لیاری کا اصل چہرہ —- ڈاکٹر توصیف احمد/ لالہ صحرائی

0

یہ مضمون میری ذاتی تحقیق نہیں بلکہ ڈاکٹر توصیف احمد صاحب کی تحریر ہے جو میرے حساب سے کچھ بے ترتیبی اور الجھے ہوئے اسلوب کا شکار تھی، میرا خیال تھا لیاری کے اس باصلاحیت چہرے کو عوام کے سامنے آنا چاہئے اسلئے ڈاکٹر صاحب کی تحریر مناسب تدوین کیساتھ یہاں پیش کر رہا ہوں۔ لالہ صحرائی


گزشتہ برسوں میں لیاری کا جو چہرہ قومی میڈیا نے دکھایا ہے وہ اس کا اصل چہرہ نہیں تاہم میڈیا بھی وہی کچھ دکھا رہا تھا جو اس دور میں وہاں ہو رہا تھا اور وہ واقعی بہت بھیانک دور تھا۔

کراچی کے خلفشار زدہ سیاسی ماحول میں بھی یہ علاقہ برسوں تک ایک ایسا گلدستہ رہا ہے جہاں سندھی، پنجابی، مہاجر، پٹھان اور بلوچ سب امن و محبت کے ساتھ رہتے تھے، کہیں روہتک کے پٹھان آباد تھے، کہیں میانوالی کے نیازی اور کہیں کچھی میمنوں کی بستیاں تھیں۔

اس دور میں بھی یہ مشہور تھا کہ لیاری منشیات فروشی کا مرکز ہے لیکن دادل، شیرل، کالا ناگ اور شیش ناگ جیسے خطرناک ناموں کے باوجود لیاری آنے جانے میں کبھی کسی کو خوف نہیں آتا تھا، اس کی وجہ یہ کہ عین اسی وقت یہ علاقہ بہت نامور علمی، ادبی، سیاسی اور سماجی لوگوں کا مسکن بھی تھا جن میں درج ذیل قدآور شخصیات شامل ہیں۔

ہردلعزیز ماہر تعلیم پروفیسر علی محمد شاہین، نذیر لغاری صاحب، نثار بلوچ شہید۔
جناب فیض احمد فیض صاحب جب عبداللہ ہارون کالج سے وابستہ تھے تو لیاری کی محفلوں کے بہت دلدادہ تھے۔
سیاست میں سر عبداللہ ہارون، خان بہادر اللہ بخش گبول اور ریشمی تحریک کے مولانا محمد صادق، سابق میئر کراچی عبدالستار افغانی۔
صحافت میں مدیر امت رفیق افضال، روزنامہ حریت کے اسرار عارفی، ایکسپریس کے نادر شاہ عادل، سینئر صحافی علیم الدین پٹھان، اے۔پی۔این۔ایس کے عہدیدار عبدالجبار ملک۔
قانون کے شعبے میں ضیاء اعوان اور رئیس ابراہیم ایڈووکیٹ۔

سماجی شخصیات میں سابق چیف جسٹس سندھ سجاد علی شاہ، سید ظہور شاہ ہاشمی، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری قیصر سجاد جعفری، پی ایم اے کے متعدد بار صدر و سیکرٹری منتخب ہونے والے ڈاکٹر شیر شاہ سید ان کے بھائی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سول ہسپتال پروفیسر ٹیپو سلطان اور تیسرے بھائی سراج الدولہ۔

علم و ادب میں قرآن پاک کا پہلا بلوچی ترجمہ کرنے والے مولانا خیر محمد ندوی، معروف شاعر ن۔م۔دانش، شاعرہ بانل دشیاری، بلوچی گیت نگار ملک شاہ، بلوچ کامیڈین در محمد افریقی جو لیاری کے علاوہ بلوچستان، ایران اور مسقط میں بھی خاصے مقبول تھے۔

کھلاڑیوں میں جان بلوچ جس نے باکسنگ میں سب سے زیادہ میڈل لئے، ملنگ بلوچ، مہراللہ بلوچ اور علی بخش جنہوں نے 92ء میں ممبئی کے گراﺅنڈ پر گولڈ میڈل لیا، علی بخش گیارہ برس تک چمپئن کا اعزاز نبھاتے ہوئے ایشیاء کے بہترین باکسر کہلائے، ان کے شاگرد حسین شان نے بھی اولمپک میں براس میڈل حاصل کیا تھا، فٹبال میں علی نواز بلوچ برطانیہ کی ٹیم کا حصہ تھے، پھر انہوں نے عرب امارات کی ٹیم کی کوچنگ بھی کی، علی نواز بلوچ نے پہلا پرائڈ آف پرفارمنس حاصل کیا یہ اعزاز عمر بلوچ اور مہراللہ لاسی کو بھی ملا۔

لیاری کے افق پر چمکنے والے آج بھی ایسے باصلاحیت افراد موجود ہیں جو ان تمام سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

رمضان بلوچ دو کتابیں لکھ چکے ہیں جن میں، لیاری کی ادھوری کہانی اور لیاری کا مقدمہ شامل ہیں، ان کتابوں میں لیاری کا پس منظر اور اہم سیاسی و سماجی تحریکوں کا بیان ہوا ہے، پھر معروف وکیل وحید نور کا شعری مجموعہ، سکوتِ شب بول پڑا، شائع ہوا ہے جس کا دیباچہ پروفیسر سحر انصاری صاحب نے لکھا ہے۔

علاوہ ازیں بینظیر بھٹو یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی کے طالبعلم عمیر رزاق نے ایک انگریزی رسالے میں لیاری کی سرگرمیوں کو اجاگر کرنے کیلئے کئی مضامین لکھے تھے پھر ان مضامین کو Lyari on the Rise کے نام سے کتابی شکل میں بھی شائع کر دیا ہے۔

اس کتاب پر اپنی آراء میں رمضان بلوچ کہتے ہیں کہ لیاری کا مطلب ہے کلاچی کی بستی جس کے ارتقائی عمل کے نتیجے میں بلآخر کراچی آباد ہوا، لیاری کے لوگوں کو کچھ شکایتیں ضرور ہیں، ان کا سیاسی استحصال بھی ہوا ہے، یہاں کے لوگ غربت میں غیر مستحکم زندگی اور معاشی محرومیوں کا شکار بھی ہیں لیکن میڈیا کی طاقت جس طرح لیاری کو گندا، میلا اور مجرموں کی آماجگاہ قرار دیتا ہے یہ لیاری کا اصل چہرہ نہیں، یہی وجہ ہے کہ نوجوان عمیر اپنا قلم اٹھانے پر مجبور ہوئے۔

لیاری کے فرزند اور لیاری میں قائم ہونے والی پہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اختر بلوچ لکھتے ہیں کہ لیاری میں آرٹ، کلچر، ادب، کھیل، صحافت، موسیقی اور تعلیمی میدانوں میں متعدد تخلیق کاروں نے جنم لیا ہے اسلئے عمیر رزاق نے بجا طور پر اپنی سماجی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے لیاری کو موضوع بنایا ہے۔

معروف وکیل اور شاعر وحید نور لکھتے ہیں کہ لیاری کا ذکر کرتے وقت جرائم پیشہ افراد سے اس کا چہرہ آلودہ کرنے کی بجائے لیاری کے حقیقی فرزندوں پروفیسر علی محمد شاہین، لالہ لعل بخش رند، رحیم بخش آزاد، جدوک بلوچ، یوسف نسقندی، فیض محمد بلوچ، ن۔م۔دانش اور یوسف مستی خان کے کرداروں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔

اس کتاب کے پہلے باب میں عمیر رزاق لکھتے ہیں کہ لیاری کے محلہ شاہ بیگ لائن کے غریب والدین کی بیٹی مریم آسکانی نے دل کے مریضوں کیلئے ایک آلہ تیار کیا ہے جو دل سے ملنے والے غیر معمولی سگنلز کو ریکارڈ کرتا ہے، اسلام آباد میں 2016 میں ہونے والی ایک نمائش میں اس آلے کی تیاری پر مریم آسکانی کو پہلا انعام دیا گیا تھا۔

اسی طرح عاصمہ حیا بلوچ ایک مصورہ ہیں، جن کا پنسل ورک مشہور ہے، لیاری کے علاقے بہار کالونی کی مکین کاملہ رضا نے آغا خان بورڈ سے میٹرک کا امتحان دے کر ملک بھر میں دوسری پوزیشن حاصل کی ہے، سنیئر صحافی نرگس بلوچ کی بیٹی مہوش بلوچ جنہوں نے امریکا میں قانون کی تعلیم حاصل کی تھی انھیں نیویارک کی تمام عدالتوں میں وکالت کی اجازت ملی ہے، ماہرہ احمد میانجی کو ان کی تعلیمی خدمات پر Pakistan Youth Icon کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔

احسان شاہ کو ان کی فلم جاور، جو امن کے بارے میں ہے، اس پر بین الاقوامی ایوارڈ ملا ہے، احسان شاہ او ان کی اہلیہ نازین کی ایک دوسری ٹیلی فلم Prison without wall کی نمائش بینظیر یونیورسٹی آڈیٹوریم لیاری میں ہوئی ہے، نو روز غنی کو امن کی کوششوں پر ایوارڈ ملا ہے، اصیلہ عبدﷲ محمد علی جناح یونیورسٹی کے بزنس مینیجمنٹ کے شعبے میں اعلیٰ نمبر حاصل کرنے پر گولڈ میڈل کی حقدار قرار پائیں ہیں، باکسر امیر علی نے نیشنل چیمپئن شپ کے مقابلوں میں گولڈ میڈل حاصل کیا ہے اور بغدادی کے ایک ورکشاپ میں کام کرنے والے 17 سالہ جاوید بلوچ جسے معروف شخصیتوں کے اسکیچ بنانے میں مہارت حاصل ہے، اس نے میڈم نورجہاں، امیتابھ بچن، اے آر رحمن، اداکار نصیرالدین شاہ اور محترمہ بینظیر بھٹو کے شاندار اسکیچ تیار کئے ہیں۔

عمیر رزاق کہتے ہیں کہ لیاری کے لوگ مجرمانہ کرداروں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے، اس گینگ۔وار کو یہاں کی عوام پر مسلط کیا گیا تھا جس نے یہ سارا مثبت سماجی ماحول تباہ کیا لیکن امن قائم ہونے کے بعد اب تمام مثبت سرگرمیاں پھر سے معمول پر آگئی ہیں، فٹبال کے نائٹ میچز مہینوں تک جاری رہتے ہیں، باکسنگ کے کھیل میں اب مردوں کے علاوہ لڑکیاں بھی عملاً حصہ لے رہی ہیں، لیاری کی اسٹریٹ چلڈرن فٹبال ٹیم کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہو گئی ہے مگر الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا لیاری کا تشخص بحال کرنے کو تیار نہیں، لیاری کے باسیوں کو اب بھی بدنام زمانہ مجرموں سے ہی منسوب کیا جاتا ہے۔

گزشتہ ماہ ستمبر 2019 کے دوران لیاری یونیورسٹی میں دو روزہ ادبی میلے کا بھی انعقاد کیا گیا تھا جس میں جامعات کے سینکڑوں طلباء اور نامور ادبی شخصیات نے شرکت کی اور اس کی سرگرمیوں کو بہت سراہا جن میں تخلیقی کاموں کی نمائش، ادبی مذاکرات، تھیٹر اور سندھی و بلوچی مشاعروں کے ساتھ بلوچ ثقافت کو بھی پیش کیا گیا تھا۔

عمیر رزاق کا خیال ہے کہ لیاری کا تشخص بحال کرنے کیلئے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرنا چاہئے تاکہ قومی میڈیا پر انہیں بھی جگہ ملے ورنہ ناپسندیدہ عناصر اس پیدا ہونے والے خلاء کو پھر سے پر کرنے کی کوشش کریں گے اور قومی میڈیا پھر ان عناصر کی وارداتوں کو اجاگر کرکے لیاری کو بدنام کرے گا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20