مشتاق احمد یوسفی: ’’کچھ یادیں، کچھ باتیں‘‘ ——– نعیم الرحمٰن

0

جہلم بک کارنر نے حالیہ برسوں میں اردو ادب کی شاہکار نئی کتب اور کئی برسوں سے ناپید منفرد کتابوں کے نئے ایڈیشن شائع کئے۔ ادارے نے گذشتہ سال اردو کے سب سے منفرد ادیب، دانشور اور سابق بیورو کریٹ مختار مسعود کی رحلت کے کچھ ہی روز بعد ان کی یادوں اور باتوں سے مزین شاندار کتاب شائع کی تھی۔ جس میں مختار مسعود کے بارے میں خاکے، سوانح اور کتابوں کے اقتباسات شامل تھے۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے اردو ادب کے ہر دور کے سب سے بڑے مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کے انتقال کے بھی صرف ایک ماہ بعد امر شاہد نے ’’مشتاق احمد یوسفی، کچھ یادیں اور کچھ باتیں‘‘ کے عنوان سے ایک دلکش گلدستہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا۔ بڑے سائز کے پانچ سو چھہتر صفحات کی اس بے مثال کتاب کی قیمت پندرہ سو روپے مناسب ہے۔ ناشر سے درخواست ہے کہ دورِ حاضر کے افسانہ و ناول نگار انتظار حسین اور منفرد ناول نگار عبداللہ حسین اور بے مثل محقق جمیل جالبی کے بارے میں بھی ایسی کتب ترتیب دینے پر توجہ دیں۔

کتاب کا انتساب علی گڑھ یونیورسٹی کے دو باکمال نثر نگار مشتاق احمد یوسفی اور مختار مسعود کے نام ہے۔

گئے زمانے میں زندہ ہیں یہ جو آج کے لوگ
یہی تو لوگ ہیں یار و مرے مزاج کے لوگ

ابتدائی بتیس صفحات میں مشتاق احمد یوسفی کے کئی عمدہ اور یادگار تصاویر دی گئی ہیں۔ جو قارئین کے لیے کسی تحفہ سے کم نہیں۔ تصاویر کے درمیان ڈاکٹر اسلم فرخی مرحوم کی یوسفی صاحب کی اہلیہ ادریس فاطمہ کے بارے میں ایک یادگار تحریر ہے۔ لکھتے ہیں کہ

بارے بیگم کا کچھ بیاں ہو جائے
خامہ ابر گہر فشاں ہو جائے

بیگم ادریس فاطمہ صحیح معنوں میں یوسفی صاحب کی رفیقِ حیات تھیں۔ یوسفی صاحب اور ان کی بیگم کو فلمی اصطلاح میں ہنسوں کا جوڑا کہنا چاہئے۔ ایک دوسرے کے سنگی ساتھی، متوالے، ایک دوسرے پر فدا۔ یوسفی صاحب کسی محفل، جلسے، تقریب میں بیگم کے بغیر شریک نہیں ہوتے تھے۔ کیا دل نواز رفاقت تھی۔ نجانے کس کی نظر لگ گئی۔ بیگم یوسفی بیمار پڑ گئیں اور ایسی بیمار پڑیں کہ بس اور آخر ساری نیک بی بیوں کی طرح یوسفی صاحب کو چھوڑ کر چلی گئیں۔ یوسفی صاحب اب محفلوں میں تنہا نظر آتے ہیں تو اداسی کا احساس ہوتا ہے۔ اب یہی اداسی ان کی رفیقِ حیات ہے۔ لیکن اس اداسی کے باوجود کوئی فقرہ، کوئی جملہ ایسا کہہ دیتے ہیں کہ ماضی کے یوسفی کی بازیافت ہو جاتی ہے۔

’’زبانِ یارِ من یوسفی‘‘ کے عنوان سے دیباچہ میں امر شاہد لکھتے ہیں کہ

’’ ہم جیسوں کے لیے مطالعہء یوسفی خود پر کئے احسان کے مترادف ہے۔ اسی لیے تو ہم قبلہ والدِ گرامی، ناشر و ادیب ’’شاہد حمید‘‘ کے شکر گزار ہیں جنہوں نے کم عمری میں ہی مشتاق احمد یوسفی اور مختار مسعود کی کتابیں تھما دیں۔ اُن کتابوں سے متعدد اقتباسات ذہن میں محفوظ کرتے اور احباب کو مزے لے لے کر سناتے۔ پوری محفل کو ہر فقرے پر غور کرنا پڑتا کہ اس بات میں کون کون سے خزانے پوشیدہ ہیں۔ پھر ہوا یوں کہ یوسفی صاحب کی دی ہوئی بہت سی دلچسپ اصطلاحات ہماری گفتگو کا حصہ بن گئیں۔ کتاب سے پہلے مضمون لکھنے بیٹھے تو یوسفی ہی کی بگاڑی ہوئی ضرب الامثال کی طرز پر یہ عنوان دے ڈالا۔ ’’زبانِ یارِ من یوسفی۔ ‘‘

گویا یہ لکھ کر امر شاہد نے مشتاق احمد یوسفی کے طرزِ تحریر اور اسلوب کے بارے میں دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ پھر مضمون کے آخر میں کیا سچا جملہ لکھا ہے۔ ’’ملا حظہ کیجیے، یوسفی صاحب کے مرنے بعد بھی عہدِ یوسفی کیسے باقی بلکہ لافانی ہے!!‘‘

کتاب کے چھ ابواب ہیں۔ جن میں پہلا زندگی نامہ ہے۔ جس میں ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے مشتاق احمد یوسفی کی سوانح نو عمری ان کی کتابوں ہی سے کشید کی ہے۔ جبکہ طارق حبیب نے شخصی اور ادبی سوانح تحریر کی ہیں۔ اشفاق احمد ورک اپنے مضمون میں یوسفی صاحب کی زبانی ہی بیان کرتے ہیں کہ

’’اس صدی کی تیسری دہائی میں ایک خاتون نے جو اردو میں معمولی شدبد رکھتی تھیں، اس زمانے کا مقبول ناول ’’شوکت آرا بیگم‘‘ پڑھا جس کی ہیروئن کا نام شوکت آرا اور معاون کردار کا نام فردوس تھا۔ ان کے جب بیٹیاں ہوئیں تو دونوں کے یہی نام رکھے گئے۔ ایک کردار کا نام ادریس اور دوسرے خدائی خوار کا اچھن تھا۔ یہ دونوں انہوں نے اپنے چھوٹے بیٹے کو بطور نام اور عرفیت بخش دیے۔ بچے کل چار دستیاب تھے۔ جب کہ ناول میں ہیرو کو چھوڑ کر، ابھی ایک اور اہم کردار پیارے میاں نامی ولن کا باقی رہ گیا تھا۔ چنانچہ ان دونوں ناموں، دوہرے رول کا بوجھ بڑے بیٹے کو اٹھانا پڑا جس کا نام ہیرو کے نام پر مشتاق احمد رکھا گیا تھا، یہ سادہ لوح خاتون میری ماں تھی۔ بحمد اللہ ناول کی پوری کاسٹ، باستثنائے شوکت آرا، جس کا طفولیت ہی میں انتقال ہو گیا تھا، زندہ سلامت ہے۔ والدہ کی بڑی خواہش تھی کہ میں ڈاکٹر بنوں اور عرب جا کر بدوؤں کا مفت علاج کروں، اس لیے کے ناول کے ہیرو نے یہی کیا تھا۔ مولا کا بڑا کرم ہے کہ ڈاکٹر نہ بن سکا ورنہ اتنی خراب صحت رکھنے والے ڈاکٹر کے پاس کون پھٹکتا۔‘‘

طارق حبیب صاحب مشتاق احمد یوسفی کی زندگی ہی میں ’’یوسفیات ‘‘ کے نام سے ان کے فن اور شخصیت پر کتاب تحریر کر چکے ہیں۔ جس میں یوسفی صاحب کی چار کتابوں سے جملے اور پورے پیرے اڑا کر ڈاکٹر محمد یونس بٹ کی کئی کتابوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ’’شخصی اور ادبی سوانح‘‘ میں یوسفی صاحب کے خاندان اور اجداد کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں۔ انہوں نے مشتاق احمد یوسفی کی تاریخ پیدائش پر بحث کے ذریعے بھی روشنی ڈالی ہے۔ غرض دونوں مضامین صاحبِ کتاب کے بارے میں کافی معلومات افزا ہیں اور قاری کو ان کے ذریعے یوسفی صاحب کے بارے میں کئی نئی باتوں کا علم ہوتا ہے۔

دوسرا باب ’’سوانحی خاکے اور مضامین‘‘ ہے۔ جس میں شان الحق حقی، مجتبٰی حسین، سید ضمیر جعفری، ڈاکٹر محمد احسن فاروقی، احمد جمال پاشا، مجنوں گور کھپوری، ڈاکٹر اسلم فرخی اور رضا علی عابدی سمیت اکیس ادیبوں کے مشتاق احمد یوسفی کی زندگی میں ان کی شخصیت اور فن پر لکھے مضامین اور خاکے شامل ہیں۔ احمد جمال پاشا، مشتاق احمد یوسفی کی مزاح نگاری پر مضمون میں ان کی مختلف تحریروں کے نمونے درج کرتے ہیں۔ اب چارپائی کے بارے میں سنیے۔

’’چارپائی جس پر دن بھر شطرنج یارمی کی پھڑ جمی اور جو شام کو دسترخوان بچھا کے کھانے کی میز بنائی گئی، یہ وہی چارپائی ہے جس کی سیڑھی بنا کر سگھڑ بیویاں مکڑی کے جالے اور لڑکے چڑیوں کے گھونسلے اتارتے ہیں۔ اسی چارپائی کو وقتِ ضرورت پٹیوں سے بانس باندھ کر اسٹریچر بنا لیتے ہیں اور بجوگ پڑ جائے تو انہیں بانسوں سے ایک دوسرے کو اسٹریچر کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ اسی پر بیٹھ کر مولوی صاحب قمچی کے ذریعے اخلاقیات کے بنیادی اصول ذہن نشین کر آتے ہیں۔ ‘‘

ڈاکٹر اسلم فرخی دبئی میں منعقدہ جشن مشتاق احمد یوسفی کے صدارتی خطبے میں کہتے ہیں کہ

’’صاحبو! اگر میں محمد حسین آزاد ہوتا تو یہ خطبہ یُوں شروع ہوتا۔ ڈنکا بچتے ہی شہرتِ عام اور بقائے دوام کے دربار کے سارے دروازے ایک ساتھ کھل گئے۔ شاہانِ ذی وقار، طالع آزمایان کا مگار، جوق در جوق اندر داخل ہونے لگے۔ ادب و شعر کے دروازے پر بڑی ریل پیل اور دھکا پیل تھی۔ اتنے میں چار کہار ایک سبک، خوش نما، طرح دار ہو ادار کاندھوں پر اٹھائے نمودار ہوئے۔ ہوادار بسم اللہ کہہ کر دروازے کے سامنے رکھ دیا۔ دروازے پر مرزا فرحت اللہ بیگ، پطرس بخاری، ڈاکٹر شفیق الرحمٰن اور ابن انشا چشم براہ تھے۔ چاروں پیشوائی کے لیے آگے آئے۔ طنز و مزاح کے ایوان عالی شان کی مسندز رنگار پر بٹھا دیا۔ سواروں نے مسند کے اردگرد چراغ تلے، خاکم بدہن، زرگرشت اور آبِ گم کے پھر یرے لہرا دیے۔ معلوم ہوا کہ یہ سنجیدہ اور برد بار، مرد عالی وقار، مسکراہٹیں بانٹنے اور بے راہ معاشرے کی ظلمت میں خوش مذاقی کی پھلجھڑیاں چھوڑنے والے محرمِ آشوبِ آگہی مشتاق احمد یوسفی ہیں۔ یوسفی کے آتے ہی پیراہنِ یوسفی کی خوشبو سے سارا دربار مہک اُٹھا۔ ‘‘

کیا دلکش اور دلربا انداز سے اسلم فرخی صاحب نے مشتاق احمد یوسفی کے فن کو خراج ِ تحسین پیش کیا ہے، سبحان اللہ۔ سب مضامین کے اقتباسات کی گنجائش کالم میں نہیں ہے۔

تیسرا باب ’’الوداع یوسفی صاحب‘‘ مرحوم کے فن اور شخصیت کو نامور ادباء، صحافیوں اور دانشوران کی جانب سے خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔ اس باب میں اٹھائیس نامور ادباء، صحافی اور دانشوران کے یوسفی صاحب کے فن اور شخصیت کے بارے میں مختلف اخبارات کو جرائد میں شائع شدہ کالم اور مضامین کو جگہ دی گئی ہے۔ جبکہ انتیس مضامین کے اقتباسات بھی شامل ہیں۔ معروف براڈ کاسٹر اور ادیب رضا علی عابدی اپنے مضمون ’’وضع داری، یوسفی صاحب پر ختم تھی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ

’’دنیا یوسفی صاحب کو ان کی بے مثال تحریروں سے یاد رکھے گی، میں خود کو ان خوش نصیبوں میں شمار کرتا ہوں جنہیں ان کا قرب حاصل ہوا اور جو انہیں ان کی شفقت، رواداری، عنایت اور محبت کے سبب یاد رکھیں گے۔ لندن میں اپنے قیام کے جو دوچار بڑے فائدے یاد رہیں گے ان میں ایک یہ ہے کہ میں نے کئی برس یوسفی صاحب کے قریب رہ کر گزارے، ان کو نزدیک سے دیکھا اور ان کے مشفقانہ برتاؤ سے میں نے کیسے کیسے فیض اٹھائے، میں ہی جانتا ہوں۔‘‘

اس باب کے دوسرے حصے میں شعراء کے منظوم خراجِ عقیدت کو شامل کیا گیا ہے۔ جس میں پندرہ شعراء کے منظوم خراجِ تحسین شامل ہیں۔ عقیل عبا س جعفری نے کیا خوب کہا ہے۔

لفظ ملتے ہی نہیں شایانِ شان یوسفی
اِک جہانِ لطف و حیرت ہے جہانِ یوسفی
یوسفی کے عہد میں اب سانس لیتا ہے مزاح
سر پہ ہے اردو ادب کے سائبانِ یوسفی
نہ تھا کوئی ان سے پہلے نہ ہے کوئی ان کے بعد
ثبت ہے اردو زباں پہ اب نشانِ یوسفی

کتاب کو چوتھا باب ’’نگارشاتِ مشتاق احمد یوسفی‘‘ تحسینِ سخن شناس میں یوسفی صاحب کی کتابوں ’’چراغ تلے‘‘، ’’خاکم بدہن‘‘، ’’زر گزشت‘‘ اور ’’آبِ گم‘‘ پر مظفر علی سید، ڈاکٹر اسلم فرخی، ابن انشا، ڈاکٹر جمیل جالبی، ڈاکٹر ظہیر فتح پوری، ڈاکٹر محمد علی صدیقی، امجد اسلام امجد، پروفیسر آل احمد سرور، احمد ندیم قاسمی اور محمدخالد اختر کے مضامین ہیں۔ جن میں یوسفی صاحب کے فن کی تفہیم بہت خوبی سے کی گئی ہے۔

پانچواں باب ’’بزبانِ یوسفی (چراغ تلے سے شامِ شعریاراں تک)‘‘ میں مشتاق احمد یوسفی کی پانچوں تصانیف کے انتساب، فہرست، پیش لفظ اور چمکتے جملے کے عنوان سے ان کتب میں شامل ہمیشہ زندہ رہنے والے فقروں اور جملوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ کتاب کا چھٹا اور آخری باب ’’انٹرویوز، ملاقاتیں‘‘ ہے جس میں شفیع عقیل، آصف فرخی، ماریہ میمن کے یادگار انٹرویوز اور رحمان فارس اور مبشر علی زیدی کی یوسفی صاحب سے یادگار ملاقاتوں کے تذکرے ہیں۔

اس بے مثال کتاب کو مرتب کرنے پر امر شاہد بھرپور داد و تحسین کے مستحق ہیں۔ انہوں نے یادگار کتاب کی ایک اور جلد بھی مرتب کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ جس کا مشتاق احمد یوسفی کے پرستار انتظار کریں گے۔ اس قسم کی کتب اردو ادب کے دیگر ادباء اور شعراء کے بارے میں بھی شائع ہونا چاہئے۔ جہلم بک کارنر نے ایک اچھی روایت کی آغاز کیا ہے۔ اسے جاری رکھنا چاہئے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20