‎انکل ٹام —— اے جی نورانی/ رانا آصف

0

‎(یہ بھارت کے معروف قانون دان اور مصنف اے جی نورانی کے 26اکتوبر کو روزنامہ ڈان میں شایع ہونے والے کالم کا ترجمہ ہے جو رانا محمد آصف نے دانش کے لئے کیا۔
اس کالم میں مصنف نے کشمیر سے متعلق بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کے طرز عمل اور اس کے اسباب  پر جامع انداز میں تبصرہ کیا ہے۔ کالم کا عنوان بھی بہت موزوں ہے۔ ’’انکل ٹام‘‘ ایک ناول کا کردار ہے ، لیکن بعد میں یہ ایسے لوگوں کے لیے بھی استعمال کیا جانے لگا جو نسلی بنیادوں پر ہونے والے امتیازی سلوک کے باوجود رد عمل ظاہر کرنے کے بجائے خود کو معاشرے کے مرکزی دھارے میں رکھنے کے لیے اپنی شناخت ہی سے دست بردار ہونے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ خاص طور پر امریکا میں ان سیاہ فاموں کے لیے یہ لفظ بطور طعن بھی استعمال ہوتا ہے جو  سفید فاموں میں قابل قبول بننے کے لیے ان جیسا طرز زندگی اپنا لیتے ہیں۔ عام طور پر قدامت پرست سیاہ فاموں کو بھی انکل ٹام کہا جاتا ہے۔)


‎ 26اکتوبر 1947 کو ہونے والے معاہدہ الحاق سے لے کر آج تک کشمیری مسلمانوں کی تکالیف پر بھارتی مسلمانوں کی خاموشی کَھلتی ہے۔ ۵ اگست کو کشمیر کی خود مختاری کے وجود پر مودی سرکار کی ضرب سے ایک بار پھر یہ زخم تازہ ہوگیا ہے۔ جرم پر خاموشی کی نہ صرف یہ کہ کوئی توجیہ نہیں کی جاسکتی بلکہ یہ قابل نفرین ہے۔

‎ممتاز کشمیری صحافی یوسف جمیل کے مطابق:

’’کشمیری مسلمان بھارتی مسلمان قیادت کی محدودات کو سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ موجودہ سیاسی ماحول میں انھیں بالخصوص کشمیر سے متعلق اپنے بیانات اور اقدامات میں محتاط رہنا پڑتا ہے۔ وہ بہاو کے مخالف نہیں جا سکتے۔ انہیں یہ بھی احساس ہے کہ بھارتی مسلمان دیگر بھارتیوں کی طرح ذمے دار شہری ہیں اس لیے ان سے کشمیر پر قومی موقف سے انحراف کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔‘‘

‎’’اس کے باجود مختلف حلقوں سے ملنے والی اطلاعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ عام بھارتی مسلمان (کشمیریوں کے لیے) فکر مند ہے اور مدد کے خواہاں بھی۔ کشمیری تاجر اور طلبہ عام بھارتی مسلمانوں کے اس ’’قلب ماہیت‘‘ کی تصدیق کرتے ہیں۔‘‘

‎یوسف جمیل نے بھارتی مسلمانوں میں پائی جانے والی ہمدردی کو بیان کیا ہے تاہم وہ اس مسئلے پر ان کی خاموشی اور بعض کے اس سے بھی بدتر طرز عمل پر فکر مندی کا اظہار کرتے ہیں۔ وقت آچکا ہے کہ اس رویے کی جڑوں کا سراغ لگایا جائے۔ اس کا سرا 6جنوری 1948 سے جا ملتا ہے جب بھارتی کے نائب وزیر اعظم ولبھ بھائی پٹیل نے اپنے رفیق کار مولانا ابوالکلام آزاد کے 28دسمبر 1947 کو لکھنئو میں آل انڈیا یونین مسلم کانفرنس سے خطاب کے کچھ عرصے بعد اسی شہر میں منعقدہ ایک اجلاس میں کہا تھا:

’’میں بھارتی مسلمانوں سے صرف ایک سوال کرنا چاہتا ہوں۔ حال ہی میں آل انڈیا مسلم کانفرنس میں آپ نے کشمیر کے مسئلے پر اپنا منہ کیوں نہیں کھولا؟ آپ نے پاکستان کے اقدام کی مزمت کیوں نہیں کی؟ ایسی باتیں لوگوں کے ذہن میں شبہات پیدا کرتی ہیں۔‘‘

‎نہرو نے وفاداری کو مکارتھی کی طرز پر آزمانے کے پٹیل کے اطوار کی تقلید نہیں کی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اپنی خارجہ پالیسوں اور بالخصوص کشمیر سے متعلق اختلاف رائے کے لیے ان کی عدم برداشت بڑھتی گئی۔انہوں نے اپنی دوست مریدولا سارابائی کو اس لیے کانسٹی ٹیوشن کلب سے نکال باہر کیا کہ وہ ان کی کشمیر پالیسی سے اختلاف رکھتی تھیں۔ وہ مرتے دم تک شیخ عبداللہ کی حامی رہیں۔

‎۱۹۵۱میں اگر نہرو کے دوست ذاکر حسین کی زیر قیادت بھارتی مسلمانوں کے وفد نے کشمیر پر اقوام متحدہ کے ثالث فرینک پی گراہم سے ملاقات کی بھی تو ایسا نہرو کی ایما پر ہوا۔ 1958میں بھارت کے مسلمان قانون سازوں کے لکھنئو میں منعقدہ اجلاس میں یہ دعوی کیا گیا کہ کشمیر کے عوام نے اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے الحاق کے فیصلے کی توثیق کردی ہے، یہ حتمی فیصلہ ہے اور یہ کہ ’’اس حیثیت کو کمزور کرنے یا ضرر پہنچانے کے لیے اٹھایا گیا کوئی بھی قدم عاقبت نا اندیشی اور باعث نقصان ہوگا۔‘‘

‎نواب آف چھتاری نے بھارتی مسلمانوں کے لیے کشمیرکی مسلم اکثریت کی اہمیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’’وہ (بھارتی مسلمان) یہ محسوس کرتے ہیں کہ کشمیر کی ترقی اور استحکام سیکیولر جمہوریت کی واضح علامت ہے۔۔۔۔‘‘

‎یہ کشمیرسے متعلق نہرو کے اختیارکردہ اس نئے موقف ہی کی بازگشت تھی جس کے مطابق بھارتی سیکیولرزم اور بھارتی مسلمانوں کے تحفظ کے لیے کشمیر کا بھارتی ریاست میں شامل رہنا ضروری ہے۔ اس یرغمالی نظریے کا پرچار بعد میں شروع ہوا۔ اگر معاملہ ایسا ہی تھا تونہرو 1947سے 1953 تک استصواب رائے کے حامی کیوں رہے؟ وزارت خارجہ کے شعبہ نشر و اشاعت نے کشمیر پر بھارتی مسلمانوں کے موقف سے متعلق ایک کتابچہ شایع کیا اور اسے ہر جگہ شادی کے دعوت ناموں کی طرح تقسیم کیا گیا۔

‎یہ شرم ناک چال کارگر ثابت ہوئی۔ کشمیر کا لفظ سنتے ہیں مسلمان خول میں چلے جاتے ہیں۔ پختہ کارسوشلسٹ سیاست دان اشوک مہتا کشمیرپر شیخ عبداللہ کی حمایت کرنے کی وجہ سے راقم پر خفا ہوگئے اور کہا ’’میں حیران ہوں کہ (آپ جیسا) بھارتی مسلمان ایسی رائے رکھتا ہے۔‘‘

‎جلد ہی اس عدم برداشت کا دائرہ مسلمانوں کی محرومیوں ، تعلیم ، روزگار، یہاں تک کے جان کے بنیادی تحفظ اور پولیس کی زیادتیوں پر بات کرنے تک وسیع ہوتا گیا۔ فسادات میں گھرے سنبل پور کے مسلمانون کو کہا گیا کہ جب تک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو یہ ٹیلی گرام نہیں بھیجتے کہ ’’کشمیر کا بھارت سے الحاق ناقابل تنسیخ ہے‘‘ اس وقت تک تحفظ کا مطالبہ مت کرنا۔ جو مسلمان اپنی محرومیوں پر آواز اٹھاتا ہے اسے فرقہ پرست کہا جانے لگا اور کشمیر پر بھارتی ریاست کی حمایت کو قوم پرستی قرار دیا گیا۔

‎اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے کئی انکل ٹام کے مالی حالات میں بہتری آئی۔ یہ 2019 ہے، پست ہمتی کی اس پالیسی کواب ختم ہونا چاہیے۔

‎سب سے پہلے تو بھارت کے مسلمانوں کو لازمی طور پر کشمیریوں کی مدد اور خاص طور پر دشواریوں کا سامنا کرنے والے طلبہ کی دستگیری کرنی چاہیے۔ اس کے بعد آزادانہ طور پر اپنے نکتہ نظر کا اظہار کرنا چاہیے۔

1947 میں جناح اور نہرو نے کہا تھا کہ اقلیتوں کا مسقبل پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات کی نوعیت پر منحصر ہوگا۔ مسلمانوں کو کشمیری مسئلے کے حل اور پاک بھارت تعلقات میں بہتری پر زور دینا چاہیے۔ اور آخر میں، انہیں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شہری آزادیوں کے لیے آواز اٹھانے والے حلقوں کی بھرپور حمایت کرنی چاہیے۔”

………………

‎کالم کا لنک

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20