روحانیت اور اسپارک پلگ ——– عمران شبیر تاجی

0

علم کی طرف راغب لوگوں کا روح سے متعلق متجسس ہونا زمانہ قدیم سے برقرار ہے، سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے بھی لوگ روح کے متعلق سوالات لے کر آتے تھے، اسلئے قرآن کریم میں ارشاد ہوا کہ “لوگ آپ سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں آپ کہہ دیں کہ روح امر ربی میں سے ہے اور تم نہیں دئیے گئے ہو علم مگر تھوڑا۔”

اسلام میں روحانیت سے متعلق علم پر کافی کتب موجود ہیں، جن میں امام احمد غزالی رحمۃ کی کتاب احیاء العلوم، حافظ ابن قیم رحمۃ کا رسالہ کتاب الروح، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ کی کتاب ضیاء القلوب، شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ کی کتاب عوارف معارف قابل ذکر ہیں۔

مغربی مورخین کی کتابوں میں سراولیورجوزف لاج کی کتاب ریمنڈ اور فریڈرک ڈبلیو۔ ایچ۔ مئیر کی کتاب ہومن پرسنالٹی اینڈ آٹس سروائیول آفٹر بوڈیلی ڈیتھ بنیادی کتابیں مانی جاتی ہیں۔ جن میں روحوں سے متعلق علم اورانسانی تجربات کو بیان کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ بے تحاشہ کتابیں انٹرنیٹ پر قارئین کی دلچسبی کے لئےموجود ہیں۔

سر اولیور جوزف لاج نے اپنی کتاب ریمنڈ میں انتقال ہو جانے والی دوسری روحوں کے علاوہ اپنے فوجی بیٹے ریمنڈ کی روح سے بات چیت کا بھی ذکر کیا ہے، جو جنگ عظیم اول میں ایک محاذ میں مارا گیا تھا۔

عصرحاضر میں پاکستان میں لوگوں کوعلم روحانیت کے متعلق رہنمائی دینے والی معروف شخصیات میں شمس الدین عظیمی صاحب اور رئیس امروہوی صاحب کا نام آتا ہے گو کہ دونوں شخصیات کاانتقال ہو چکا ہے مگر سلسلہ عظیمیہ سے ابھی تک یہ کاوش جاری و ساری ہے ,اور رئیس امروہی صاحب کی لوگوں سے بذریعہ خطوط کی گئی بات چیت کتابی شکل میں موجود ہے۔

اس کے علاوہ قدرت اللہ شہاب صاحب نے اپنی کتاب شہاب نامے میں بملہ کماری کی بے چین روح اور چھوٹا منہ بڑی بات کے نام سے موجود ابواب میں روحانیات اور اسلامی تعلیمات کی طرف روشنی ڈالی ہے اور اپنے ساتھ پیش آنے والے تجربات اور واقعات کا بھی ذکر کیا ہے جو نہایت عجیب وغریب، غیر معمولی، اور سبق آموز ہیں، راقم الحروف کا تعلق بھی خوبی قسمت سے ایسے گھرانے سے ہے جو بر صغیر پاک وہند میں گزشتہ آٹھ سو سال سے فقر و معرفت میں اپنی مثال آپ ہے۔

مغرب میں اس کا سہرا سر اولیور جوزف لاج کو جاتا ہے جو سائنسدان اور محقق تھے اور جنہوں نے اسپارک پلگ کا ڈیزائن رجسٹر کروایا تھا۔

مغربی ممالک میں تحقیق اور تخلیق کا کام باقاعدہ منظم اور مستند انداز میں اور بیشتر گروہی شکلوں میں ہوتا ہے اسلئے روحانیت اور نفس انسانی پر تفتیش و تحقیق سے انسان میں مخفی بے پناہ صلاحیتوں کو خود انسانوں پر آشکار کرنے کے راستے کھل گئے ہیں۔ مغربی ممالک میں پیرا سیکالوجی کے عنوان سے یورنیورسٹیوں میں درس و تدریس کا عمل عرصہ دراز سے جاری ہے جبکہ ترقی پزیر ممالک ابھی تک ایسے عنوانات سے غافل ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: