اعجاز رحمانی: ایک ملاقات کا احوال ——— عدنان کریمی

0

نارتھ کراچی کالا اسکول کے طواف کے بعد جب تھک ہار گیا تو کال ملائی:

سر میں یہاں صائمہ آرکیڈ کے پاس کھڑا ہوں، آپ والی بلڈنگ تو کہیں نظر نہیں آرہی!

بس میاں، یوں سمجھو کہ تم پہنچ گئے ہو، فون کان سے لگائے رکھو اور پہلی گلی چھوڑ کر دوسری گلی میں مُڑ جاؤ، اندر آتے ہی دائیں طرف دو تین دکانیں چھوڑ کر ہماری عمارت ہے، دیکھنا سامنے اسکول بھی ہے۔

فون کان سے لگاتے ہی گلی میں داخل ہوا تو سامنے عمارت کی بالکونی سے موصوف کسی سیاسی لیڈر کی طرح مجھے دیکھ کر ہاتھ ہلانے لگے:

اُوپر آئیے میاں! اُوپر آئیے!

اُوپر پہنچا تو استقبال کے لیے دروازہ پر موجود تھے، اپنے کمرے میں لے گئے، کمرہ اسٹوڈیو کا منظر پیش کررہا تھا، بیٹھنے سے پہلے ہی میں پوچھ بیٹھا:

سر! اسٹوڈیو بھی موجود، پروڈیوسر بھی دستیاب لیکن اداکار و فنکار کہیں نظر نہیں آرہے؟ یہ سُننا تھا کہ ایک زوردار قہقہہ لگایا، اپنی کرسی آگے کی اس پر بیٹھتے ہوئے بولے:

ارے میاں، تم بھی بڑا ظلم کرتے ہو، ہمارے غریب خانے کو اسٹوڈیو بنادیا، کیا فلم بنانے کے ارادے سے آئے ہو؟ بس بھئی بچوں نے رنگ روغن ہی کچھ اس طرح کا کروادیا ہے کہ اب اسے اسٹوڈیو کہنا بے جا نہ ہوگا۔

اپنی بات مکمل کرتے ہی صاحب کا ہنستا مسکراتا چہرہ یکدم سے متفکّر نظر آنے لگا، میں دل ہی دل میں کہنے لگا کہ نہ جانے کونسی افتاد آن پڑی ہے کہ اچانک خوشی سے غمی کی طرف پلٹ گئے، کچھ دیر تذبذب کا شکار رہا کہ سکوت توڑوں یا نہیں، بالآخر میں نے لب ہلائے تو اُنہوں نے اپنی دو انگلیوں کی مدد سے چشمہ ٹھیک سے ٹِکایا اور ہمہ تن گوش ہوگئے، مگر ان کا افسردہ چہرہ دیکھ کر میرے سارے سوالات ہرن ہوگئے، میں سوالات کے بجائے اُن کی صحت دریافت کرنے لگا تو یکدم سے اُن کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی، کہنے لگے:

نہیں بھائی! کچھ بھی نہیں ہوا، سب ٹھیک ہے، بس کوچ کرنے کا زمانہ ہے، انسان کو متفکر تو رہنا چاہیے، ساری عمر شعر و غزل کی عیّاشی میں گزار دی، نہ جانے آگے کیا معاملہ ہو!

میں نے ڈھارس بندھاتے ہوئے کہا، نہیں سر! ایسا نہیں ہے، آپ تو نعت گو شاعر مشہور ہیں، ساری زندگی حمد و نعت کہنے میں گزار دی، یہ عیّاشی تو نہیں بلکہ خدمت ہے اور خدمت کا صلہ تو خدا کے ہاں ہمیشہ سے ہی بہترین ملتا ہے۔

دونوں ہاتھوں سے خاک اُڑاتے ہوئے بولے کہ اگر خدمت قبول نہیں ہوئی تو پھر یہ ساری نعت گوئی خاک ہے خاک میاں، اسے یوں ہی ہوا میں اُڑا دیا جائے گا، بھئی اصل چیز کام کی قابلیت نہیں بلکہ قبولیت ہے، قابل تو ہوگئے لیکن قبول ہونے میں اب بھی کچھ وقت چاہیے۔

ایک دفعہ پھر خاموشی چھا گئی، اب میرے سارے سوالات دوبارہ بالترتیب ذہن میں جمع ہونے لگے، باقاعدہ سوالات کی اجازت چاہے بغیر ہی سلسلۂ کلام جوڑتے ہوئے خاکسار نے استفسار کیا:

آپ انڈیا میں پیدا ہوئے، تقسیم کو اپنی آنکھوں سے دیکھا بلکہ اگر یوں کہا جائے تو شاید بے جا نہ ہو کہ تقسیمِ ہند کے وقت آپ نے دو کرب جھیلے، ایک والدین کی جدائی کا کرب، دوسرا تقسیم کے دوران ظلم و بربریت۔ کیا ہی قیامت خیز لمحات ہوں گے! سوال تو کر بیٹھا تاہم سوال ختم ہوتے ہی مجھے احساس ہوچکا تھا کہ میں نے بے موقع، بے تُکا اور نہایت ہی غم انگیز سوال کی غلطی کر ڈالی ہے۔ سوال سُننے کی دیر تھی کہ آنکھوں سے اشکِ جگر سوز کا ایک سیلِ رواں جاری ہوگیا، چشمہ ایک طرف کرکے آنکھیں مَلیں تو آنسوؤں کے موٹے موٹے قطرے دامن میں گرنے لگے:

پھر مری آنکھ ہوگئی نمناک
پھر کسی نے مزاج پوچھا ہے

کچھ دیر توقف کے بعد گویا ہوئے: جی ہاں بالکل! وہ لمحات صرف ایک یا دو کرب کے لمحات نہیں تھے بلکہ وہ عرصہ میرے لیے کسی قیامتِ صُغریٰ سے کم نہ تھا، مجھے ہر جگہ، ہر پل، ہر موڑ، ہر دیوار، اپنی ذات کے ہر ہر انگ اور روآں روآں میں بے سروسامانی اور بے چارگی نظر آنے لگی تھی، یتیم الطرفین ہونا ایک عذاب، کم سنی دوسرا عذاب اور اس پر مستزاد تقسیم کا عذاب۔ ان داتا خدا نہ ہوتا تو شاید بے چارگی نے ہمیں ہڑپ کر جانا تھا، مجھے اپنوں کے کھو جانے کا چنداں خوف نہ تھا کیونکہ میرے اپنے اس غمکدۂ عالَم سے بہت دور محوِ آرام تھے، مجھے تو بس اپنی اور مظلوم انسانوں کی فکر تھی جو اپنے اعزّہ کی کٹی پھٹی لاشوں کے ساتھ مرثیہ خوانی بھی نہیں کرسکتے تھے، بس بھئی رہنے دیجیے یہ ایک الم ناک داستان ہے، کچھ اور کہیے!

لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ جو بچہ والدین کی تربیت سے محروم رہ جائے تو وہ بگڑ جاتا ہے، آپ اپنی ذات کو زمانے کی بے رحم موجوں سے بچانے میں کیسے کامیاب ہوگئے؟ میرے اس سوال کو گویا موصوف نے وقعت ہی نہیں دی۔ بولے:

نہیں یار ایسا کچھ نہیں ہوتا، انسان کے اپنے اختیار میں ہے کہ اُسے کونسا راستہ منتخب کرنا ہے، میں جب پاکستان آیا تو صغر سنی کے باوجود عثمان آباد کی ابراہیم انڈسٹری میں ملازمت اور استاد قمر جلالوی کی شاگردی اختیار کی، دو کام کیے، حلال کمایا اور شاعری کی۔ حالات میری تربیت کرتا رہا اور میرا پلتا رہا، پلتا رہا یہاں تک کہ بڑا ہوگیا پھر اب بوڑھا ہوکر آپ کے سامنے بیٹھا ہوا ہوں۔

استاد قمر جلالوی کی پنکچر کی دکان اور آپ کی فیکٹری کی ملازمت، استاد قمر جلالوی شیعہ اور آپ سُنّی، مسالک اور ملازمت میں تفاوت کے باوجود آپ اُن کی مجلسِ مسالمہ میں شریک ہوتے اور وہ آپ کی محفلِ ختمِ قرآن میں وارد ہوتے۔ آپ سُنّی کے سُنّی رہے اور وہ شیعہ کے شیعہ ہی چلے گئے، ایک دوسرے پر شاعری و تغزل کے سوا کوئی دوسرا رنگ کیونکر نہیں چڑھا؟ اور اگر میری معلومات غلط نہ ہوں تو شاید آپ قمر جلالوی صاحب کے حیات شاگردوں میں سے آخری مستند ترین شاگرد باقی رہ گئے ہیں؟ مذکورہ سوال نے گویا ان کی ماضی کی حسین یادوں پر دستک دے ڈالا، چشمہ ایک طرف رکھ کر برہنہ نگاہوں سے خلا میں گھورتے ہوئے کہنے لگے:

صاحب! اُس زمانہ میں شیعہ سُنّی کی اس قدر تفریق نہ تھی، ایک ہی تھالی میں سارے ہلّہ گلّہ کیا کرتے تھے، پاکستان چوک میں واقع استاد جلالوی کی پنکچر کی دکان میں گویا ایک قسم کا چھوٹا مشاعرہ ہوا کرتا تھا، ہر وقت شعراء کا آنا جانا لگا رہتا، ہم بھی ایک کونے میں بیٹھے اُن کی باتوں اور شاعری کو کیچ کیا کرتے تھے، استاد اصلاح دیتے اور ہم اُن اصلاحات کو محفوظ کرتے رہتے، میں آج جو کچھ بھی ہوں یہ محض خدا کی عنایت اور استاد کا فیض ہے۔ آخری شاگرد سے متعلق جو معلومات آپ کو ہیں، ٹھیک میری بھی وہی معلومات ہیں، جب دو بندوں کی معلومات میں مطابقت ہو تو پھر اس کی صداقت پر شک کرنا مشکوک لوگوں کا ہی کام ہے۔ ہنستے ہوئے اپنی بات مکمل کی، پوتے کی طرف متوجہ ہوئے، پوتا کہنے لگا: ممّا پوچھ رہی ہیں کہ کھانا لگانا ہے یا چائے پیش کرنی ہے؟ ڈانٹتے ہوئے بولے: ارے میاں، یہ کیسی بداخلاقی ہے، اب تک ہم سوکھی زبان کے ساتھ بڑبڑ کیے جارہے ہیں اور تم پوچھ رہے ہو کہ کیا پیش کرنا ہے، بھئی جو میسر ہے وہ لے آؤ! پوتے کے جانے کے بعد کہنے لگے کہ یہ میری دوسری بیوی کے بچوں کی اولاد ہیں، پہلی شادی ہوئی، سات سال بعد بیوی کا انتقال ہوگیا، دوسری شادی ہوئی، ابھی کچھ عرصہ قبل دوسری بیوی کا بھی انتقال ہوگیا، شاید مجھے میرے کوئی قریبی رشتہ دار راس نہیں آتے۔

تھوڑی دیر بعد، پھل، جوس اور بسکٹ پیش کیا گیا، اس دوران بارہ سو صفحات پر مشتمل اپنا نعتیہ مجموعہ “کُلّیاتِ نعت” دکھایا، خاکسار نے کچھ سنانے کی فرمائش کی تو کہا کتاب ایک طرف رکھیے، زبانی کچھ اور سُناتا ہوں۔ (میں نے تو سماعت کی، قارئین ملاحظہ فرمائیں!)

کتنے باہوش ہوگئے ہم لوگ
خود فراموش ہوگئے ہم لوگ

جس نے چاہا ہمیں اذیت دی
اور خاموش ہوگئے ہم لوگ

دل کی آواز بھی نہیں سنتے
کیا گراں گوش ہوگئے ہم لوگ

ہم کو دنیا نے پارسا سمجھا
جب خطا کوش ہوگئے ہم لوگ

پی گئے جھڑکیاں بھی ساقی کی
کیا بلانوش ہوگئے ہم لوگ

اس طرح پی رہے ہیں خون اپنا
جیسے مے نوش ہوگئے ہم لوگ

شہر میں اس قدر تھے ہنگامے
گھر میں روپوش ہوگئے ہم لوگ

کتنے چہروں پہ آگئی رنگت
جب سے خاموش ہوگئے ہم لوگ

زخم پائے ہیں اس قدر اعجاز
آج گُل پوش ہوگئے ہم لوگ

ماحضر تناول کرنے کے بعد میں اپنی ڈائری آگے بڑھائی تو کہنے لگے کیا لکھوں؟ میں نے کہا کچھ بھی لکھ دیجیے بلکہ اپنا کوئی شعر لکھ دیں تو کیا ہی بات ہو، مجھ سے کہا اپنا نام دوبارہ بتائیے، میں نے اپنا نام دوبارہ بتایا، کچھ دیر سوچتے رہے، پھر لکھا اور کیا ہی کمال لکھا:

اہلِ عظمت بھی ہیں عظیمی ہیں
آپ عدنان بھی کریمی ہیں

رخصت ہونے کے لیے اجازت چاہی تو کہا کہ کبھی دو چار گھنٹے فرصت کے لیکر آئیے گا، یہاں وہاں کی ہانکیں گے۔ میں وعدہ کر بیٹھا کہ ضرور ان شاء اللہ حاضر ہوں گا، لیکن یہ وعدہ وفا نہ ہوسکا، مجھے کیا معلوم تھا کہ اتنی جلدی اعجاز رحمانی صاحب دنیا سے رخصت ہوجائیں گے، آج صبح جب اُن کے انتقال کی خبر ملی تو دل خون سے بھر گیا، زبان سے بے اختیار سورۃ الاخلاص کے الفاظ جاری ہونے لگے اور ملاقات کے وہ تمام مناظر میری نظروں کے سامنے گھوم گئے۔ احمد امیٹھوی نے شاید اسی موقع کے لیے کہا تھا:

زندگی ہے اپنے قبضے میں نہ اپنے بس میں موت
آدمی مجبور ہے اور کس قدر مجبور ہے

(سید اعجاز علی رحمانی صاحب معروف صاحبِ دیوان نعت گو شاعر تھے، حمد نعت اور منقبت میں آپ کو یدِ طُولی حاصل تھا، عشق و جذب کی کیفیت میں ڈوب کر اپنا کلام سنایا کرتے تھے۔ آج 83 برس کی عمر میں ہمیں داغِ مفارقت دے کر اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئے۔ اللہ پاک مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے۔ میری مذکورہ ملاقات 23/2/2019 کو کراچی میں ہوئی تھی۔)

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: