بڑھاپے اور تنہائی کی خزاں رسیدگی —— سلمان باسط

0

چند روز قبل ایک ایسی جگہ جانے کا اتفاق ہوا جہاں وہ ضعیف، لاچار اور بیمار لوگ رہتے ہیں جن کے پاس پیسہ تو اتنا ہے کہ وہ اپنی رہائش، خوراک، دیکھ بھال اور دیگر ضروریات کے لیے ساڑھے تین ہزار ڈالر ماہانہ ادا کر سکتے ہیں لیکن اس اولاد کا قرب، لمس اور ساتھ نصیب نہیں جس کو کامیابی کے ساتویں آسمان تک پہنچانے کے لیے ان لوگوں نے اپنا سب کچھ تج دیا۔ یہ رہائش ہر اعتبار سے پرآسائش ہے۔ بہترین، آرام دہ اور ہر سہولت سے آراستہ کمرے، بہت اچھا کھانا، ایکسرسائز کے لیے معاونین، تفریح کے لیے ہر طرح کے لوازمات، چوبیس گھنٹے دیکھ بھال کے لیے ڈاکٹرز، نرسیں اور دیگر مستعد عملہ۔ وہ سب ہے جس کی ایک شخص زندگی میں خواہش کر سکتا ہے لیکن ان سب کے چہروں پر فسردگی، تنہائی، کسک، اکتاہٹ اور درد کی تحریریں واضح طور پر پڑھی جا سکتی ہیں۔ اس جگہ قیام کے لیے اتنی زیادہ رقم ادا کرنے کے بعد بھی یہ لوگ کسی ایسے شخص کو مزید رقم ادا کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں جو دن میں چند گھنٹے ان کے ساتھ گزارے۔ ان سے بات کرے تاکہ ان کو اپنے زندہ رہنے اور زندگی کے تحرک کا احساس ہو سکے۔

میرے پاس ان دنوں گزارنے کے لیے چونکہ وافر وقت ہے سو میں نے رضاکارانہ ایک صاحب کے ساتھ اپنی سہولت سے کچھ وقت گزارنے کا فیصلہ کیا۔ وہ صاحب اس بات پر شدید حیران ہوئے کہ میں ان کی پیشکش کے باوجود اپنا وقت انہیں دینے کے لیے کوئی معاوضہ نہیں لے رہا۔ وہ امریکہ جیسے ملک میں اس تصور سے بھی نا آشنا تھے کہ کوئی اتنی دور سے اپنی گاڑی ڈرائیو کر کےان کے پاس دن میں کچھ وقت گزارے اور وہ بھی بلامعاوضہ۔ وہ اس سکون سے واقف نہیں جو اپنے والدین سے محروم ہو جانے والے ایک غریب الدیار کو ان بزرگوار کے چہرے پر مسرت اور اطمینان دیکھ کر مل رہا ہے۔

ان صاحب کے علاوہ اس بلڈنگ میں بسنے والےسبھی مرد و زن سفیدفام ہیں۔ اجے کمار 1960 میں بھارت سے ملازمت کے سلسلے میں امریکہ آئے اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ بے تحاشہ پیسہ کمایا۔ آسائشیں خریدیں۔ عمر ڈھلوان پر لُڑھکنے لگی تو وقت کی تیز رفتاری کے ساتھ دوڑنے والی اولاد نے والد کے ساتھ آہستہ روی سے چلنے سے انکار کر دیا۔ایک بیٹے اور بیٹی کو دولت کمانے اور آگے بڑھنے کی دُھن میں اتنی فرصت نہیں کہ وہ بوڑھے اور بیمار باپ کو ساتھ رکھنا تو درکنار، تواتر سے مل بھی سکیں۔ ان کا بایاں بازو اور بائیں ٹانگ مفلوج ہے اور کسی کی مدد کے بغیر حرکت بھی ممکن نہیں۔ بیٹا واشنگٹن ڈی سی میں رہتا ہے اور کبھی کبھار چند ثانیوں کے لیے فون کر کے بری الذمہ ہو جاتا ہے جب کہ نیویارک میں مقیم بیٹی کو اتنی بھی فرصت نہیں۔ بیوی طویل عرصہ پہلے جدائی کا داغ دے چکی۔ اجے کمار مشی گن کے ایک پوش علاقے میں ایک شاندار محل نما مکان کے مالک ہونے کے باوجود اس رہائش میں خطیر رقم ادا کر کے رہنے پر مجبور ہیں۔ وہ اپنے وطن کو یاد کر تے ہیں۔ اپنی جنم بھومی الہ باد کے نام سے ان کی آنکھوں میں چمک تنہا نہیں آتی، ساتھ آنسو بھی لاتی ہے۔ بھرپور زندگی گزارنے والے اجے کمار کو اپنے ایک دوست قاضی قیصرالاسلام کی شدت سےیاد آتی ہےجو 1947 میں ہجرت کر کے کراچی چلے گئے تھےاور جن سے بعد میں کبھی رابطہ نہ ہو سکا۔ بے قرار ہو کر مجھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ میں اس بچھڑے دوست کو کسی طرح تلاش کر دوں۔ ہماری پاک بھارت دوستی خوب جمی ہے لیکن میں نے کل جب انہیں بتایا کہ میں کچھ عرصے کے لیے پاکستان جا رہا ہوں تو ان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ میں اس خزاں رسیدہ شجر کو اس کیفیت میں دیکھ کر ملول ہو گیا۔ ایک اجنبی سے محض چند روز میں اتنا مانوس ہو جانے والا یہ شخص اس کے جانے پر اتنا آزردہ ہو رہا ہے تو اپنی سگی اولاد کے ہجر میں کیسے کیسے تڑپتا ہوگا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: