جمالِ ہم نشیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ جمال پانی پتی پر طاہر مسعود کا خاکہ

0

جمال بھائی (جمال پانی پتی) پر پہلے میرا ارادہ کوئی علمی قسم کے مضمون لکھنے کا تھا کیوں کہ وہ علمی آدمی تھے۔ ساری زندگی لکھنے پڑھنے سے وابستہ رہے۔ ان کی دل چسپی بھی فلسفہ، مذہب، سائنس اور تصوّف وغیرہ جیسے مشکل مضامین سے تھی۔ لکھنا انہوں نے بہت دیر سے شروع کیا۔ میں نے پہلے پہل سلیم بھائی (سلیم احمد) کی محفلوں میں انہیں دیکھا تھا۔ خاموشی سے بیٹھے رہتے تھے۔ کم از کم میرے سامنے انہوں نے کبھی گفتگو میں حصّہ نہیں لیا۔ اُن کے چپ سادھے بیٹھے رہنے سے میں نے قیاس کیا کہ سلیم بھائی کے شاگرد ہیں، حالاں کہ عمر اِن کی شاگردوں والی نہ تھی لیکن مئودب طریقے سے بیٹھے رہتے تھے، اس سے یہی گمان گزرتا تھا کہ سلیم بھائی کے دستر خوانِ علم سے فیض یاب ہونے کے خواہاں ہیں۔ ان سے مجھے قریب ہونے کا موقع سلیم بھائی کی وفات کے بعد ملا۔ سلیم بھائی کی شخصیت ہم سب کے لیے لائٹ ہائوس کی طرح تھی جو سمندر میں بحری جہازوں کو راستہ دکھانے کا کام کرتا ہے۔ سلیم بھائی کی رحلت کے بعد جمال بھائی ہم لوگوں کے لیے لائٹ ہائوس بن گئے کیوں کہ یہ ہمیں بعد میں معلوم ہوا کہ وہ کتنے پڑھے لکھے، گہرے اور مربوط، شفاف ذہن کے مالک ہیں۔

وہ سلیم بھائی سے ٹوٹ کر محبت کرتے تھے، لہٰذا ان کی موت کے بعد وہ سیدھے امراض قلب کے اسپتال جا پہنچے۔ یہ صدمہ ان کا دل برداشت نہ کر سکا اور مجروح ہو گیا۔ میں ان کی عیادت کو اسپتال پہنچا تو اس وقت بھی ان کے سرہانے فلسفے کی کچھ کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ اس کے بعد میں ان سے کتنی بار ملا اور ہمیشہ انہیں بڑا خوش مزاج، متواضع، علم دوست اور منکسر المزاج انسان پایا۔ لکھنا تو انہوں نے سلیم بھائی کی زندگی کے آخری دنوں ہی میں شروع کر دیا تھا۔ ’’فنون‘‘ کے محمد ارشاد کے جواب میں جو مضامین انہوں نے روایت، رینے گینوں اور محمد حسن عسکری کے حوالے سے لکھے، اس سے ان کی ادبی شہرت کا آغاز ہوا۔ پھر وہ لکھتے چلے گئے اور بہت کم عرصے میں اتنا کچھ لکھ لیا کہ تین کتابیں چھپ سکتی تھیں۔

ان میں ایک عجیب بات تھی کہ ترقّی پسندوں یا مذہب بیزار لکھنے والوں کی طرف سے جب بھی کوئی ایسی تحریر آتی تھی جس میں مذہب پر حملہ ہوتا تھا یا مغربیت کی حمایت کی جاتی تھی تو جمال بھائی جواب دینے کے لیے کمر بستہ ہو جاتے تھے اور پھر اپنے جواب میں وہ ان ادیبوں کے ایسے بخیے ادھیڑتے تھے، ان کے دلائل کا ایسا بھر پور توڑ کرتے تھے کہ حیرت ہوتی تھی۔ ایک تو ان مضامین میں ان کے خیالات بڑے واضح او رصاف ہوتے تھے۔ مشکل اور پے چیدہ زبان تو وہ لکھنا جانتے ہی نہ تھے۔ دقیق سے دقیق خیال کو نہایت سہل طریقے سے بیان کرتے تھے۔ دوسرے یہ کہ ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ جس موضوع پر قلم اٹھاتے تھے، اس پر انہیں پورا عبور ہوتا تھا۔ چناں چہ بات کی گہرائی میں پہنچ کر وہ مخالف کے مئوقف کی جڑ سے بیخ کنی کر دیتے تھے۔ طویل لکھنے کے عادی تھے، مختصر لکھنا نہ جانتے تھے۔ سجاد میر کو ان سے یہی شکایت تھی کہ جمال بھائی بات کو بہت پھیلا دیتے ہیں۔ کرکٹ کی اصطلاح وہ ایسے فاسٹ بولر تھے جو گیند پھینکنے کے لیے بہت دور سے دوڑ کر آتا ہے لیکن مجھے ان کی طول نویسی کبھی بری نہیں لگی۔ وجہ یہ تھی کہ ان کی تحریر کتنی ہی لمبی ہو، اپنے آپ کو پڑھوا لیتی تھی۔ سنجیدہ مضامین میں یہ خوبی مشکل ہی سے ہوتی ہے۔ یہ فن انہوں نے محمد حسن عسکری اور سلیم احمد سے سیکھا تھا۔ ان دونوں بزرگوں کی تحریروں میں یہ وصف تھا کہ آپ چاہے ان سے اتفاق کریں یا اختلاف لیکن اگر آپ ایک مرتبہ ان کے مضامین پڑھنا شروع کریں تو وہ آخر تک اپنے آپ کو پڑھوا دیتے تھے۔ انہیں پڑھنے کے لیے اپنے اوپر جبر نہیں کرنا پڑتا تھا۔ پھر یہ کہ ان کے مضامین میں بڑی بصیرت اور روشنی ہوتی تھی۔ وہ خیال سے الجھتے تھے اور ایک خیال کے مقابلے میں دوسرا خیال پیش کرتے تھے لیکن وہ مجرد نہیں ٹھوس خیال کو جس میں معاصر زندگی، معاصر مسائل اور معاصر سوالات کی حرارت ہوتی تھی، پوری قوت سے سامنے لاتے تھے۔ دقیق بحثوں سے میری طبیعت بہت الجھتی ہے اور ایسے مضامین جن میں اصطلاحات کی بھر مار ہو، لکھنے والا اپنے علم سے پڑھنے والے کو مرعوب کرنا چاہتا ہو، جس میں مجرّد بحثوں سے ذہن کو الجھانے کی کوشش ملتی ہو، ایسے مضامین کو چند صفحے سے زیادہ پڑھنا میرے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ لیکن جمال بھائی کے مضامین ان علّتوں سے ہمیشہ پاک ہوتے تھے۔

ان کے سنجیدہ علمی مضامین پڑھیے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے علم و معنی کا ایک دریا آہستہ خرامی سے بہہ رہا ہے۔ وہ دبستانِ عسکری کے خوشہ چیں تھے، سلیم احمد کے نہایت قائل بلکہ گھائل لیکن ان دونوں حضرات سے فیض یاب ہونے کے باوجود وہ اپنی ایک آزاد فکر کے مالک تھے۔ وہ رینے گینوں کے تصوّر روایت کو مانتے تھے تو ماننے کے دلائل ان کے اپنے تھے۔ وہ عسکری اور سلیم احمد کے افکار کا سایہ نہ تھے۔ ان کی اپنی فکر تھی جو ان کے مطالعے اور مسلسل سوچ بچار سے پروان چڑھی تھی اور ان کی فکر نے عسکری اور سلیم احمد کی فکر کا نہ صرف مضبوطی سے دفاع کیا بلکہ اس کی مئوثر طریقے سے وضاحت بھی کی۔ اس حوالے سے ان کا علمی کام اتنا وقیع ہے کہ اس میدان میں عسکری اور سلیم احمد کے بعد جمال بھائی ہی کا نام لیا جا سکتا ہے کیونکہ وہ دبستانِ عسکری کے سب سے ہوش مند، ذہین اور متحرک شارح تھے اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ انہوں نے کئی مقامات پر عسکری اور سلیم احمد سے اختلاف بھی کیا ہے، وہ بڑی حد تک صحیح ہے۔

جمال بھائی کے مضامین کی چار کتابیں اب تک چھپ چکی ہیں۔ ان میں تین کتابیں ’’ادب اور روایت‘‘ ، ’’اختلاف کے پہلو‘‘ اور ’’نفی سے اثبات‘‘ تک تو ان کی زندگی ہی میں منظر عام پر آگئی تھیں۔ چوتھی کتاب ’’جدیدیت اور جدیدیت کی ابلیسیت‘‘ ان کی وفات کے بعد شائع ہوئی ہے۔ ان کتابوں میں ہمیں دو طرح کے مضامین ملتے ہیں ایک تو وہ جو، از خود انہوں نے تحریر کئے دوسرے وہ مضامین جو انہوں نے کسی نہ کسی مضمون کے جواب میں لکھے۔ عجیب بات یہ ہے کہ جمال بھائی کا علمی اور تنقیدی جوہر کھل کر دوسرے ہی قسم کے مضامین میں سامنے آتا ہے۔ احمد ہمدانی، محمد علی صدیقی، محمد ارشاد، ڈاکٹر منظور احمد، ان سب دانش وروں کے مضامین کے جواب میں انہوں نے ان بزرگوں سے جو علمی پنجہ آزمائی کی ہے، اس میں پلّہ جمال بھائی ہی کا بھاری رہا ہے۔ یہ میں اس لیے نہیں کہہ رہا کہ میرا ان سے تعلق تھا، جو بھی غیر جانب داری سے فریقین کے مضامین پڑھے گا، یہی رائے قائم کرے گا۔ خدا وند تعالیٰ نے انہیں اسلوب و اظہار پر جو قدرت عطا کی تھی اس کی مدد سے وہ منطقی طور پر اپنے حریف کے مئوقف کو رد کر دینے میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں سے ایک آدھ کے سوا شاید ہی کسی نے بحث کو جاری رکھا ہو۔

ڈاکٹر منظور احمد جو بہ منزلہ میرے استاد کے ہیں اور مکالمے کے بہت قائل ہیں، ان کے ایک مضمون اور اسلام پر ان کی ایک کتاب کے جب جمال بھائی نے بخیے ادھیڑے تو ڈاکٹر صاحب نے خاموشی ہی میں عافیت جانی۔ ایسا نہیں تھا کہ جمال بھائی کوئی پیشہ ور مناظرے باز تھے اور بحث و مباحثے کے اکھاڑے میں انہیں اپنے علم کی نمائش مقصود تھی۔ وہ اپنے نظریات سے اٹوٹ طریقے سے وابستہ (Committed) ادیب تھے۔ اگر وہ اسلام کی حقانیت پر یقین رکھتے تھے تو اسلام اور اس کے عقائد پر کوئی بھی حملہ انہیں گوارا نہ تھا۔ وہ حفاظتِ دین کو اپنا فرض منصبی جانتے تھے اور اس میں ذاتی تعلقات کی پروا بھی نہیں کرتے تھے۔ محمد علی صدیقی، احمد ہمدانی اور ڈاکٹر منظور احمد کا شمار ان کے احباب میں ہوتا تھا، ہمدانی صاحب سے تو ان کی دیرینہ دوستی تھی لیکن جب ان کے مضامین سے انہیں اختلاف ہوا تو انہوں نے ذاتی دوستی کا بھی لحاظ نہیں کیا۔ گویا وہ علم کے میدان میں ذاتی دوستی کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ ایک عالم کا یہی رویہ ہونا چاہیے۔ جمال بھائی جدیدیت کے مخالف بلکہ دشمن تھے۔ وہ جدیدیت جو مغربی فکر و فلسفے اور سائنس سے پیدا ہوئی تھی۔ میں نے انہیں جدیدیت کا دشمن اس لیے کہا ہے کہ ایک دن میں نے ان سے کہا کہ جمال بھائی! آپ سائنس کے خلاف لکھتے رہتے ہیں لیکن سائنس کی عطا کردہ نعمتوں کا آپ انکار کیسے کر سکتے ہیں؟ دیکھئے گرمی کے اس شدید موسم میں ہم ایک ٹھنڈے کمرے میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ بھی تو سائنس ہی کی بدولت ہے۔ میں نے دیکھا کہ ان کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ مجھے اب بالکل یاد نہیں کہ انہوں نے کیا جواب دیا۔ شاید اس لیے یاد نہیں کہ ان کا غصّے میں سرخ چہرہ دیکھ کر ان کا جواب سننا ہی بھول گیا۔ وہ بہت نرم مزاج تھے لیکن اس وقت ان کی کیفیت میرے لیے بڑی غیر متوقع تھی۔ میں اب بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ وہ سائنس دشمن کیوں تھے؟ کیا اس لیے کہ سائنس کی لعنتیں اس کی برکتوں سے زیادہ ہیں یا اس لیے کہ سائنس دنیا کو دو خوف ناک عظیم جنگوں میں کروڑوں ہلاکتوں کا تحفہ دینے کے علاوہ ہمارے مقدّس اعتقادات میں شکوک و شبہات کا بیج بونے کی مرتکب و مجرم ٹھہری، اس لیے کہ سائنس کہ سائنس کی ہمارے ہاں ایک طبقے نے مذہب کی طرح پرستش شروع کر دی ہے۔ جمال بھائی نے سائنسی تصوّرات کا عمیق مطالعہ کیا تھا۔ اس موضوع سے متعلق جو نئی نئی کتابیں مغرب میں چھپتی تھیں، نہ صرف وہ ان سے واقف تھے بلکہ ان میں اہم کتابوں کا بالاستیعاب مطالعہ بھی کرتے تھے۔ کتاب پڑھتے ہوئے ان کے ہاتھ میں قلم یا پنسل ہوتی تھی، جس سے وہ ضروری حصوں پر نشان لگاتے جاتے تھے اور کہیں کہیں حاشیے میں کوئی نوٹ بھی لکھ دیتے تھے۔

بہت پرانی بات ہے، ایک رات میں ان سے ملنے گیا تو وہ غلام احمد پرویز کی کتاب ’’انسان نے کیا سوچا‘‘ پڑھ رہے تھے اور ساتھ ساتھ نشان لگاتے جاتے تھے۔ بعد میں، میں نے یہ کتاب حاصل کر کے پڑھنا چاہا تو انہیں فون کر کے اس کے بارے میں ان کی رائے دریافت کی۔ انہوں نے کہا کہ ضروری دینی علم کی تحصیل کے بعد ہی یہ کتاب پڑھنی چاہیے ورنہ اس کا مطالعہ خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم یہ تنبیہ انہوں نے کیوں کی۔ اس لیے کہ غالباً پرویز صاحب کی اکثر گم راہ کن کتابوں کے مقابلے میں یہ کتاب مجھے نسبتاً زیادہ معلومات افزا محسوس ہوئی۔

جمال بھائی عقائد و تصوّرات کی سطح پر کتنے ہی کٹر مسلمان ہوں لیکن انہیں عملی مسلمان (Practicing Muslim) مشکل ہی سے کہا جا سکتا ہے، مثلاً وہ نماز نہیں پڑھتے تھے۔ ان کے گھر میں جب بھی آذان کی آواز آئی اور میں نے نماز پڑھنے کی خواہش کا اظہار کیا، وہ تیزی سے جا کر میرے وضو کا اہتمام کرتے، جا نماز لا کر اپنے ہاتھوں سے قبلہ رُخ بچھاتے اور پھر اپنے کسی کام میں مصروف ہو جاتے۔ مجھے بڑا قلق ہوتا تھا۔ میرا دل چاہتا تھا کہ پوچھوں، جمال بھائی! آپ نماز کیوں نہیں پڑھتے۔ لیکن کبھی نہ پوچھ سکا۔ یہ حسرت ہی دل میں رہ گئی کہ جمال بھائی کو نماز پڑھتے دیکھتا۔ سردیوں میں باہر نکلتے ہوئے وہ ٹوپی پہننا کبھی نہ بھولتے۔ میرا پِتّے کا آپریشن ہوا تو وہ اور فراست رضوی اسپتال میں میری عیادت کو آئے۔ جمال بھائی نے شلوار قمیص پر واسکٹ اور سر پر ٹوپی پہن رکھی تھی۔ بڑے اچھے لگ رہے تھے۔ دیر تک بیٹھے باتیں کرتے رہے، فراست رضوی کو وہ بہت عزیز رکھتے تھے اور فراست کو بھی جمال بھائی سے بڑی محبت تھی۔ دونوں کی ملاقات چند روز نہ ہوتی تو دونوں بے چین ہو جاتے تھے۔ میں اکثر فراست ہی کے ہم راہ جمال بھائی کے گھر جاتا تھا۔ ان کا اپنا کوئی گھر تو تھا نہیں۔ کرایے کے مکان میں رہتے تھے۔ چناں چہ چند سال کے اندر اندر انہوں نے کئی مکان بدلے، کبھی گلشن اقبال، کبھی فیڈرل بی ایریا اور کبھی کہیں۔ ان کی گھریلو زندگی عموماً الجھنوں ہی کا شکار رہی۔ ایسی الجھنیں کہ ان کا لکھنا پڑھنا تک چھوٹ جاتا تھا لیکن بڑے با حوصلہ تھے، ہمّت نہ ہارتے تھے۔ جمیل الدین عالی سے ان کا عجیب محبت اور بیزاری کا رشتہ تھا۔ وہ عالی صاحب پر مضامین بھی لکھتے تھے، اپنے ہر آڑے وقت میں ان کو مدد کے لیے بھی طلب کرتے تھے لیکن ان کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے یہ ظاہر بھی کرتے تھے کہ وہ عالی صاحب کی دنیاداری سے خوش نہیں ہیں۔ اور یہ سچ ہے کہ عالی صاحب ان کا بے حد خیال رکھتے تھے۔ ان کے گھریلو مسائل تک کو نمٹانے کے لیے وقت نکالتے تھے۔ وہ جمال بھائی کو پیار سے ’’جمال خان‘‘ کہتے تھے۔ جب ان پر پہلا حملۂ قلب ہوا تو یہ عالی صاحب ہی تھے جنہوں نے انہیں اسپتال میں اسپیشل وارڈ میں کمرہ دلوایا اور تقریباً روزانہ ان کی عیادت کو جاتے رہے۔

اپنے جونئر دوستوں میں وہ احمد جاوید کے علم و فضل سے بہت متاثر تھے اور ان سے بڑی توقّعات وابستہ رکھتے تھے۔ ان سے انہیں ایک ہی شکایت تھی کہ لکھتے نہیں۔ احمد جاوید بھی ان سے یک گو نہ تعلق رکھتے تھے۔ جب بھی لاہور سے آتے، ان سے ملنے کے لیے ضرور جاتے۔ ایک آدھ بار میں بھی ان کے ہم راہ تھا۔ ایک ملاقات میں جمال بھائی نے انہیں اقبال اور شنکر اچاریہ والا مضمون سنایا۔ مضمون بہت اچھا تھا لیکن جب باہر نکل کر میں نے جاوید صاحب سے رائے پوچھی تو ان کی رائے اچھی نہ تھی۔ ایک اور ملاقات میں جمال بھائی نے فلسفے کے کچھ مسائل کے بارے میں ان سے تبادلۂ خیال کرنا چاہا۔ جاوید صاحب نے اتنی دقیق گفتگو کی کہ میں اونگھنے لگا۔ ظاہر ہے میرا ذہن اتنی بھاری بھر کم، دقیق اور کسی قدر ژولیدہ گفتگو کا متحمّل نہ ہو سکتا تھا۔ پھر نہ جانے کیا ہوا کہ جاوید صاحب جمال بھائی سے بدگمان ہو گئے۔ غالباً وہ یہ تھی کہ عسکری صاحب کے معاملے پر مبین مرزا نے جب ’’مضمون اور خون‘‘ میں چھپنے والے مذاکرے میں ان کے خیالات پر گرفت کی اور پھر دونوں جانب سے مضمون اور جواب مضمون کا جو تبادلہ ہوا تو جاوید صاحب سمجھے کہ مبین مرزا کے پیچھے جمال بھائی ہیں۔ لہٰذا انہوں نے ان سے ملنا جلنا ترک کر دیا۔ جمال بھائی کو اس ترکِ ملاقات کا کوئی بہت زیادہ قلق تو نہ تھا لیکن جاوید صاحب کی بدگمانی ان کے لیے ناقابلِ فہم ضرور تھی۔

جمال بھائی سلیم بھائی کو زندگی کے کسی بھی لمحے میں نہ بھولے۔ ہر ملاقات میں کسی نہ کسی بہانے وہ سلیم بھائی کا ذکر ضرور کرتے تھے۔ کبھی ان کے حولے سے کوئی واقعہ، کوئی بھولی بسری یاد، ان کا کوئی قول، سلیم بھائی کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات ان کے قلب و ذہن پر نقش ہو کر رہ گئے تھے۔ وہ اکثر ان دنوں کا ذکر کرتے تھے جب وہ سلیم بھائی کے ساتھ بابا ذہین شاہ تاجی کے یہاں حضرت محی الدین ابن عربی کی ’’فصوص الحکم‘‘ کے درس لینے جاتے تھے۔ وہ بتاتے تھے کہ بابا صاحب اس مشکل کتاب کی کسی فصل کی تشریح کرتے کرتے دونوں ہتھیلیوں سے اپنے سر کو بھینچ لیتے تھے جیسے ابھی یہ پھٹ جائے گا۔ درس کے اختتام پر سلیم بھائی بابا صاحب سے کچھ سوالات کرتے تھے اور جمال بھائی اس دوران خاموشی سے بیٹھے رہتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اُس وقت مجھے وحدت الوجود کے مسئلے کی کچھ زیادہ سمجھ بھی نہیں تھی اور اب بابا صاحب کی تشریحات مجھے یاد بھی نہیں ہیں لیکن بعد میں جمال بھائی نے وحدت الوجود کا گہرائی سے مطالعہ کیا اور ایک مرتبہ میرے استفسار پر مجھے بھی اس نظریے کو سمجھانے کی کوشش کی۔ میں اکثر ان سے ایسے موضوعات پر کچھ نہ کچھ پوچھتا رہتا تھا، جن کے بارے میں مجھے کہیں اور اسے رہ نمائی ملنے کا امکان نہیں تھا، مثلاً ایک مرتبہ میں نے حضرت مجدد الف ثانیؒ کے مکتوبات میں ان مناقب کی بابت سوال کیا جو حضرت مجدّد صاحب نے اپنے بارے میں بیان کئے ہیں۔ جمال بھائی نے کہا کہ دیکھئے بھئی تزکیۂ نفس کوئی ایسا عمل تو نہیں ہے کہ اس کی تکمیل ہو جائے۔ انا کہیں نہ کہیں شخصیت کے کسی گوشے میں چھپی رہ جاتی ہے۔ مجدد صاحبؒ نے بھی جو اپنے مناقب بیان کئے ہیں وہ دراصل ان کی انا کا اظہار ہے۔ میں اس وضاحت کی تصدیق یا تردید کی پوزیشن میں نہ تھا، کیوں کہ ایک طرف مجدّد صاحب کی قابلِ احترام ہستی تھی اور دوسری طرف جمال بھائی کا علم۔ بس میں نے ان کی بات سنی اور اسے یاد رکھ لیا۔

یہ بھی پڑھیں: مجموعۂ جمال: اک چراغ جلتا ہے —– عزیز ابن الحسن

جمال بھائی جتنا اچھا لکھتے تھے اتنا ہی اچھا بولتے بھی تھے۔ ٹی وی کے کئی پروگراموں میں انہیں حصّہ لینے کا موقع ملا۔ ایسے موقعوں پر انہیں بولتے ہوئے دیکھ کر سلیم بھائی کی یاد تازہ ہو جاتی تھی۔ بہت جم کر بولتے تھے اور جو کچھ بولتے تھے اس میں بڑی گہرائی ہوتی تھی۔ عام سطحی گفتگو کرنا تو وہ جانتے ہی نہ تھے۔ ٹی وی کے ایک پروگرام میں ادب اور تشدد کا موضوع چھڑا ہوا تھا۔ کچھ ترقّی پسند حضرات بھی پروگرام میں شریک تھے اور القاعدہ اور دیگر جہادی تنظیموں کی مذمّت کر رہے تھے۔ جمال بھائی نے تشدد کی بنیادوں کا سراغ مغربی فلسفے میں ڈھونڈ نکالا اور نطشے کے فلسفے کے نتیجے میں ہٹلر کے ظہور سے جو بات شروع کی تو محفل کا رنگ ہی بدل ڈالا۔ ان کی جمی ہوئی گفتگو سب پر بھاری پڑی اور دوسروں کو بھی ان سے اتفاق کرنا پڑا۔ وہ با معنی مکالمے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے اور اس میں انہیں بہت لطف آتا تھا۔ ڈاکٹر منظور احمد کی کتاب ’’اسلام چند فکری مباحث‘‘ ادارۂ ثقافت اسلامیہ نے شائع کی۔ میں نے جمال بھائی سے کہا، اس کتاب میں جو فکری گمراہیاں ہیں ان پر آپ ہی گرفت کر سکتے ہیں اور یہ محض علم کا معاملہ نہیں ہے، آپ کا دینی فریضہ بھی ہے۔ جمال بھائی نے کتاب پڑھ کر کہا کہ یہ تو سراسر الحاد و زندقہ ہے۔ پھر انہوں نے تفصیلی مضمون لکھا، جس میں انہوں نے ڈاکٹر صاحب کے فکری مغالطوں کا جی بھر کے پوسٹ مارٹم کیا۔ مجھے اور فراست کو مضمون سنایا۔ فراست کے مشور ے پر انہوں نے مضمون میں کچھ ضروری تبدیلیاں بھی کیں۔ پھر یہ مضمون ’’مکالمہ‘‘ میں شائع ہوا۔ توقع تھی کہ ڈاکٹر صاحب اس کا کچھ جواب دیں گے لیکن انہوں نے پڑھ کر چپ سادھ لی۔ ممکن ہے وہ بحث میں نہ پڑنا چاہتے ہوں۔ اسی طرح اقبال اکادمی کے ڈائریکٹر اور دانش ور سہیل عمر نے کسی محفل میں کہا کہ اقبال کی شاعری اور ان کے خطبات میں کوئی تضاد نہیں ہے اور یہ کہ اپنی کتاب ’’خطباتِ اقبال، نیا تناظر‘‘ میں جو کچھ میں نے لکھا ہے، اب میں اس سے Out Grow کر چکا ہوں۔ چناں چہ طے ہوا کہ میرے گھر کی دعوت میں اس موضوع پر بات ہو گی۔ جمال بھائی، سہیل عمر سے خصوصی محبت کا تعلق اپنے دل میں محسوس کرتے تھے لیکن معاملہ علم کا تھا اور وہ سہیل عمر کے اس مئوقف سے اختلاف رکھتے تھے۔ میں نے ڈاکٹر معین الدین عقل، سیّد خالد جامعی، فراست رضوی کے ساتھ جمال بھائی کو بھی مدعو کر لیا۔ وہ مکالمے کے لالچ میں واسکٹ اور ٹوپی پہن کر چلے آئے۔ سہیل عمر بھی آئے لیکن اِدھر اُدھر کی گفتگو ہوتی رہی اور اقبالؒ کے بارے میں چند سوال و جواب تو ہوئے لیکن اصل مسئلے پر بات نہ ہو سکی۔ محفل کے بعد ہفتوں تک جمال بھائی کہتے رہے، بھئی اس دن اصل بات تو ہو ہی نہ سکی۔

اب معاشرے میں ایسے لوگ کہاں ہیں، علم و ادب جن کے لیے سنجیدہ ترین اور انتہائی بامعنی سرگرمی ہو اور جو روپے، پیسے اور شہرت، نام و نمود اور سماجی مرتبے کی اندھا دھند دوڑ سے الگ تھلگ رہ کر صرف کتابوں اور خیالات سے اپنے آپ کو وابستہ رکھتے ہوں۔ ایسے آدمی کی موت ایک اسلوب زندگی، ایک سنجیدہ روّیے اور رجحان کو زک پہنچانے والی ہے۔ چناں چہ جمال بھائی کی موت کا صدمہ برداشت کرنا ہم جیسوں کے لیے آسان نہیں ہے، کیوں کہ وہ ہمارے لیے فکری اور ذہنی قوت کا سرچشمہ تھے۔ سلیم بھائی کی رخصتی سے ایک ایسے گھر کا دروازہ ادیبوں اور شاعروں کے لیے بند ہو گیا تھا، جو رات گئے تک علم و ادب اور شاعری و سیاست جیسے موضوعات پر زندہ و گرم جوش گفتگوئوں کے لیے کھلا رہتا تھا۔ جمال بھائی کی شخصیت میں سلیم بھائی جیسی وسعت اور محبوبیت تو نہیں تھی۔ وہ گوشہ نشین انسان تھے، ملنے جلنے والوں کا دائرہ کار بھی محدود تھا پھر یہ کہ انہوں نے سنجیدہ موضوعات پر لکھنے کا آغاز ایسے زمانے میں کیا جب ان موضوعات پر دل چسپی لینے والے برائے نام رہ گئے تھے۔ چناں چہ ان کی تینوں کتابیں جو فکری اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں اور جو متقاضی ہیں کہ اہلِ علم ان پر اظہار خیال کریں تا کہ بحث آگے بڑھے لیکن شو مئی قسمت سے ان کی تینوں کتابوں کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا گیا۔ وہ چھپ کر بھی غیر مطبوعہ رہیں۔ بہت کم لوگوں نے انہیں پڑھا اور جنہوں نے پڑھا، انہوں نے ان پر لکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ لیکن حیرت ناک بات یہ ہے کہ اس ناقدری اور علم ناشناسی کا کوئی گلہ کرتے میں نے جمال بھائی کو نہیں دیکھا۔ وہ تسلیم کئے جانے، اہمیت دیے جانے اور موضوع گفتگو بننے کی ترغیب و تحریض سے بہت بلند تھے۔ لکھنا ان کا Passion تھا اور وہ اسی میں خوش رہتے تھے۔ ان میں ایک عالمانہ بے نیازی پائی جاتی تھی، وہ اپنی مسرّت لکھنے کے عمل ہی سے کشید کرتے رہتے تھے۔

موت سے کچھ ہی ہفتے قبل انہیں ایک شدید گھریلو مسئلے نے آن گھیرا۔ مجھے انہوں نے اس کی پوری تفصیل بتائی، جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کس کرب و اذیّت سے گزرے ہیں۔ اس آڑے وقت میں عالی جی، مبین مرزا اور سجاد میر نے ان کی جو مدد کی، اس پہ وہ ان حضرات کے بہت ممنون تھے۔ مجھے لگتا ہے کہ اس گھریلو حادثے نے ان کے قلب کو شدید طریقے سے متاثر کیا، لہٰذا وہ اسپتال میں داخل کر دیئے گئے۔ میں ان کی عیادت کو پہنچا تو وہ زبانی بات چیت کے قابل نہ تھے۔ لکھ لکھ کر باتیں کر رہے تھے۔ کئی احباب نے ان دنوں میں ان کا خیال رکھا۔ قیصر عالم نے بھی بھاگ دوڑ میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی حالاں کہ وہ خود عارضۂ قلب میں مبتلا تھے۔ جمال بھائی بیماری سے قبل اپنے بیٹے کے پاس امریکا جانے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ وہاں مطالعے کے لیے کتابوں وغیرہ کی چھانٹی کر رہے تھے۔ آدمی منصوبے تو بہت بناتا ہے لیکن ایک منصوبہ اس کے لیے قدرت بھی بنا رہی ہوتی ہے جو آدمی کے منصوبے پر خطِ تنسیخ پھیر کر دکھاتی ہے کہ عالم رنگ و بو میں اس کے ارادے پانی کے بلبلے سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتے۔

اب جب کہ جمال بھائی کی موت کو اتنا عرصہ گزر گیا ہے لیکن مجھے ان کے چہرہ نہیں بھولتا، نتھنوں سے نلکی لگی ہوئی تھی، میں نے سلام کیا تو پہچان لیا اور سر کے اشارے سے جواب دیا۔ مجھے یقین تھا کہ وہ صحت مند ہو کر گھر واپس آ جائیں گے اور پھر وہی محفلیں ہوں گی، روایت اور جدیدیت کی بحثیں ہوں گی۔ ڈاکٹر منظور احمد یا محمد علی صدیقی کے کسی مضمون کا جواب لکھنے کی تیاریاں کر رہے ہوں گے لیکن چند دنوں بعد ہی ایک شام جو بہت ویران اور اداس سی تھی، شاہنواز فاروقی نے موبائل فون پہ مجھے یہ اطلاع دی کہ جمال بھائی دنیا میں نہیں رہے۔ مغرب کے بعد ان کی نماز جنازہ ہو گی۔ میں اور فراست جب ان کے گھر کے لیے نکلے تو سٹرک پر ٹریفک کے ازدحام نے ہمارا راستہ روک لیا۔ بڑی مشکلوں سے نماز عشاء کے وقت ان کے گھر پہنچے، گاڑیوں اور لوگوں کا ہجوم تھا۔

سجاد میر نے کان میں سرگوشی کی، ’’تم لوگوں ہی کا انتظار تھا‘‘۔ ان کے گھر کی قریبی مسجد میں نماز جنازہ ادا کی گئی۔ آخری دیدار کے لیے میں لوگوں کو چیرتا ہوا آگے بڑھا اور جھکا تو کیا دیکھا کہ وہ گہری نیند سو رہے ہیں، دنیا وما فیہا سے بے خبر۔ میرا بہت جی چاہا کہ جھک کے ان کا سرد ماتھا چوم لوں لیکن جھجک گیا کہ لوگ کیا سوچیں گے۔

قبرستان کے اندھیرے میں پیٹرومکس کی روشنیوں نے عجیب پُراسرار سا ماحول پیدا کر رکھا تھا۔ قبر تیار کر کے احتیاط سے جمال بھائی کی میّت کو ننگی زمین کے سینے پر لٹا دیا گیا او رپھر پتھریلے سل سے اس کا منہ بند کر کے اس پر منوں مٹی ڈال دی گئی۔ چند مٹھّیاں مٹی میں نے بھی ڈالیں اور میرا دل بھر آیا۔ یہ دنیا جمال بھائی سے خالی ہو گئی۔ ایک گوشئہ علم ہمیشہ کے لیے ویران ہو گیا۔ میں نے دعا کی، یا اللہ ۔۔۔۔ یہ ٹھیک ہے کہ جمال بھائی نماز نہیں پڑھتے تھے لیکن انہوں نے تیرے دین اور اس کے معتقدات کی حفاظت کے لیے اپنے قلم کو مصروف جہاد رکھا۔ یہ بھی تو ایک عبادت ہے سو تو ان کی خطائوں کو بخش دے اور ان کی روح کو ابدی سکون عطا فرما۔ مجھے لگا کہ میری دعا مستجاب ہو گئی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: