خواتین اسپیشل: رفتہ رفتہ وہ مری ہستی کا ساماں ہوگئے — غزالہ خالد

0

شاید میرے آج کے موضوع میں صرف خواتین ہی دلچسپی لیں کیونکہ حضرات اس درد کو مشکل سے ہی سمجھ پائیں گے اور جب سمجھ جائیں گے تو ہم خواتین کا مذاق اڑانے کے سوا کچھ نہیں کریں گے۔ لیکن خیر، کوئی بات نہیں کبھی کبھار اپنی کمزوریوں پر بھی بات کرلینی چاہیے۔

سب سے پہلے تو عقل کے گھوڑے دوڑائیے اور اندازہ لگایئے کہ وہ کون ہے جس کا انتظار ہم صبح کے ناشتے سے نبٹتے ہی کرنا شروع کر دیتے ہیں؟ بلکہ کبھی کبھی تو گنگنانا بھی شروع کر دیتے ہیں کہ
” چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے”

اس کے نہ آنے کا سوچ کر ہی ہمارا دل بیٹھ جاتاہے، ہاتھ پیر ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں اور خواہ مخواہ غصہ آنے لگتا ہے اور یہ غصہ گھر والوں پر مختلف طریقوں سے اتارا جاتا ہے۔

بتائیے ناں کہ وہ کون ہے جس کے ذکر کے بغیر ہماری ہر محفل ادھوری ادھوری لگتی ہے؟

اگر نہیں پہچانا تو مزید اشارے دے دیتی ہوں کہ یہ وہ ہے کہ جس کے لئے صبح کم وبیش ہر گھر میں یہ جملے بولے جارہے ہوتے ہیں کہ
“دیکھو ابھی تک نہیں آئی، پتہ نہیں آیے گی بھی یا نہیں، آج تو مہمان بھی آرہے ہیں سب کچھ کیسے کروں گی”
دیکھا اب سب پہچان گئے ناں کہ ذکر ہو رہا ہے ہم سب خواتین کے درد مشترک یعنی “ماسی” کا۔

بڑے شہروں میں خصوصاً نوے فیصدخواتین ناشتے کے بعد ہاتھ پر ہاتھ دھرے “تصور جاناں” کیے بیٹھی رہتی ہیں ہر طرف بے ترتیبی، جمود اور اداسی چھائی ہوئی ہوتی ہے
” تو کون سی بدلی میں مری چاند ہے آجا ”
قسم کے گانے گائے جارہے ہوتے ہیں اور پھر “ٹن ٹو، ٹن ٹو” بیل بجتی ہے اور ان کے آتے ہی ہر طرف بہار آجاتی ہے۔ بے ترتیبی، جمود اور اداسی پلک جھپکتے غائب ہو جاتی ہے اور راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔

کچھ سال پہلے تک صرف مالی طور پر صرف آسودہ نہیں بلکہ کافی آسودہ اور خوش حال لوگ ہی ماسیوں کی خدمات حاصل کرتے تھے جبکہ متوسط اور متوسط اعلیٰ گھرانوں کی خواتین اپنے ہاتھ سے کام کرنا پسند کرتی تھیں جو خواتین مالی استطاعت بھی رکھتی تھیں وہ بھی ماسی رکھنا معیوب سمجھتی تھیں چہ جائیکہ ڈاکٹر ہی انہیں بیڈ ریسٹ تجویز نہ کردے، خواتین کا خیال ہوتا تھا کہ جو مزہ اپنے ہاتھ سے کام میں ہے وہ نوکروں سے کروانے میں کہاں؟

لیکن اب گھرانہ آسودہ ہو یا متوسط یا نچلا متوسط تقریباً ہر گھر میں ایک ماسی ضرور آتی ہے اور ہر گھرانے کی مالی حیثیت کے لحاظ سے ماسیوں کی زمہ داریاں بڑھتی جاتی ہیں۔

ہم میں سے کتنی خواتین ایسی ہونگی جنہوں نے پہلے پہل ڈھیر ساری گھریلو زمہ داریوں سے گھبرا کر اپنی سہولت کے لیے صرف ایک کام کے لیے ماسی رکھی ہوگی کہ صبح صبح آیے گی اور صفائی ستھرائی کرکے چلی جایا کرے گی تو باقی کاموں میں آسانی ہوجاے گی جب صفائی ہونے لگی ہوگی تو تھوڑے دن بعد سوچا ہوگا کہ روز تو آتی ہے چلو برتنوں کی بات بھی کرلیتی ہوں تھوڑے سے تو ہوتے ہیں لگے ہاتھوں دھل جایا کرینگے، چلیں جی برتن بھی کھٹا کھٹ دھلنے لگے ہونگے جب آرام ملا ہوگا تو خیال آیا ہوگا کہ اب ذرا سے پیسوں کے لیے کون کپڑے دھو دھو کر اپنے ہاتھ توڑے بس پھر تو ” چل سو چل” یعنی “درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی”۔

اب تو تقریباً پچہتر فیصد گھروں میں ایک کے بعد دوسری ماسی آتی گئی اور تقریباً تمام کام ماسیوں کو منتقل ہوتے گئے اور جب ہاتھ پیر بالکل ہی استعمال نہ ہوں تو وہ بھی دغا دے جاتے ہیں اب خاتون خانہ کا صرف ایک کام رہ گیا ہے اور وہ ہے ماسیوں کی نگرانی کرنا جو خاتون خانہ پر بار ہے زیادہ تر خواتین سارے کام ماسیوں سے کروانے کے باوجود اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے ناشکری کرتی ہی نظر آرہی ہوتی ہیں کہ “ہائے تھک گئی ماسیوں کو بھی دیکھنا ہوتا ہے ناں” یعنی اب ان خواتین کا بس نہیں چلتا کہ ماسیوں کی نگرانی کرنے کے لیے بھی ایک ماسی رکھ لیں۔جو کام ماسی رکھنے سے پہلے چٹکیوں۔یں ہوجاتا تھا اب عذاب لگنے لگا ہے۔

وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اب ماسیاں بھی سمجھدار ہوگئیں ہیں انہیں بھی اپنی اہمیت کا اندازہ ہوگیا انہوں نے بھی ہماری آرام طلبی اور کاہلی کا فایدہ اٹھانا شروع کر دیا پہلے ملازمین بری بھلی سنکر خاموش رہتے تھے لیکن اب اینٹ کا جواب پتھر سے ملتا ہے۔ظاہرہے کام بہت ا یک چھوڑو ہزار ملتے ہیں، پہلے ملازمین دو چار دن کام کر کے ہی اپنی ذمہ داری سمجھ جاتے تھے لیکن اب تو دو چار مہینے کام کرنے کے با وجود بھی روز کام دیکھنا پڑتا ہے جہاں نظر چوکی ماسی وہ کام ادھورا چھوڑ کر فرار ہو جاتی ہے کیونکہ اسے کام کرنے اگلے گھر جانے کی جلدی ہوتی ہے، ماسیاں بھی اپنا گاؤں چھوڑ کر زیادہ سے زیادہ کمانے کراچی آتی ہیں تو وہ بھی مجبور ہوتی ہیں مجھے یاد ہے میرے بچپن میں جب ہمارے گھر ضرورتاً ایک کام کے لیے ماسی رکھی گئی تو اس کی تلاش ایسے ہوئی تھی کہ جیسے “ضرورت رشتہ” ہو۔ بہت دیکھ بھال کر نیک، شریف، امور خانہ داری میں ماہر، نرم گفتار، نیچی نظر والی ماسی رکھی گئی تھی جو بعد میں بھی سالوں ہمارے گھر آتی رہی اور سب اس کی عزت کرتے تھے لیکن اب تو ماسیوں کی بھرمار کے باوجود خوش قسمتی سے ہی محنت کش عورت ملتی ہے زیادہ تر جیسی بھی مل جائے اسی پر صبر شکر کرنا پڑتا ہے اور اکثر چوری چکاری کرنے والی عورتیں بھی ماسیوں کے روپ میں آکر ہاتھ کی صفائی دکھا جاتی ہیں۔

پہلے زمانے میں اگر ملازم بدتمیزی کرے اور کام چھوڑ کر جانے کا کہے تو خواتین کہتی تھیں ” دفع دور ابھی ہمارے ہاتھ پاؤں سلامت ہیں ہم خود کام کرلیں گے”لیکن آج کل تو اگر ماسی کام چھوڑ کر جانے کا کہہ دے تو اختلاج قلب ہونے لگتا ہے اور اس ڈر سے کہ کہیں وہ داغ مفارقت نہ دے جائے اس کی کتنی ہی خامیوں سے چشم پوشی کرتے ہیں۔

گھر کی سربراہ پر یقیناً ماسیوں کی دیکھ بھال بھی ایک ذمہ داری ہے تو جو ان کی ڈھلتی عمر کے سبب مشکل لگتا ہے لیکن “ماسیوں کے سائے میں پل کر جواں ہوئی” لڑکیوں کو اس کی بالکل ہی قدر نہیں ہوتی۔

اب سوال یہ ہےکہ اگر ہماری تن آسانی اور آرام طلبی کی یہی صورتحال رہی تو سوچئے ہمارا مستقبل کیا ہوگا یعنی “رفتہ رفتہ وہ ہماری ہستی کا ساماں تو ہو ہی گئی ہیں” آگے کیا ہوگا؟

آجکل کے حالات دیکھتے ہوئے ہمارا دردناک، ہیبت ناک اور عبرتناک مستقبل صاف نظر آجاتا ہے، ولایت سے آنے والے بتاتے ہیں کہ وہاں کی نوکرانیاں نینوں میں کاجل، گالوں پر غازہ اور ہونٹوں پر سرخی لگائے بڑی سی گاڑی میں بیٹھ کر ہفتے کے ہفتے کام پر آتی ہیں اور اپنے کام کا بھاری معاوضہ لیتی ہیں اگر ہم نے ابھی بھی اپنی ضرورت اور سہولت کے فرق کو نہ سمجھا تو وہ وقت دور نہیں جب ماسیاں ہمارے انٹرویو لیکر کام کا اقرار کیا کریں گی اور ہم دیدہ و دل فرش راہ کیے ان کا انتظار کیا کریں گے بلکہ ہوسکتا ہے راہوں میں پھولوں کی پتیاں بھی نچھاور کردیں، ماسی کے گھر میں داخل ہوتے ہی پہلے تو ان سے معانقہ ہوا کرے گا پھر آرام سے صوفے پر بٹھا کر چاہے پانی پوچھا کریں گے وہ جس چیز کی فرمائش کریں ہم بسرو چشم پوری کریں گے اس کے بعد حال احوال میاں اور بچوں کی خیریت پوچھنے کے بعد کام کا نمبر آیے گاوہ کام کریں گی اور ہم ہانپتے کانپتے ان کے پیچھے پیچھے پھریں گے کہ نہ جانے کب کس چیز کی ضرورت پڑ جائے ان کی جھاڑو کی ہر حرکت پر “میں صدقے میں واری” کہتے ہماری زبان سوکھے گی وہ پونچھا لگائیں گی اور ہم فرش کو دیکھ دیکھ کر “واہ واہ سبحان اللہ” کے نعرے لگائیں گے، وہ برتن دھوئیں گی اور ہم ایک ایک برتن اٹھا اٹھا کر کبھی “واہ واہ ” تو کبھی “کیا کہنے” کے نعرے بلند کر تے رہیں گے وہ کپڑے دھو دھو کر پھیلائیں گی اور ہم ان پر اپنی محبتوں کے پھول خوشامد کے ورق میں لپیٹ لپیٹ کر پھینکتے رہیں گے کام کے دوران اگر کھانے کا وقت ہوجایے گا تو خوب تگڑی غذا سے ان کی تواضع کریں گے اور خود صرف جوس کے گلاس پر گزارا کریں گے کھانے کے بعد وہ تھوڑی دیر قیلولہ بھی کریں گے ہوسکتا ہے اس وقت ہم ان کے ہاتھ پیر بھی دبادیا کریں یا ہوسکتاہے ان کی زیادہ تھکن کی صورت میں روغن زیتون سے مالش بھی کردیں جب وہ جانے لگیں گی تو جھک جھک کر شکریہ، نوازش، مہربانی کہتے ہماری زبان سوکھے گی چونکہ ماسی کا تعلق صنف نازک سے ہوگا تو وہ یقینا نسل انسانی میں اضافے کا باعث بھی ضرور بنیں گی اس وقت تو ہمیں ناز برداری کی انتہا کر نی پڑے گی چا ہے گوند مکھانےکھلانا پڑیں یا اصلی گھی میں بنا کمر کس، کام کروانا ہے تو سب کرنا پڑے۔

اب مذاق ایک طرف کچھ خواتین کسی بیماری کے سبب واقعی ضرورتاً ماسی رکھتی ہیں اور ماسی ان کی مجبوری ہوتی ہے لیکن جو خواتین اللہ کے فضل و کرم سےجوان اور صحت مند ہیں وہ ماسی کو اپنی مجبوری نہ بنائیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ ماسی نہ رکھیں ضرور رکھیں اس طرح ایک مجبور اور غریب عورت کو با عزت روزگار ملے لیکن اس کو اپنی سہولت کے لیے رکھیں تاکہ اس تیز رفتار زمانے میں بہتر طریقے سے اپنا گھر چلا سکیں کچھ کام ماسی سے کرواکر اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر زیادہ توجہ دے سکیں۔

یاد رکھیں سہولت اور ضرورت میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے اور سہولت جب ضرورت بن جائے تو صورت حال خطرناک ہوجاتی ہے، ضرورت کے غلام ہر کسی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔یہ ماسیاں بھی مجبور ہوتی ہیں ان کو بھی ہمارے حسن سلوک اور اپنی محنت کے صلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مجھے کبھی یہ خیال بھی آتا ہے کہ ہماری کسی حکومت نے سرائیکی پٹی کے حالات سدھارنے کی کوئی کوششیں نہیں کی لیکن اگر کبھی ان کے حالات سدھر گئے اور ان سرائیکی علاقوں کی عورتوں نےکام کے لیے کراچی آنا چھوڑ دیا تو یہاں کی عورتوں کا کیا ہوگا؟؟

ویسے آپس کی بات ہے یہ خیال میرے لئے بھی سوہان روح ہی ہوتا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20