کے نور اور اس کی ظُلمت سے اس عالَمِ آب و گل میں انسانی تمدّن کے فروغ و ترقّی یا ضعف و زوال کی پیمائش ہوتی ہے، کہ کوئی کل کیا تھا اور آج کیا ہے ورنہ اصل تو وہ بے کراں زمانہ ہے جس میں گھڑی کی رفتار سے قلیل المدّتی تبدیلی نہیں ہوتی۔ قُرآن حکیم کی دو آیات اور رسول اللہ ﷺ کی حدیث میں لفظ ’اَلدَّھْر‘ آیا ہے وہی وہ اصل چیز ہے۔

علامہ اقبالؒ نے اپنے فلسفۂِ زمان و مکان کی تفہیم کے لیے کئی اصطلاحیں استعمال کی ہیں۔ بالِ جبریل کی نظم ’مسجدِ قُرطبہ ‘ کے ابتدائی اشعار میں ’سِلسلۂِ روز و شب ‘ بظاہر وقت کی اُن کروٹوں کا نام ہے جن کو دِن اور رات کہا جاتا ہے لیکن جب اسی کے ایک شعر میں وہ کہتے ہیں:

تیرے شب و روز کی اور حقیقت ہے کیا
ایک زمانے کی رَو جس میں نہ دن ہے نہ رات

تو واضح ہو جاتا ہے کہ شب و روز ایک بے کراں سمندر کی سطح پر ابھرنے والی وہ علامتیں ہیں جو مادّی دُنیا میں انسان کی تمدّنی زندگی کی ضرورت ہیں، ورنہ لحظے ، لمحے ، ساعتیں اور ماہ و سال اور صدیاں اور ہزاریے ایسے چھوٹے چھوٹے ندی نالے ہیں جووقت کے بے کراں سمندر میں جا گرتے ہیںجسے قُرآن پاک میں اَلدَّ ھْر کا نام دیا گیا ہے۔ اقبال ؒ کے فلسفۂِ زمان و مکا ن میںاس اَلدَّ ھْر کو کلیدی حیثیت حاصل تھی۔ مشہور فرانسیسی فلسفی برگساں کی فکر بھی اسی زمان و مکاں سے بحث کرتی تھی۔ اقبالؒ نے برگساں سے interaction میں اُس حدیث کو موضوعِ بحث بنایا تھا جس میں رسول اللہ ﷺ نے اَلدَّھْر کو بُرا کہنے سے منع فرمایا ہے۔
لَا تُسُبُّوا الدَّ ھْرَ، فَاِ نَّ اللّٰہَ ھُوَ الدَّھْرَ
’زمانے کو بُرا مت کہو (گالی نہ دو)، بے شک اللہ ہی زمانہ ہے۔ (صحیح مُسلم)

اِبن فارس کی معجم مقایِیس ُ اللُّغۃ میں ہے کہ لفظ الدّھر اللہ تعالیٰ کے قہر اور غلبہ کا مفہوم ادا کرنے کے لیے بولا جاتا تھا۔ عرب جب آلام و مصائب سے سخت پریشان ہوتے تو غم و غصہ اور نفرت و بیزاری سے کہتے تھے:
اٰبَادنَا الدّ ھرُ، اَتَی عَلَیْنَا الدّھر
’ہم ہمیشہ کے لیے دہر کی لپیٹ میں آ گئے ہیں، دہر ہم پر مسلّط ہو گیا ہے۔‘
چونکہ وہ جس کرب و اذیّت میں مبتلا ہوتے تھے اُس کو بصورتِ قہر و عذاب اُن پر لاگو کرنے والا اللہ تعالیٰ تھا، اس لیے گالی فاعل کو جاتی تھی۔

قُرآن پاک میں انسان کی ابتدا ، حقیقت ا ور حیثیت کے بارے میں ارشاد ہوا ہے:
ھَلْ اَتَی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّھْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا٭ (الدّھر:1 )
’کیا انسان پر لامُتناہی زمانے کا ایک ایسا وقت بھی گزرا ہے جب وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہ تھا؟‘

اس آیت کا یہ ترجمہ میں نے مولانا مودودی ؒ کے ترجمۂ ِ قُرآن سے لیا ہے۔ یعنی یہ زمانے کی وہ اکائی ہے جس کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ وہ لامُتناہی ہے۔ راغب الاصفہانی نے مفردات ‘ میں الدّھر کی تشریح میں لکھا ہے :’یہ اِسم اس عالَم (جہان ، کائنات ) کی ابتدا سے انتہا تک کی مدت کو شامل ہے ۔ ‘علامہ محمود عباسی آلوسی نے اپنی تفسیر روحُ المعانی میں اَلدَّھْر کے معنی
اَلزّمان الممتد الغیر المحدود و یقع علی مدّۃِ العالَم جمیعھاو علی کُلِّ زمان طویل غیر معیّن و الزّمان عام للکُلِّ والدّھر وعاء الزّمان
گویا الدّہر کائنات میں تمام غیر معیّن و غیر معلوم زمانوں پر محیط مُدّت کا نام ہے۔ زمانہ عام ہے اور الدّھر ایک ایسا برتن ہے جس میں ماضی، حال اور مستقبل کے سارے زمانے سما جاتے ہیں۔ اقبالؒ نے زمانے سے جو کہلوایا ہے:

مِری صراحی سے قطرہ قطرہ نئے حوادث ٹپک رہے ہیں
میں اپنی تسبیح ِ روز و شب کا شمار کرتا ہوں دانہ دانہ

یہاں صراحی سے مراد وہی ’وِعَاء‘ (برتن) ہے۔ جو المیہ و طربیہ واقعات ،تعمیر و تخریب اور عروج و زوال کے سانحات و حوادث سے بھرا پڑا ہے۔ کچھ ٹپک کر ماضی بن گئے، کچھ ٹپکتے ہوئے حال کی داستان سنا رہے ہیں اور کچھ میں مستقبل کے احتمالات و امکانات پوشیدہ ہیں۔ سلسلۂِ حیات و ممات بھی زمانے سے بندھا ہوا ہے۔ زمانہ اُنہی سانسوں سے عبارت ہے جن میں سے کچھ افراد، قوموں اور تہذیبوں کی زندگی کی اُمید اور کچھ اُن کی موت کا پیغام ہوتی ہیں۔ ’ساقی نامہ‘ میں اقبالؒ نے زمانے کو ’زنجیرِ ایّام‘ کہا ہے۔ اَیّام کی کڑیاں جُڑتی اور زمانے کی طویل زنجیر بنتی جاتی ہے۔

زمانہ کہ زنجیرِ اَیّام ہے
دَموں کے اُلٹ پھیر کا نام ہے

زمانہ مُحتسب ہے
اقوام کے اعتقادی، اخلاقی اور تہذیبی و تمدّنی بنائو اور بگاڑ کی تقویمی رزم گاہ روز و شب سے ترکیب پانے والا زمانہ ہے۔ خیر و شر کی معرکہ آرائی میں زمانہ فیصلہ کرتا ہے کہ کون فتح یاب ہوا اور کون شکست سے دوچار ہوا۔ اقبال ؒ کی نظر میں یہ ایک مُحتسب کا کردار ادا کرتا ہے۔ یہ قوموں اور معاشروں کے کھرا یا کھوٹا ہونے کی جانچ کرتا ہے اور یہ دیکھتا ہے کہ کن کے اندر تعمیر اور بنائو کی صلاحیت زیادہ ہے اور کن میں ہلاکت، بربادی ، بگاڑ اور فساد کا رُجحان غالب ہے۔ بنانے والی قومیں مہلت پاتی ہیں اور بگاڑنے والی منظر سے ہٹا دی جاتی ہیں۔

تُجھ کو پرکھتا ہے یہ مجھ کو پرکھتا ہے یہ
سِلسلۂِ روز شب صَیرفی کائنات

تُو ہو اگر کم عِیار میں ہوں اگر کم عِیار
موت ہے تیری برات، موت ہے میری برات

شب و روز اور تمدّن سازی
انسان کی جسمانی توانائیاں اور تعمیری صلاحیتیں لا محدود نہیں ہیں۔ مشقّت اسے تھکا دیتی ہے اور اگر محنت میں کھوئی ہوئی توانائی بحال کرنے کے لیے اسے آرام اور سکون نہ ملے تو تعمیرِ جہاں میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل نہیں رہتا ہے۔ گھڑی کی سوئیوں سے یاآفتاب کے طلوع و غروب سے ناپے جانے والی زمانے کی اکائیاں اورحدود و اطراف کائنات کے منتظم و مدبّر کی حاجت نہیں بلکہ انسان کی اس دنیوی اور تمدّنی زندگی کی ایک ضرورت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی اس ضرورت کا خود خیال رکھا۔ دن کام کے لیے اور رات راحت و آرام کے لیے بنائی۔ اپنی کتابِ پاک میں اس احسان کا ذکر فرمایا ہے:

قُلْ اَرَئَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ الَّیْلَ سَرْمَدً ا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَمَۃِ مَنْ اِلٰہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَاْتِیْکُمْ بِضِیَائٍ ط اَفَلَا تَسْمَعُونَ٭ قُلْ اَرَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ النَّھَارَ سَرْمَدً ا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ مَنْ اِلٰہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَاْتِیْکُمْ بِلَیْلٍ تَسْکُنُوْنَ فِیْہِ ط اَ فَلَا تُبْصِرُوْنَ ٭ وَ مِنْ رَّحْمَتِہٖ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْلَ وَ النَّھَارَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ٭ (القصص:73-71)
’اے نبیؐ، ان سے کہو کبھی تم نے غور کیا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے رات طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کون سا معبود ہے جو تمہیں روشنی لا دے؟ کیا تم سُنتے نہیں ہو؟ ان سے پوچھو، کبھی تم نے سوچا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے دن طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کون سا معبود ہے جو تمہیں رات لا دے تا کہ تم اس میں سکون حاصل کر سکو؟ کیا تم کو سُوجھتا نہیں؟ یہ اُسی کی رحمت ہے کہ اُس نے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تا کہ تم (رات میں) سکون حاصل کرو اور (دن کو) اپنے رَب کا فضل تلاش کرو، شاید کہ تم شکر گزار بنو۔‘

ورنہ حقیقت یہ ہے کہ زمانے کی بے پایاں وسعتوں میں تو یہ دن اور رات سمندر کی سطح پر اُبھرنے والے ایک بلبلے یا بہت ہی ہلکی سی لہر کی مانند ہیں۔

تیرے شب و روز کی اور حقیقت ہے کیا
ایک زمانے کی رَو جس میں نہ دن ہے نہ رات

اللہ کی تقویم
اللہ تعالیٰ کے نظام میں وقت یا زمانہ ایک بہتا دریا ہے جس کا نہ کوئی کنارہ ہے اور نہ ابتدا و انتہا کی کوئی حد ہے۔ سورہ الحج (آیت 47 ) اور سورہ السّجدہ (آیت 5 ) میں اللہ تعالیٰ کے ایک دن کی مقدار ایک ہزار سال بتائی گئی ہے۔ سورہ المعارج میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ عروج یعنی غیر معمولی زینوں کا مالک ہے۔ جبریل علیہ السّلام اور زمینی امور میں مختلف ڈیوٹیاں انجام دینے والے فرشتے یہ زینے ایک دِن میں طے کرتے ہیں۔ یہ ایک دن دنیوی پیمانے کے لحاظ سے پچاس ہزار سال کے برابر ہے۔

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ٭(المعارج:4)
’ملائکہ اور روح (جبریلؑ ) اُس کے حضور چڑھ کر جاتے ہیں ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے ۔ ‘

آفرینشِ کائنات سے لے کر اِس وقت تک نہ معلوم کتنے ارب کھرب سال بِیت چکے ہیں اور ابھی کتنے کروڑ اور ارب سال اور گزرنے ہیں۔ انسانی تاریخ کے پیمانے سے قیاس کرنے والوں کے لیے قیامت کے برپا ہونے میں ابھی بہت مدت پڑی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ مدت پلک جھپکنے سے بھی کم وقت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مُنکرینِ حق جس عذاب کا بطورِ تمسخر مطالبہ کر رہے ہیں، اُن کی کوتاہ نظری اور محدودیتِ فکر کی بنا پر وہ عذاب انہیں بعید از امکان یا بہت دور نظر آتا ہے لیکن ہمارے نظامِ اوقات کے مطابق اُن کا یَومِ حساب بالکل قریب ہے:

اِنَّھُمْ یَرَوْنَہٗ بَعِیْدً ا٭ وَ نَرٰہُ قَرِیْبًا٭ (المعارج:7,6)
’یہ لوگ اُسے (عذاب کو) دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔‘

مولانا مودودیؒ نے ان آیات کی تفسیر میں لکھا ہے:
’اور یہاں عذاب کے مطالبہ کے جواب میں اللہ تعالیٰ کے ایک دن کی مقدار پچاس ہزار سال بتائی گئی ہے اور پھر رسول اللہ ﷺ کو تلقین کی گئی ہے کہ جو لوگ مذاق کے طور پر عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں اُن کی باتوں پر صبر کریں اور اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ اُس کو دور سمجھتے ہیں اور ہم اُسے قریب دیکھ رہے ہیں۔ ان سب ارشادات پر مجموعی نگاہ ڈالنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ لوگ اپنے ذہن اور اپنے دائرۂِ فکر و نظر کی تنگی کے باعث خدا کے وقت کو اپنے پیمانوں سے ناپتے ہیں اور انہیں سو پچاس برس کی مدت بھی بڑی لمبی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک ایک سکیم ہزار ہزار پچاس پچاس ہزار سال کی ہوتی ہے ، اور یہ مدت بھی محض بطورِ مثال ہے ورنہ کائناتی منصوبے لاکھوں، کروڑوں اور اربوں سال کے بھی ہوتے ہیں۔‘ (تفہیم القُرآن جلد ششم)

اللہ تعالیٰ کی قدرت و قُوّت کے سامنے ہمارے زمان و مکان کی محدودیت اتنی زیادہ ہے کہ ہم اس کا اندازہ نہیں کر سکتے ہیں۔ تاہم حضرت سلیمان علیہ السّلام اور ملکۂِ سبا کے قصّے سے اس کی محدودیّت کو سمجھا جا سکتا ہے۔ آنحضرت ؑ نے ملکۂ ِ سبا کے حاضر ہونے سے پہلے اُس کا تخت اپنے ہاں پہنچا دینے کے لیے اہلِ دربار سے پوچھا کہ کون یہ خدمت انجام دے سکتا ہے؟ ایک قوی ہیکل جِن نے کہا کہ:
قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْکَ بِہٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِکَ’
آپؑ کے اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے میں وہ تخت لا کر یہاں رکھ سکتا ہوں۔‘ اس کے مقابلے میں ایک غیر معمولی عِلم کے حامِل شخص نے کہا کہ:
قَالَ الَّذِیْ عِنْدَہٗ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتٰبِ اَنَا اٰتِیْکَ بِہٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ طَرْفُک َ(النّمل: 40,39 )
’میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اسے لائے دیتا ہوں۔‘ گویا اُس صاحِبِ عِلم کے خاص عِلم کے سامنے وقت اور مسافت کی طنابیں ناقابلِ تصوّر حد تک کھِنچ گئی تھیں۔ وقت اور مسافت کی وسعتوں کے ارضی اور مادّی دائرے سے باہر ایک روحانی محیط ہے۔

ایک قوی ہیکل جِن یا کتابِ اِلٰہی کے علوم و معارف سے آگاہ کسی ہستی کے لیے ایک سلطنت کا تخت کم و بیش ایک ہزار میل دور پہنچانا اگر چند ثانیوں یا پلک جھپکنے کی مدّت میں ممکن تھا تو مالکِ ارض و سما کے بڑے سے بڑے منصوبے اور کام اس سے بھی کس قدر حقیر مدّت میں انجام پاتے ہوں گے، ہم اندازہ نہیں کر سکتے۔ حضور ﷺ نے ہمیں جو دعائیں سکھائیں ان میں سفر کی ایک بہت عمدہ دعا کا ایک ٹکڑا ہے:

’اَللّٰھُمَّ ھَوِّنْ عَلَیْنَا سَفَرَنَا وَ اطْوِِ عَنَّا بُعْدَہٗ’
اے اللہ! ہم پر ہمارے سفر کی صعوبتیں ہلکی کر دے اور اس کا فاصلہ ہمارے لیے سکیڑ دے۔ ہم میں سے لاکھوں کروڑوں لوگوں کو زندگی میں کئی بار یہ خوشگوار تجربہ ہوا ہو گا کہ سفر میں انہوں نے یہ دعا کی تو انہیں صاف محسوس ہوا کہ ان پر سفر کی مسافت سُکڑتی جا رہی ہے۔ گویا زمان و مکان کی وسعتیں بظاہر مادّی دنیا کا معاملہ ہیں لیکن یہ رُوحانی واردات بھی بن جاتی ہیں۔ یمن اور یروشلم کے درمیان سیدھی لائن کھینچی جائے تو ان کا فاصلہ 2042 کلو میٹر یا 1269 میل ہے۔ مکّہ میں مسجدِ حرام سے یروشلم میں مسجدِ اقصیٰ تک سڑک کے راستے مسافت 1471 کلو میٹر یا 914 میل ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السّلام کے درباریوں میں ’کتاب کا عِلم‘ رکھنے والی جس ہستی نے پلک جھپکنے سے پہلے ملکۂ ِ سبا کا تخت لا کر پیش کرنے کا کام کیا تھا اس کی رسائی بارہ سو انہتّر میل یا دو ہزار بیالیس کلومیٹر تک تھی۔ لیکن معاملہ جب سات آسمانوں سے بھی کہیں زیادہ بلندیوں کا ہو تو اس مسافت کو ناپنے کا کوئی پیمانہ نہیں ہے۔ ایک مادّہ پرست انسان کی نظر میں دنیا کی موجودہ سائنسی اور مادّی ترقی انسانیّت کی معراج اور آخری منزل ہے ۔

فرانسس فوکویاما (Francis Fukuyama) نے 1992 میں اپنی کتاب THE END OF HISTORY AND THE LAST MAN میں ترقی کے اس درجے اور سوویت یونین کے انہدام اور جمہوریت کی فتح کو حتمی طور ’انتہائے تاریخ‘ کا آخری نقطہ قرار دے دیا تھا۔ گویا بنانے والے نے اس سارے جہان کو صرف یورپی اقوام کی دو عالمگیر جنگوں، امریکہ کی اُس مادّی، تہذیبی، معاشی، عسکری اور عالمی سطح پر سیاسی ترقی کے لیے بنایا تھا کہ وہ دوسری عالمی جنگ کے عین اختتام کے قریب جاپان کے دو شہروں — ہیروشیما اور ناگاساکی — کو ایٹم بم سے خاکستر کر دے، ویٹ نام، اور پھر عراق ، افغانستان اور دیگر بہت سے مقامات پر ’خُدا کی بستی‘ کو کھنڈربوں میں تبدیل کر دے، درجنوں قسم کے روایتی اور غیر روایتی، زہریلے بموں اور مہلک ترین اسلحہ سے لاکھوں انسانوں کو فنا کر دے تو تخلیقِ کائنات کا مقصد پورا اور تاریخ کا انجام ہو گیا۔

انسان نے ابھی دو قریب ترین سیّاروں، چاند اور مریخ، پر ہی قدم رکھے ہیں۔ وہ ابھی تو یہ حقیقت بھی نہیں جان سکا ہے کہ جسے آسمانِ دُنیا کہتے ہیں، وہ کیا ہے؟ قُرآن پاک میں سات آسمان بتائے گئے ہیں۔ سورج زمین کے قریب سب سے روشن اور گرم ترین سیّارہ ہے۔ فضائوں میں سورج جیسے یا اس سے بھی بہت زیادہ روشن اور گرم تین سو پدم سے بھی کہیں زیادہ تعداد میں سیّارے تَیر رہے ہیں۔ یعنی اس سورج سے بڑھ کر کئی سو Sextrillions کی تعداد میں اور سیّارے فضائوں میں موجود ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا سفرِ اِسرا و معراج زمان و مکان کے سارے بندھن توڑ کر فضا کی ان ساری حدود سے اوپر اور ان لا تعداد ستاروں اور سیّاروں کو پھلانگتے ہوئے رات کے ایک حصے میں ہوا تھا۔ قُرآن مجید ’ایک رات‘ کے الفاظ آئے ہیں۔

سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَا ط (بنی اِسرائیل:1)
’پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجدِ حرام سے دور کی اُس مسجد تک جس کے ماحول کو اُس نے برکت دی ہے تا کہ اُسے اپنی نشانیوں کا مشاہدہ کرائے۔‘

ساری کائنات اور اس کے مظاہر کو اللہ تعالیٰ نے طبعی قوانین میں جکڑ رکھا ہے۔ عناصر فطرت میں سے کوئی ان قوانین کے دائرے کو توڑ نہیں سکتا۔ لیکن خالِقِ کائنات جب خود چاہتا ہے کسی خاص ضرورت کے تحت ان عناصر میں سے کسی ایک پر ایک خاص وقت کے لیے ان قوانین کی گِرہیں کھول دیتا ہے۔ قریب ترین تاریخ میں ان گرہوں کے کھلنے کا واقعہ اُس وقت ہوا جب رسول اللہ ﷺ سفرِ اِسرا و معراج پر تشریف لے گئے تھے۔ وقت اور مسافت (Time & Space) کے طبعی قوانین کی بندشیں رسول اللہ ﷺ کے معراج کے ظاہرہ (phenomenon) میں معطّل کی گئی تھیں۔ اقبالؒ کے نزدیک واقعۂِ معراج کی کئی وجوہ سے بے پناہ اہمیّت ہے۔

وقت اور مسافت کا موضوع ان کے فلسفہ میں اللہ کی قُدرت و قوّت کے پہلو سے بھی اہم تھا۔ دَہر وقت کی طویل ترین اکائی ہے۔ وہ حدیثِ قُدسی اوپر نقل ہو چکی ہے جس میں دَہر اللہ تعالیٰ کی ایسی صفت ہے کہ وہ ذاتِ باری کے ساتھ اس طرح منسوب ہو گئی ہے، گویا صفت موصوف قرار پائی۔ طبعی قانون کے وقتی تعطّل نے اقبالؒ کی توجہ رسالت مآب ﷺ کے منفرد مقام و مرتبہ کی طرف مبذول کرا دی تھی۔ اقبالؒ کے سامنے روحانی و ایمانی پہلو تھا۔ اقبالؒ سمجھتے تھے کہ ہر صاحبِ ایمان شخص روحانی ارتقا کی منزلیں طے کر کے ایک خاص نوعیّت کی ایسی معراج سے ہمکنار ہو سکتا ہے کہ وقت اور مسافت کا قانون اس کے لیے بھی معطّل ہو جائے۔ اقبالؒ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں اُس حیرت خیز واقعہ سے آگاہ تھے کہ آنحضرت ؓ نے ساریہ نام کے ایک مجاہد کی زیرِ قیادت ایک لشکر بھیجا تھا۔ جُمعہ کا دن تھا ۔ حضرت عُمرؓ مسجدِ نبوی ؐ میں جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے۔ عین دورانِ خطبہ انہوں نے تین بار بلند آواز سے پکارا یَا سَاریۃُ الْجبلَ’ ساریہ اپنی (اور لشکر کی) پشت پہاڑ کی طرف کر لو ۔‘ کچھ دن بعد فتح یاب لشکر کے پیغام رساں نے جب مدینہ پہنچ کر رپورٹ دی تو بتایا کہ ہمیں شکست ہوا چاہتی تھی کہ عین اس وقت ہمیں یَا ساریۃُ الجبلَ کی بلند آواز سنائی دی۔ ہم نے پہاڑ کو اپنی پشت پر لے کر لڑنا شروع کیا اور اللہ تعالیٰ نے دشمن کو ہزیمت سے دوچار کر دیا۔‘ پوچھا گیا: ’امیرُ المومنین کیا وہ پکار بلند کرنے والے آپ تھے؟‘ روحانی و ایمانی لحاظ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ شان تھی کہ اُن کی آواز نے وقت اور مسافت کو پیچھے چھوڑ دیا اور مدینہ سے ایک ماہ کی مسافت دور تک پہنچ گئی۔

ضربِ کلیم کی نظم ’معراج ‘ میں اقبالؒ نے ’مہر و ماہ‘ یعنی سورج اور چاند کو ایک ذرّہ سے تعبیر کیا اور کہا کہ کسی کے دِل میں ’ولولۂِ شوق‘ پیدا ہو تو اسے ایک ایسی لذّتِ پرواز (روحانی سرشاری) نصیب ہوتی ہے کہ وہ وقت اور مسافت کے طبعی قاعدوں سے ماورا ہو کر مہر و ماہ کو روندتا ہوا گزر سکتا ہے۔ واقعۂِ معراج تاریخ و سیرت کی کتابوں میں تو ایک محیّرُ العقول واقعہ تھا لیکن اقبال ؒ نے اسے ’سِرّ سرا پردۂ جان‘ یعنی باطنی یا روحانی دنیا کے رازوں کا گھر قرار دیا ہے۔ ثریّا دیکھنے کو تو رات کو ایک سمت میں سات روشن ستاروں کا جھرمٹ نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں اس گروپ میں ہزاروں لاکھوں اور ستارے بھی ہیں جن کو سورج کی بہنیں کہا جاتا ہے۔ واقعۂِ معراج کے اندر ایک پیغام مضمر ہے کہ مومن تِیر بن کر وقت اور مسافت کو پیچھے دھکیلتے ہوئے اس جھرمٹ کو نشانۂِ تسخیر بنا سکتا ہے۔ جب ابھی کسی کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ سائنسی علوم کی مدد سے انسان چاند اور مریخ تک پہنچنے کا اِقدام کرے گا، اقبالؒ نے کہہ دیا تھا کہ معراج کا واقعہ سائنسی پیش قدمی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ ستاروں پر کمند ڈالنے سے مراد اگرچہ مقاصد اور عزائم کی بلندی اور ہمّت و حوصلہ کی مضبوطی کی صفات بھی ہیں لیکن یہ تسخیرِ کائنات کی علامت بھی ہے:

سبق مِلا ہے یہ معراجِ مُصطفیٰ ؐ سے مجھے
کہ عالَمِ بشریّت کی زد میں ہے گردوں

زمانی اکائیاں
انسان نے اپنے قیاسات کی رو سے اس کائنات کے بارے میں جو اعداد و شمار متعیّن کیے ہیں Denosaur & Paleontology Dictionary میںوقت کی اکائیاں درج ذیل طریقے سے تقسیم بتائی گئی ہیں:

The period is the basic unit of geological time in which a single type of rock system is formed.

گویا ہمالہ اور اس کا سارا کوہستانی سلسلہ ایک پیریڈ میں وجود آیا تھا۔ آگے مزید تقسیم درج ذیل طریقے سے بتائی گئی ہے۔

Two or more periods comprise a geological era. Two or more eras form an Eon. Some periods are divided into epochs.
{1} Age: An age is millions of years long.{2} Epoch: An epoch contains more than age. {3} Period: A period contains more than an epoch. {4} Era: An era contains more than a period. {5} Eon: An eon contains more than an era.
Eon is the largest interval of hundred millions age. Eons are subdivided into eras.

وقت کے لامُتناہی سلسلے کی اس غیر سائنسی قیاسی تقسیم کے لحاظ سے ہم اَلدّھر کو Eons تصوّر کر سکتے ہیں۔ یہ ڈکشنری یہ بتاتی ہے کہ ان اکائیوں میں تیسری اکائی یعنی Period میں ایک طرز کی چٹانیں بنتی ہیں۔ گویا ہمالہ اور اس کا سارا کوہستانی سلسلہ ایک period میں وجود آیا۔ اس اکائی کے اوپر Eras اور Eons ہیں جن میں صرف خالقِ ارض و سما ہی جانتا ہے کہ اب تک کیا کیا بن کر مٹ گیا ہے۔ زمانے یا وقت کی یہ ساری اکائیاں اللہ تعالیٰ کے مُختلف مدتی منصوبوں کی نسبت سے متعیّن ہوئی ہیں۔ یہ منصوبے اللہ تعالیٰ کے قادر، مدبّر، مخَطِّط، منصوبہ سازاور منتظِم جیسی صفات کے مظہر ہیں اس لیے یہ اکائیاں بھی رَبُّ العالمین کی صفات ہیں۔ اقبالؒ نے ’مسجدِ قُرطبہ کے دوسرے شعر میں وقت کی نسبت سے صفاتِ اِلٰہی کے اسی پہلو کو یوں بیان کیا ہے:

سِلسلۂِ روز و شب تارِ حریر دو رنگ
جس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفات

وقت کی طویل ترین اور آخری کڑی Eon ہی اَلدَّھْر ہے جسے بُرا کہنے، کوسنے یا گالی دینے سے منع کیا گیا ہے کیوں کہ وہی ذ اتِ باری کی قبائے صفات ہے۔

’اقبالؒ کی شاعری اور فلسفہ و فکر میں زمان و مکان کی حقیقت و ماہیّت پر بہت توجہ دی گئی ہے۔ ادھر یورپ میں فرانسیسی فلسفی برگساں بھی اپنے فلسفہ ٔ ِ زمان و مکان کی وجہ سے مشہور تھا۔ اقبالؒ کے لیے برگساں کے افکار میں دلچسپی کا بہت سامان تھا۔ زمانے کو ماضی کے خیر و شر اور خوب و زشت اور حق و باطل کے جمع کیے ہوئے ریکارڈ سے بس اِتنی دلچسپی ہے کہ وہ تاریخ کے اوراق میں محفوظ رہے اور حال اور مستقبل کی تعمیر میں جتنا مفید ثابت ہو سکتا ہے اس سے استفادہ کیا جائے۔ جیسے ایک دریا کی طغیانی اور سیل آفرینی سے ہلاکت و بربادی کے ساتھ زرخیزی کے اثرات بھی ظاہر ہوتے ہیں اور ایک آتش فشاں جب لاوا اگلنا بند کرتا ہے تو جہاں قرب و جوار میں تباہی کے بہت سے نشانات چھوڑ جاتا ہے وہاں دسیوں دھاتوں اور پانی کے کئی نئے چشموں کی سوغات بھی دے جاتا ہے۔ لیکن زمانے کا اصل راز یا پیغام یا سبق یہ ہے کہ ماضی کے تمدنی آثار کو دوام نہیں ہے۔ اُن کے کچھ نقوش آثارِ قدیمہ کے میوزیم میں محفوظ رہ جاتے ہیں۔ باقی سب کچھ مِٹ جاتا ہے۔ تغیّر کی لہریں کسی چیز کو قائم نہیں رہنے دیتیں۔ جو بنتا ہے وہ بگڑتا اور مٹتا ہے۔ اُس کے کاٹھ کباڑ سے عبرت تو پکڑی جا سکتی ہے لیکن اسے تعمیرِ جدید میں بروئے کار نہیں لایا جا سکتا۔ سب امتدادِ زمانہ کی رو میں بہہ کر معدوم ہو جاتا ہے۔ زمانے کی ساری دلچسپی تغیّر کے بطن سے نئے نقوش کی جلوہ آرائی اور تخلیق کے نئے نمونوں کے وجود سے ہوتی ہے۔ اگر بقا سے مراد یہ ہو کہ ہر بنی ہوئی چیز ہمیشہ باقی رہے تو تعمیر و تخلیق اور ترقی اپنا مفہوم کھو بیٹھے اور تمدّن کی گوناگانی کی روح مر جائے۔ زمانہ اسی اشتیاق میں رہتا ہے کہ گزرتے لمحوں نے کیا چھوڑا اور آنے والے لمحے تہذیب و تمدّن کی کن آثار کی تشکیل کریں گے۔ انسان کے جوہرِ تخلیق اور ذوقِ تعمیر کا تقاضا ہے کہ ہر دور کا انسان اپنے دور کا سرمایۂ ِ تخلیق سامنے لائے۔

زمانہ ماہ و سال کی اُن کروٹوں کا نام ہے جو انسان کے اضطراب کے نتیجے میں بدلتی رہتی ہیں۔ یہی اضطراب اور کسی ایک صورتِ حال پر مطمئن نہ ہونے کی کیفیت نئے حالات و حوادث کو جنم دیتی ہے۔ ہر حادثہ اور واقعہ اپنا جدا رنگ اور اثر رکھتا ہے۔ انسان نے شعور کی جتنی مسافتیں طے کیں ہر مسافت پر وقوع و حدوث کے نئے سنگ میل گاڑے۔ زمانہ اصل میں ممتحن کا کام کرتا ہے ۔ جانچتا ہے کہ اُس کے کس مرحلے پر انسانیت بھلائی کی پاسدار تھی اور کب وہ برائی کی علم بردار بن گئی۔ تہذیبِ نو جسے ہم مغربی تہذیب کہتے ہیں اقبال ؒ  اُس کے سخت ناقد تھے۔ اس لیے کہ) Renaissance تحریکِ احیائے علوم ( سترھویں صدی اور ما بعد کے بطن سے علوم اور فکر و دانش کی جو روشنی پھوٹی اور تمدنی ترقی کے جو مظاہر سامنے آئے اس نے محمودی و ایّازی کا فرق مٹا نے اور انسانی مساوات ، عدل و انصاف اور احترامِ آدمیّت کے جو دعوے کیے اور ملوکیت، جاگیرداری اور کلیسا کے گٹھ جوڑنے قہر و جبر کا جو ماحول بنا رکھا تھا اس سے نجات کے جو نعرے لگائے اور حقوق کی ضمانت کے جو وعدے کیے انہوں نے مغرب کے انسان کو کچھ راحت ضرور پہنچائی لیکن انسانیّت کو مجموعی طور پر دامن بریدگی اور تہی دستی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔ انقلابِ فرانس کے سانحات نے خود مغرب والوں پر یہ آشکارا کر دیا کہ تنویریت، انسان دوستی اور نئے سے نئے فلسفوں کے ہزار سورج کیوں نہ طلوع ہوں، انسان کی ہدایت فراموشی اُس کی فطرت میں داخل جَہل و ضلالت کی ظُلمت کو اُبھار دیتی ہے اور وہ خُون آشامی پر اُتر آتا ہے ۔

یہ حقیقت اُس وقت مزید واضح ہوئی جب ’تحریکِ احیائے عُلوم‘ اور نئے نظریات و افکار کی چکا چوند میں استعماری لشکر مغرب سے نکلے اور انہوں نے مشرق کے کئی بلاد روند ڈالے اور کروڑوں انسانوں کو غلام بنا کر قرونِ وسطیٰ کے عہدِ ظُلمت سے بھی ہزار چند درجے بے رحمیوں کا نشانہ بنا لیا۔ سترھویں، اٹھارھویں اور انیسویں علوم کی صدیاں تھیں جن میں نظریات اور فلسفوں کے چمن کھلِے۔ بیسویں صدی ٹیکنالوجی کے عروج سے منسوب ہوئی لیکن ان صدیوں کے ماہ و سال میں انسانیّت کی کھیتی مسلسل پامال ہوتی رہی۔ پہلی جنگِ عظیم میں جس طرح ہلاکو اور چنگیز خان سے بھی بڑھ کر بے رحمی سے انسانیت کے چمن اُجاڑا گیا تھا، روحِ آدمیّت کی یہ پکار تھی کہ دُنیا کی اِمامت کا مغربی اقوام اور تہذیب کے ہاتھ میں رہنا انسانیت کی توہین بھی ہے اور بربادی تھی۔ وقت کا تقاضا تھا کہ کوئی صالح قوّت کا ابھرے اور زمامِ اِمامت اپنے ہاتھ میں لے لے۔ المناک صورتِ حال یہ تھی کہ مسلمان محکوم تھے۔ محکومی نے ان کی تحقیقی اور تخلیقی صلاحیتیں مفلوج کر دی تھی۔ انہیں اخلاقی اور عملی اضمحلال نے بھی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ اِمامت یورپ سے چھِن کر امریکہ اور روس کے ہاتھ میں چلی گئی۔ سرد جنگ کی چنگاریاں چھوٹے پیمانے پر ہر جگہ شعلوں میں بدلتی رہیں۔ دو عالمی جنگوں نے ثابت کیا کہ مغربی عِلم و دانش انسانیت نواز سے زیادہ انسانیت آزار ہے۔ اس کے آفاق سے طلوع ہونے والے سورج کی شعاعیں نور سے زیادہ تابکاری پھیلاتی رہیں۔ عِلم و ہنر اور صنعت و اِنتاج کا قافلہ جوں جوں آگے بڑھتا گیا اپنی ہی تعمیر کی تخریب کے سامان بھی کرتا گیا۔

اقبالؒ کی وفات کے ایک سال اور چند ماہ بعد دوسری جنگِ عظیم کا آغاز ہوا۔ 2 ستمبر 1945 تک 70-85 ملین انسان براہِ راست جنگ کے شعلوں میں بھسم ہوئے اور سترہ سے اٹھائیس ملین جنگ کے ما بعد اثرات کی زد میں آ کر ہلاک ہوئے۔ اقبالؒ چھ سال اور ایک دن تک جاری رہنے والی اس جنگ کے آغاز سے ایک سال اور چند ماہ قبل فوت ہو گئے تھے ورنہ وہ دنیا کے نور سے ظلمت اور تہذیب سے وحشت و درندگی کی طرف رجوع کے یہ مناظر دیکھتے اور نہ معلوم سائنسی علوم کی کوکھ سے پھوٹنے والے جدید جنگی ہتھیاروں کی تباہ کاریوں سے ان کی فکر کو کیا نئی جہتیں ملتیں۔ دم توڑتی ہوئی جنگ کے عین آخری مراحل میں امریکہ نے ایٹم بم برسا کر جاپان کے دو شہروں، ہیروشیما اور ناگاساکی میں زندگی کے آثار سے خالی کر کے بتا دیا کہ سیاسی، صنعتی، اقتصادی، تہذیبی اور عسکری اعتبار سے دنیا کی امامت ہاتھ میں لینے والے امریکہ کی علمی اور سائنسی ترقی کے فیض سے انسانیت کے دامن میں خیر سے زیادہ شر پڑنا ہے۔ یہ ترقی ایسا مقناطیس بن گئی کہ ساری دنیا کی دولت کا رُخ کرّۂِ ارض کے شمال میں اس ملک کی طرف ہو گیا ۔ تحریکِ احیائے علوم کے بطن سے جدید سائنسی علوم اور پھر ان کی کوکھ سے صنعتی انقلاب کی ولادت ہوئی۔ صنعتی انقلاب کے شجر کو جو پھل لگا وہ سرمایہ دارانہ نظام ہے۔ جمہوریت اور شخصی آزادی بظاہر بہت ہی خوشنما فلسفے ہیں لیکن حقیقت میں ان کے ذریعے کروڑوں انسانوں کے فقر و فاقہ سے بے نیاز سرمایہ داروں کے جلبِ زر اور سرمائے کو تحفظ فراہم کیا گیا۔ اس وقت دنیا میں 15 ایسے کھرب پتی ہیں جن کی تحویل میں 8.7 ٹریلین ڈالر ہیں۔ سب سے زیادہ کھرب پتی امریکی ہیں۔ صرف امریکہ کا جیف بیزوس (Jeff Bezos) ایک سو تیتیس بلین ڈالر کا مالک ہے۔ ان سارے کھرب پتیوں کی مجموعی دولت دنیا کے ڈیڑ ھ سو سے زیادہ ملکوں کے مجموعی جی ڈی پی سے زیادہ ہے۔ یہ خود غرض اور زر پرست کھرب پتی جانتے ہیں کہ دنیا کی دس فیصد سے زیادہ آبادی خطِ غُربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے جن کی فی کس روزانہ آمدنی دو ڈالر سے بھی کم ہے۔ کروڑوں انسانوں کے فقر و فاقہ کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اقبال اور برگساں دونوں کو مغرب کی اس مادّہ پرستی نے بیزار کر دیا تھا۔ وہ اس کے اس سفّاک مزاج اور رجحان کے خلاف تھے۔ وہ روح اور وجدان کے چمن کی بہار دیکھنا چاہتے تھے۔ چیزوں کو مادی آنکھ سے دیکھنے کے بجائے وہ روحانی آنکھ سے دیکھتے تھے۔

اقبالؒ کی نظم ’زمانہ‘ کے درج ذیل اشعار دیکھیے۔ سائنسی علوم، فلسفہ ہائے مغرب، صنعتی انقلاب، تہذیبِ نو اور مغربی اقوام کی استعماری ذہنیت اور جوع الارضی کی ساری جھلک ان میں نظر آتی ہے۔

شفق نہیں مغربی اُفق پر، یہ جُوئے خُوں ہے، یہ جُوئے خُوں ہے
طلوعِ فردا کا منتظر رہ کہ دوش و امروز ہے فسانہ

وہ فکرِ گُستاخ جس نے عُریاں کیا ہے فطرت کی طاقتوں کو
اُسی کی بے تاب بجلیوں سے خطر میں ہے اُس کا آشیانہ

ہوائیں اُن کی، فضائیں اُن کی، سمندر اُن کے، جہاز اُن کے
گرہ بھنور کی کھُلے تو کیوں کر، بھنور ہے تقدیر کا بہانہ

المیہ یہ ہوا کہ مغرب کی شاطر اور فتنہ ساماں ذہنیت نے بڑی مکّاری سے جہانِ نو کو بھی اپنا یرغمال بنا لیا۔ دنیا کی اِمامت پہلے بحرِ اوقیانوس کے اِدھر تھی، دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ اِمامت بحرِ اوقیانوس کے اُس پار کُرۂِ ارض کے شمال میں چلی گئی اور جہانِ نو کو بھی عالَمِ پیر کی طرح فرنگی مقامروں نے قمار خانہ بنا لیا ہے۔ تاہم حق سے اندازِ خسروانہ پانے والے مردِ درویش کی فکر کا چراغ مغربی نظریات و افکار کی تیز و تند ہوائوں کے مقابل اپنی لَو دے رہا ہے۔ اقبالؒ اور برگساں کے عہد میں جب اذہان و افکار پر مادّیت کا جادو سوار تھا اور عقلیّت (Rationalism) انکارِ خدا کے راستے ہموار کر رہی تھی دونوں خُدا شناس فلسفیوں نے روحانیت و ایمانیت کے چراغ جلائے، مادّیت کی آندھیوں میں بھٹکی اور بہکی ہوئی عقلِ انسانی کو روحانیت اور ایمانیت کی روشنی دکھائی اور ‘God ward lines’ یعنی کائنات کے رَب کی طرف موڑنے کی کوشش کی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: