شیر آیا والی کہانی اور دینی جماعتوں کے چورن — خرم شہزاد

0

بچپن میں ایک کہانی پڑھتے تھے کہ ایک شخص اپنی بکریاں چرانے کے لیے گاوں سے باہر جاتا تھا۔ ایک بار اسے شرارت سوجھی تو اس نے شیر آیا، شیر آیا کا شور مچایا۔ گاوں دیہات جہاں لوگوں کا زیادہ دارومدار بھیڑ بکریوں پر ہواور ایک دوسرے کی مدد کا جذبہ بھی وہاں پورے گاوں کا مدد کے لیے پہنچ جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ جب گاوں والے پہنچے تو چرواہا آرام سے ایک درخت کے سائے میں بیٹھا ہنس رہا تھا۔ لوگ برا بھلا کہتے ہوئے واپس چلے گئے۔ کچھ عرصے بعد اس نے ایک روز دوبارہ یہی شرارت کی لیکن اس بار پہلے سے کچھ کم لوگ مدد کو بھاگے اور برا بھلا کہتے ہوئے واپس آئے کہ چرواہے نے ایک بات پھر سب کو بیوقوف بنایا تھا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ جب تیسری بار گاوں والوں نے شیر آیا کی آواز سنی تو کوئی بھی مدد کو نہ گیا۔ شام کو وہ چرواہا لٹا پٹا واپس آیا اور رو نے لگا کہ شیر آیا تھا، اس نے مدد کے لیے پکارا لیکن کوئی مدد کو نہ آیا۔ گاوں والوں نے کہا کہ اگر تم پہلے شرارت نہ کرتے تو ہمیں یقین ہوتا کہ واقعی تم مشکل میں ہو، لیکن تمہاری پرانی شرارتوں نے تمہیں بے اعتبار کر دیا اور آج تم نے اپنی شرارتوں کا انجام دیکھ لیا ہے۔

مجھے یہ کہانی مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کے اعلان سے یاد آئی۔ جس طرح بلوچستان کے سیاست دانوں کے پاس قومی اہمیت کا کوئی موضوع سیاست کرنے کے لیے نہیں ہوتا بالکل ایسے ہی پاکستان میں دینی جماعتوں کے پاس قومی سطح پر سیاست کے لیے کوئی موضوع نہیں اور انہوں نے اپنے آپ کو بھی ایک دائرے میں قید رکھا ہوا ہے جس کی وجہ سے کسی قومی اہمیت کے موضوع پر کوئی ان سے رائے لینے کی زحمت بھی نہیں کرتا۔ ایسے میں ان لوگوں کے پاس سیاست کرنے اور چمکانے کے لیے اسلام خطرے میں ہے، اسلام نافذ نہیں ہو رہا، اس کے لیے کوششیں نہیں ہو رہیں، مدارس خطرے میں ہیں، نصاب غیر اسلامی ہو گیا ہے، امریکہ اور اسرائیل کے سامنے ہمارے حکمران لیٹ گئے ہیں، جیسے موضوعات ہی رہ جاتے ہیں اور ان موضوعات پر دئیے جانے والے بیانات اب تین چار دہائیوں کے بعد یکسانیت کا شکار ہونے لگے ہیں۔ لگتا ہے کہ کوئی رٹا ہوا سبق دوبارہ پڑھ رہے ہیں اور جب آپ دلیل مانگتے ہیں تو وہ آپ کے پڑھے لکھے ہونے پر مشکوک ہو جاتے ہیں کہ آپ چڑھے سورج کو ماننے سے انکاری ہیں۔

ہماری دینی جماعتوں کا پہلا بڑا شیر سن اکہتر کے الیکشن کے بعد آیا جب ہارنے والوں کے اتحاد نے دھاندلی کے شور سے عوام کو متوجہ کرنے کی کوشش کی لیکن بھٹو صاحب کی شہرت کے آگے انہیں کوئی پوچھنے نہ آیا تو راتوں رات دھاندلی کا شور ملک بھر میں نظام مصطفی نافذ کرنے میں بدل دیا گیا۔ لوگ باہر نکلے، حالات خراب ہوئے، معاہدے ہوئے، ملک تقسیم ہوا اور ہر کوئی اپنا حصہ بقدر جثہ لے کر نکلتا چلا گیا۔ ملک ٹوٹ گیا، اسلام اور نظام مصطفی وہیں کا وہیں رہ گیاالبتہ باہر نکلنے والے بہت سے لوگ کئی ماہ تک ٹکور کرتے اور زخموں پر دوائیں لگاتے رہ گئے۔ ضیا صاحب کے دور میں یہ لوگ کوئی شیر نہ بلا سکے کیونکہ ضیا صاحب ان سے بڑے شیر کو اپنی جیب میں لیے پھرتے تھے لیکن ان کے بعد گاہے بگائے دینی جماعتوں کو شیر بلانے کا چسکا پڑ گیا۔ کوئی فیض آباد میں شیر بلا رہا تھا تو دوسرے نے دیکھا دیکھی داتا دربار کا علاقہ بند کر کے شیر بلانے کی کوشش شروع کر دی، کسی کو ڈی چوک میں مجمع لگانے کی جگہ ملی تو اس نے غنیمت جانا اور آواز لگانے لگا، پھر یوں لگنے گا کہ کوئی ڈی چوک میں دھرنا دے کر اور آبپارہ مارکیٹ بند کر کے اسلام بچانے کے لیے کوشاں ہو گیا تو کوئی فیض آباد بند کرکے مدارس بچانے کی کوشش کرنے لگا۔ کوئی اسکول کے بچوں کو سردی اور بارش میں بھگو کر اسلامی احکام کی پاسداری کو یقینی بنانے کی گارنٹی لینے پہنچا ہوا تھا۔ یہ سب اس تواتر سے ہوا کہ یہ کہانیاں بچوں کو بھی زبانی یاد ہو گئیں کہ فلاں فلاں موسم میں فلاں فلاں اسلام بچانے نکلے گا اور کتنے دنوں بعد اپنا دامن بچا کر نکل جائے گا۔ آپ ان تمام دھرنوں، ہڑتالوں، مظاہروں اور جلسوں کے بعد کے اعلانیہ کو دیکھ لیں یا معاہدات پر نظر ڈالیں، عجب سی حیرت میں اپنی عقل پر افسوس ہوتا ہے جو نہیں بتا سکتی کہ کس شق کے تحت اسلام خطرے سے باہر آ گیا اور مدارس میں مداخلت ختم ہو گئی۔ کس شق کے بعد دینی طبقے کے دکانداروں نے بینکوں سے لین دین ختم کرتے ہوئے ہر طرح کا منافع لینے سے انکار کر دیا ہے۔

ہمارے ایک جاننے والے محکمہ تعلیم کی جائزہ ٹیم کا حصہ بنے تو ایک بار ہمارے پوچھنے پر بتانے لگے کہ کسی سکول کا دورہ کرنے سے پہلے ہماری جیب میں درجن بھر پوائنٹس موجود ہوتے ہیں جنہیں ہم کسی بھی سکول کا دورہ کئے بغیر بھی لکھ دیں تو کوئی اعتراض نہ کرئے گا مثلا سکول میں صفائی کا نظام مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے، رزلٹ غیر تسلی بخش ہیں، اساتذہ کو مزید محنت کی ضرورت ہے، داخلے انتہائی کم ہیں جنہیں مزید بڑھانے کی ضرورت ہے، اساتذہ کی چھٹیاں اور پوسٹنگ ضرورت سے زائد ہیں جس کی وجہ سے معیار تعلیم متاثر ہو رہا ہے اسے کم کرنے کی ضرورت ہے، آفس ریکارڈ مزید بہتری اور توجہ کا طالب ہے وغیرہ وغیرہ۔ پاکستان میں بھی ہر کوئی ایسی ہی کسی ٹیم کا حصہ ہے کہ میڈیا والے کہنا شروع کر دیں کہ حکومت میڈیا پر پابندیاں لگا رہی ہے اور غیر اعلانیہ سنسر شپ قائم کر دی گئی ہے، بھلا کس نے ثبوت مانگنے ہیں، یقین ہی کریں گے۔ پاکستان میں مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے اور غریب آدمی کی پہنچ روٹی تک بھی مشکل ہو چکی ہے، اس بات کو پچھلے دو تین عشروں کی ہر حکومت کے دور میں دہرایا گیا کہ اب تو جملے بھی زبانی یاد ہو گئے۔ بالکل اسی طرح دینی سیاست دانوں کی طرف سے اسلام اس وقت خطرے میں آجاتا ہے جب انہیں حکومت میں حصہ نہ مل رہا ہو۔ مدارس اس وقت امریکی مفادات کی وجہ سے تختہ مشق بن رہے ہوتے ہیں جب انہیں مزید کچھ طلب ہو اور جیسے ہی اہل اقتدار کوئی ایک وزارت اور کمیٹی ان کے سپرد کر دیتے ہیں، اسلام خطرے سے باہر آ جاتا ہے اور مدارس پر سے حکومتی کنٹرول ختم ہو جاتا ہے۔ ہمارا نصاب بھی اسلامی ہو جاتا ہے اور حکمران بھی عادل ثابت ہو جاتے ہیں اور راوی کو صرف چین لکھنے کی اجازت مل جاتی ہے۔ آج دنیا میں جگہ جگہ مسلمان ذلیل و خوار ہو رہے ہیں لیکن کوئی ان کی مدد کو صرف اس لیے نہیں جا رہا کہ ہم نے بہت عرصہ امت مسلمہ کا چورن فروخت کیا ہے اور اب لوگ اس طرح کی باتوں سے بھر چکے ہیں۔

دنیا کے لیے کوشش کرنا کوئی بری بات نہیں لیکن اپنی دنیا خریدنے کے لیے مذہب کو چورن کی طرح بیچنا یقینا باعث افسوس ہے اور مذہبی راہنماوں کو سوچنا ہو گا کہ وہ کب تک اسلام کو خطرے میں رکھ کر اقتدار کے مزے لوٹنا چاہ رہے ہیں۔ کب تک مدارس کے نام پر کمیٹیوں کی سربراہی کے سودے کریں گے اور کب تک اصل دین داروں کو دنیا داروں کے سامنے شرمندہ کرنے کا سبب بنیں گے۔ کب تک وہ شیر آیا شیر آیا کا شور مچائیں گے کہ جس روز شیر آ جاتا ہے، اس روز صرف افسوس باقی رہ جاتا ہے جس کی کسی دوسرے کو کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20