سانحہ ساہیوال اور نظام انصاف: تجزیہ اور تجاویز —– محمد عثمان

0

سانحہ ساہیوال کے ملزمان کی بریت پہ حکومت بالخصوص وزیراعظم سے جتنے بھی شکوے کئیے گئے اور سوشل میڈیا پہ جتنا بھی شور برپا ہو قابل فہم تھا کیونکہ کریمنل جسٹس سسٹم میں واضح, ٹھوس اور دیر پا اصلاحات اب تک نظر نہیں آئیں۔ خان صاحب کے بذریعہ ٹوئیٹ کئیے گئے وعدوں میں سے ایک بھی ایفا نہیں ہوا۔ اس سب پہ حکومت سے گلہ جائز اور مناسب ہے مگر حکومت سے گلے شکوے کرنے اور گالیاں دینے کے بعد موجود نظام انصاف سے متعلق ٹھنڈے دل سے چند نقاط پہ غور کیا جائے تو ملزمان کی بریت کی وجوہات کو سمجھا جا سکتا ہے

ہمارا تفتیش کا نظام انتہائی پسماندہ اور گلا سڑا ہے پولیس اب بھی ایک زمانہ قبل بنائے گئے نظام تفتیش پہ کام کرتی ہے, جدید سائسنی خطوط پہ اب بھی کوئی تفتیش نہیں ہوتی ایسے میں جرائم کو ثابت کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

تفتیشی اہلکار کم پڑھے لکھے اور کئی ایک تو مطلق جاہل ہوتے ہیں جنہیں رائج قوانین کا معمولی علم بھی نہیں ہوتا اور ایسا کوئی مربوط نظام بھی موجود نہیں جو ان اہلکاروں کی کپیسٹی بلڈنگ پہ کام کرے غرض مقدمے کی ابتداء میں شواہد اکٹھا کرنے کا بوجھ ان لوگوں پہ ہے جنہیں اس کام کی الف ب کا بھی علم نہیں.

بطور انسان تفتیشی افسران میں بھی بہت سی بشری کمزوریاں ہیں (جن کا دفاع ہرگز مقصود نہیں) مثلاً جھوٹ، لالچ، کرپشن اور رشوت خوری. ایسے میں تفتیشی عملے کو چند ہزار یا پھر چند لاکھ روپے دے کر کیس کو ابتداء میں ہی خراب کر دینا بالکل بھی مشکل نہیں ہوتا

پراسیکیوشن میں البتہ قدرے بہتر اور محنتی لوگ موجود ہیں جو باقاعدہ امتحانات پاس کر کے آتے ہیں مگر پریکٹیکل وکالت کا کم تجربہ اور سرکاری ملازمت کے باعث پیدا ہونے والی سستی کام چوری اور کاہلی کے باعث یہ لوگ بھی ملزمان کے مہنگے تجربہ کار اور قابل وکلاء کے سامنے بے بس ہوتے ہیں اور پھر ابتدائی سطح پہ پولیس کی جانب سے دانستہ یا نادانستہ طور پہ چھوڑی خامیوں کے باعث پراسیکیوشن کے لئیے ملزم کو سزا دلوانا تقریباً ناممکن ہوتا ہے

ہمارے ہاں سائنسی ترقی سے مدد نہ لینے کے باعث استغاثہ کا سارا مقدمہ زبانی شہادتوں پہ کھڑا ہوتا ہے اور قانون سے لاعلمی, سادگی اور مکمل رہنمائی نہ ہونے کے باعث استغاثہ کے گواہان دوران جرح اکثر اوقات ایسی معمولی یا غیر معمولی غلطیاں کر جاتے ہیں جو سارے کے سارے کیس کو تباہ کر جاتی ہیں

جج کو آگر آخری درجے میں بھی یہ یقین ہو کے سامنے موجود ملزم نے ہی جرم کیا ہے تو اس سب کے باوجود جج کے ہاتھ بندھے ہوتے ہیں وہ فائل میں موجود ثبوتوں ,کتاب میں لکھے قانون اور عدالتی نظائر کا پابند ہے وہی نظائر جو ملزم کو قانون کا لاڈلہ بچہ اور ایک معمولی شک کو بھی ملزم کی بریت کے لئیے کافی بتاتے ہیں۔

اکثر گواہان ملزمان کے خوف کے باعث گواہی دینے سے منحرف ہو جاتے ہیں یا پھر ڈر کے مارے ایسا بیان دے دیتے ہیں جو استغاثہ کے کیس کو کمزور کر دیتا ہے۔

یہ چند اور اسکے علاوہ درجنوں ایسی وجوہات ہیں جن کے باعث ہمارے ہاں فوجداری کیسز میں سزا کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔

اس سارے پس منظر میں حکومت وقت نہ تو تفتیش کر سکتی ہے اور نہ ہی جج بن کر کسی کو پھانسی کے پھندے پہ لٹکا سکتی ہے ہاں اس کی یہ زمہ داری ہے کہ وہ اس نظام کو جتنا جلد ممکن ہو بہتر بنائے اور وہی نظام انصاف جو ترقی یافتہ ملکوں میں عوام کو میسر ہے اسے پاکستان میں بھی نافذ کرے, اس نظام کے نفاذ اور موجودہ نظام میں اصلاحات کے لئیے حکومت پہ دباو ڈالنا میرا, آپ کا ہم سب کا فرض ہے مگر یہ بات مت بھولیں کہ موجودہ حکومت سے قبل بھی کئی لوگ یہاں پہ حکمران رہے ہیں جنہوں نے نا صرف نظام انصاف کی بہتری کے لئیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی بلکہ پہلے سے موجود ٹوٹے پھوٹے نظام کو بھی مزید تباہ کیا. ذاتی مفادات اور مقاصد کے لئیے جرائم پیشہ عناصر کو پولیس کا حصہ بنایا ماتحت عدالتوں سے لیکر اعلیٰ عدالتوں تک کے ججز کو خریدا اور مرضی کے فیصلے لئیے۔

اگر آپ اس نظام کی خرابی کا زمہ دار بحثیت مجموعی موجودہ اور ماضی کی تمام حکومتوں کو سمجھتے ہیں اور گزشتہ کرپٹ اور نااہل حکمرانوں سمیت موجودہ حکومت کو بھی گالیاں دے رہے ہیں گلے کر رہے ہیں تو یہ شکوے بھی قابل تحسین ہیں کیونکہ حالات اس نہج پہ پہنچانے کی زمہ دار محض یہ حکومت نہیں لیکن اگر آپ کا غصہ گالیاں اور طعنے صرف تحریک انصاف اور عمران خان تک محدود ہیں تو یقین جانیں آپ سانحہ ساہیوال کے شہیدوں کی قبر کو اپنی غلیظ سیاست کے نظر کر ریے ہیں۔

آپ وہ ہیں جو سانحہ ساہیوال پہ تو عمران خان کو قصوروار کہتے ہیں جبکہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا زمہ دار مقتولین اور طاہر القادری کو سمجھتے ہیں۔

وہ سنجیدہ لوگ جو حقیتاً نظام میں اصلاح کے خواہشمند ہیں ان سب کو ملکر حکومت کو اصلاحات پہ مجبور کرنا ہوگا قانون کے ایک ادنیٰ طالب علم کے طور پر میں چند تجاویز دے رہا ہوں جو میرے رائے میں بہتری کا سبب بن سکتی ہیں۔

موجود قوانین میں جہاں جہاں ضروت ہو ترامیم کی جائیں اور دوران تفتیشں جدید سائنسی ایجادات سے ہر ممکن مدد کو لازمی اور یقینی بنایا جائے, کرائم سین سے ملنے والے شواہد کو محفوظ بنانا اس میں شامل ہے اس مقصد کے لئیے تفیشی عملے کے پاس ہر دستیاب جدید سہولت ہونی چاہیے

پولیس میں تفتیش کے شعبے پہ خصوصی توجہ دی جائے اور تفتیش سے متعلق اہکاروں کے لئیے قانون کی تعلیلم لازمی قرار دے جائے. بھرتی کے بعد بھی ان اہلکاروں کو مسلسل ٹرینگز کے زریعے نئے عدالتی نظائر کی روشنی میں تفتیش کا رخ متعین کرنا سکھایا جائے, اگر پولیس کے اندر ہی تفتیش کا الگ شعبہ قائم کردیا جائے جو مکمل طور پہ خود مختار ہو اور جس کے زمے صرف اور صرف جرائم کی تفتیش ہو تو اس سے دو فائد حاصل ہونگے۔

ایک یہ کہ تفتیش کا عمل تیز شفاف اور بہتر ہو گا اور دوسرا یہ کہ اس عمل سے ان منہ زور اہلکاروں کو بھی نکیل ڈالی جا سکے گی جو تفتیش کے نام پہ لوگوں کو بلیک میل کرتے ہیں۔

ہسپتالوں میں پوسٹ مارٹم سے لیکر لیبارٹیریز میں FSL رپورٹس کی تیاری تک ہر کام کو مکمل سائنسی آلات سے ہی کیا جائے کم ازکم ڈویژن کی سطح پہ فرانزک لیبس کا قیام اس سلسلے کا پہلا قدم ہونا چاہیے۔

پولیس میں محکمے کی سطح پہ سزا اور جزا کے نظام کو سخت ترین کیا جائے ,ڈیپارٹمنٹل انکوائری کے قوانین کو موثر بنایا جائے اور سروس ٹربیونل میں محکمہ پولیس ل سے متعلق کیسز کو جلد از جلد نمٹایا جائے۔

پراسیکیوشن کے محکمے کا سربراہ اچھی انگریزی بولنے والے سیکرٹری یا بیوروکریٹ کے بجائے فوجداری کے نامور, قابل اور محنتی وکیل کو لگایا جائے تاکہ محکمے کے سربراہ کو اول دن سے لوپ ہولز کا علم ہو اور وہ انکو دور کر سکے۔

پراسیکیوشن اور تفتیشی عملے کے درمیان رابطے کو مربوط اور تیز تر بنایا جائے دوران تفتیشں تفتیشی افسر مسلسل پراسیکیوٹر سے موثر رابطے میں ہو تاکہ اہم ریکارڈ بناتے وقت بروقت پراسیکوٹر سے مدد لی جا سکے۔

تفتیشی افسران اور پراسیکیوٹرز کی تعداد میں مناسب اضافہ کیا جائے تاکہ دونوں پہ کام کا بوجھ کم سے کم ہو۔

مغربی طرز پہ گواہان کی حفاظت کا مضبوط اور جامع نظام متعارف کیا جائے۔

ان میں سے اکثر تجاویز کو قابل عمل بنانے کے لئیے ریاست کو بہت سے وسائل درکار ہیں جو شاید اس وقت بہم پہنچانا ریاست کے لئیے ممکن نہیں مگر اب سوال یہ ہے کہ ہماری ترجیحات کیا ہیں؟

اگر تو ریاست کی اولین ترجیحات میں انصاف کی جلد اور فوری فراہمی ہے تو پھر چند برسوں کے لئیے ہمیں میٹرو بسوں اور اورینج ٹرینوں کو بھولنا ہوگا ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں پکی سڑک چاہیے یا محفوظ زندگی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20