آیئے ملتے ہیں پہلوان صاحب سے —- اظہر عزمی

0

سادگی میں چھپا ہے کیا اعلی ظرف انسان

(ایک اشتہاری کی باتیں)

اہم ہونے کا وہم ہر کس و ناکس کو ہے لیکن مرتے مرتے وہ اس عارضہ میں مبتلا نہیں ہوئے۔ وہ تو عام سے بھی عام تھے۔ پیدائش میر کی دلی میں ہوئی۔تعلیم لے نہ پائے۔ لڑکپن میں اکھاڑے میں جا پہنچے اور پھر حکیم اجمل کے شاگرد ہو گئے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ شاگرد نہ ہوئے ہوں گے بلکہ ادویات کی تیاری کے شعبہ سے منسلک ہوں گے لیکن پہلوان صاحب کا دعوی شاگردی کا ہی رہا۔ اب بتائیے پہلوان صاحب کے کہے کا کون انکاری ہو۔ 1947 میں ہجرت کا دکھ سہا اور مصحفی کے اس شعر کی تفسیر بن کر پاکستان آگئے۔

دلی میں اپنا تھا جو کچھ اسباب رہ گیا
ایک دل کو لے کے ائے ہیں اس سرزمیں سے ہم

جب والد صاحب کوثر سلطان پوری نے 1976 میں نئے علاقہ میں اپنا مکان بنوایا تو پہلوان صاحب کو اپنے سامنے والے مکان میں موجود پایا۔ پہلوان صاحب اس وقت بھی 55-60 کے ہوں گے۔روز صبح اپنی اہلیہ کے ہاتھ کا سلا کپڑے کا تھیلا لے کر شہر جانے کے لئے نکلتے (ایک بات کی وضاحت کردوں کہ ہمارے بچپن اور لڑکپن میں شہر سے مراد صدر ٹاور اور اس کے آس پاس کا علاقہ شہر کہلاتا تھا۔) اور رات گئے تھکے ہارے واپس آتے۔

پہلوان صاحب تنومند تھے مگر جسم جھولنا شروع ہوگیا تھا۔ چلتے تو ایک پیر میں ہلکا سا لنگ یا ٹیڑھا پن محسوس ہوتا۔ پہلوان صاحب کو ہم نے ہمیشہ لنگی اور شلوکہ/بنیان میں دیکھا۔ شہر جاتے تو اوپر سے ایک کرتا ڈال لیتے۔ پیٹ خاصا باہر تھا جسے بنیان تو بالکل بھی چھپا نہ پاتی۔ بنیان پیٹ سے اوپر ہوجاتی اور گواہی دیتی کہ یہ چھپنے کا نہیں۔ پہلوان صاحب کے سر پر کونے کونے بال رہ گئے تھے مگر پہلوان صاحب نے بالوں کی اس غربت کو کبھی محسوس نہیں کیا۔ قد درمیانہ سے زرا ذیادہ، رنگت گندمی۔ چہرے پر صاف دلی لکھا تھا۔ناک بہت موٹی تھی۔ ناک اور اوپری لب کے بیچ خاصا فاصلہ تھا۔ اس لئے پہلوان صاحب نے اس جگہ کو کم کرنے کے لئے ایک لکیر کی طرح مونچھ رکھ لی تھی جیسے کہ لکھتے ہوئے کسی اہم بات کو انڈر لائن کر لیا جاتا ہے۔

آپ سوچ رہے ہوں گے پہلوان صاحب کا قصہ میں بھلا کیوں لے کر بیٹھ گیا۔ ایسے تو کتنے لوگ بسوں اور بازاروں میں مل جاتے ہیں جن پر کوئی نظر ڈالنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتا اور میں ہوں کہ ان پر مضمون لکھنے بیٹھ گیا ہوں۔ شاید میرے پاس لکھنے کے لئے شخصیات کم پڑ گئی ہیں۔ ایک بات بتاوں اگر میں نے اپنی زندگی میں کسی کے مرنے پر آرٹیکلز لکھے ہیں تو وہ صرف دو شخصیات ہیں۔ ایک جواں سال شاعر صغیر ملال کے انتقال پر جنگ کے ادبی صفحہ پر شائع ہوا اور دوسرا آرٹیکل میری دھرتی، میرے لوگ کے عنوان سے پہلوان صاحب کی رحلت پر ایک میگزین کو مضموں دیا۔اب آپ سوچ لیں کہ پہلوان صاحب میں تھی وہ خاص بات جو کسی اور پہلوان میں کہاں۔

پہلوان صاحب کی گفتگو شاید ان کی شخصیت کی انفرادیت کا احاطہ نہ کرپائے مگر جو ان کے شخصی اوصاف تھے میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں۔ پہلوان صاحب بالکل بھی پڑھے لکھے نہ تھے، گفتگو میں کبھی لفظی لغزش ہوجاتی جو یقینا قابل توجہ نہ تھی مگر انہیں انسانوں کی پرکھ تھی۔ محلہ داری کیسے نبھانی ہے ؟ کس سے کس طرح بات کرنی ہے؟ بچوں سے گفتگو میں کس حد تک جانا ہے ؟ حفظ مراتب کا پورا خیال رکھتے۔

پہلوان صاحب کے دو لڑکے اور ایک لڑکی تھی اور تینوں شادی شدہ تھے۔ پہلوان صاحب کے گھر سے لڑائی جھگڑا تو دور کی بات کبھی اونچی آواز سنائی نہ دی۔ بیٹی کی شادی ہوئی تو دوپہر میں براتیوں کو کھانا کھلانے کے لئے ہمارا بڑا کمرہ مانگا۔ دو تین گھنٹے کے لئے کمرہ لینا تھا اور جس طرح پہلوان صاحب نے والد سے یہ بات کہی ہے۔میں آپ کو یقین دلا رہا ہوں کہ بڑے سے بڑا صاحب اخلاق اس عجز و انکساری کا مظاہرہ نہیں کر سکتا۔ لفظ ساتھ نہیں دے رہے تھے لیکن چہرے کے تاثراے بھرپور گواہی دے رہے تھے کہ پہلوان صاحب کو یہ معمولی سی بات کہنے میں کتنی دقت ہو رہی ہے۔ ایک تو پہلوان صاحب کمرہ مانگنے والے اور دوسرے ہمارے والد صاحب کمرہ دینے والے ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ مہینہ بھر کے لئے پورا گھر پہلوان صاحب کو دے کر کرائے کے گھر میں شفٹ ہو جائیں۔

پہلوان صاحب جگت کے پہلوان صاحب تھے۔ مجھے کیا پورے محلہ کو ان کا نام معلوم نہ تھا۔مجھ میں ایک بیماری ہے اگر نام پتہ نہ ہو تو خود ہی نام رکھ دیتا ہوں۔ اس لئے میں ان کا نام رکھوں تو محمد نصیر الدین رکھوں گا۔

پہلوان صاحب کے مالی حالات بہت مستحکم نہیں تھے۔ گھر کر بیرونی حصہ پر ایک عرصہ تک پلستر نہ ہوا تھا۔ میں گیٹ بھی نہ تھا بلکہ ترچھا کر کے ایک بڑا تخت بطور گیٹ استعمال ہوتا۔ پہلوان صاحب کے دونوں صاحبزادے بھی زیادہ آمدن نہ رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ پہلوان صاحب کی اہلیہ نے بتایا کہ وہ بس کے کرائے میں محض 5 پیسے بچانے کے لئے دو اسٹاپ پیدل جانے کے بعد بس پکڑتے ہیں۔

پہلوان صاحب سیاست کی معلومات سے لیس رہنے کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ رکھتے۔ پہلوان صاحب مکمل طور پر غیر سیاسی آدمی تھے لیکن سیاست پر دل و جان سے فدا تھے۔ سیاست پر بات کرنے والےکو پان کی طرح چبا جایا کرتے تھے۔ ایک زمانہ میں جب بس میں آنے جانے کی سکت نہ رہی تو گلی کے کونے پر نیم کے درخت کے نیچے بچوں کی ٹافی اور سپاری وغیرہ کا ٹھیلا لگا لیا۔ ٹھیلا کیا چلنا تھا۔ گلی کے فارغ لڑکوں کو ہر وقت نیم کی ٹھنڈی ہوا کھانے کا بہانہ اور پہلوان صاحب کی بھولی بسری باتیں جو کہ زیادہ تر کشتیوں اور کشتوں سے متعلق ہوتیں میسر آنے لگیں۔

یہ 80 کی دھائی کے ابتدائی دو تین سال تھے۔ شہر فرقہ وارانہ کشیدگی کا شکار تھا۔ لیاقت آباد زیادہ متاثر تھا۔ شام میں ہر آفس سے آتے کو روک لیتے اور ہنگاموں کی خبر لیتے اور پھر جو آتا مرچ مصالحہ لگا کر بتاتے۔کوئی تردید کرتا تو کہتے “بھائی میاں، ہمیں کیا خبر تم جیسے ایک بابو صاحب آئے تھے، بتا گئے۔تم تو جانو ہو اخبار پڑھنا تو ہمیں آوئے نہیں ہے”۔ اگر کسی کے ہاتھ میں اخبار دیکھ لیتے تو سمجھیں مصیبت آگئی۔بضد رہتے کہ پڑھ کر سناو۔نہ سناو تو بہت برا مناتے۔ ایک مرتبہ خبر سن لی تو سمجھ لیں وہ شام کو نکلنے والے روزنامہ پہلوان ٹائمز کے ایڈیٹر بن جاتے۔ روک روک کر ایک ایک کو سناتے۔ کوئی تردید کرتا تو فورا اخبار کی ایڈیٹری سے کنارہ کشی اختیار کر کے پھر اپنا جملہ دھراتے “ہمیں تو پتہ نہیں آپ جیسے ایک بابو صاحب سنا گئے ہیں”۔

اب دیکھئے۔ بہت سادگی اور ایمان داری سے سچی سچی باتیں ہو گئیں۔ اب کچھ دلچسپ واقعات کا ذکر ہوجائے۔ پہلوان صاحب کے گھر کے گیٹ والے پورشن میں نہایت اعلی قسم کے آم کے دو درخت لگے تھے سمجھ لیں۔یہ وہ دو طوطے تھے جن میں پہلوان صاحب کی جان تھی۔ اور ہماری جان اس میں تھی کیری کی اسٹیج پر ہی انہیں carry کر لیا جائے۔ پہلوان صاحب کا گھر ہمارے گھر کے سامنے اور انہی کی row میں ان کے گھر سے تیسرا گھر ہمارے چچا کا۔ شدید گرمیوں میں دوپہر کو چچا کے گھر کے باہر لگی ڈمڈم میں کوئی 50 پتھر جمع کر لئے جاتے۔میں اور میرا چھوٹا چچا زاد بھائی ایک نعرہ مار کر ایک ساتھ کیریاں توڑنے کے لئے آم کے درختوں پر پتھراو شروع کردیتے۔ ایک طرف ہم اور دوسری طرف پہلوان صاحب اپنے کمرے سے مادر زاد گالیاں بک رہے ہوتے۔ پتھروں کی وجہ سے باہر تو نکل نہ سکتے تھے۔ اسی دوران چند لمحوں کے لئے وقفہ دے کر کیریاں بھی جمع کرتے۔پہلوان صاحب جیسے ہی وقفہ دیکھکر باہر نکلنے کی کوشش کرتے۔میں بھائی کو اشارہ کرتا کہ کارروائی دوبارہ شروع کرو اور پھر ہماری طرف سے پتھراو ہورہا ہوتا اور پہلوان صاحب کے منہ سے انواع و اقسام کی گالیاں پیش کی جارہی ہوتیں۔

بس اسی شوق میں پھینکے ہیں ہزاروں پتھر
میں تیرا حسن تیرے حسن بیاں تک دیکھوں

مزے کی بات یہ ہوتی کہ پہلوان صاحب ہمیں دیکھ نہ پاتے اس لئے بس اتنا کہتے “بس سالے ایک بار نظر آجائیں”۔ بکرے کی ماں کب تک خیر مناتی ایک دن کسی نے نام لے ہی دیا۔ اب خاموش کارروائیوں کا دن دھاڑے آغاز ہوگیا اور وہ بھی ایسا کہ پہلوان صاحب کو کانوں کان خبر نہ ہوتی۔ ہم نے بہت بڑا بانس لیا۔اس کی ایک سرے پر پر بلیڈ لگایا اور ساتھ ہی نیچے ٹوکری لگا دی۔ دوپہر میں بانس درخت تک جاتا، کیری بلیڈ سے کٹتی اور ہماری ٹوکری می آگرتی۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم اتنی کیریوں کا کرتے کیا۔ گھر والے یہی پوچھتے کہ یہ روز اتنی کیریاں کہاں سے آرہی ہیں تو بھائی یہ کیریاں ایک سبزی والے کو 14آنے فی کلو کے حساب سے بیچ دی جاتیں۔

رمضان میں سحری کے بعد ہم فٹ بال کھیلا کرتے تھے۔ پہلوان صاحب سحری کے بعد گلی کے کونے پر نیم کے درخت کی نیچے آکر سو جاتے۔ لباس وہی شلوکہ/ بنیان اور لنگی۔ ایک دن ہم فٹ بال کھیل رہے تھے کہ پہلوان صاحب کو تقریبا عالم نیند میں چھوٹی رفع حاجت کے لئے گراونڈ کے ساتھ بنی دیوار کی طرف جاتے دیکھا۔ سب آنکھیں پھاڑے پہلوان صاحب کو جاتا دیکھ رہے تھے۔

.کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں حالانکہ کرنے پہلوان صاحب جا رہے تھے۔ پہلوان صاحب نیم خوابیدہ حال میں دیوار تک پہنچے اب چاھا کہ دھوتی کو ادھر ادھر کر کے جھوٹی رفع حاجت کریں مگر یہ کیا؟ پہلوان صاحب لنگی تو پلنگ پر ہی چھوڑ آئے تھے۔ سادگی دیکھیئے اپنی جگہ سے نہیں ہل رہے اور لنگی کی شان میں مغلظات بک رہے ہیں۔

1977 میں پی این اے کی تحریک کے دوران کراچی میں کرفیو لگا تھا۔ ہمارے علاقہ کیونکہ ہنگاموں سے متاثر نہیں تھا اس لئے سختی زیادہ نہ تھی۔ علاقہ مین روڈ سے دور بھی تھا۔ شام کو جب کرفیو کا وقفہ ختم ہوتا تو دس پندرہ منٹ تک لڑکے گراونڈ میں پتنگ وغیرہ اڑا رہے ہوتے۔ ایک دن کرفیو ختم ہوئے دو تین منٹ ہی ہوئے تھے کہ فوجی ٹرک آگیا۔ ابھی محلے کے بڑی عمر کے افراد گلی کے کونے پر تھے۔ سب تیز تیز چلتے ہوئے گھروں میں گھس گئے۔ پہلوان صاحب وزن اور پیر میں ہلکے لنگ کے باعث گھر تک تو پہنچ گئے مگر گھبراہٹ میں گیٹ کی جگہ رکھے تخت سے ترچھا گھسنے کے بجائے سیدھے گھسے۔نتیجہ یہ ہوا کہ پیٹ رستے میں حائل ہو گیا۔ فوجی ٹرک ان کے سامنے سے گذرا تو پہلوان صاحب نے جس بے چارگی اور خوف سے اس ٹرک کو دیکھا وہ منظر ہم نے اپنے گیٹ سے دیکھا۔ ٹرک گذر گیا مگر پھر ایک زمانہ تک یہی ہوتا رہا

کیا وہ ٹرک گذر گیا
ہاں وہ ٹرک گذر گیا

میرے لحاظ سےسب سے دلچسپ واقعہ ہہ ہوا کہ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے گھر کے نمبر کے لئے بنگلہ نمبر لکھ دیا۔ ہمیں شرارت سوجھی اور ہم نے بنگلہ کے بعد دیش کا اضافہ کردیا۔ اب وہ بن گیا بنگلہ دیش نمبر۔ بہت غصہ ہوئے اور مزے کی بات یہ کہ ساری بھڑاس میرے سامنے نکالی۔میں نے بھی یہی کہا کہ جس نے بھی یہ حرکت کی، بہت اوچھی کی ہے۔ بولے “مل جائے تو پھر دیکھنا کیسے پٹخی دیتا ہوں سالے کو چاروں خانے چت کردوں گا” میں نے جواب میں کہا کہ پہلوان صاحب چھٹی کا دودھ یاد دلا دیجے گا۔ میری طرف کچھ دیر دیکھکر بولے ” بھائی میاں ہم ہیں پہلوان۔ یہ دودھ دہی والی مار ہمارا کام نہیں”۔ یہ پہلوان صاحب کی سادہ مزاجی ہی تو تھی جس پر جتنا مسکرایئے کم ہے۔

ان چند مزاحیہ واقعات میں زیادہ تر دخل ان کی سادہ مزاجی کا ہوتا اور جو کچھ ہم کرتے اس میں تفریح کا۔ پہلوان صاحب نے آخری عمر تک محنت کی۔کبھی اپنی اولاد کا احسان نہ لیا۔حد تو یہ ہے کہ تدفین کی زحمت بھی نہ دی۔ ایک دن صبح کسی کام سے شہر گئے۔ رستے میں دل کا دورہ پڑا۔ ایدھی والے اپنے مردہ خانے لے گئے۔ گھر والے یہ سمجھتے رہے کہ شام تک آجائیں گے۔ (اس زمانہ میں موبائل تو ہوتا نہیں تھا) جب رات گئے تک نہ آئے تو ڈھونڈ مچی۔ اسپتال چھان مارے۔ بالاخر ایدھی مردہ خانہ گئے تو وہاں ان کی کفن میں لپٹی تصویر لگی تھی۔ ایدھی والوں نے رات تک انتظار کیا اور پھر دفنا دیا۔ پہلوان صاحب کو میں نے زندہ ہی دیکھا تھا۔ آج بھی میرے پاس ان کی کوئی تصویر نہیں لیکن ایک بات میں مکمل یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ سادگی اور شرافت کی مجسم تصویر تھے۔

بس چلتے چلتے حکیم محمد اجمل خان شیدا کا یہ شعر سن لیجئے۔

درد کو رہنے بھی دے دل میں دوا ہو جائے گی
موت آئے گی تو اے ہمدم شفا ہو جائے گی


مصنف کا تعلق ایڈورٹائزنگ کے شعبہ تخلیق سے ہے ۔ 30 سال پر محیط کیریئر میں متعدد ٹی وی کمرشلز اور جنگلز آپ کے کریڈٹ پر ہیں۔ 90 کی دھائی میں اخبارات میں مختلف موضوعات پر آرٹیکلز لکھے ۔ ٹی وی کے لئے ڈرامہ بھی لکھتے رہے ہیں۔

(Visited 1 times, 12 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: